سیاسی کارکن

حاجی ارشد محمو دبوٹا

حاجی ارشد محمود بوٹا ملتان کے سیاسی اور سماجی منظر نامے پر بہت نمایاں ہیں۔ وہ ایک فعال سیاسی کارکن ہیں اُن کا تعلق پاکستان مسلم لیگ (ن) سے ہے وہ پاکستان مسلم لیگ (ن) ضلع ملتان کے نائب صدر ہیں اُنکے والد محترم حاجی محمد بوٹا کا ملتان شہر میں بڑا نام اور وقار تھا۔ حاجی محمد بوٹادو مرتبہ (1990-1985) پنجاب اسمبلی اور دو مرتبہ (1997-1993) قومی اسمبلی کے رکن منتخب ہوئے تھے قبل ازیں و ہ 1979ء غیر جماعتی انتخابات میں میونسپل کارپوریشن ملتان کے کونسلر منتخب ہوئے تھے انہوں نے اپنے سیاسی کیئریر کا آغاز تاریخ ِ ملتان کے نامور کردار بابو فیروزالدین انصاری کی راہنمائی میں کیا تھا بابو فیروز الدین ملتان کی انصاری برادری میں نہایت قدرو منزلت کی نگاہ سے دیکھے جاتے تھے بابو فیروزالدین انصاری اپنی زندگی میں ملتان کیسیاسی منظر نامے پر بہت نمایاں رہے اور اُنہوں نے انصاری برادری کی فلاح اور انکی معاشی ترقی کے گراں قدر خدمات انجام دیں ۔ حاجی محمد بوٹا پاکستان مسلم لیگ میں شامل ہوئے اور تا دمِ آخر جماعت کے ساتھ وابستہ رہے۔ سیاسی جدو جہد کے دوران حاجی محمد بوٹا کو قید و بند کی صعو بتیں بر داشت کرنی پڑیں اُ ن پرمقدمات بنائے گئے مگر وہ عدالت سے سرخروہوئے حاجی محمد بوٹا کی سیاسی جدو جہد کا تذکرہ ملتان کا کاروان سیاست نامی کتاب میں موجود ہے۔ حاجی محمد بوٹا 13مارچ 2008کو عزت و احترام کی زندگی گزارنے کے بعد وفات پاگئے۔حاجی ارشد محمود بوٹا کی ولادت 27جون 1966کو ملتان میں ہوئی۔ اُنہوں نے گورنمنٹ پرائمری سکول منظور آباد اور گورنمنٹ پائلٹ ہائی سکول نواں شہر ملتان سے تعلیم حاصل کی۔ 1981میں میٹرک کا امتحان پاس کرنے کے بعد اپنے بڑے بھائی حاجی طارق محمود بوٹا مرحوم (متوفی 1992) کے ہمراہ کاروبار میں شریک ہوئے حاجی محمد ارشد بوٹا نے لڑکپن میں سیاسی شعور پایا اور اپنے والد کے ہمراہ سیاسی سرگرمیوں میں حـصہ لینے لگے۔جس کی وجہ سے وہ ملتان شہر کے سیاسی حلقوں میں بہت زیادہ متعارف ہوگئے۔ 18اپریل 1993کو جب صدر غلام اسحاق خان نے میاں محمد نواز شریف وزیر اعظم پاکستان کی حکومت کو ختم کیا تو مسلم لیگ نے اسکے خلاف سخت رد عمل ظاہرکیااور عوامی ا حتجاجی تحریک شروع کی۔ملتان میں حاجی ارشد محمود بوٹا اس تحریک میں بہت نمایاں تھے۔ وہ 1994کی تحریک ِ نجات میں بھی سر گرم رہے 12اکتوبر 1999کو جب جنرل پرویز مشرف نے میاں محمد نواز شریف کی حکومت ختم کر کے اقتدار پر قبضہ کر لیا تو مسلم لیگ (ن)پر برا وقت آگیا جماعت کے بہت سے ساتھی ہمت ہار کر بیٹھ گئے بعض قائدین اور کارکنان دوسری جماعتوں میں شامل ہوگئے تاہم حاجی محمد بوٹا اور اُنکے بیٹے حاجی ارشد محمود بوٹا اور ملتان سے مسلم لیگ کے بہت سے دوسرے کارکن ثابت قدم رہے۔9مارچ2007کو جنر ل پرویز مشرف نے چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کو اُن کے عہدے سے غیر فعال کیا تو ملک بھر کے وکلا نے جنرل پرویز مشرف کے اس اقدام کے خلاف زبر دست احتجاجی تحریک چلائی پاکستان مسلم لیگ (ن) پاکستان پیپلز پارٹی اور پاکستان تحریک انصاف سمیت ملک کے اکثر سیاسی جماعتوں نے وکلا تحریک کا ساتھ دیا حاجی ارشد محمود بوٹا بھی اس تحریک میں بہت فعال تھے حاجی ارشد محمود بوٹا ملتان میں پاکستان مسلم لیگ (ن) کی انتخابی مہمات میں بھر پور حصہ لیتے ہیں۔ حاجی ارشد محمود بوٹا 15مارچ 2009کو ا س تاریخی جلوس میں شامل تھے جو لاہور سے میاں نواز شریف کی قیادت میں بر آمد ہوا اور جس کے نتیجے میں جسٹس افتخار محمد چوہدری اپنے عہدے پربحال ہوئے اسی سال میاں محمد شہباز شریف وزیر اعلیٰ پنجاب نے 180-H ماڈل ٹائون لاہور میں مسلم لیگ (ن) کے ایک اجلاس میں حاجی ارشد محمود بوٹا کو پاکستان مسلم لیگ (ن) ملتان کا نائب صدر مقرر کیا حاجی ارشد محمود بوٹا ایک بے لوث سیاسی کارکن ہیں۔ وہ سمجھتے ہیں کہ پاکستان شدید معاشی اور سیاسی بحران میں پھنس چکا ہے ان حالات میں پاکستان مسلم لیگ (ن) کی تجربہ کار، محبِ وطن اور با ہمت قیادت ہی ملک کو بحران سے نکال سکتی ہے۔

ملک عبدالجبار ملتانی


میلسی کے سیاسی اورسماجی منظر نامے پر ملک عبدالجبار ملتانی بہت نمایا ں ہیں۔ وہ پیشے کے لحاظ سے تاجر ہیں اور تاجروں کے مسائل کے حل کے لیے ہمہ وقت مصروف ِ عمل ہیں ملک عبدالجبار ملتانی مرکزی تنظیم تاجران پاکستان جنوبی پنجاب کے نائب صدر ہیں ۔ ملک عبدالجبار ملتانی نے پیشہء صحافت میں بھی گراں قدر خدمات سرانجام دی ہیں وہ روز نامہ اسلام اوردوسرے اخبارات و جرائد میں قومی اہمیت کے مسائل پر مضامین لکھتے ہیں۔ وہ سوشل میڈیا پر قومی امور سے متعلق اپنی رائے کا اظہار کرتے ہیں۔ ملک عبدالجبار ملتانی 28ستمبر1972کو میلسی میں پیدا ہوئے اُنکے والد محترم واحد بخش ملتانی میلسی شہر میں قدرو منزلت کی نگاہ سے دیکھے جاتے ہیں ملک واحد بخش ملتانی تین مرتبہ میونسپل کمیٹی میلسی کے رکن منتخب ہوئے ہیں علاوہ ازیں وہ وہ جمیت العلمائے اسلام (ف) تحصیل میلسی کے امیر اور مدرسہ عربیہ تعلیم القرآن میلسی کے تنظیمی صدر بھی رہے ہیں۔ ملتانی اسلاف قیام پاکستان سے کچھ عرصہ قبل معصوم شاہ روڈ ملتان سے نقل مکانی کر کے میلسی آئے تھے۔ یہاں اُنہوں نے فن شہ زوری اور اشاعت ِ اسلام میں گہری دلچسپی لی۔ ملتانی خاندان تحریک ِ ختم بنوت اور دوسری اسلامی تحریکوں میں پیش پیش رہا ہے۔ اس خاندان نے مدرسہ عربیہ تعلیم القرآن میلسی کے قیام کے لیے زمین کا عطیہ دیا۔ 1977کی تحریک نظام مصطفی میں ملک واحد بخش ملتانی نے جان کی بازی لگادی تھی۔ ملک عبدالجبار ملتانی نے 1990میں گورنمنٹ ماڈل سکول میلسی سے میٹرک کا امتحان پاس کیا اُنہوں نے ایف اے تک تعلیم گورنمنٹ ڈگری کالج میلسی سے حاصل کی جبکہ بی اے کا امتحان گورنمنٹ پوسٹ گریجویٹ کالج بوریوالاسے پاس کیا۔
عملی زندگی میں آنے کے بعد وہ اپنے والد کے ہمراہ کاروبار میں شریک ہوئے ملک عبدالجبار ملتانی نے 1999میں روزنامہ اسلام ملتان سے وابستہ ہوکے اپنے صحافتی کیریر کا آغاز کیا۔اُنہوں نے 2003تا2010مدرسہ تعلیم القرآن کا نظم و نسق سنبھالا۔ دریں اثناء وہ دبئی چلے گئے جہاں اُنہوں نے اپنا نجی کاروبار شروع کیا۔ وہ 2015میں وطن واپس آگئے اُ نہوں نے جائیدادکے لین دین او رزرعی ادویات کا بزنس شروع کیا ملک عبدالجبار ملتانی نے فلاحی تنظیم سیو(SAVE) میلسی کی بنیاد رکھی اور اس پلیٹ فارم سے شہری مسائل کے حل کے لیے جدوجہد کا آغاز کیا ۔ وہ 2016تا 2017نیشنل فرنٹ آف جرنلسٹس میلسی کے صدر رہے 2018میں میلسی پریس کلب کے نائب صدر منتخب ہوئے۔ اسی سال وہ پاکستان  فیڈریشن آف میڈیا جرنلسٹس کے مرکزی ڈپٹی جنرل سیکرٹری منتخب ہوئے۔
 ملک عبدالجبارملتانی2015تا2019جمیت العلمائے اسلام (ف) میلسی کے سینئر نائب امیر بھی رہے ہیں اُنہوں نے 13جولائی 2019کو تاجروں کی ملک گیر ہڑتا ل میں بھرپور حصہ لیا۔

 

شیخ جمشید حیات

لاہور ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن ملتان کے سابق صدر شیخ جمشید حیات جسٹس خضر حیات کے بیٹے ہیں۔ شیخ خضر حیات 1977کے عام انتخابات میں ملتان سے صاحبزادہ فاروق علی خاں سپیکر قومی اسمبلی کے مقابلے میں پاکستان قومی اتحاد کے ٹکٹ پر قومی اسمبلی کے رکن منتخب ہوئے تھے۔ شیخ خضر حیات جماعت اسلامی کے دیرینہ رکن ہیں اور اُنہوں نے ایوب خان اور ذوالفقارعلی بھٹو کے زمانے میں ریاستی جبر کا مقابلہ کیا ہے۔ شیخ جمشید حیات 3اپریل 1960کو شہرِ اولیاء ملتان میں پیداہوئے اُنہوں نے ملت ہائی سکول ملتان سے 1975میں میٹرک کا امتحان پاس کیا اور چار سال تاریخی درسگاہ گورنمنٹ ایمرسن کالج ملتان میں زیر تعلیم رہے۔ جہاں سے اُنہوں نے 1980میں بی اے کا امتحان پاس کیا۔ شیخ جمشید حیات نے قانون کی تعلیم یونیورسٹی لا کالج ملتان سے حاصل کی علاوہ ازیں اُنہوں نے 1982میں گورنمنٹ کالج آف ایجوکیشن ملتان سے بی ایڈ کا امتحان بھی پاس کیا۔ شیخ جمشید حیات نے معروف قانون دان ملک وزیر غازی کی رہنمائی میں ملتان میں وکالت کا آغاز کیا اور دیوانی اور فوجداری مقدمات میں بہت مہارت حا صل کی پیشہ ورانہ مہارت کے ساتھ ساتھ اُنہوں نے وکلاکے مسائل کے حل میں بھی گہری دلچسپی ظاہر کی 1991میں شیخ جمشید حیات ڈسڑکٹ بار ایسوسی ایشن ملتان کی تاریخ کے کم عمر ترین جنر ل سیکریٹری منتخب ہوئے۔ وہ 1994میں ہائی کورٹ بارایسوسی ایشن ملتان کے جنرل سیکریٹری منتخب ہوئے۔ شیخ جمشید حیات 1999میں ملتان ڈویژن میں ریکارڈ ووٹوں کے ساتھ ملتان سیٹ سے پنجاب بار کونسل کے رکن منتخب ہوئے۔ اس موقع پر الطاف ابراہیم (بعد ازاں جسٹس لاہور ہائی کورٹ)عبدالعزیز خان نیازی، محمد عارف علوی، محمد رمضان، خالد جوئیہ اور حبیب اللہ شاکر بھی پنجاب بار کونسل کے رکن منتخب ہوئے۔ شیخ جمشید حیات 2001میں پنجاب بارکونسل کی انضباطی کمیٹی کے چیرمین منتخب ہوئے۔ شیخ جمشید حیات 2003میں سینئر وکیل ملک ارشاد رسول کے مقابلے میں ڈسٹرکٹ بار ایسوسی ایشن کے صدر منتخب ہوئے وہ 2003میں پنجاب بار کونسل کی ایگزیکٹوکمیٹی کے رکن منتخب ہوئے۔ اُسی زمانے میں لاہور میں پنجاب بار کونسل کی نئی عمارت تعمیر ہوئی۔ اُنہوں نے ڈسٹرکٹ بار ملتان میں وکلاکے چیمبر ز کے لیے بشیر بلاک تعمیر کرایا۔ شیخ جمشید حیات 2010میں سابق جج ہائی کورٹ چوہدری صغیر احمد اور 2016میں محمد شیرزمان قریشی کے مقابلے میں لاہور ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن ملتان کے صدر منتخب ہوئے۔ شیخ جمشید حیات قانون کی حکمرانی اور وکلاکیبہتر حالات کے لیے سرگرم رہے ہیں۔ 2007کی تحریک بحالی عدلیہ میں اُنہوں نے بھرپور حصہ لیا وہ لاہور،لودھراں، خانیوال،ملتان، گوجرانوالہ، اسلام آباد، ڈیرہ غازی خاں اور لیہ میں وکلا کے احتجاجی جلسوں میں شریک ہوئے۔ شیخ جمشید حیات 15مارچ 2009کو اُس تاریخی لانگ مارچ میں شامل تھے۔ جس کے نتیجے میں چیف جسٹس افتخارمحمد چوہدری پوری شان و شوکت کے ساتھ اپنے منصب پر بحال ہوئے۔شیخ جمشید حیات صوبہ پنجاب کی تقسیم اور نئے صوبے کے قیام کے لیے جدوجہد کر رہے ہیں۔ اُنہوں نے اس مقصد کے لیے وکلا کو متحرک کیا۔ علیحد ہ صوبے کے لیے وکلا کی سرگرمیاں میڈیا میں نمایاں ہوئیں 18مئی 2016کو اُنہوں نے ملتان،ڈیرہ غازی خاں اور ساہیوال ڈویژن کے وکلاکا کنونشن منعقد کیا جس میں کثیر تعداد میں وکلا نے شرکت کی اس موقع پرمتفقہ طور پر نئے صوبے کی قرار داد منظور کی گئی پنجاب کی تقسیم کے حوالے سے یہ ایک اہم واقع تھا۔

