لغت کے لحاظ سے یہ میلسی کی پہلی کتاب ہے جس میں الفاظ کے تلفظ اور دیگر لاثانی پہلووں پر تحقیق کی گئی ہے
ان کا کہنا ہے کہ انہوں نے اس کتاب کو تکمیل کرنے کے لیے ماہرین زبانِ اردو کے ساتھ خط وکتابت کی اور مکمل تحقیق کے ساتھ قومی زبان سے محبت رکھنے والوں کو ایک انمول تحفہ دیا۔
میلسی گورنمنٹ کالج میں اردو کے لیکچرار شفیق الرحمٰن کا کہنا ہے کہ سیاحتِ لفظی لغت کے لحاظ سے یہ میلسی کی پہلی کتاب ہے جس میں الفاظ کے تلفظ اور دیگر لاثانی پہلووں پر تحقیق کی گئی ہے جس کی وجہ سے قومی زبان کے روز مرہ استعمال، مضمون نویسی، اخبار نویسی سے متعلق افراد کے علاوہ طالب علم، اساتذہ اور محققین کو فائدہ ہو گا۔
میلسی کے مرزا مسرور بیگ ایڈووکیٹ سیاحتِ لفظی کے بارے میں کہتے ہیں کہ اس کتاب میں لغت سے لے کر الفاظ کے استعمال تک کے علمی سفر میں ممتاز خان ڈاہر نے اردو زبان سے جنونی پنجاب کے نوجوانوں میں محبت پیدا کی۔
ان کا کہنا ہے کہ اردو لغت نگاری اس وقت جمود کا شکار ہے۔ اگرچہ بیسویں صدی سے قبل لغت کی کتابیں مثلاً فرہنگِ آصفیہ، اردو لغت (تاریخی اصولوں پر)، فرہنگِ عامرہ، فیروز اللغات، نسیم اللغات اور فرہنگِ تلفظ جیسے خزانے موجود ہیں۔
’لیکن بیسویں صدی کے دوسرے نصف میں عالمی سطح پر انگریزی زبان کے اثرات کی وجہ سے پاکستان میں اردو لسانی تحقیق پر رفتار سست رہی ہے۔ ان مشکلات کا کافی حد تک حل ہمیں سیاحتِ لفظی سے ملا ہے۔‘

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *