نقوش ملتان

 

انجینئر ممتاز احمد خان بامے زئی

انجینئر ممتاز احمد خان بامے زئی ملتان کے علمی اور سماجی منظرمے پر بہت نمایاں ہیں وہ قومی خدمت کا جذ بہ رکھتے ہیں اور اُنہوں نے اپنے پیشے میں غیر معمولی صلاحیت کا مظاہرہ کیا ہے۔ ممتاز احمد خان بامے زئی کے والد محترم احمد یار خان بامے زئی کا میلسی شہر میں بڑا نام اور وقار تھا۔وہ یہاں کے ایک معروف تاجر تھے تحصیل کوٹ ادو کے چک 104TDAاور 608TDAمیں انکی زرعی زمینیں تھیں تحقیق سے معلوم ہوا ہے کہ بامے زئی اسلاف قیام ِ پاکستان سے بہت پہلے افغانستان سے ملتان آئے تھے 1818میں جب لاہو ر کے راجہ رنجیت سنگھ کی افواج نے ملتان پر حملہ کیا تو بامے زئی خاندان کے افراد نے والئی ملتان نواب محمد مظفر خان شہید کے شانہ بشانہ جنگ میں حصہ لیا اس شاندار مگر ناکام دفاعی جنگ میں نواب محمد مطفر خان شہید ہو گئے بعد میں بعض سپاہیوں نے ڈیرہ اسماعیل خان میں پناہ لی جس میں بامے زئی خاندان کے افراد بھی شامل تھے۔ حالات موافق ہونے پر ممتاز احمدخان کے دادا اللہ یار خان انگریز حکومت کے زمانے میں ملتان واپس آگئے۔ اللہ یار خان کے بیٹے احمد یار خان (والد ممتاز احمد خان)نے میلسی میں سکونت اختیار کی۔اُنہوں سے یہا ں آڑ ھت کا کاروبا ر شروع کیا احمد یار خان عزت و احترام کی زندگی گزارنے کے بعد مئی 1986میں وفات پا گئے انجینئر ممتاز احمد خان کی ولادت ۵ جنوری 1950کو میلسی میں ہوئی وہ یہاں کی تاریخی درس گاہ گورنمنٹ ہائی سکول میلسی میں داخل ہوئے اور پہلی جماعت سے میٹرک تک تعلیم اسی سکول سے حاصل کی وہ ایک ذہین طالب علم تھے اُنہوں نے سکول اور ڈسٹرکٹ بورڈملتان کے تحت ہونے والے تمام امتحانات اول پوزیشن کے ساتھ پاس کیے انجینئر ممتاز احمد خان نے مڈل کا امتحان 1963میں تعلیمی بورڈ لاہور سے امتیازی پوزیشن کے ساتھ پاس کیا 1965میں میٹرک کا امتحان پاس کرنے کے بعد ممتاز احمد خان گورنمنٹ ایمرسن کالج ملتان میں داخل ہوئے یہاں سے اُنہوں نے 1967میں FScپری انجینئرنگ کا امتحان پاس کیا بعد ازاں وہ معروف تعلیمی ادارے یونیورسٹی آف انجینئرنگ اینڈ ٹیکنالوجی لاہور میں داخل ہوئے۔ یہاں وہ تقریباً چار سال زیر تعلیم رہے اور 1971میں اُنہوں نے BScمکینیکل انجینئرنگ کا امتحان پاس کیا۔انجینئرممتاز احمد خان نے 1974میں محکمہ انہار میں بطور اسسٹنٹ ایگزیکٹو انجینئر تعینات ہو کر اپنے پیشہ وارانہ کیریر کا آغاز کیا۔ دوران ملازمت 1989میں وہ حکومت کے سکالر شپ پر ایم ایس سی انجینئرنگ کے لیے بر طانیہ گئے جہاں اُنہوں نے Irrigation University of Southamton میں تعلیم کا دو سالہ کورس مکمل کیا۔ اُن کے ساتھ دنیا کے مختلف ممالک سے تعلق رکھنے والے انجینئرنگ کے طلبہ زیر تعلیم تھے۔ ممتاز احمد خان ان تمام طلبہ میں 1991میں ایم ایس سی انجینئرنگ کے امتحان میں اول آئے۔ اس طرح اُنہوں نے اپنے اور وطن کے وقار میں اضافہ کیا۔ انجینئر ممتاز احمد خان اسی سال وطن واپس آگئے اور محکمہ انہار میں اپنی ذمہ داریاں سنبھال لیں۔ 36سال سر وس کرنے کے بعد انجینئر ممتاز احمد خان 4جنوری 2010 کوڈائرکیٹر نیشنل ڈرین ایج پروگرام اور ڈائر یکٹر کالا باغ ڈیم ڈائر یکٹڑیٹ کے عہدے سیریٹائرہوئے۔دوران ملازمت وہ ڈائریکٹر پلانگ، ایس ای میلسی کینال سرکل اور ڈیرہ غازی خان کینال سرکل رہے۔ ریٹائرمنٹ کے بعد انجیئنر ممتاز احمد خان نے قومی اور سماجی خدمات میں دلچسپی لی اُنہوں نے پاکستان کے آبی وسائل پر مختلف اخبارات میں مضامین لکھے اور ٹی۔ وی مذاکرات میں حصہ لینا شروع کیا انجینئر ممتاز احمد خان نے راجن پور تا ملتان کالا باغ ڈیم کے حق میں کسانوں کی پیدل ریلی کی قیادت کی اورسندھ طاس معاہدے اور پاکستان کے آبی وسائل کے متعلق قوم کو آگاہ کیا۔انجیئنر ممتاز احمد خان کی قومی اور سماجی خدمات کے اعتراف میں اُنہیں ویٹیرن (Veteran) انجینئرزفورم آف پاکستان کا ڈائریکٹر جنرل اور بعد ازاں صدر منتخب کیا گیا۔ انجیئنر ممتاز احمد خان 2013میں بہاء الدین زکریا یونیورسٹی ملتان کی سکالر شب ایوارڈکمیٹی کے رکن مقرر ہوئے اور تا حال اس منصب پر فائز ہیں 2018میں گورنر پنجاب ملک محمد رفیق رجوانہ نے اُنہیں بطور engineer eminent نواز شریف یونیورسٹی آف انجینئرنگ اینڈٹیکنالوجی ملتان کی سنڈیکیٹ کا رکن مقرر کیا۔ انجینئر ممتاز احمد خان اس یونیوسٹی کے کیمپس کی تعمیراتی کمیٹی کے رکن بھی ہیں۔ انجینئر ممتاز ااحمد خان علمی اور سماجی خدمات کے شعبے میں مسلسل کام کر رہے ہیں وہ لائنز کلب انٹر نیشنل کے رکن ہیں۔ ملتان کو سر سبز اور شاداب دیکھنا اُن کی زندگی کے مقاصد میں شامل ہے۔ اس خواہش کو پورا کرنے کے لیے اُنہوں نے خود اپنے وسائل سے شہر اولیا ء کے تعلیمی اداروں اورواپڈا ٹائون میں گیارہ ہزار پودے لگا کر قومی خدمت کی اہم مثال قائم کی ہے۔ ممتاز احمدخان اقبالیات اور تحریک پاکستان کے مطالعہ میں غیر معمولی دلچسپی لیتے ہیں۔ اُنہوں نے شاعر ِ مشرق علامہ محمد اقبال کی نظمیں شکوہ جواب شکوہ والدہ مرحومہ کی یاد میں تصویرِ درد، خضرِ راہ اور ابلیس کی مجلس شوریٰ وغیرہ زبانی یاد کی ہیں وہ یہ نظمیں علمی اور ادبی مجالس میں سناتے ہیں۔ ممتاز احمد خان علامہ اقبا ل اوپن یونیورسٹی اسلام آباد اور ملتان کے مختلف تعلیمی اداروں کے طلبہ کو تحریک پاکستان اور دوسرے موضوعات پر لیکچر بھی دیتے ہیں ممتاز احمد خان موسیقی کے بھی دلدادہ ہیں اور دوستوں کی فرمائش پر گاہے گاہے اُنہیں بانسری سناتے ہیں۔ انجینئرممتاز احمد خان کے دو بیٹے عدنان ممتاز خان اور عرفان ممتاز خان اور دو بیٹیاں صائمہ ممتاز اور مریم ممتاز ہیں عدنان ممتاز خان سافٹ ویر انجینئر ہیں اور گذشتہ دس سال سے امریکہ کی ریاست کیلی فورنیا میں رہائش پذیر ہیں جہاں وہ انفارمیشن ٹیکنالوجی کے پیشے سے وابستہ ہیں عر فان ممتاز خان ACCAکا امتحان پاس کرنے کے بعد سٹاک ایکسچینج میں کاروبار کرتے ہیں۔ صائمہ ممتاز پاکستان ریلوے میں سینئر میڈیکل سپریٹنڈینٹ ہیں مریم ممتاز خاتونِ خانہ ہیں۔ ممتاز احمد خان ان دنوں 57-D شیر شاہ روڈ ملتان کینٹ میں رہائش پذیر ہیں

جامع مسجد مدنی میلسی

(تحقیق و تحریر : محمد ممتاز ڈاہر)
میلسی شہر بہت پرانا ہے۔اس کی تاریخ کے متعلق دو نظریات پائے جاتے ہیں پہلے نظریے کے حامل لوگو ں میں عبدالشکور قیصر بطور خاص ذکر ہیں۔اُنکی روایت کے مطابق سکندر اعظم کے حملے کے وقت یہ شہر موجود تھا تب ملہی قوم یہاں آباد تھی اور اسی قوم کے نام پر اس شہر نے میلسی نام پایا دوسرے لوگوں کا خیال ہے کہ میلسی شہر میلسی خان کھچی کے نام پر ہے یہ دونوں نظریات تحقیق اور تصدیق کے محتاج ہیں اگر میلسی شہر کی پرانی عمارات اور آثار پر نظر ڈالیں تو معلوم ہوتا ہے کہ یہ شہر نہ صرف پرانا ہے بلکہ یہاں اسلام کی روشنی بھی بہت پہلے سے آچکی ہے جامع مسجد تحصیل والی کی ایک دیوار پر ایک مر مریں لوح نصب تھی جس پر فارسی زبان میں لکھا تھا کہ یہ مسجد زمانہء قدیم میں تعمیر کی گئی نواب احمد یار خان دولتانہ نے اسے ازسر نو تعمیر کرایا موجودہ زمانے میں میلسی شہر میں کم و بیش پچاس مساجد ہیں جہاں نمازِ پنجگانہ اداکی جاتی ہے قیام پاکستان سے پہلے شہر میلسی میں مسلم آبادی ہندوؤں کے مقابلے میں کم تھی تاہم یہاں مسجد مائی والی، مسجد تحصیل والی،مسجد عثمانیہ، مسجد لعل جہانیاں، مسجد بہادر خان میں نماز با جماعت ادا کی جاتی تھی۔ جامع مسجد مدنی بیرون سرکلر روڈ میلسی پر قبرستان امام شاہ بخاری سے متصل ہے تاریخی روایات کے مطابق یہ مسجد قیام پاکستان سے پہلے تعمیر کی گئی ملک شوکت حسین ملتانی کی روایت کے مطابق مدنی مسجد کی بنیاد امیر ِ شریعت سید عطا ء اللہ شاہ بخاری نے رکھی شروع میں اس مسجد کی عمارت کی چھت میں لکڑی کے فقط دو شہتیر اور چند کڑیاں تھیں بعد میں اس کے رقبے اور عمارت میں اضافہ ہوتا رہا۔ ایک توحید پرست مسلمان سلطان محمود نے مسجد کی توسیع کے لیے زمین وقف کی۔ جس کی وجہ سے یہ مسجد سلطان محمود کے بھائی مستری خدا بخش کے نام سے منسوب ہوگئی۔اس مسجد کا موجودہ نام جامع مسجد مدنی ہے۔