اللہ نواز خان درانی

ملتان دنیا کے قدیم ترین شہروں میں سے ایک ہے۔ اسکی تاریخ 5ہزار سال کا احاطہ کرتی ہے۔خوش حالی اور اعلیٰ تہذیب کے باعث زمانۂ قدیم میں یہ شہر حملہ آوروں،تاجروں اور سیاحوں کے لیے غیر معمولی کشش کا حامل رہا۔افغانستان کے ساتھ اس شہر کے تاریخی اور ثقافتی رشتے ہیں۔مختلف ادوار میں یہاں افغان قبائل آکر آباد ہوئے۔ملتان کے قدیمی پٹھان نہایت فصیح اورعمدہ سرائیکی بولتے ہیں۔ مسلم لیگ (ن) ضلع ملتان کے سابق صدر اللہ نواز خان درانی کے جدامجد سلطان حیات خان مغل بادشاہ اورنگزیب عالمگیر کے زمانے میں ملتان آئے تھے۔انکا مدفن ایس پی چوک کے نزدیک ابدالی روڈ ملتان پر ہے۔سلطان حیات خان پشت بہ پشت افغانستان کے چوتھے امیر تھے۔ وہ ایک جنگ میں شکست کھانے کے بعد اقتدار سے محروم ہوئے اور تاریخی شہر ملتان میں آباد ہوئے۔ سلطان حیات خان کے بڑے بیٹے عبداللہ خان نے ایک مرتبہ پھر اپنے خاندان کا اقتدار بحال کیااور افغانستان کے حکمران بنے۔(افغان صدر)صبغت اللہ مجددی جنرل حمید گل کے ہمراہ سلطان حیات خان کے مرقد پر آئے تھے۔ اللہ نواز خان درانی کی ولادت 23مارچ 1947کو انکے آبائی شہر ملتان میں ہوئی۔انکے والد کریم نواز خان یہاں کے ایک معزز زمیندارتھے۔اللہ نواز خان درانی نے تاریخی درس گاہ گورنمنٹ ایمرسن کالج ملتان سے 1967میں بی اے کا امتحان پاس کیا۔اور اسی کالج سے 1972میں ایم اے (پولیٹکل سائنس)کیا۔انہوںنے زمانۂ طالب علمی میں قومی اور سیاسی شعور پایا۔وہ پاکستان پیپلزپارٹی میں شامل ہوئے اور انہوں نے اپنی زندگی کا بہترین حصہ اس جماعت کے ساتھ گزاراوہ طلبہ حقوق کے لیے سرگرم رہے۔1970میں دائیں اور بائیں بازو کی بحث عام تھی۔اس سال اللہ نواز خان درانی پاکستان پیپلز پارٹی اور بائیں بازو کی سوچ رکھنے والی دوسری تنظیموں کی حمایت سے سٹوڈنٹس یونین گورنمنٹ ایمرسن کالج ملتان کے صدر منتخب ہوئے تھے۔اس موقع پر مخدوم جاوید ہاشمی جنرل سیکرٹری منتخب ہوئے تھے۔ تاریخی شخصیت ذوالفقار علی بھٹو نے 1970ء کے یادگار انتخابات میں لاڑکانہ، حیدر آباد، بدین، لاہور اور ملتان سے قومی اسمبلی کے کل پانچ حلقوں سے کامیابی حاصل کی۔ ذوالفقار علی بھٹو ملتان میں بہت مقبول ہوئے۔ ’’بھٹو جیوے، صدر تھیوے‘‘ کا نعرہ سب سے پہلے اسی شہر میں لگایا گیا۔ 1970ء میں اللہ نواز خان درانی ذوالفقار علی بھٹو کی سٹوڈنٹس الیکشن کمیٹی کے چیئرمین تھے۔ ایم اے کا امتحان پاس کرنے کے بعد اللہ نواز خان درانی گیلانی لا کالج ملتان میں داخل ہوئے۔یہاں سے انہوںنے 1975میں ایل ایل بی کا امتحان پاس کیا۔1976میں انہوںنے معروف وکیل چودھری فیض رسول کی رہنمائی میں ملتان میں وکالت کا آغاز کیا۔ 1977ء کے مشکل مرحلے میں پی پی پی کے ساتھ رہے۔ اس وقت ملتان پی این اے تحریک کا مرکزتھا۔ 18مارچ1978کو لاہور ہائی کورٹ نے ذوالفقارعلی بھٹو کو سزائے موت سنائی اس فیصلے سے قبل فوجی حکومت نے ملک بھر میں پی پی پی کے سینکڑوں کارکن گرفتارکر لیے۔ ملتان سے اللہ نواز خان درانی، ملک مختار احمد اعوان،الطاف علی کھوکھر اور نواب احمد بخش تھہیم (سابق ایم پی اے)وغیرہ گرفتار ہوئے۔یہ سیاسی اسیر تقریباًڈیڑھ ماہ ڈسٹرکٹ جیل ملتان میں بند رہے۔1981میں اللہ نواز خان درانی ایک بار پھر گرفتار ہوئے۔جنرل ضیاء الحق کے دور میں پیپلز پارٹی زیر اعتاب رہی بہت سے کارکن سہم کر گھروں تک محدود ہوگئے۔تاہم اللہ نواز خان درانی اور دوسرے بہت سے کارکنوں نے ضیاء الحق کے دور میں جمہوری جدوجہد جاری رکھی ستمبر1988میں اللہ نواز خان درانی نے خان عبدالولی خان (جنرل ریٹائرڈ)ٹکا خان معراج محمد خان،سید محمد قسور گردیزی،مولانا فضل الرحمن اور ایم آر ڈی کے دوسرے رہنمائوں کے اعزاز میں اپنے گھر پر استقبالیہ دیا۔اسی سال انہوںنے پاکستان پیپلز پارٹی کے امیدوار قومی اسمبلی مخدوم ریاض حسین قریشی کی انتخابی مہم چلا کر انہیں کامیابی سے ہمکنار کیا۔ 1990میں اللہ نواز خان درانی نے پی پی پی کے ٹکٹ پر ملک صلاح الدین ڈوگر کے مقابلے میںصوبائی اسمبلی کا الیکشن لڑا۔ اللہ نواز خان درانی اچھے اور برے وقت میں پیپلزپارٹی کے ساتھ رہے۔لیکن 1996میں جب انہوںنے پی پی پی کی قومی مفاد کے خلاف پالیسیوں پر تنقید کی تو ناہید خان نے انکی پارٹی کی رکنیت معطل کردی۔تاہم اللہ نواز خان درانی کا ضمیر مطمئن تھا ناہید خان انہیں منانے کے لیے انکے پاس ملتان آئیں۔مگر اللہ نواز خان درانی مطمئن نہ ہوئے۔2002میں اللہ نواز خان درانی مسلم لیگ ن میں شامل ہوئے۔اسی سال انہوںنے ملتان سے ملک محمد اسحق بچہ کے مقابلے میں صوبائی اسمبلی کا لیکش لڑا۔2006میں میاں محمدنوازشریف نے ملک محمدرفیق رجوانہ(حال گورنرپنجاب)کی جگہ اللہ نواز خان درانی مسلم لیگ ن ضلع ملتان کا صدر مقررکیا۔مسلم لیگ ن نے ملک میں جمہوریت کی بحالی میاں نواز شریف کی وطن واپسی،عدلیہ کی بحالی،اور مخدوم جاوید ہاشمی کی رہائی کے لیے طویل جدوجہد کی۔اللہ نواز خان درانی اس جدوجہد میں شریک رہے۔وہ اے آر ڈی کی جدوجہد کے دوران ملک مختار احمد اعوان،سید فخر امام،رانا محمود الحسن اور دوسرے کارکنوں کے ہمراہ گرفتار ہوئے۔جاوید ہاشمی رہائی کمیٹی جنوبی پنجاب کا تاسیسی اجلاس اللہ نواز خان درانی کے گھر پر ہوا تھا۔اور وہی اس کے چیئرمین منتخب ہوئے تھے۔اللہ نواز خان درانی نے جدہ میں میاں نوازشریف سے ملاقات کی میاں نواز شریف نے ان کی جدوجہد کو بہت سراہا۔ 2012ء میں پاکستان مسلم لیگ (ن) سے اختلاف کرتے ہوئے استعفا دے دیا تاہم اُن کا استعفا منظورنہیں ہوا۔ وہ اخبارات کے ذریعے قومی مسائل پر اپنا نقطہ نظر بیان کرتے رہتے ہیں۔اﷲنوازخان درانی سمجھتے ہیں کہ جنوبی پنجاب بہت پسماندہ ہے جس کی وجہ سے یہاں سیاسی بے چینی پائی جاتی ہے۔وہ سمجھتے ہیں کہ حکومت نے اس خطے کی زراعت اور دوسرے معاشی شعبوں کی ترقی کے لیے کوئی اقدامات نہیں کیے۔ان کا مطالبہ ہے حکومت جنوبی پنجاب کی ترقی کے لیے منصوبے متعارف کرائے تاکہ یہاں بے روزگاری ختم ہو۔

حافظ اللہ ڈتہ کاشف بوسن

حافظ اللہ ڈتہ کاشف یکم جنوری 1961ء کو اپنے آبائی گائوں بستی بوسن اوتار تحصیل ملتان میں پیدا ہوئے۔ اُن کے والدِ محترم ملک محمد حسین بوسن یہاں کے ایک معزز زمیندار تھے۔ ملک محمد حسین بوسن خدمتِ علم کا جذبہ رکھتے تھے اُنہوں نے گورنمنٹ گرلز ہائی سکول بوسن اوتار کے لیے ایک ایکڑ زمین کا عطیہ دیا تھا۔ ملک محمد حسین بوسن عزت و احترام کی زندگی گزارنے کے بعد 2006ء میں وفات پاگئے۔ حافظ اللہ ڈتہ بوسن نے گورنمنٹ ہائی سکول اعلم پور سے 1977ء میں میٹرک کا امتحان پاس کیا اور بی اے تک تعلیم گورنمنٹ ایمرسن کالج بوسن روڈ ملتان سے حاصل کی۔ مزید تعلیم کے لیے بہاء الدین زکریا یونیورسٹی کے شعبہ اسلامیات میں داخلہ لیا۔ یہاں سے اُنہوں نے 1985ء میں ایم اے اسلامیات کا امتحان پاس کیا۔ حافظ اللہ ڈتہ کاشف بوسن نے زمانۂ طالبِ علمی میں قومی اور سیاسی شعور پایا۔ اُنہوں نے ساتھی طالبِ علموں کے ہمراہ طلبہ کے حقوق اور دیگر قومی مقاصد کے لیے جدو جہد کی۔ وہ اسلامی جمعیت طلبہ ملتان شہر اور اسلامی جمعیت طلبہ بہاء الدین زکریا یونیورسٹی ملتان کے ناظم مقرر ہوئے۔ حافظ اللہ ڈتہ کاشف بوسن نے 1987ء میں بہاء الدین زکریا یونیورسٹی کے ذیلی ادارے گیلانی لا کالج ملتان سے ایل ایل بی کا امتحان پاس کیا۔ اسی سال اُنہوں نے بطورِ لیکچرار تقرری کے لیے پنجاب پبلک سروس کمیشن کا امتحان پاس کیا۔ حکومتِ پنجاب نے گورنمنٹ گارڈ ن کالج راولپنڈی میں اُنکی تعیناتی کا حکم نامہ جاری کیا۔ اُس وقت پنجاب میں بلدیاتی انتخابات انعقاد پذیر تھے۔ حافظ اللہ ڈتہ کاشف بوسن نے سرکاری ملازمت کا اِرادہ ترک کر دیا اور انتخابات میں حصہ لے کر 1987ء میں یونین کونسل بوسن کے چیئرمین منتخب ہوئے۔ اُنہوں نے رانا عارف، نزاکت حسنین بھٹہ ایڈووکیٹ اور دوسرے دوستوں کو ساتھ ملایا اور غریب عوام محاذ کے نام سے سیاسی تنظیم قائم کر کے مظلوم لوگوں کی داد رسی کے لیے آواز بلند کی۔ حافظ اللہ ڈتہ کاشف سابق وزیر اعظم سیّد یوسف رضا گیلانی کے دیرینہ دوست ہیں اور ان کی انتخابی مہمات میں حصہ لیتے رہے ہیں۔ تاہم 2005ء میں اُنہوں نے سکندر حیات خان بوسن سے دوستی کی اور بعد کے انتخابات میں اُن کا ساتھ دیا۔ حافظ اللہ ڈتہ کاشف بوسن 2001ء تا 2005ء اور 2005ء تا 2010ء یونین کونسل اعلم پور تحصیل ملتان کے ناظم رہے ہیں۔ حافظ اللہ ڈتہ بوسن ایک کامیاب اور تجربہ کار وکیل ہیں۔ 2007ء کی تحریک بحالی ٔ عدلیہ میں اُنہوں نے بھرپور حصہ لیا اور ملتان، لاہور، اسلام آباد، اور دوسرے مقامات پر اس سلسلے میں وکلاء کے احتجاجی مظاہروں میں شریک ہوتے رہے۔ حافظ اللہ ڈتہ کاشف بوسن 2012ء میں ڈسٹرکٹ بار ایسوسی ایشن ملتان کے صدر منتخب ہوئے۔ وہ اگست 2013ء تا اگست 2015ء ڈرگ کورٹ ملتان کے جج رہے ہیں۔ اس عدالت کا دائرہ اختیار ملتان، ڈیرہ غازی خان، اور ساہیوال پر مشتمل تین ڈویژنوں پر محیط ہے۔ حافظ اللہ ڈتہ کاشف بوسن اِن دنوں ڈسٹرکٹ کورٹ ملتان میں وکالت کرتے ہیں ان کے 2 بیٹے ملک حسنین فاروق (آفیسر نیشنل بینک) اور ملک سبطین فاروق بوسن (پولیس وارڈن) ہیں۔

محمد عارف محمود قریشی

محمد عارف محمود قریشی ملتان کے ان سیاسی رہنمائوں میں شامل تھے جنہوں نے معاشرے کے مظلوم طبقات کی تقدیر بدلنے کے لئے عملی جد و جہد کی۔ وہ پاکستان میں استحصال سے پاک اور انصاف پر مبنی سماج کے خواہش مند تھے۔ عارف محمود قریشی بائیں بازو کی سوچ رکھتے تھے۔ اپنے عظیم مقاصد کیلئے انہوں نے بہت مصیبتیں دیکھیں۔ وہ ریاستی جبر کا شکار ہوئے اور مختلف ادوار میں پابندِ سلاسل رہے۔ ضیاء الحق کے دورِ حکومت میں ان پر بدنامِ زمانہ عقوبت خانہ شاہی قلعہ لاہور میں ذہنی اور جسمانی تشدد کیا گیا، اور انہیں کھانے میں ایسا زہر دیا گیا جس کی وجہ سے وہ جلد کی بیماری کے دائمی مریض ہوگئے۔ عارف محمود قریشی نے جانوروں سے محبت کے طور پر “Animal Right International” نامی تنظیم قائم کی اور پھر زندگی بھر جانوروں کا گوشت نہ کھانے کا عہد کیا۔ عارف محمود قریشی 18 جولائی 1944ء کو ریاست کوٹہ جے پور (راجستھان) میں پیدا ہوئے۔ ان کے والد کا نام صوفی عبدالرئوف قریشی تھا۔ عارف محمود قریشی کے دادا ڈاکٹر محمد عمر فاروق برطانوی فوج میں کیپٹن تھے جو ان کے خاندان کی روایت کے مطابق ہندوستان کے پہلے مسلمان سرجن ڈاکٹر تھے۔ 1947ء کے انقلاب کے بعد یہ خاندان ملتان آیا۔ عارف محمود قریشی نے گورنمنٹ ولایت حسین اسلامیہ ڈگری کالج ملتان سے بی اے کا امتحان پاس کیا۔ پنجاب یونیورسٹی سے ایم اے اُردو اور ایل ایل بی کی ڈگریاں حاصل کیں۔ 1974ء میں معروف وکیل شیخ خضر حیات (بعد ازاں جسٹس ہائی کورٹ لاہور) کی رہنمائی میں ملتان سے وکالت کا آغاز کیا۔ عارف محمود قریشی نے زمانۂ طالب علمی میں قومی اور سیاسی شعور پایا اور سیاسی اور قومی تحریکوں میں حصہ لینا شروع کیا۔ اس وقت گورنر مغربی پاکستان امیر محمد خان کا جبر نافذ تھا اور طلبہ کو سیاست میں حصہ لینے کی اجازت نہ تھی۔ عارف محمود قریشی نیشنل عوامی پارٹی میں شامل ہوئے اور ایوب خان کے خلاف عوامی احتجاج میں شریک ہوئے اسی زمانے میں وہ پہلی مرتبہ گرفتار ہوئے۔ بنگلہ دیش کے قیام کے بعد سید محمد قسورؔ گردیزی کے ہمراہ نیشنل عوامی پارٹی (ولی خان گروپ) میں شامل ہوئے۔ 1973ء کی سول نافرمانی کی تحریک میں ملتان میں جو سیاسی کارکن پی پی پی حکومت کے ظلم کا نشانہ بنے اور گرفتار ہوئے ان میں عارف محمود قریشی بھی شامل تھے۔ بھٹو نے NAP (نیپ) کے رہنمائوں پر غداری کا ناحق مقدمہ قائم کیا اور انہیں جیل میں ڈال دیا۔ جس کی وجہ سے ’’نیپ‘‘ کے کارکنوں نے جدو جہد جاری رکھنے کیلئے شیر باز مزاری کی قیادت میں نیشنل ڈیمو کریٹک پارٹی قائم کی تو عارف محمود قریشی اس میں شامل ہوئے اور انہوں نے جدو جہد جاری رکھی۔ 1977ء میں پی این اے نے مبینہ انتخابی دھاندلی کے خلاف تحریک چلائی تو ملتان اس تحریک کا اہم مرکز تھا۔ عارف محمود قریشی اس تحریک میں گرفتار ہوئے۔ -4 اپریل 1979ء کو ایم سی سی گرائونڈ ملتان میں ذوالفقار علی بھٹو کی غائبانہ نمازِ جنازہ پڑھنے پر یوسف انور پاشا، اسلم وڑائچ، نذر ندیم، معراج بٹ، عبدالقادر الہاشمی اور دیگر افراد کے ہمراہ گرفتار ہوئے۔ عارف محمود قریشی کو 1981ء میں الذوالفقار کا رکن قرار دے کر ضیاء الحق حکومت نے گرفتار کیا اور شاہی قلعہ میں تشدد کا نشانہ بنایا۔ 1983ء میں ایم آر ڈی نے جمہوریت کی بحالی کیلئے تحریک چلائی۔ حکومت نے تحریک کے کارکنوں پر کریک ڈائون کیا جس کی وجہ سے عارف محمود قریشی گرفتار ہوئے۔ عارف محمود قریشی کے بھائی خالد محمود قریشی نے خود کو گرفتاری کیلئے کیا۔ عارف محمود قریشی سیدمحمد قسورؔ گردیزی کے ہمراہ پاکستان نیشنل پارٹی میں شامل ہوئے۔ عارف محمود قریشی مزدور، کسانوں اور محنت کشوں کے حقوق اور جمہوریت کیلئے جدو جہد کرتے رہے اور تاریخ میں با عزت نام چھوڑ کر 21نومبر 2003ء کو اس دنیا سے رخصت ہوئے۔ عارف محمود قریشی کے بیٹے محمد احمد بابر سوئیکارنو ملتان میں وکالت کے پیشے سے وابستہ ہیں۔ محمد احمد بابر سوئیکارنو پیپلز لائرز فورم ضلع ملتان کے جنرل سیکرٹری ہیں۔

