نقوش ملتان

جامع مسجد مدنی میلسی


(تحقیق و تحریر : محمد ممتاز ڈاہر)
میلسی شہر بہت پرانا ہے۔اس کی تاریخ کے متعلق دو نظریات پائے جاتے ہیں پہلے نظریے کے حامل لوگو ں میں عبدالشکور قیصر بطور خاص ذکر ہیں۔اُنکی روایت کے مطابق سکندر اعظم کے حملے کے وقت یہ شہر موجود تھا تب ملہی قوم یہاں آباد تھی اور اسی قوم کے نام پر اس شہر نے میلسی نام پایا دوسرے لوگوں کا خیال ہے کہ میلسی شہر میلسی خان کھچی کے نام پر ہے یہ دونوں نظریات تحقیق اور تصدیق کے محتاج ہیں اگر میلسی شہر کی پرانی عمارات اور آثار پر نظر ڈالیں تو معلوم ہوتا ہے کہ یہ شہر نہ صرف پرانا ہے بلکہ یہاں اسلام کی روشنی بھی بہت پہلے سے آچکی ہے جامع مسجد تحصیل والی کی ایک دیوار پر ایک مر مریں لوح نصب تھی جس پر فارسی زبان میں لکھا تھا کہ یہ مسجد زمانہء قدیم میں تعمیر کی گئی نواب احمد یار خان دولتانہ نے اسے ازسر نو تعمیر کرایا موجودہ زمانے میں میلسی شہر میں کم و بیش پچاس مساجد ہیں جہاں نمازِ پنجگانہ اداکی جاتی ہے قیام پاکستان سے پہلے شہر میلسی میں مسلم آبادی ہندوؤں کے مقابلے میں کم تھی تاہم یہاں مسجد مائی والی، مسجد تحصیل والی،مسجد عثمانیہ، مسجد لعل جہانیاں، مسجد بہادر خان میں نماز با جماعت ادا کی جاتی تھی۔ جامع مسجد مدنی بیرون سرکلر روڈ میلسی پر قبرستان امام شاہ بخاری سے متصل ہے تاریخی روایات کے مطابق یہ مسجد قیام پاکستان سے پہلے تعمیر کی گئی ملک شوکت حسین ملتانی کی روایت کے مطابق مدنی مسجد کی بنیاد امیر ِ شریعت سید عطا ء اللہ شاہ بخاری نے رکھی شروع میں اس مسجد کی عمارت کی چھت میں لکڑی کے فقط دو شہتیر اور چند کڑیاں تھیں بعد میں اس کے رقبے اور عمارت میں اضافہ ہوتا رہا۔ ایک توحید پرست مسلمان سلطان محمود نے مسجد کی توسیع کے لیے زمین وقف کی۔ جس کی وجہ سے یہ مسجد سلطان محمود کے بھائی مستری خدا بخش کے نام سے منسوب ہوگئی۔اس مسجد کا موجودہ نام جامع مسجد مدنی ہے۔مسجد میں توسیع کے لیے ایک اورسچے مسلمان عبدالرزاق نے مسجد کے ساتھ متصل اپنی زمین میں سے کچھ رقبہ وقف کیا۔جامع مسجدمدنی میں جمعہ اور عیدین کی نمازوں کے علاوہ بھی مذہبی اجتماعت ہوئے ہیں 1970میں یہاں مسلک ِدیوبند کے نمائندہ افراد کا ایک اجتماع ہوا جس میں جمیعت علماء اسلام کے ٹکٹ پر میلسی سے عام انتخابات میں حصہ لینے کا فیصلہ کیا گیا۔ غالباً اسی مسجد میں مولانا فیض محمد مرحوم کو قومی اسمبلی کے لیے اُمید وار تجویز کیاگیا اُس وقت معروف عالم اور مبلغ بندہ غلام احمد میلسی کے مذہبی منظر نامے پر نمایاں ہو چکے تھے۔ جامع مسجد مدنی کو تبلیغی جماعت کے مرکز کی حیثیت بھی حاصل رہی ہے یہاں شبِ جمعہ کو باقاعدہ تبلیغی جماعتوں کی تشکیل ہوتی تھی مختلف اوقات میں جن معروف علماء نے مدنی مسجد میں خطاب کیا اُن میں سید عطاء اللہ شاہ بخاری،مولانا ضیاء القاسمی،سید عطاء المحسن شاہ بخاری،سید عطاء المومن بخاری، مولانا محمد مالک کاندھلوی، مولانا اجمل خان، سید عبدلکریم شاہ،عبدالشکور دین پوری اورعبدالستار تونسوی خاص طورپر قابل ِ ذکر ہیں۔ مولانا امان اللہ نقشبندی نے تقریباً 25سال مدنی مسجدمیں امامت و خطابت کے فرائض انجام دیے امان اللہ نقشبندی ایک نہایت متقی، پرہیز گار اور عملی مسلمان تھے۔ وہ نمازِ فجر کے بعد درس ِ قرآن بھی دیتے تھے نمازی مولانا امان اللہ نقشبندی کا خطبہء جمعہ بڑے ذوق و شوق سے سنتے تھے مختلف اوقات میں جن حضرات نے مدنی مسجدکے انتظام میں حصہ لیا اُن میں مغفرت مآب الحاج نذیر حسین ڈاہر، ماسٹر نور محمد، الحاج محمود بخش،چوہدری محمد صدیق، حاجی کریم اللہ،حاجی محمد عارف، حاجی گُل محمد،ملک دین محمد،فیض بخش چشتی،محمد اسماعیل چیمہ ، ملک غلام حسین ملتانی، ملک عبدالحق ملتانی، ملک شوکت حسین ملتانی اور میاں عزیز الرحمن نظامی شامل ہیں۔ مؤ ذن محمد اسماعیل کو اس مسجد سے بہت لگاؤ تھا وہ یہاں پنجگانہ اذان دیتے تھے بعد میں کسی زمانے میں میاں محمد صادق نے اذان کی سعادت حاصل کی میاں محمد صادق نعتیں اور فکر آخرت کے موضوع پر نظمیں بھی پڑھتے تھے۔ دوسری مساجدکی طرح مدنی مسجدمیں بھی ماہِ رمضان میں مومنین اعتکاف میں بیٹھتے ہیں تعمیر اول تعمیر دوم اور تعمیر سوم کے بعد موجودہ جامع مسجد مدنی (تعمیر چہارم)کی دو منزلہ عالی شان عمارت کچھ عرصہ قبل مکمل ہوئی ہے۔یہ عمارت تقریباًڈیڑھ کنال رقبے پر مشتمل ہے اس کی تعمیر کے لیے کسی سرکاری گرانٹ یا خصوصی چندے کی اپیل نہیں کی گئی مسجد کی موجودہ عمارت اہل ؎ اسلام کے عمومی چندے سے مکمل ہوئی ہے عصرِ حاضر میں مدنی مسجد کی امامت اور اذان کی سعادت علی الترتیب مولانا ذکاء اللہ نقشبندی اور محمد مرتضیٰ کے حصے میں آئی ہے۔