مسجد میں توسیع کے لیے ایک اورسچے مسلمان عبدالرزاق نے مسجد کے ساتھ متصل اپنی زمین میں سے کچھ رقبہ وقف کیا۔جامع مسجدمدنی میں جمعہ اور عیدین کی نمازوں کے علاوہ بھی مذہبی اجتماعت ہوئے ہیں 1970میں یہاں مسلک ِدیوبند کے نمائندہ افراد کا ایک اجتماع ہوا جس میں جمیعت علماء اسلام کے ٹکٹ پر میلسی سے عام انتخابات میں حصہ لینے کا فیصلہ کیا گیا۔ غالباً اسی مسجد میں مولانا فیض محمد مرحوم کو قومی اسمبلی کے لیے اُمید وار تجویز کیاگیا اُس وقت معروف عالم اور مبلغ بندہ غلام احمد میلسی کے مذہبی منظر نامے پر نمایاں ہو چکے تھے۔ جامع مسجد مدنی کو تبلیغی جماعت کے مرکز کی حیثیت بھی حاصل رہی ہے یہاں شبِ جمعہ کو باقاعدہ تبلیغی جماعتوں کی تشکیل ہوتی تھی مختلف اوقات میں جن معروف علماء نے مدنی مسجد میں خطاب کیا اُن میں سید عطاء اللہ شاہ بخاری،مولانا ضیاء القاسمی،سید عطاء المحسن شاہ بخاری،سید عطاء المومن بخاری، مولانا محمد مالک کاندھلوی، مولانا اجمل خان، سید عبدلکریم شاہ،عبدالشکور دین پوری اورعبدالستار تونسوی خاص طورپر قابل ِ ذکر ہیں۔ مولانا امان اللہ نقشبندی نے تقریباً 25سال مدنی مسجدمیں امامت و خطابت کے فرائض انجام دیے امان اللہ نقشبندی ایک نہایت متقی، پرہیز گار اور عملی مسلمان تھے۔ وہ نمازِ فجر کے بعد درس ِ قرآن بھی دیتے تھے نمازی مولانا امان اللہ نقشبندی کا خطبہء جمعہ بڑے ذوق و شوق سے سنتے تھے مختلف اوقات میں جن حضرات نے مدنی مسجدکے انتظام میں حصہ لیا اُن میں مغفرت مآب الحاج نذیر حسین ڈاہر، ماسٹر نور محمد، الحاج محمود بخش،چوہدری محمد صدیق، حاجی کریم اللہ،حاجی محمد عارف، حاجی گُل محمد،ملک دین محمد،فیض بخش چشتی،محمد اسماعیل چیمہ ، ملک غلام حسین ملتانی، ملک عبدالحق ملتانی، ملک شوکت حسین ملتانی اور میاں عزیز الرحمن نظامی شامل ہیں۔ مؤ ذن محمد اسماعیل کو اس مسجد سے بہت لگاؤ تھا وہ یہاں پنجگانہ اذان دیتے تھے بعد میں کسی زمانے میں میاں محمد صادق نے اذان کی سعادت حاصل کی میاں محمد صادق نعتیں اور فکر آخرت کے موضوع پر نظمیں بھی پڑھتے تھے۔ دوسری مساجدکی طرح مدنی مسجدمیں بھی ماہِ رمضان میں مومنین اعتکاف میں بیٹھتے ہیں تعمیر اول تعمیر دوم اور تعمیر سوم کے بعد موجودہ جامع مسجد مدنی (تعمیر چہارم)کی دو منزلہ عالی شان عمارت کچھ عرصہ قبل مکمل ہوئی ہے۔یہ عمارت تقریباًڈیڑھ کنال رقبے پر مشتمل ہے اس کی تعمیر کے لیے کسی سرکاری گرانٹ یا خصوصی چندے کی اپیل نہیں کی گئی مسجد کی موجودہ عمارت اہل ؎ اسلام کے عمومی چندے سے مکمل ہوئی ہے عصرِ حاضر میں مدنی مسجد کی امامت اور اذان کی سعادت علی الترتیب مولانا ذکاء اللہ نقشبندی اور محمد مرتضیٰ کے حصے میں آئی ہے۔