انجینئر ممتاز احمد خان بامے زئی

انجینئر ممتاز احمد خان بامے زئی ملتان کے علمی اور سماجی منظرمے پر بہت نمایاں ہیں وہ قومی خدمت کا جذ بہ رکھتے ہیں اور اُنہوں نے اپنے پیشے میں غیر معمولی صلاحیت کا مظاہرہ کیا ہے۔ ممتاز احمد خان بامے زئی کے والد محترم احمد یار خان بامے زئی کا میلسی شہر میں بڑا نام اور وقار تھا۔وہ یہاں کے ایک معروف تاجر تھے تحصیل کوٹ ادو کے چک 104TDAاور 608TDAمیں انکی زرعی زمینیں تھیں تحقیق سے معلوم ہوا ہے کہ بامے زئی اسلاف قیام ِ پاکستان سے بہت پہلے افغانستان سے ملتان آئے تھے 1818میں جب لاہو ر کے راجہ رنجیت سنگھ کی افواج نے ملتان پر حملہ کیا تو بامے زئی خاندان کے افراد نے والئی ملتان نواب محمد مظفر خان شہید کے شانہ بشانہ جنگ میں حصہ لیا اس شاندار مگر ناکام دفاعی جنگ میں نواب محمد مطفر خان شہید ہو گئے بعد میں بعض سپاہیوں نے ڈیرہ اسماعیل خان میں پناہ لی جس میں بامے زئی خاندان کے افراد بھی شامل تھے۔ حالات موافق ہونے پر ممتاز احمدخان کے دادا اللہ یار خان انگریز حکومت کے زمانے میں ملتان واپس آگئے۔ اللہ یار خان کے بیٹے احمد یار خان (والد ممتاز احمد خان)نے میلسی میں سکونت اختیار کی۔اُنہوں سے یہا ں آڑ ھت کا کاروبا ر شروع کیا احمد یار خان عزت و احترام کی زندگی گزارنے کے بعد مئی 1986میں وفات پا گئے انجینئر ممتاز احمد خان کی ولادت ۵ جنوری 1950کو میلسی میں ہوئی وہ یہاں کی تاریخی درس گاہ گورنمنٹ ہائی سکول میلسی میں داخل ہوئے اور پہلی جماعت سے میٹرک تک تعلیم اسی سکول سے حاصل کی وہ ایک ذہین طالب علم تھے اُنہوں نے سکول اور ڈسٹرکٹ بورڈملتان کے تحت ہونے والے تمام امتحانات اول پوزیشن کے ساتھ پاس کیے انجینئر ممتاز احمد خان نے مڈل کا امتحان 1963میں تعلیمی بورڈ لاہور سے امتیازی پوزیشن کے ساتھ پاس کیا 1965میں میٹرک کا امتحان پاس کرنے کے بعد ممتاز احمد خان گورنمنٹ ایمرسن کالج ملتان میں داخل ہوئے یہاں سے اُنہوں نے 1967میں FScپری انجینئرنگ کا امتحان پاس کیا بعد ازاں وہ معروف تعلیمی ادارے یونیورسٹی آف انجینئرنگ اینڈ ٹیکنالوجی لاہور میں داخل ہوئے۔ یہاں وہ تقریباً چار سال زیر تعلیم رہے اور 1971میں اُنہوں نے BScمکینیکل انجینئرنگ کا امتحان پاس کیا۔انجینئرممتاز احمد خان نے 1974میں محکمہ انہار میں بطور اسسٹنٹ ایگزیکٹو انجینئر تعینات ہو کر اپنے پیشہ وارانہ کیریر کا آغاز کیا۔ دوران ملازمت 1989میں وہ حکومت کے سکالر شپ پر ایم ایس سی انجینئرنگ کے لیے بر طانیہ گئے جہاں اُنہوں نے Irrigation University of Southamton میں تعلیم کا دو سالہ کورس مکمل کیا۔ اُن کے ساتھ دنیا کے مختلف ممالک سے تعلق رکھنے والے انجینئرنگ کے طلبہ زیر تعلیم تھے۔ ممتاز احمد خان ان تمام طلبہ میں 1991میں ایم ایس سی انجینئرنگ کے امتحان میں اول آئے۔ اس طرح اُنہوں نے اپنے اور وطن کے وقار میں اضافہ کیا۔ انجینئر ممتاز احمد خان اسی سال وطن واپس آگئے اور محکمہ انہار میں اپنی ذمہ داریاں سنبھال لیں۔ 36سال سر وس کرنے کے بعد انجینئر ممتاز احمد خان 4جنوری 2010 کوڈائرکیٹر نیشنل ڈرین ایج پروگرام اور ڈائر یکٹر کالا باغ ڈیم ڈائر یکٹڑیٹ کے عہدے سیریٹائرہوئے۔دوران ملازمت وہ ڈائریکٹر پلانگ، ایس ای میلسی کینال سرکل اور ڈیرہ غازی خان کینال سرکل رہے۔ ریٹائرمنٹ کے بعد انجیئنر ممتاز احمد خان نے قومی اور سماجی خدمات میں دلچسپی لی اُنہوں نے پاکستان کے آبی وسائل پر مختلف اخبارات میں مضامین لکھے اور ٹی۔ وی مذاکرات میں حصہ لینا شروع کیا انجینئر ممتاز احمد خان نے راجن پور تا ملتان کالا باغ ڈیم کے حق میں کسانوں کی پیدل ریلی کی قیادت کی اورسندھ طاس معاہدے اور پاکستان کے آبی وسائل کے متعلق قوم کو آگاہ کیا۔انجیئنر ممتاز احمد خان کی قومی اور سماجی خدمات کے اعتراف میں اُنہیں ویٹیرن (Veteran) انجینئرزفورم آف پاکستان کا ڈائریکٹر جنرل اور بعد ازاں صدر منتخب کیا گیا۔ انجیئنر ممتاز احمد خان 2013میں بہاء الدین زکریا یونیورسٹی ملتان کی سکالر شب ایوارڈکمیٹی کے رکن مقرر ہوئے اور تا حال اس منصب پر فائز ہیں 2018میں گورنر پنجاب ملک محمد رفیق رجوانہ نے اُنہیں بطور engineer eminent نواز شریف یونیورسٹی آف انجینئرنگ اینڈٹیکنالوجی ملتان کی سنڈیکیٹ کا رکن مقرر کیا۔ انجینئر ممتاز احمد خان اس یونیوسٹی کے کیمپس کی تعمیراتی کمیٹی کے رکن بھی ہیں۔ انجینئر ممتاز ااحمد خان علمی اور سماجی خدمات کے شعبے میں مسلسل کام کر رہے ہیں وہ لائنز کلب انٹر نیشنل کے رکن ہیں۔ ملتان کو سر سبز اور شاداب دیکھنا اُن کی زندگی کے مقاصد میں شامل ہے۔ اس خواہش کو پورا کرنے کے لیے اُنہوں نے خود اپنے وسائل سے شہر اولیا ء کے تعلیمی اداروں اورواپڈا ٹائون میں گیارہ ہزار پودے لگا کر قومی خدمت کی اہم مثال قائم کی ہے۔ ممتاز احمدخان اقبالیات اور تحریک پاکستان کے مطالعہ میں غیر معمولی دلچسپی لیتے ہیں۔ اُنہوں نے شاعر ِ مشرق علامہ محمد اقبال کی نظمیں شکوہ جواب شکوہ والدہ مرحومہ کی یاد میں تصویرِ درد، خضرِ راہ اور ابلیس کی مجلس شوریٰ وغیرہ زبانی یاد کی ہیں وہ یہ نظمیں علمی اور ادبی مجالس میں سناتے ہیں۔ ممتاز احمد خان علامہ اقبا ل اوپن یونیورسٹی اسلام آباد اور ملتان کے مختلف تعلیمی اداروں کے طلبہ کو تحریک پاکستان اور دوسرے موضوعات پر لیکچر بھی دیتے ہیں ممتاز احمد خان موسیقی کے بھی دلدادہ ہیں اور دوستوں کی فرمائش پر گاہے گاہے اُنہیں بانسری سناتے ہیں۔ انجینئرممتاز احمد خان کے دو بیٹے عدنان ممتاز خان اور عرفان ممتاز خان اور دو بیٹیاں صائمہ ممتاز اور مریم ممتاز ہیں عدنان ممتاز خان سافٹ ویر انجینئر ہیں اور گذشتہ دس سال سے امریکہ کی ریاست کیلی فورنیا میں رہائش پذیر ہیں جہاں وہ انفارمیشن ٹیکنالوجی کے پیشے سے وابستہ ہیں عر فان ممتاز خان ACCAکا امتحان پاس کرنے کے بعد سٹاک ایکسچینج میں کاروبار کرتے ہیں۔ صائمہ ممتاز پاکستان ریلوے میں سینئر میڈیکل سپریٹنڈینٹ ہیں مریم ممتاز خاتونِ خانہ ہیں۔ ممتاز احمد خان ان دنوں 57-D شیر شاہ روڈ ملتان کینٹ میں رہائش پذیر ہیں۔

بیرسٹر تاج محمد خان لنگاہ

  نے کہا TW EMERSON انگریزی زبان کے مشہور شاعر

 ا ” قومیں دولت سے نہیں بلکہ ان افراد سے عظیم اور مضبوط ہوتی ہیں جو مسیحائی غیرت و عزت کےموقف پر بہادری کے ساتھ ڈٹ جاتے ہیں اور پھر ہر قسم کے مسائل اور مشکلات کا مردانہ وار مقابلہ کرتے ہیں“ ۔ایسے ہی ایک فرد سرائیکی قوم کے نجات دہندہ بیرسٹرتاج محمد خان لنگاہ تھے۔وہ فقط صوبہ سرائیکستان تحریک کے قائد ہی نہیں بلکہ وہ اپنی اعلیٰ تعلیم‘طویل سیاسی تجربے‘اصول پسندی‘ محنت ِ شاقہ‘ دیانت داری اور اخلاقی برتری کی بدولت معاصر سیاستدانوں میں ممتاز بھی تھے۔ تاج محمد خان لنگاہ نے اپنی تاریخی جدوجہد کے دوران محترمہ بے نظیر بھٹو‘ آصف علی زر داری، سیدیوسف رضا گیلانی،جی ایم سید، الطاف حسین، عطاء اللہ مینگل،اجمل خان خٹک، میر بلخ شیر مزاری،علامہ ساجد نقوی، مولانا فضل الرحمن، ڈاکٹر قادر مگسی، ممتاز علی بھٹو اور دوسرے سیاسی رہنماؤں کو اس بات پر قائل کیا کہ پاکستان کے پانچویں مجوزہ صوبہ سرائیکستان کا قیام ملک و قوم کے مفاد میں ہے۔ چنانچہ مختلف ادوار میں مندرجہ بالا رہنماؤں اور زندگی کے مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والے بے شمار افراد نے سرائیکی صوبے کی حمایت میں بیانات دیے۔ ایک مرتبہ عدالت میں آصف علی زرداری نے جبکہ وہ ہتھکڑیوں میں جکڑے ہوئے تھے تاج لنگاہ کو دیکھ کر”جئے سرائیکی“ کا نعرہ لگایا۔”پنجاب کا مقدمہ“لکھنے والے دانشورحنیف رامے نے بھی اپنی زندگی کے آخری دنوں میں صوبہ سرائیکستان کے قیام کی حمایت کی تھی۔مہاتماگاندھی‘ قائداعظم‘جی ایم سید اور باچا خان کی طرح تاج لنگاہ بھی عدم تشدد کے داعی ہیں انہوں نے ہمیشہ امن سے محبت اور جنگ سے نفرت کی۔ تاج لنگاہ نے پاکستان کے ہمسایہ ممالک کے ساتھ دوستی کی اہمیت کا پرچا ر کیا۔ وہ جب دوستی اور امن کے لیے سرائیکی عالمی کانفرنس میں شرکت کے لیے دہلی گئے تو انہیں ملک دشمن اور ہندوستان کا ایجنٹ کہا گیاتاہم وہ ناقدین کی پروا کیے بغیر ملک و قوم اور انسانیت کی خدمت میں مصروف ِعمل رہے۔ تاج لنگاہ ضمیر کے قیدی ہیں۔ صوبہ سرائیکستان کا قیام‘ غربت کا خاتمہ‘ قومی حاکمیت (SOVEREIGNTY)‘آزاد خارجہ پالیسی اور سماجی اور معاشی انصاف کا حصول انکی زندگی کا نصب العین ہے۔ تاج محمد خان لنگا ہ کی ولادت 8 اگست 1939 کو بھیئیں نامی گاؤں میں ہوئی یہ گاؤں تحصیل کہروڑ پکا میں واقع ہے تاج محمد خان لنگاہ کے والد دوست محمد خان لنگا ہ یہا ں کے ایک معروف اور معزززمیندار تھے۔ تاج لنگاہ نے 1959 ء میں گورنمنٹ کالج لاہور سے بی ایس سی کا امتحان پاس کیا اور پنجاب یونیورسٹی لا کالج میں داخلہ لے لیا۔ بعدمیں انکے والد نے انکی خواہش پر انہیں قانون کی تعلیم کے لیے لندن بھیج دیا اس زمانے میں کسی متوسط زمیندار کے بیٹے کے لیے تعلیم کے لیے لندن جانا بہت حیرت ناک تھا۔ بیرسٹر تاج محمد خان لنگاہ لندن میں مشہور تعلیمی ادارے LINCOLN INN میں داخل ہوئے یہ وہی ادارہ ہے جہاں سے قائداعظم محمد علی جناح نے بھی قانون کی تعلیم حاصل کی تھی۔ بیرسٹر تاج محمد خان لنگاہ نے 1963ء میں بار ایٹ لا کی سند حاصل کی بعدازاں انہوں نے LUXEMBURG INSTITUTION OF COMPARATIVE LAW & ECONOMICS سے COMPARATIVE LAW & ECONOMICSکی تعلیم مکمل کی اور THE ACADEMY OF INTERNATIONAL LAW THE HAGUE(HOLLAND) سے INTERNATIONAL LAW کا ڈپلومہ حاصل کیا۔ قاعدے کے مطابق شاگرد بیرسٹرر ہے۔1963 ء میں بیرسٹر تاج محمد خان لنگاہ وطن واپس آگئے مئی 1963ء میں ملتان ڈسٹرکٹ بارایسوسی ایشن اور ہائی کوٹ ملتان کے رکن بنے۔ایوب خان کے جابرانہ سیاسی ماحول کے باعث تاج محمد خان لنگاہ دوبارہ برطانیہ چلے گئے

وہ تعلیمی اور پیشہ وارانہ مسابقت سے حکومتِ برطانیہ میں ہیلتھ ہاؤسنگ پلاننگ اور لوکل گورنمنٹ کی وزارت میں اسسٹنٹ لیگل ایڈوائزر مقرر ہوئے اس عہدے کی بدولت انہوں نے پارلیمنٹ کے بل اور دوسرے قانونی مسودے تحریر کیے۔ تاج لنگاہ نے امورِ قانون سازی میں بعض معاملات میں وزارت کومشورے دیے اور بعض معاملات میں وزیر کی طرف سے اپیلوں کی سماعت کی وکالت کے دوران انہیں برطانیہ میں ہاؤس آف لارڈ ہیگ میں سینئر کے ہمراہ انٹرنیشنل کورٹ آف جسٹس اور سوئزر لینڈ میں انٹرنیشنل آربی ٹریشن عدالت میں پیش ہونے کا موقع ملا نوجوانی میں یورپی ممالک کے دوروں اور عالمی سطح کی کانفرنسوں میں شرکت کی بدولت تاج محمد خان لنگاہ کے مشاہدے اور تجربے اور سوچ میں بہت و سعت پیداہوئی۔ 1966 ء میں ذوالفقار علی بھٹو ایوب خان کی حکومت میں وزارت کے عہدے سے مستعفی ہو ئے بعد میں انہوں نے برطانیہ فرانس،جرمنی اورسوئزرلینڈ کے دورے کیے۔ تاج محمد خان لنگاہ نے ترقی پسند نوجوانوں کے ساتھ مل کر ذوالفقار علی بھٹو کے اعزاز میں لندن میں استقبالیہ دیا۔ ذوالفقار علی بھٹو نے استقبالیے کے منتظمین کو اپنے ہوٹل میں مدعو کیا۔ انہوں نے بتایا کہ وہ برطانیہ میں لیبر پارٹی اور فرانس جرمنی سویڈن اور نارو ے میں قائم سو شلسٹ و سوشل ڈیمو کر ٹیک جماعتوں کی طرز پر پاکستان میں ایک سیاسی جماعت بنانا چاہتے ہیں۔ انہوں نے ملک کی خدمت کے لیے تعلیم یافتہ نوجوانوں کو وطن واپس آ نے کی اپیل کی۔ تاج محمد لنگاہ کو نومبر 1967 ء میں PPP کے تاسیسی اجلاس میں شرکت کا دعوت نامہ ملا چنانچہ وہ اپنے تمام مفادات کی قربانی دیکر دسمبر 1967 ء میں پاکستان آ گئے اور ذوالفقار علی بھٹو کی قیادت میں سیاست میں سرگرم ہوئے اسی زمانے میں تاج لنگاہ نے لاہور میں وکالت کا آغازبھی کیا۔ذوالفقار علی بھٹو ایوب خان کی مخالفت اور بعدازاں اپنے سوشلسٹ پروگرام کی بدولت پنجاب اور سندھ میں بہت مقبول ہوئے۔ تاج لنگاہ ذوالفقار علی بھٹو کے ہمراہ رہے۔تاج لنگاہ نے پاکستان پیپلز پارٹی کی تنظیم سازی میں کلیدی کردار ادا کیا17، 18، 19 جنوری 1968 ء کو انہوں نے ملتان اور دوسرے مقامات پر بھٹو کے جلسوں کا انتظام کیا۔ تاج لنگا نے اپنی جماعت (پی پی پی) سے بہاولپور اور ملتان ڈویژن پر مشتمل نیا صوبہ بنانے کا مطالبہ کیا۔1970 ء میں بیرسٹر تاج محمد خان لنگاہ نے معروف مسلم لیگی رہنما اور سابق وزیرِ اعلیٰ پنجاب میاں ممتاز محمد خان دولتانہ کے مقابلے میں الیکشن لڑا۔ تاج لنگاہ نے انتخابی مہم کے دوران ممتاز دولتانہ کے چھکے چھڑا دیے‘ تاہم کامیاب نہ ہوسکے۔ بھٹو نے تاج لنگاہ کی کارکردگی کو سراہا اور جنوری 1971 ء میں انہیں پاکستان پیپلز پارٹی کی سنٹرل کمیٹی کارکن نامزد کر دیا 20 دسمبر 1971 ء کو پیپلز پارٹی برسراقتدار آئی تو شیخ رشید کے وفاقی وزیربننے پر تاج لنگاہ پی پی پی پنجاب کے قائم مقام صدرمقررہوئے پارٹی کی تنطیمِ نوپروہ پی پی پی پنجاب کے ڈپٹی سیکرٹری جنرل اور سنٹرل کمیٹی کے رکن منتخب ہوئے۔ مئی 1974 ء میں جب ہندوستان نے ایٹمی تجربہ کیا تو انہوں نے ایٹم بم کے خلاف اور پاکستان کے حق میں سعودی عرب اور سوڈان میں مہم چلائی تاج لنگاہ نے ستمبر1974 ء میں وزیرِ اعظم ذوالفقار علی بھٹو کے ہمراہ سویٹ یونین اور ایران کے دورے کیے اس سفر میں محترمہ بے نظیر بھٹو بھی شریک تھیں اسی موقع پر تاج لنگاہ کی پہلی ملاقات بے نظیر بھٹو سے ہوئی۔1975 ء میں ملتان میں کل پاکستان علمی وادبی سرائیکی کانفرنس منعقد ہوئی جس کے افتتاحی اجلاس کی صدارت بیر سٹر تاج محمد خان لنگاہ نے کی۔ اس موقع پر بہاولپور صوبہ محاذاور تحریک بحالیء صوبہ بہاولپور کے رہنماؤں مامون الرشید، برگیڈیر نذیر علی شاہ‘ حاجی سیف اللہ خان‘ نذیر علی شاہ اور افضل مسعود نے سرائیکی صوبے کے قیام کی قراد داد پر اتفاق کیا اور بہاولپور صوبہ تحریک کو ابھرتی ہوئی سرائیکی قومی تحریک میں ضم کر دیا۔ 8 اپریل 1977 ء کو بیرسٹر تاج محمد خان لنگاہ نے پاکستان پیپلز پارٹی سے  علیحدگی اختیار کر لی۔ جس پر انہیں گرفتار کر لیا

گیا 5 جولائی 1977 کے بعد جب سیاسی اسیر رہا ہوئے تو تاج لنگاہ کی رہائی بھی عمل میں آئی۔ انہوں نے سرائیکی وسیب میں بنیادی انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں اور نا انصافیوں کے خاتمے کیلئے قاری محمد نورالحق قریشی اوردوسرے ساتھیوں کے مشور ے سے لاہور میں سرائیکی لایر زفورم کے نام سے ایک تنظیم قائم کی اور خود اس کے اولین صدر مقرر ہوئے سردارمحمد لطیف خان کھوسہ اور شمیم عباس بخاری اس تنظیم کے علی ا لترتیب سینئر نائب صدر اور جنرل سیکرٹری مقرر ہوئے۔ قاری نور الحق قریشی نے سرائیکی صوبہ محاذ کا پہلا اجلاس ملتان میں 5 اپریل 1984 کو طلب کیا۔ 1987 میں تاج لنگاہ سرائیکی صوبہ محاذ کے صدر منتخب ہوئے۔ 6 مارچ 1989 کو ملتان میں بیرسٹر تاج محمد خان لنگاہ کے دفتر میں سرائیکی صوبہ محاذ کا اجلاس بلایا گیا اور محاذ کو باقاعدہ سیاسی جماعت میں تبدیل کرنے کا فیصلہ کیا گیاچنانچہ 7 اپریل 1989کو ہوشیانہ ہوٹیل ملتان میں پاکستان سرائیکی پارٹی کا قیام عمل میں آیا تاسیسی اجلاس میں تاج محمد خان لنگاہ‘سرادر رشیداحمد خان قیصرانی‘ افضل مسعودخان‘اسداللہ خان لنگاہ‘اسلم رسول پوری‘منصور کریم سیال‘مظفر حسین خان مگسی‘عبدالرؤف ساسولی‘ محمد اکبر انصاری‘محمد علی مہدی گردیزی‘علی نواز گردیزی‘فاروق انجم سانگی‘رانا بشیر نون ایڈوکیٹ‘محمد حیات بھٹہ‘ایم اے بھٹہ‘‘سردار اللہ بخش دستی‘شفقت میتلا‘اظہر شاہ بخاری‘امیر بخش مستوئی‘لائق خان جوئیہ‘ مقصود احمد خان لنگاہ‘حکیم حیدر اقبال‘سردار جہانگیر خان‘ڈاکٹر مشتاق چاولہ‘خالد محمود ڈاہااورطارق سرائیکوسمیت 200 افراد نے شرکت کی اجلاس میں تاج محمد خان لنگاہ صدر‘ افضل مسعود خان اور رشید خان قیصرانی نائب صدر‘ سید علی نواز گردیزی چیئر مین پالیسی پلاننگ کمشن اسلم رسول پورہ کلچرل سیکرٹری اور منصور کریم سیال ڈپٹی سیکرٹری جنرل منتخب ہوئے۔ بعدازاں قاری نورالحق قریشی پارٹی کے سینئر نائب صدر منتخب ہوئے۔ 17 جنوری 1992 ء کو تاج لنگاہ نے جی ایم سید کی سالگرہ کے سلسلے میں نشتر پارک کراچی میں منعقد جلسے سے خطاب کیا۔ تاج لنگاہ نے اپنے خطاب میں سرائیکی صوبے کے قیام اور مظلوم قوموں کے حقوق کا مطالبہ کیا اس جلسے میں جی ایم سید نے نام نہاد سندھو دیش کی آزادی کا اعلان کیا 18 جنوری 1992کو جی ایم سید کے خلاف بغاوت کا مقدمہ درج کر دیا گیا جس میں تاج لنگاہ اور کچھ دوسرے افراد کے نام بھی شامل کیے گئے 1992 ء میں بیرسٹر تاج لنگاہ سرائیکی انٹرنیشنل کانفرنس میں شرکت کے لیے دہلی گئے۔ اس سال کے آخر میں پاکستان سرائیکی پارٹی نے ملتان میں سرائیکی عالمی کانفرنس منعقد کی۔ اپریل 1993 میں پاکستان سرائیکی پارٹی کے چیف آرگنائزر رانا رب نواز نون نے نوقابل واہ میں جماعت کا سالانہ جلسہ منعقد کیا اس جلسے میں تاج لنگاہ نے سرائیکی صوبے کا مطالبہ دہرایا علاوہ ازیں اس موقع پر مجوزہ صوبہ سرائیکستان کا نقشہ بھی تقسیم کیا گیا اسی ماہ صدر غلام اسحق خان نے قومی اسمبلی تحلیل کر دی اور نئے انتخابات کے لیے میر بلخ شیر مزاری کو نگران وزیرِاعظم مقرر کیا تاج لنگاہ نے دیرینہ تعلقات کی بنا پر میربلخ شیر مزاری کے اعزاز میں ملتان سرورسز کلب میں ایک استقبالیہ دیا۔ پاکستان سرائیکی پارٹی قوم پرستوں کے سیاسی اتحاد یونائٹڈنیشنل الائنس (UNA) کی رکن بنی۔ممتاز علی بھٹو UNA کے چیئر مین تھے ممتاز علی بھٹو ملتان‘بہاولپوراور کہروڑ پکا آئے UNA کے رہنماؤں کی سرائیکی وسیب میں آمد کی وجہ سے سرائیکی صوبہ تحریک کو بہت تقویت ملی۔تاج لنگاہ سرائیکی قومی حقوق کے لیے سرگرم رہے انہوں نے وسیب کے دورے کیے اور عوام میں شعور بیدار کیا۔1996میں پاکستان سرائیکی پارٹی پی پی پی حکومت کے مخالف 14 جماعتی سیاسی اتحاد کا حصہ بنی اسی سال تاج لنگاہ نے میلسی اور کہروڑ پکا میں کاٹن ریلیوں کی قیادت کی۔پاکستان سرائیکی پارٹی نے 1997 کے انتخابات کا بائیکاٹ کیا۔15 اگست 1997 کو تاج لنگاہ نے دہلی میں سرائیکی عالمی کانفرنس میں شرکت کی اگست 1998 میں اجمل خان خٹک ملتان آئے اس موقع پر بیرسٹر تاج محمد خان لنگاہ‘عبدالمجید خان کانجو‘حمید اصغر شاہین اور مرزا اعجاز پر مشتمل سرائیکی رہبر کمیٹی کا قیام عمل میں آیااجمل خٹک کے رابطوں کے نتیجے میں سندھ‘سرائیکستان‘پختونخواہ اور بلوچستان کے 200 قوم پرست رہنما اسلام آباد میں یکم اور دواکتوبر کو پونم کے تاسیسی اجلاسوں میں شریک ہوئے ان میں اجمل خٹک،تاج لنگاہ،عطاء اللہ مینگل،سید امداد حسین شاہ،ممتاز علی بھٹو،محمود خان اچکزئی،غلام احمد بلور،ڈاکٹر قادر مگسی،ڈاکٹر عبدالحئی،قاضی انور اور لطیف آفریدی نمایاں تھے افتتاحی اجلاس میں مخدوم امین فہیم اور نثار کھوڑد بھی شریک ہوئے سرائیکی رہنماؤں میں تاج لنگاہ کے علاوہ عبدالمجید خان کانجو،حمید اصغر شاہین،میاں منصور کریم سیال،ایم اے بھٹہ،الحاج سید محمد علی،مہدی گردیزی،احمد نواز سومرو،شفقت میتلا،محمدممتازخان ڈاہر(راقم الحروف)،غلام رسول گورمانی،منظور بوہڑ وغیر ہ شامل تھے۔تاج لنگاہ نے سندھی بلوچ اور پختون رہنماؤں کے ساتھ ملکر پونم کا منشور مرتب کیا جسے سندھ‘سرائیکستان‘پختونخواہ اور بلوچستان کی کم و بیش30 جماعتوں کے 200 افراد نے اختتامی اجلاس میں منظور کیا پونم کے منشور کے اہم نکات میں مندرجہ ذیل مطالبات شامل تھے۔

۔ 1سرائیکستان کو صوبے کا درجہ دیا جائے۔
۔2سندھی،سرائیکی،پشتواور بلوچی کو قومی زبانوں کا درجہ دیا جائے۔
3۔دفاع،خارجہ،کرنسی اور مواصلات کے سوا تمام محمکے صوبوں کو دیے جائیں اور اختیارات کے متعلق کنکرینٹ لسٹ ختم کی جائے۔چارصوبوں (سند ھ سرائیکستان پختونخواہ اور بلوچستان میں)پونم کی صوبائی تنظیمیں قائم کی گئیں۔ 2000 میں پاکستان سرائیکی پارٹی نے چولستان میں خشک سالی سے متاثرہ افراد کو امداد ی سا مان فراہم کیا2002 میں پاکستا ن سرائیکی پارٹی نے اپنے اصولوں سے انحراف کر تے ہو ئے مرکزی کمیٹی کے فیصلے کے تحت جنر ل پر ویز مشر ف کے صدار تی ریفرنڈم کی مشروط حمایت کی اسی سال بیرسٹر تاج محمد خان لنگاہ لندن میں محترمہ بینظیر بھٹو کے ساتھ انتخاب میں سیٹ ایڈجسٹمنٹ کے لیے بات کی انہو ں نے قائم علی شاہ کی سربرا ہی ایک تین رکنی کمیٹی قائم کی مگر بے نظیر بھٹو کی واضح ہدایت کے باوجود اس کمیٹی نے سیٹ ایڈ جسٹمنٹ نہیں کی پاکستان سرائیکی پارٹی نے 2002کے انتخابات میں فاروق لغاری کے ساتھ انتخابی اتحاد بنایامگر پاکستان سرائیکی پارٹی انتخابات میں ناکام رہی 2003 میں تاج لنگاہ اعتزاز احسن کی خالی کردہ نشست پر یزمان سے اے آر ڈی کے امیدوار تھے مگر پیپلزپارٹی اور مسلم لیگ ن کی عدم دلچسپی کے باعث کامیاب نہ ہوئے وہ 2003 میں لندن گئے جہاں ماہ ستمبر میں سرائیکی انٹر نشنل کانفرنس منقعد ہوئی جس میں تاج لنگاہ اور سندھی پشتو‘بلوچ‘پنجابی اور اردو بولنے والے دانشوارں نے شر کت کی محترمہ بے نظیر بھٹو‘ عطاء اللہ‘ مینگل‘ غلام مصطفے جتوئی اور پاکستان و بیرون پاکستان مقیم بہت سے لوگوں نے اس کانفرنس میں ای میل کے ذریعے پیغامات بھیجے اکتوبر2003 میں تاج لنگاہ نے میلسی اور کہروڑپکامیں کاٹن ریلیوں کی قیادت کی اور اسی ماہ بہاولپومیں پی ایس پی کے زیرِ اہتمام بہاولپور میں آبی وسائل پرایک سیمنار سے خطاب کیا10 دسمبر کو پاکستان سرائیکی پارٹی نے ملتان میں سرائیکی انٹرنیشنل کانفر نس منقعد کی جس میں ممتاز دانشوروں اور محققین نے مقالے پڑھے محترمہ بے نظیر بھٹو نے کانفرنس کو ایک ای میل پیغام بھیجا۔اپریل 2004میں ملتان آرٹس کونسل میں پاکستان کا سا لانہ جلسہ منعقد ہواجس میں سرائیکی پارٹی کے کارکنوں کے علاوہ رکن قومی اسمبلی میاں ریاض پیر زادہ، ممتاز عالم گیلانی رکن صوبی اسمبلی جاوید صدیقی اور سابق وفاقی وزیر ملک مختار اعوان نے بھی شرکت کی سال 2004میں تاج لنگاہ نے سرائیکی قومی حقوق کے لئے عوامی رابطے جاری رکھے مئی 2004میں لندن میں انٹرنیشنل کشمیر کانفرنس منعقد ہوئی جس میں بے نظیر بھٹو اور فاروق عبداللہ مہمانان ِخصوصی تھے اس کانفرنس میں تاج لنگاہ کو بھی شرکت کی دعو ت دی گئی انہوں نے اس کانفرنس میں جو مقالہ پڑھا اس کی بہت پذیرائی ہو ئی لند ن میں قیام کے دوران تا ج لنگا ہ نے میاں نواز شریف اور میا ں شہبازشریف سے ملاقات کی جس کی   وجہ سے سرائیکی حقوق سے متعلق مسلم لیگ کے

نقطہ ء نظر میں تبدیلی آئی اورنفیس احمد انصاری مولوی سلطان عالم رفیق رجوانہ اور دوسرے مسلم لیگی رہنماؤں کے ساتھ تاج لنگاہ کے رابطے بڑھے پاکستان سرائیکی پارٹی نے ملتان اور دوسرے مقامات پر مظاہرے کیے 2 جون2004 کو نواب مظفرخان شہیدکی قبرپر پھولوں کی چادر چڑھائی اسی ماہ پاکستان سرا ئیکی پارٹی نے اسلام آباد میں قو می اسمبلی کے سامنے غیر منصفانہ بجٹ کے خلاف ایک احتجا جی مظاہر ہ کیاجس میں کچھ دیر کے لیے اراکین قو می اسمبلی عبدالقیوم جتوئی لیاقت بلوچ اور رکن صوبائی اسمبلی نفیس احمد انصاری بھی شریک ہوے یہ مظاہرہ بہت ہی دلچسپ تھا جس وقت تاج لنگاہ مظاہرہ سے خطاب کررہے تھے اسی وقت قو می اسمبلی میں متعدد اراکین تاج لنگاہ کی حمایت میں انکاخط لہراکر سرائیکی حقوق کی تائید کر رہے تھے 2005 میں پاکستان سرائیکی پارٹی نے غیر معمولی سرگرمیوں کا مظاہر ہ کیا تاج لنگاہ نے کارکنوں کو ہدایت کی وہ پارٹی کے سالانہ جلسے کے لیے عوام سے رابطہ کریں اس مقصد کے لیے انہوں نے خود بھی وسیع پیمانے پر رابطے کیے وہاڑی‘لودھراں‘ڈیرہ غازی خان اور دوسرے مقامات ورکرز کنونشن منعقد ہوئے 26 فروری 2005 کو بیرسٹر تاج محمد خان لنگاہ نے وہاڑی بارسے خطاب کیا اور وکلاء سے سرائیکی صوبہ تحریک کے لیے تعاون کی درخواست کی۔8 اپریل 2005 کو بیرسٹر تاج محمد خان لنگاہ نے ملتان قلعے پر پاکستان سرائیکی پارٹی کے سالانہ جلسے سے خطاب کیا۔9 اپریل 2005 کو ”سرائیکی صوبہ کی ضرورت کیوں؟“کے عنوان پرپاکستان سرائیکی پارٹی نے سند باد ہوٹیل ملتان میں ایک مذاکرے کا اہتمام کیا جس میں تاج محمد لنگاہ اور دوسرے مقررین نے صوبہ سرائیکستان کو وقت کی اہم ضرورت قراردیا اس مذاکرے میں پیپلز پارٹی کے رہنماء ملک مختار اعوان نے بھی خطاب کیا۔6 مئی 2005 کو رحیم یار خان کے ایک ریستوران میں سرائیکی رابطہ کونسل کا اجلاس ہوا جس کا اہتمام ارشاد امین اور سیدحیدر جاویدنے کیا تھا۔پاکستان سرائیکی پارٹی کے رہنما محمد اسد اللہ خان لنگاہ‘ تاج گوپانگ‘ممتاز ڈاہر‘انور ڈاہر‘علامہ اقبال وسیم‘شفقت میتلا اور قاضی وحید اس میں شریک ہوئے دوسرے روز یہ رہنماء رحیم یار خان ڈسٹرکٹ بار روم میں قومی ورثوں کی حفاظت کے سلسلے میں منعقدہ ایک سمینار میں شریک ہوئے بعد ازاں انہوں نے پتن منارہ کانفرنس میں شرکت کی۔ 2جون 2005 ء کو بیرسٹر تاج محمد خان لنگاہ نے نواب مظفر حسین شہید کی برسی کے موقع پر ملتان قلعے پر ایک اجتجاحی مظاہرے سے خطاب کیا جس میں میاں منصور کریم، ممتاز ڈاہر، تاج گوپانگ، عبدالستار تھئیم احمد نواز سومرو، منصور کریم میاں، اعجاز راں،خضر حیات خان‘ حکیم حیدر اقبال اور جاوید چنڑ وغیرہ نے شرکت کی۔ 3 جون 2005 ء کو بیرسٹر تاج محمد خان لنگاہ نے اسلام آباد میں سرائیکی دشمن بجٹ کے خلاف احتجاجی مظاہرے کی قیادت کی اس مظاہرے میں 60 کے قریب رہنما اور کارکن شامل تھے۔ جن میں میاں منصور کریم سیال، حسن رضا بخاری، اسد اللہ خان لنگاہ، عبدالستار تھیئم، ممتاز ڈاہر، احمد نواز سومرو، عمر حیات خان لنگاہ، حکیم حیدر اقبال، قاصد عباس، جاویدچنڑ،ظفر ڈھڈی، ملک اعجاز راں، غضنفر عباس راں، علامہ اقبال وسیم، اشرف خان لنگاہ، ہارون خان، منور بلوچ،اور مظہر مہار نمایا ں تھے اراکینِ قومی اسمبلی سردار بہادر سلطان سیہڑاور عبدالقیوم خان جتوئی نے مظاہرین سے اظہارِ یکجہتی کیا 16 جون 2005 ء کو تاج محمد خان لنگاہ نے ہالیڈے ان ملتان میں ”پاکستان کی سیاسی وا قصادی صورتِ حال“کے موضوع پر منعقدہ سمینار کی صدارت کی جس سے پاکستان سرائیکی پارٹی کے رہنماؤں کے علاوہ ملک مختار اعوان، سہیل جاوید، علی رضاگردیزی، نذر بلوچ اور اقبال کامریڈ نے بھی خطاب کیا۔ 9 ستمبر 2005 ء کو پاکستان سرائیکی پارٹی نے مشرف حکومت کے خلاف چوک کچہری ملتان میں ایک اجتحاجی مظاہرہ کیا۔ جس میں مصنف، حکیم حیدر اقبال، محمد ظفر خان ڈھڈی، مجاہد بلوچ، اور عبدالرزاق گرفتار کر لیے گے تاج لنگاہ اور اسد اللہ خان لنگاہ نے اسیر کارکنوں سے ملاقات کی اور انکی جدوجہد کو سراہا، 25 ستمبر2005 کو تاج محمد خان لنگاہ نے تونسہ میں ورکرز کنونش سے خطاب کیا۔ وہ رشید خان قیصرانی کی طرف سے دیے گئے استقبالیے میں شریک ہوئے۔ 26 ستمبر کو تاج لنگاہ نے تونسہ بار ایسوسی ایشن سے خطاب کیا۔ اس موقع پر وکلاء نے ایک متفقہ قرار داد کے ذریعے سرائیکی صوبے کے قیام کا مطالبہ کیا۔ اسی روز تاج محمد خان لنگاہ نے پی ایس پی ضلع تونسہ کے صدر فرید ساجد کی طرف سے اپنے اعزاز میں دیے گئے، استقبالیے میں شریک ہوئے 29 دسمبر2005 کو تاج لنگاہ نے کوٹ مٹھن میں خواجہ غلام فرید کانفرنس میں شرکت کی‘ منصور کرم سیال، تاج گوپا نگ، حسن رضا بخاری، ممتاز ڈاہر، احمد نواز سومرو، عبدالستار تھیئم، ملک اعجاز راں، اسلم جاوید، اسلم رسول پوری، شفقت میتلا، خضر حیات خان، نذر خان بلوچ، اشرف خان لنگاہ ہارون چانڈیو، اور رائے خیرمحمد انکے ہمراہ تھے23 مارچ 2006 کو تاج لنگاہ کو پاکستان سرائیکی پارٹی کی قومی کونسل کے اجلاس میں ایک مرتبہ پھر متفقہ طور پر پی ایس پی کے صدر منتخب ہوئے پارٹی کے مرکزی عہدیداروں کے انتخابات ہر تین سال بعد منعقد ہوتے ہیں اپریل 2006 میں پاکستان سرائیکی پارٹی کا سالانہ جلسہ ملتان قلعے پر منعقد ہوا جس سے تاج لنگاہ اور دوسرے رہنماؤں نے خطاب کیا جون 2006 میں تاج لنگاہ نے پاکستان سرائیکی پارٹی کے زیرِ اہتمام اسلام آباد میں ایک احتجاجی مظاہرے کی قیادت کی جولائی 2006 میں بیرسٹر تاج محمد خان لنگاہ نے لندن میں بے نظیر بھٹو‘میاں نواز شریف اور دوسرے جمہوریت پسند رہنماؤں کے درمیان طے پانے والے اس معاہدے پر دستخط کیے جسے چارٹر آف ڈیموکریسی (میثاقِ جمہوریت)کا نام دیا گیا28 اگست 2006 کو تاج لنگاہ نے چوک کچہری ملتان میں نواب اکبر خان بگٹی کے بہیمانہ قتل کے خلاف پی ایس پی کے احتجاجی مظاہرے سے خطاب کیا2007 نہایت ہنگامہ خیز سال تھا 9 مارچ 2007 کو فوجی حکمران جنرل پرویز مشر ف نے چیف جسٹس افتخار محمد چودھری پر جھوٹے الزامات لگا کر انہیں معطل کردیا تاج لنگاہ نے اس غیر آئینی اور غیر قانونی اقدام کی شدید مذمت کی اور احتجاج کیا 25 اور 26 مارچ 2007 کی درمیانی شب کو مصنف ممتاز ڈاہر کو پولیس نے وکلاء کے جلوس میں شرکت سے روکنے کیلئے گرفتار کرلیا

ملک میں حقیقی جمہوریت کی بحالی کے لیے جلاوطن رہنماؤں نے کوششیں تیز کردیں اس سال میاں نواز شریف نے لندن میں کل جماعتی کانفرنس طلب کی جس میں تاج لنگاہ اوردوسرے سیاسی رہنماؤں نے شرکت کی 3 نومبر 2007 کو جنرل پرویز مشرف نے ملک میں ایمرجنسی نافذ کر دی تاج لنگاہ نے پرویز مشرف کے اس اقدام کی پُر زور مذمت کی اور اسے غیر علانیہ مارشل لاقرار دیا تاج لنگاہ نے اے پی ڈی ایم کی کال پر 9 جنوری 2008 (التواء کے بعد 18 فروری 2008) کے انتخابات کا بائیکاٹ کیا انہوں نے 27 دسمبر 2007 کو بینظیر بھٹو کے نہایت سفاکانہ قتل کی پُر زور مذمت کی مارچ /اپریل 2008 میں نئی منتخب جمہوری حکومت کے قیام کے بعد تاج لنگاہ نے سرائیکی قوم کے مطالبات کو دہرایا اور امید ظاہر کی کہ نئی حکومت صوبہ سرائیکستان کے قیام کے لیے عملی اقدامات کرے گی اس سال انہوں نے خرابیء صحت کی وجہ سے پارٹی کی قیادت سے استعفاء دے دیا ان کے استعفے کے بعد افضل مسعود خان جماعت کے قائم مقام صدر مقرر ہوئے 9 ستمبر 2008 کو انہوں نے راقم الحروف (محمد ممتاز خان ڈاہر)اور دوسرے کارکنوں جماعت کے پُر زور اصرار پراپنا استعفاء واپس لے لیا اور ایک مرتبہ پھر جماعت کی قیادت سنبھال لی۔ تاج لنگاہ اور ان کی قیاد ت میں کام کرنے والی جماعت کو پورا یقین تھا کہ ایک دن صوبہ سرائیکستان وجود میں آئے گا یہاں معاشی اور سماجی انصاف قائم ہوگا لوگوں کو عزت اور خوشحالی ملے گی تنگ نظری بنیاد پرستی اور نفرتوں کا خاتمہ ہوگاانہی مقاصد کا حصول ہی تاج لنگاہ کی زندگی کا نصب العین تھا۔ خدا کرے وہ دن جلد آئے۔بیرسٹر تاج محمد لنگاہ 7 اپریل 2013ء کو حرکت قلب بند ہوجانے سے وفات پاگئے۔

سید یوسف رضا گیلانی

جدیدملتان کے معمار ،فرزندِاولیاء،اسیرجمہوریت،نقیب ِ سرائیکستان ،سابق وزیر اعظم پاکستان سید یوسف رضا گیلانی اپنی امن پسندی،دوست شناسی،انسانی ہمدردی،اپنے مزاج کی شرافت اوراپنے آباکی بے مثال اور غیرمعمولی قومی خدمات کی بدولت معاصرسیاست دانوں میں منفرداور ممتازہیں ۔ تاریخ اور سیاست کا ہر کردارمتنازعہ ہوتا ہے ،اس قانون کا اطلاق سید یوسف رضا گیلانی پر بھی ہوتا ہے چنانچہ پاکستان میں ہر شخص انہیں اپنے اپنے نقطہ نظر سے دیکھتا اور سمجھتا ہے۔مگر ربِ کریم اور صاحب ِالطافِ عمیم کی  خاص عنایت سے اُن کے کریڈٹ پریہ تاریخی حقیقت موجود ہے کہ ان کی وزارتِ عظمیٰ کے دوران پاکستان میں کوئی سیاسی اسیر نہ تھا ۔سیدیوسف رضا گیلانی ریاستی جبراورسیاسی انتقام کا نشانہ بنے مگر انہوں نے کسی سے انتقام نہیں لیا۔پاکستان کا سیاسی ماحول جوالزامات اوردُشنام طرازی سے داغدار ہے وہاں سیدیوسف رضا گیلانی کی گفتگو’’وہ بولے تو باتوں سے پھول جھڑتے ہیں‘‘کی مصداق ہوتی ہے۔خدااِس وجودِ گرامی کو اپنی حفظ و امان میں رکھے۔سیدیوسف رضا گیلانی 9 جون 1952کو عروس البلاد کراچی میں پیدا ہوئے۔ ان کا خاندان اشاعت ِ اسلام، فروغِ علم، امن پسندی اور تحریک پاکستان میں شمولیت کے باعث زمانے میں ممتاز رہا ہے۔ گیلانی حسنی الحسینی سید ہیں۔ سید یوسف رضا گیلانی کے جد امجد سید بندگی محمد غوث حلبی 9 ویں صدی عیسوی میں اشاعت ِ اسلام کی غرض سے شام سے ہجرت کرکے اوچ شریف آئے تھے۔ سید بندگی محمد غوث کا سلسلہ نسب پیر پیران حضرت غوث الاعظم میراں محیی الدین شیخ عبدالقادر جیلانی سے ملتا ہے۔ سید بندگی محمد غوث کی اولاد میں سے ایک بزرگ حضرت سید ابو الحسن جمال الدین معروف بہ حضرت موسیٰ پاک شہید ( وفات 1010ھ ) ملتان میں آسودۂ خاک ہیں۔ آپ کا مزار اندرون پاک دروازہ مرجعِ خلائق ہے۔ سید یوسف رضا گیلانی انہی کی اولاد میں سے ہیں۔ گیلانی اولیاء کے مزارات ملتان کے علاوہ دوسرے شہروں میں بھی ہیں تاریخ کے مطالعے سے معلوم ہوا ہے کہ ملتان کا گیلانی خاندان قیام پاکستان سے قبل اشاعت اسلام اور قومی اور سماجی خدمات کی بدولت نہایت قدر و عزت کی نگاہ سے دیکھاجاتا تھا ۔ رئوسائے ملتان، بوسن، کھچی، سندھل، کانجو، سید ، ہراج نون، ڈیہڑوغیرہ ان کے عقیدت مند اوردوست تھے۔ قیام پاکستان سے پہلے گیلانی خاندان اسلامی اور قومی تحریکوں میں پیش پیش رہا۔ گیلانی اسلاف نے تحریک خلافت اور تحریک آزادی میں قائدانہ کردار ادا کیا۔ سید زین العابدین گیلانی اسلام کی سربلندی کے لیے سب کچھ قربان کرنے کا جذبہ رکھتے تھے۔ انہوں نے تحریک خلافت میں حصہ لیا۔ پیر صدر الدین شاہ ( پردادا  یوسف رضاگیلانی ) کے بیٹے محمد رضا گیلانی بھی تحریک خلافت سے بہت متاثر تھے۔ انہیں ترکوں کے حق میں تقریر کرنے اور طلبہ کو منظم کرنے کی پاداش میں کالج سے خارج کردیا گیا تھا۔ مسلمانوں کی جانی دفاع کے لیے سید زین العابدین نے ایک عسکری دستہ منظم کیا تھا جس کی وجہ سے ہندوئوں کو مسلمانوں پر حملے کی جرأت نہ ہوئی تھی۔ اس سیاسی پس منظر کے ساتھ جب گیلانی خاندان نے آل انڈیا مسلم لیگ میں شمولیت اختیار کی تو ملتان میں سبز جھنڈے نظر آنے لگے۔ سید زین العابدین گیلانی، سید علمدار حسین گیلانی ( والد سید یوسف رضا ) اور دوسرے گیلانی مشاہیر نے لاہور میں اس تاریخی اجتماع میں شرکت کی جس میں قرار داد پاکستان منظور کی گئی۔ 1940 کے عشرے میں جب ہندوستان کے مسلمان حلقوں میں ہر طرف ’’بن کے رہے گا پاکستان‘‘، ’’لے کے رہیںگے پاکستان‘‘ کے نعرے لگ رہے تھے۔ اس وقت گیلانی خاندان ہی ملتان میں آزادی کا نقیب تھا۔ بانی ٔ پاکستان قائد اعظم محمد علی جناح کو جب ملتان آنے کی دعوت دی گئی تو انہوں نے کہا کہ گیلانی خاندان کے ہوتے ہوئے مجھے ملتان جانے کی ضرورت نہیں اور پھر تاریخ نے گواہی دی کہ قائد اعظم کا ادراک درست تھاانگریز حکومت نے ہندوستان میں قانون ساز اسمبلیوں کے انتخابات کرائے۔ 9 جنوری 1946 کو آل انڈیا مسلم لیگ نے صوبہ سرحد کے سوا ہندوستان کے تمام مسلم اکثریتی صوبوں میں بھاری اکثریت حاصل کی مسلم اقلیت کے صوبوں میں بھی مسلم لیگ نے مسلمان نشستوں پر اکثریت حاصل کی۔ ملتان میں مسلم لیگ نے الیکشن سویپ کیا۔ یہاں سے عام نشستوں پر مسلم لیگ کے تمام امیدوار سید غلام مصطفی شاہ ( دادا سید یوسف رضا گیلانی ) سید مخدوم محمد رضا شاہ گیلانی، نواب اللہ یار خان دولتانہ، ملک محمد اکرم خان بوسن، پیر بڈھن شاہ کھگہ اور سید نوبہار شاہ کامیاب ہوکر پنجاب اسمبلی کے رکن ( MLA ) بنے۔ مزید برآں وہاڑی کے نواب میاں ممتاز محمد خان دولتانہ نارووال ( تب ضلع سیالکوٹ) سے جبکہ جہانیاں کے چودھری ظفر اللہ واہلہ اجنالہ ضلع امرتسر سے MLA منتخب ہوئے۔ نیز سید شیرشاہ گیلانی سنٹرل اسمبلی کے رکن منتخب ہوئے۔ ان انتخابات کے نتیجے میں پاکستان کا قیام عمل میں آیا۔ گیلانی خاندان کو یہ اعزاز ملا کہ اس خاندان کے دو حقیقی بھائی سیدغلام مصطفی شاہ اور سید محمد رضا شاہ گیلانی MLA منتخب ہوئے ۔ گیلانی خاندان کی انتخابی کامرانیوں کا تذکرہ اس کتاب کے مختلف صفحات پر موجود ہیں۔ قیام پاکستان سے پہلے اور بعد میں انجمن اسلامیہ ملتان کے زیر اہتمام گیلانی خاندان نے ملتان میں سکول اور کالج قائم کئے اور تاریخ نے دیکھا کہ یہ تعلیمی ادارے ایک انقلاب کی بنیاد ثابت ہوئے۔ گیلانی خاندان پاکستان کی ایک مؤثر سیاسی قوت ہے۔ اس کی جڑیں عوام میں بہت گہری ہیں۔ سید یوسف رضا گیلانی نے ابتدائی تعلیم سینٹ میریز کانونٹ ملتان سے حاصل کی اور بعد میں معروف تعلیمی ادارے لاسال ہائی سکول ملتان میں داخل ہوئے۔ سید یوسف رضا گیلانی نے اپنی کتاب چاہِ یوسف سے صدا میں لاسال سکول کی یادوں کو قلمبند کیاہے۔ میٹرک تک تعلیم حاصل کرنے کے بعد سید یوسف رضا گیلانی نے ولایت حسین اسلامیہ کالج ملتان میں داخلہ لیا۔ یہ کالج انجمن اسلامیہ ملتان کے کارناموں میں سے ایک ہے۔ یہاں سے سید یوسف رضا گیلانی نے ایف ایس سی ( پری میڈیکل) کا امتحان پاس کیا۔ اور مزید تعلیم کے لیے گورنمنٹ کالج لاہور میں داخل ہوئے۔ جہاں سے انہوں نے بی اے تک تعلیم حاصل کی بعد میں وہ پنجاب یونیورسٹی لاہور کے شعبہ صحافت میں داخل ہوئے۔ 1976 میں سید یوسف رضا گیلانی نے ایم اے صحافت کا امتحان پاس کیا۔ ان کی شادی پیر اسرار شاہ کی دختر سے انجام پائی۔ 9 اگست 1978 کو ان کے والد سید علمدار حسین گیلانی وفات پاگئے۔ سید یوسف رضا گیلانی 1978 میں مسلم لیگ کی سنٹرل کمیٹی کے رکن بنے اور 1982 میں وفاقی مجلس شوریٰ کے رکن نامزد ہوئے۔ 1983 میں ڈسٹرکٹ کونسل ملتان کے رکن منتخب ہوئے اور ایک دلچسپ انتخابی معرکے میں سید فخر امام کو شکست دے کر ڈسٹرکٹ کونسل ملتان کے چیئرمین منتخب ہوئے۔ 1985 کے غیر جماعتی انتخابات میں لودھراں سے قومی اسمبلی کے رکن منتخب ہوئے۔ 1986 میں وزیر اعظم محمد خان جونیجو کی کابینہ میں ریلوے کے وزیر مقرر ہوئے۔ 1988 میں پاکستان پیپلز پارٹی میں شامل ہوئے۔ اسی سال تاریخی شخصیت میاں نواز شریف کو شکست دے کر ملتان سے پی پی پی کے ٹکٹ پر قومی اسمبلی کے رکن منتخب ہوئے۔ وہ وزیر اعظم محترمہ بے نظیر بھٹو کی کابینہ میں پہلے سیاحت کے اور بعد میں ہائوسنگ و تعمیرات کے وزیر مقرر ہوئے۔ 1990 میں اپنے والد کے کزن اور گیلانی خاندان کی ممتاز ترین شخصیت مخدوم سید حامد رضا گیلانی وغیرہ کو شکست دے کر قومی اسمبلی کے ممبر منتخب ہوئے۔ سید یوسف رضا گیلانی 1993 میں نگران وزیر اعظم میر بلخ شیر مزاری کی کابینہ میں بلدیات و دیہی ترقی کے وزیر مقرر ہوئے ۔ 1993 میں ایک مرتبہ پھر قومی اسمبلی کے رکن منتخب ہوئے اور بعد ازاں قومی اسمبلی کے سپیکر منتخب ہوئے۔ سید یوسف رضا گیلانی 1997 میں سکندر حیات خان بوسن کے مقابلے میں قومی اسمبلی کا الیکشن ہار گئے۔ 1998 میں سید یوسف رضا گیلانی پاکستان پیپلز پارٹی کے وائس چیئرمین منتخب ہوئے۔ سید یوسف رضا گیلانی مشرف دور میں سیاسی انتقام کا نشانہ بنے اور ایک طویل عرصہ جیل میں رہے۔ وہ 18 فروری 2008 کو پانچویں مرتبہ قومی اسمبلی کے رکن اور بعد ازاں 26مارچ 2008 کو وزیر اعظم پاکستان منتخب ہوئے۔سید یوسف رضا گیلانی نے قومی اسمبلی میں اپنی افتتاحی تقریب میں چیف جسٹس افتخار محمد چودھری کی رہائی کا حکم دیا ۔ 16مارچ 2009کو انہوں نے جسٹس افتخار محمد چودھری کی چیف جسٹس آف پاکستان کے منصب پر بحالی کا تاریخی حکم صادر کیا۔13مارچ2011کو سید یوسف رضا گیلانی نے جلال پور میں ایک جلسۂ عام میں اعلان کیا کہ پاکستان پیپلز پارٹی سرائیکی صوبے کے قیام کو اپنے منشورکا حصہ بنائے گی جس کے بعد سرائیکی صوبہ تحریک کو بہت تقویت ملی۔ سید یوسف رضا گیلانی نے مفاہمت کی سیاست اپنائی جس کی وجہ سے انکی مقبولیت میں اضافہ ہوا۔ سید یوسف رضا گیلانی کے احکاما ت سے پاکستان او خاص طور پر ملتان میں بہت سے تعمیراتی منصوبے شروع ہوئے ہیں۔ جن میں ملتان تا فیصل آباد موٹروے ہیڈ محمد والا،جلال پور اوچ شریف موسیٰ پاک برج تعمیر ایئر پورٹ ملتان ، ملتان شہر میں سات فلائی اوور،بے نظیر برج چاچڑاں شریف، متعدد پارک اورہسپتال ملک بھر میںآئی ٹی یونیورسٹیوںکا قیام اوردوسرے منصوبے شامل ہیں۔ 6 جنوری 2012ء کو قومی اسمبلی سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم سید یوسف رضا گیلانی نے کہا کہ ہم سرائیکی صوبہ بنائیں گے۔ 19 جون 2012ء کوسید یوسف رضا گیلانی ایک متنازعہ عدالتی فیصلے کے باعث وزارتِ عظمیٰ کے منصب سے معزول کردیئے گئے۔

میاں محمد عمران ممتاز خان بھابھہ

میاں محمد عمران ممتاز خان بھا بھہ تحصیل میلسی کے ایک معزز زمیندارہیں۔ ان کے دادا میاں غلام محمد خان بھا بھہ موضع ملکو میں 2900ایکڑ زرعی اراضی کے مالک تھے اور ان کا شمار رؤ سائے ملتان میں ہوتا تھا۔ میاں محمد عمران ممتاز خان بھابھہ کے والد محترم محمد ممتاز خان بھا بھہ 1988میں جبکہ چچا میاں نور محمد خان بھا بھہ 1993میں دلاور خان کھچی جیسی معروف شخصیت کو شکست دے کر پاکستان پیپلز پارٹی کے ٹکٹ پر قومی اسمبلی کے رکن منتخب ہوئے تھے۔ بھا بھہ برادران کی انتخابی کامیابیوں کے باعث ان کے خاندان کے سماجی وقار اور انکی سیاسی ساکھ میں بہت اضافہ ہوا۔ میاں محمد ممتاز خان بھا بھہ نے پاکستان پیپلز پارٹی کے لیے گراں قدر خدمات انجام دیں۔ وہ بھائی نور محمد خان بھا بھہ بہنوئی میاں ریاض احمد سنڈھل اور دوستوں کے ہمراہ 1986میں محترمہ بے نظیر بھٹو (بعد ازاں وزیر اعظم پاکستان) کی وطن واپسی کے موقع پر پیپلز پارٹی میں شامل ہوئے تھے۔ میاں محمد ممتاز خان بھابھہ پاکستان پیپلز پارٹی کی اعلیٰ سطحی اجلاسوں میں شرکت کرتے تھے۔ محترمہ بے نظیر بھٹو ملتان کینٹ میں انکی رہائش گاہ پر آئی تھیں۔ میاں محمد ممتاز خان بھا بھہ کا گھر سیاسی سرگرمیوں کا مرکز تھا مختلف اوقات میں سید یوسف رضا گیلانی (بعد ازاں وزیر اعظم پاکستان) مخدوم شاہ محمود قریشی (بعد ازاں وزیر خارجہ)، بیگم نصر ت بھٹو، سید خورشید احمد شاہ (بعد ازاں قائد حزب اختلاف)، سابق گورنر ووزیر اعلیٰ پنجاب غلام مصطفی کھر، فیصل صالح حیات اور دوسرے مشاہیر سیاست یہاں آئے تھے۔
میاں محمد ممتاز خان بھا بھہ 2ستمبر 2002کو عزت و احترام کی زندگی گزارنے کے بعد وفات پا گئے۔ میاں محمد عمران ممتاز خان بھا بھہ 17مارچ 1982کو عروس البلاد ملتان میں پیدا ہوئے۔ اُنہوں نے مشہو ر تعلیمی ادارے بیکن ہاؤس ملتان اور ایف سی کالج لاہور سے تعلیم حا صل کی۔ محمد عمران ممتاز خان بھا بھہ نے اپنے والد اور چچا میاں نور محمد خان بھا بھہ کے اُصولو ں کو مد نظر رکھتے ہوئے میدان ِ سیاست میں قدم رکھا۔وہ لوگوں کے دکھ سکھ میں شریک ہونے لگے جس کی وجہ سے اُنہیں بہت مقبولیت ملی۔ میں محمد عمران ممتا ز خان بھا بھہ چچا نور محمد خان بھا بھہ کے ہمرا ہ پاکستان تحریک انصاف میں شامل ہوئے میاں نور محمد خان بھا بھہ پاکستان پیپلز پارٹی اور پاکستان تحریک انصاف کے مختلف عہدوں پر فا ئز رہے ہیں۔ وہ ان دنوں پاکستان تحریک انصاف جنوبی پنجاب کے صدر ہیں۔ میاں محمد عمران ممتاز خان بھا بھہ 31اکتوبر 2015کو بھاری اکثریت سے یونین کونسل سنڈھل کے چیرمین منتخب ہوئے اور 4مئی 2019تک اس عہدے پر فا ئز رہے۔ میاں عمران ممتاز خان بھا بھہ ایک جہاں دیدہ انسان ہیں۔ وہ متحدہ عرب امارات، سعو دی عرب، ترکی، برطانیہ،ر فرانس، سنگاپور، ملائیشیا، امریکہ اور روس گئے ہیں۔ میاں محمد عمران خان بھا بھہ کسانو ں کے حقوق کے حامی رہے ہیں۔ وہ سمجھتے ہیں کہ پاکستان کی خوشحالی اور ترقی کے لیے زرعی شعبے کی ترقی نا گزیر ہے۔

سردارمحمد عمران خان کھچی

سردار محمد عمران خان کھچی سابق ڈی۔سی۔او بہاول نگرغلام اکبر خان کھچی کے بیٹے سابق چیرمین میونسپل کمیٹی میلسی الحاج اللہ یار خان کھچی مرحوم کے پوتے اور سابق رکن پنجاب اسمبلی سردار محمد خان کھچی کے بھتیجے ہیں۔الحاج اللہ یار خان کھچی کا بڑا نام اور وقار تھا وہ چار مرتبہ میونسپل کمیٹی میلسی کے چیرمین منتحب ہوئے اور کچھ عرصہ مارکیٹ کمیٹی میلسی کے چیرمین بھی رہے۔ غلام اکبر خان کھچی ایک لائق فائق انسان ہیں۔اُنہوں نے انگریزی ادب میں ایم۔اے کا امتحان پاس کیا اور انگلش کے لیکچرار مقرر ہوئے۔بعد ازاں اُنہوں نے پبلک سروس کا امتحان پاس کرنے کے بعد اسسٹنٹ کمشنر ملتان۔ ایڈیشنل کمشنر لیہ اور ڈی۔سی۔او بہاول نگر خدمات انجام دیں۔
محمد عمران خان کھچی کے چچا سردار محمد خان کھچی 1985تا 1987اور 1998تا1999میونسپل کمیٹی میلسی کے چیرمین رہے سردارمحمد خان کھچی مارکیٹ کمیٹی میلسی کے چیرمین بھی رہے۔وہ 18فروری 2008کو پاکستان پیپلز پارٹی کے ٹکٹ پر صوبائی حلقہ 239میلسی سے پنجاب اسمبلی رکن منتخب ہوئے۔محمد عمران خان کھچی کی ولادت 1978میں ہوئی اُنہوں نے ابتدائی تعلیم فیڈرل پبلک ہائی سکول میلسی سے حاصل کی اور 1994میں گورئمنٹ ہائی سکول گلگشت کالونی ملتان سے میٹرک کا امتحان پاس کیا محمد عمران خان کھچی معروف تعلیمی ادارے ایف۔سی کالج لاہور میں داخل ہوئے جہاں سے انہوں نے بی۔اے تک تعلیم حاصل کی تعلیم مکمل کرنے کے بعد انہوں نے آبائی پیشہ زراعت اختیار کیا۔محمد عمران خان کھچی نے اپنے چچا سردارمحمد خان کھچی کی قومی اور سماجی خدمات سے متاثر ہوکر میدان سیاست میں قدم رکھا۔وہ لوگو ں کے دکھ سکھ میں شامل ہونے لگے جس کی وجہ سے انہیں بہت مقبولیت ملی۔محمد عمران خان کھچی نے سردارمحمد خان کھچی کی وفات کے بعد صوبائی حلقہ 239سے 18فروری 2013کو پاکستان پیپلز پارٹی کے ٹکٹ پر پنجاب اسمبلی کا الیکشن لڑا جس میں انہوں نے 18481ووٹ حاصل کیے بعد میں انہوں نے پاکستان مسلم لیگ (ن) میں شمولیت اختیار کی اور پاکستان مسلم لیگ (ن) تحصیل میلسی کے صدر مقرر ہوئے 7اپریل 2016کو وزیر اعلیٰ پنجاب میاں محمد شہباز شریف نے انہیں شکایا ت سیل ضلع وہاڑی کا کوآرڈی نیٹر مقرر کیا۔محمد عمران خان کھچی اپنے ڈیرے پر بیٹھ کر لوگوں کے مسائل سنتے ہیں اور اُنکے حل کے لیے ہر ممکن کوشش کرتے ہیں۔ محمد عمران خان کھچی کھلاڑیوں کی سرپرستی کرتے ہیں۔ انہوں نے سردار محمد خان کھچی میموریل کرکٹ ٹورنامنٹ کا اہتمام کیا۔ جسکی وجہ سے کھلاڑیوں کا حوصلہ بلند ہوا۔ محمد عمران خان کھچی پاکستان پیپلز پارٹی میں شامل ہوئے اُن کی شمولیت سے میلسی میں پیپلز پارٹی کو بہت تقویت ملی ہے اور پی پی کے کارکنوں کے حوصلے بلند ہوئے ہیں محمد عمران خان کھچی سمجھتے ہیں کہ پاکستان شدید معاشی اور سیاسی بحران کا شکار ہے اور پاکستان پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری کی قیادت میں ملک کو بحران سے نکال سکتی ہے۔سردار محمد عمران خان کھچی نے 5نومبر 2019کو ملتان میں پی پی پی کے چیر مین بلاول بھٹو زرداری ، سابق وزیر اعظم سید یو سف رضا گیلانی اور پی پی پی کے دیگر راہنماؤں سے ملا قات کی بلاول بھٹو نے سر دار محمد عمران خان کھچی کی پی پی پی میں شمولیت کا خیر مقدم کیا اور انکے جذبے کو سرا ہا بلاول بھٹو نے محمد عمران خان کھچی کے چچا سردار محمد خان کھچی مرحوم کی پارٹی سے وابستگی اور انکی خدمات کو بھی سراہا محمد عمران خان کھچی نے محمود حیات خان عرف ٹوچی خان کے ہمراہ بلاول بھٹو کو میلسی آنے کی دعوت دی محمد عمران خان کھچی آئندہ انتخابا ت میں میلسی سے پاکستان پیپلز پارٹی کے ٹکٹ پر پنجاب اسمبلی کا الیکشن لڑیں گے۔

امان اللہ خان بامے زئی

انجینئر امان اللہ خان بامے زئی مئی 1941میں میلسی میں پیدا ہوئے اُنکے والد محترم احمد یار خان بامے زئی کا میلسی شہر میں بڑا وقار تھا وہ تحصیل کوٹ ادو ضلع مظفر گڑھ کے چک 608TDAاور 604TDAمیں زرعی زمینوں کے مالک تھے احمد یار خان زمیندارہ کے ساتھ ساتھ میلسی میں کاروبار بھی کرتے تھے احمد یار خان عزت و احترام کی زندگی گزارنے کے بعد مئی 1986میں وفات پا گئے۔ تحقیق سے معلوم ہواہے کہ بامے زئی اسلاف قیام پاکستان سے بہت پہلے افغانستان سے ہجرت کر کے ملتان آئے تھے۔1818میں جب لاہور کے راجہ رنجیت سنگھ نے ملتان پر حملہ کیا تو بامے زئی خاندان کے افراد نے والئی ملتان نواب محمد مظفر خان شہید کے شانہ بشانہ جنگ لڑی اس شاندار مگر ناکام دفاعی جنگ میں نواب محمد مظفر خان اور اُن کے بہت سے سپاہی شہید ہو گئے بعد میں بعض سپاہیوں نے ملتان چھوڑ کر مختلف مقامات پر پناہ لی اُسی زمانے میں بامے زئی خاندان کے افراد ڈیرہ اسماعیل خان چلے گئے حالات موافق ہونے پر انگریز حکومت کے زمانے میں امان اللہ خان کے دادا محترم اللہ یار خان بامے زئی واپس ملتان آگئے امان اللہ خان بامے زئی تاریخی درس گاہ گورنمنٹ ہائی میلسی میں داخل ہوئے جہاں سے اُنہوں نے میٹرک تک تعلیم حا صل کی گورنمنٹ ایمرسن کالج ملتان سے ایف ایس سی کا امتحان پاس کرنے کے بعد امان اللہ خان معروف تعلیمی ادارے یونیورسٹی آف انجینئرنگ اینڈ ٹیکنالوجی لاہور میں داخل ہوئے بی ایس سی انجینئر نگ کرنے کے بعد امان اللہ خان نے تقریباً 5سال مشہور تجارتی کمپنی میسی فرگوسن میں ملازمت اختیار کی اور بعد میں ملازمت ترک کر کے زراعت کے آبائی پیشے سے وابستہ ہوئے امان اللہ خان نقشبندی ضلع مظفرگڑھ تحصیل کوٹ ادو اور تحصیل میلسی کے دیہات میراں پور میں زرعی زمینوں کے مالک تھے امان اللہ خان نے قائد اعظم روڈمیلسی پر بسم اللہ مارکیٹ بھی تعمیر کرائی تھی۔ امان اللہ خان نے فلاحی، سماجی اور سیاسی سرگرمیوں میں دلچسپی لی اور ان فلاحی منصوبو ں کے لیے ان تھک محنت کی امان اللہ خان بیت المال ضلع وہاڑی کے وائس چیرمین اور امن کمیٹی کے ممبر بھی رہے اُن کی زندگی میں محرم الحرام اور عیدین کے تہوار نہایت پُر امن طریقے سے ہوتے تھے اُنہوں نے ملک کے دفاع کے لیے جانباز فورس میں بھی خدمات انجام دیں امان اللہ خان نے کھیلوں اور کھلاڑیوں کی حوصلہ افزائی کے لیے قابلِ قدر خدمات انجام دیں اُنہوں نے کرکٹ اور ٹیبل ٹینس کو فروغ دیا کھلاڑی اُنکے گھر پر ٹیبل ٹینس کھیلتے تھے انکی دعوت پر(ر) ایر مارشل اصغر خان میلسی آئے تھے ۔ امان اللہ خان نقشبندی پاکستان کے سیاسی نظام سے مطمئن نہیں تھے وہ مسلم سکالر ڈاکٹر طاہر القادری کی شخصیت اوران کے تعلیمی اور اصلاحی منصوبو ں سے بہت متاثر ہوئے اُن کے دل میں خیال آیا کہ وہ پاکستان کی سیاسی نظام کو بدلنے کے لیے کوئی کردار ادا کر سکتے ہیں چنانچہ وہ پاکستان عوامی تحریک اور تحریک منہاج القران سے وابستہ ہوئے اُنہوں نے 1990میں پاکستان عوامی تحریک کے ٹکٹ پر میلسی سے قومی اسمبلی کا الیکشن بھی لڑا تھا 1994 میں ڈاکٹر طاہر القادری امان اللہ خان کی اقا مت گاہ پر میلسی آئے تھے۔امان اللہ خان ایک عملی مسلمان تھے وہ نماز پنجگانہ ادا کرتے تھے امان اللہ خان اپنے گھر پر ذکر الہی کی محفلیں منعقد کرتے تھے۔ وہ شعر و ادب کے بھی دلدادہ تھے اورکبھی کبھی مشاعروں کا اہتمام کرتے تھے۔
امان اللہ خان نے تصوف کا راستہ اختیار کیا اُنہوں نے ایک ولئی کامل حضر ت خواجہ محمد علیؒ بانی وادی عزیز شریف ضلع چنیوٹ کے ہاتھ پر بیعت کی اور اپنی زندگی اپنے پیر و مرشد کے کہنے پر گزاری حضرت خواجہ محمد علی نے آ پ کے اند چھپے ہوئے وصف کو پہچان لیا اور آپ کو خلافت عطا کیا۔ امان اللہ خان نقشبندی نے 29دسمبر 2003کو وفات پائی۔اُن کا مدفن اُن کے آبائی قرستان میراں پور تحصیل میلسی میں ہے۔ امان اللہ خان نقشبندی کے 5بیٹے آصف امان اللہ خان بامے زئی ، بیرسٹر انوار احمد خان بامے زئی، انجینئراورنگ زیب خان بامے زئی، انجینئر جہاں زیب خان بامے زئی اور گل زیب خان بامے زئی ہیں۔ آصف امان اللہ خان بامے زئی سلسلہ نقشبندی کے خلیفہ مجازہیں اور اپنے والد کے اصولوں کے مطابق فلاحی اور اصلاحی منصوبو ں میں حصہ لیتے ہیں اُنہوں نے 2017میں دوستوں کو ساتھ ملا کر خد متِ خلق کے جذنے سے فلاحی تنظیم المعصوم ویلفیر فاؤنڈیشن قائم کی جس کا افتتاح عصر ِ حاضر کے ولئی کامل حضر ت خواجہ محبوب الہی نسیم نے کیا یہ تنظیم میلسی کے دکھی اور ضرورت مند افراد کی مدد کرتی ہے۔ بیرسٹر انوار احمد خان بامے زئی پاکستان تحریک انصاف کے دیرینہ کارکن اور انصاف لایر ز فورم جنوبی پنجاب کے صدر ہیں۔ انوار احمد خان پاکستان تحریک انصاف کے سیاسی اور احتجاجی مہمات میں نمایاں رہے ہیں۔ 2018کے عام انتخابات میں اُنہوں نے پی۔ ٹی۔ آئی کی انتخابی مہم میں بھر پور حصہ لیا۔ اس موقع پر محمد اورنگ زیب خان کھچی پی۔ ٹی۔ آئی کے ٹکٹ پر میلسی سے قومی اسمبلی جبکہ محمد جہاں زیب خان کھچی نے صوبائی اسمبلی کے رکن منتخب ہوئے بعد میں محمد جہاں زیب خان کھچی نے سردار عثمان بزدار کی کابینہ میں بطور وزیر ٹرانسپورٹ اپنے عہدے کا حلف اُٹھایا۔

سردار نور احمد خان ملیزئی

سردار نور احمد خان ملیزئی کا شمار میلسی کے اُن سیئنر سیاسی کارکنوں میں ہوتا ہے جو سیاسی منظر نامے پر ہمیشہ موجود رہے ہیں اُن کا یہ منفرد اعزاز ہے کہ وہ سات مرتبہ میلسی بار ایسوسی ایشن کے صدر منتخب ہوئے ہیں سردارنور احمد خان ملیزئی مختلف اوقات میں میونسپل کمیٹی میلسی کے چیرمین معاون خصوصی وزیر اعلیٰ پنجاب اور ڈسٹرکٹ ہیلتھ کوآرڈی نیٹر وہاڑی بھی رہے ہیں سردار نور احمد خان ملیزئی نے 31 جولائی 1950 کو ایک زمیندار گھرانے میں آنکھ کھولی انکے والد سردار شیر احمد خان ملیزئی تحصیل میلسی کے مختلف دیہات میں سینکڑوں ایکڑ اراضی کے مالک اور بڑے نام والے زمیندار تھے سردار نور احمد خان ملیزئی کے دادا سردار عطا محمد خان انگریز دورِ حکومت میں جیلوں کا معاینہ کیا کرتے تھے ۔ سردار شیر احمد خان قیام پاکستان کے وقت متروکہ جائیداد کے نگران تھے سردار شیر احمد خان کے بھائی اور سردار نور احمد خان ملیز ئی کے چچا سردار عبدالجبار خان ہائی کورٹ کے جسٹس اور سروسزٹریبونل پنجاب کے چیئرمین تھے ۔ سردار عبدالجبار خان کے فیصلوں سے بہت سے سرکاری ملازمین کو ریلیف ملا ۔ سردار عبدالجبار خان تاریخی حیدرآباد ٹریبونل میں شامل تھے ۔ اس ٹریبونل نے خان عبدالولی خان ، میر غوث بخش بزنجو، محمد قسور گردیزی اور نیپ کے دوسرے رہنماءوں کے خلاف غداری کے مقدمے کی سماعت کی تھی ۔ یہ مقدمہ ذوالفقار علی بھٹو کے دورِ حکومت میں قائم کیا گیا تھا ۔ سردار عبدالجبار خان نے کچھ عرصہ تحریک پاکستان کے رہنما سید علمدار حسین گیلانی کے ہمراہ مسلم لیگ کی تنظیم اور اشاعت میں حصہ لیا ۔ سردار عبدالجبار خان سرائیکی صوبہ تحریک کے حامی تھے اور اُنہوں نے ملتان میں 1992 میں سرائیکی عالمی کانفرنس کے لیے مالی معاونت کی تھی تاریخ کے مطالعے سے معلوم ہوا ہے کہ سردار نور احمد خان ملیزئی کے آباء افغانستان سے ہجرت کر کے ہندوستان آئے تھے ۔ 1835 میں نور احمد خان ملیزئی کے اجداد میں سے دو بھائی احمد خان ملیزئی اور محمد خان ملیزئی ریاست بہاولپور میں وزارت اور کمانڈر انچیف کے عہدوں پر فائز تھے ۔ 1838 میں نواب بہاولپور کی محلاتی سازشوں کے باعث ملیزئی خاندان کے متعدد افراد قتل ہو گئے ۔ اُس وقت سردار نور احمد خان ملیزئی کے مورث اعلیٰ ناصر خان ملیزئی جان بچا کر نکلے انہوں نے دریائے ستلج عبور کیا اور موضع رانا واہن آئے ۔ ناصر خان ملیزئی نے میر علی مراد تالپور کے ہاں ملازمت کی اور ریٹائرمنٹ پر انہوں نے لدھابوہڑ تیل چراغ ۔ محمدپور ۔ گلزار پور اور میراں پور میں زرعی رمینیں خریدیں ناصر خان ملیزئی کی اولاد نے یہاں عزت و احترام اور شان و شوکت کی زندگی گزاری ۔ اس خاندان کے نامور فرزند سردار نور احمد خان ملیزئی نے زمانہ َطالب علمی میں قومی اور سیاسی شعور پایا ۔ انہوں نے پنجاب یونیورسٹی سے بی اے اور ایل ایل بی کی ڈگریاں حاصل کیں اور میلسی میں وکالت کا آغاز کیا ۔ 1983 میں میونسپل کمیٹی کا الیکشن لڑ کر سردار نور احمد خان ملیزئی نے میلسی کی سیاست میں ہلچل مچا دی ۔ اس موقع پر میلسی کے پٹھان اور کھچی گروپ انکے مخالفت میں اکٹھے ہو گئے تھے ۔ سردار نور احمد خان ملیزئی1992 میں میونسپل کمیٹی کے چئیرمین منتخب ہوئے ۔ وہ تین مرتبہ (1991,1987اور1998) میونسپل کمیٹی میلسی کے رکن اوردو مرتبہ قائد حزب اختلاف رہے سردار نور احمد خان ملیزئی 1977 ،1978 ،1983 ،1984،1985 2005,اور 2017 میں میلسی بار ایسو ایشن کے صدر منتخب ہوئے ۔ سردار نور احمد خان ملیزئی انتخابی معرکوں کی رونق ہیں انہوں نے 1977سے اب تک تمام عام اور بلدیاتی انتخا بات میں اپنا کردار ادا کیا ہے اور اس حقیقت سے کسی کو انکار نہیں انہوں نے جس امیدوار کی حمایت کی اسکابھر پور ساتھ دیا ۔ سردار نور خان ملیزئی نے 2000 میں مسلم لیگ (ن)کا پرچم اٹھایا اور پھر اپنے مزاج کے مطابق اس کا بھر پور ساتھ دیا ۔ مشکل وقت میں بہت سے لوگوں کے پاءوں اکھڑ گئے مگر سردار نور احمد خان کے پائے استقامت میں لرزش نہیں آئی ۔ میاں محمد نواز شریف اور میاں محمد شہباز شریف کی جلاوطنی کے زمانے میں ملیزئی ہاءوس مسلم لیگ (ن) کی سیاسی سرگرمیوں کامرکز بنا رہا ۔ نوراحمد خان ملیزئی نے کارکنوں کا حوصلہ بڑھایا ۔ نور احمد ملیزئی کی وجہ سے مسلم لیگ ن یوتھ یہاں کی ایک موثر سیاسی قوت بنی سردار نور احمد خان ملیزئی 12اکتوبر کو یوم سیاہ اور 28مئی کو یوم تکبیر کے جلوسوں کی قیاد ت کرتے رہے ہیں سردار نور احمد خان ملیزئی نے 2002اور 2008 میں پاکستان مسلم لیگ (ن )کے ٹکٹ پر قومی اسمبلی کا الیکشن لڑا ۔ 2007کی تحریک بحالی عدلیہ میں سردار نور احمد خان ملیزئی نے نے بھر پور حصہ لیا ایک روز وکلا نے اُن کی قیادت میں مشعل بردار جلو س نکالا جس میں مشرف حکومت کے خلاف پر جوش نعرے لگائے گئے 3نومبر 2007کو جب آمر پاکستان جنرل پرویز مشرف نے غیر قانونی طور پر ایمر جنسی نافذ کر دی تو سردار احمد نور خان ملیزئی گرفتار کر لیے گئے انہیں 2دن مترو تھانہ میں مقید کیا گیا ۔ اور بعد میں انکی رہائی عمل میں آئی ۔ سردار نور احمد خان ملیزئی 2009 میں ڈسٹرکٹ کوارڈی نیٹر ہیلتھ وہاڑی مقرر ہوئے ۔ بعدازاں وہ وزیراعلیٰ پنجاب کے معاونِ خصوصی مقرر ہوئے ۔ 25 ;241; اپریل 2013 ء کو انہوں نے بعض وجوہات کی بنا پر پاکستان مسلم لیگ(ن) چھوڑ کر پاکستان تحریک انصاف میں شمولیت اختیارکی ۔ 14جنوری 2017کو سردار نور احمد خان ملیزئی ساتویں مرتبہ میلسی بار ایسو سی ایشن کے صدر منتخب ہوئے 2018کے عام انتخابات پاکستان کی تحریک انصاف کی انتخابی مہم میں بھر پور حصہ لیا اس موقع پر محمد اورنگ زیب خان کھچی پاکستان تحریک انصا ف کی ٹکٹ پر قومی اسمبلی جبکہ جہانزیب خان کھچی اور علی رضا خان خاکوانی پنجاب اسمبلی کے رکن منتخب ہوئے ۔

میاں قمر الدین سفیر ایڈوکیٹ

میاں قمر الدین سفیر ایڈوکیٹ میلسی کے ایک معروف اور ممتاز وکیل ہیں۔ وہ فوجداری مقدمات کا وسیع تجربہ رکھتے ہیں۔ اُنہوں نے طویل عر صے میں اور محنت شاقہ سے قانونی پیشے میں مقام حاصل کیا ہے مختلف لاجرنلزمیں اُن کے متعدد مقدمات رپورٹ ہوئے ہیں۔ وہ ۲ مرتبہ (2018-1994)میلسی بار ایسوسی ایشن کے صدر اور 2005تا 2010پنجاب بار کونسل کے رکن رہے ہیں۔ میاں قمر الدین سفیر پیپلز لایر ز فورم میلسی کے صدر بھی ہیں اور اُنہوں نے انتخابی مہمات اور پاکستان پیپلز پارٹی کی دوسری سر گرمیوں میں بھر پو ر شرکت کی ہے۔ وہ سیاسی جدو جہد کے دوران اسلام آباد، لاہور، ملتان، لاڑکانہ گڑھی خدا بخش، کراچی اور حیدرآباد گئے ہیں۔ وہ پارٹی کی چیر پرسن محترمہ بے نظیر بھٹوشہید، آصف علی زرداری، بلاول بھٹو، سید یوسف رضا گیلانی، محمد لطیف کھوسہ اور دوسرے راہنماؤں سے ملے ہیں۔ میاں قمر الدین سفیر نے لڑکپن میں پاکستان پیپلز پارٹی کا پر چم اُٹھایا اور تا حال اُسے بلند کیے ہوئے ہیں۔ میاں قمر الدین سفیر 2اکتوبر 1954کو پیدا ہوئے۔قیام پاکستان سے پہلے اُن کا خاندان مشرقی پنجاب کے ضلع حصار کے گاؤں سرسہ میں رہتا تھا میاں قمر الدین سفیر کے جد امجد مولوی محمد اسماعیل کا بڑا نام اور وقار تھا اُنہوں نے سر محمد شفیع کے ساتھ مل کر سلیم التواریخ لکھی تھی 1947کے انقلاب کے بعد میاں قمر الدین سفیر کے اسلاف پاکستان آئے وہ پہلے وہاڑی اور بعد میں میلسی میں آباد ہوئے میاں قمر الدین سفیر کے والد میاں سفیر الدین نے پنجاب پو لیس میں خدمات انجام دیں اور سب انسپکٹر کے عہدے سے ریٹائر ہوئے۔ میاں سفیر الدین ایک با شعور اور روشن ضمیر شہری تھے۔ اُنہوں نے میلسی میں فلاحی تنظیم مہاجر ویلفیرکمیٹی تشکیل دی تھی۔ دوسرے اہم افراد کے علاوہ تاریخ ِمیلسی کے نامور کردار ارشاد احمد خان یوسفزئی بھی اس کمیٹی میں شامل تھے۔
میاں قمر الدین سفیرتاریخی درس گاہ گورنمنٹ ولایت حسین اسلامیہ ڈگری کالج ملتان میں کم و بیش چارسال زیر تعلیم رہے۔ جہاں سے اُنہوں نے 1978میں بی اے کا امتحان پاس کیا۔ میاں قمر الدین سفیر نے زمانہ طالب علمی میں سیاسی اور قومی شعور پایا اور بائیں بازوں کی تحریک سے وابستہ ہوکرطلبہ تنظیم نیشنل سٹوڈینس فیڈریشن میں شامل ہوئے۔ میاں قمر الدین سفیر نے قانون کی تعلیم گیلانی لا کالج ملتان سے حا صل کی وہ 1983میں سٹو ڈینٹس یونین گیلانی لا کالج ملتان کے صدر منتخب ہوئے۔ ایل ایل بی اور ڈی ایل ایل کے امتحانات پاس کر نے کے بعداُنہوں نے میلسی میں وکالت کا آغاز کیا وہ 1988میں ہائی کورٹ بار کے رکن بنے اور اسی سال وہ پیپلز لا یرز فورم میلسی کے صدر بھی مقرر ہوئے۔ علاوہ ازیں وہ میلسی بار ایسوسی ایشن کے جنرل سیکرٹری بھی منتخب ہوئے۔ میاں قمر الدین سفیر 2005میں پنجاب بار کونسل کے رکن منتخب ہوئے اور 2010تک اس عہدے پر فائز رہے وہ 2006 میں پنجاب بار کونسل کی ایگزیکٹیوکمیٹی کے رکن نامزد ہوئے 2018میں میاں قمر الدین سفیر دوسری مرتبہ میلسی بار ایسوسی ایشن کے صدر منتخب ہوئے۔
میاں قمر الدین سفیر سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے وفد کے ہمراہ ہندوستان گئے جہاں اُنہوں نے ہندوستان کے سیاسی، معاشی اور عدالتی نظام کا مشاہدہ کیا 25دسمبر 2007کو اُنہوں نے پنجاب بار کونسل کے 33رکنی وفد کے ساتھ محترمہ بے نظیر بھٹو سے ملاقات کی میاں قمر الدین سفیر کی دو بیٹیاں ندا علی سفیر اور ردا علی سفیر اور ایک بیٹا امر علی سفیر ہے۔ امر علی سفیر ایل ایل بی آنر ز کرنے کے بعد لاہور ہائی کورٹ ملتان بینچ میں وکالت کرتے ہیں۔ وہ وکالت کے ساتھ ساتھ بہاء الدین زکریا یونیورسٹی ملتان میں ایم ایس سی کرمنالوجی کے طالب علم بھی ہیں۔ ندا علی سفیرنے بہاء الدین زکریا یونیورسٹی سے بی فارمیسی کی ڈگری حاصل کی ہے وہ ان دنوں اپنے شوہر کے ہمراہ امریکہ میں رہائش پذیر ہیں ردا علی سفیر نے بہاء الدین زکریا یونیورسٹی سے بی ایس فائن آرٹس کیا ہے اور سٹی پبلک سکول گلگشت ملتان میں تدریس کے پیشے سے وابستہ ہیں علاوہ ازیں وہ بی ایڈ کی طالبہ بھی ہیں۔

خان احمد خان کھچی

تحصیل میلسی کے دیہات میلسی، فدا، ڈھوڈاں،علی واہ، حلیم کھچی، ڈھمکی، ترکی، جیون کھچی، عمر کھچی، شیر گڑھ، سرگانہ اور شتاب گڑھ میں کھچی خاندان کی زرعی زمینیں ہیں۔اس خاندان کا شمار ملتان ڈویژن کے پارلیمانی خاندانوں میں ہوتا ہے۔ کھچی خاندان کا تذ کرہ ضلع ملتان اور ضلع وہاڑی پر لکھی گئی مختلف کتابوں میں موجود ہے۔ اس خاندان کے اسلاف میں سے ایک زمیندار احمد خان کھچی (پر دادا احمد خان کھچی) تحصیل میلسی کے ذیل دار اور موضع علی واہ میں زرعی زمینوں کے مالک تھے موضع علی واہ کا نام علی خان کھچی کے نام پر رکھا گیا ہے عصرِ حاضر میں کھچی خاندان کے نامور فرزند احمد خان کھچی 11اگست 1970کو اپنے آبائی گاؤں علی واہ میں پیدا ہوئے اُنہوں نے فیڈرل گورنمنٹ پبلک سکول میلسی اور ڈ ویژنل پبلک سکول لاہور سے تعلیم حاصل کی 1988میں تعلیمی بورڈ ملتان سے ایف اے کا امتحان پاس کرنے کے بعد احمد خان کھچی عملی زندگی میں آئے اور آبائی پیشہ زراعت سے منسلک ہوئے۔
احمد خان کھچی کے والد محترم در محمد خان کھچی کا بڑا نام اور وقار تھا۔وہ اپنی زندگی میں 4مرتبہ یونین کونسل علی واہ کے چیر مین منتخب ہوئے تھے۔ در محمد خان کھچی عزت و احترام کی زندگی گزانے کے بعد مارچ 2006میں وفات پا گئے۔ احمد خان کھچی اپنے والد کے ہمراہ لوگوں کے دکھ سکھ میں شریک ہوتے جس کی وجہ سے اُنہیں بہت عزت ملی۔ احمد خان کھچی 1997میں خدمت کمیٹی میلسی کے رکن مقرر ہوئے۔ وہ 1998کے بلدیاتی انتخابات میں یونین کونسل علی واہ سے ڈسٹرکٹ کونسل وہاڑی کے رکن منتخب ہوئے۔ احمد خان کھچی 2001میں راؤ محمد اسحاق خان کے مقابلے میں یونین کونسل کے ناظم منتخب ہوئے 2005میں احمد خان کھچی کے بھائی محمد اعظم خان کھچی علی واہ کے ناظم منتخب ہوئے۔ احمد خان کھچی کا شمار سابق ضلع ناظم محمد ممتاز خان کھچی کے قر یبی دوستوں میں ہوتا ہے۔وہ محمد ممتاز خان کھچی کے ہمراہ پر پاکستان تحریک انصاف میں شامل ہوئے۔ 31اکتوبر 2015کو احمد خان کھچی یونین کونسل علی واہ کے چیرمین منتخب ہوئے 2018کے عام انتخابات میں احمد خان کھچی نے پاکستان تحریک انصاف کی انتخابی مہم میں بھر پور حصہ لیا۔ اس موقع پر محمد اورنگ زیب خان کھچی میلسی سے پاکستان تحریک انصاف کے ٹکٹ پر قومی اسمبلی جبکہ محمدجہاں زیب خان کھچی اور علی رضا ٰخاں خاکوانی پنجاب اسمبلی کے رکن منتخب ہوئے بعد ازاں محمد جہاں زیب خان کھچی نے وزیر اعلیٰ پنجاب سردار محمد عثمان خان بزدار کی کابینہ میں بطور وزیر ٹرانسپور ٹ اپنے عہدے کا حلف اُٹھایا۔ احمد خان کھچی کے خاندان نے موضع علی واہ میں سکولوں، عید گاہ اور شفا خانہ حیوانات کے لیے قطعات اراضی بطور عطیہ دیے ہیں۔

عباد احمد خان شیروانی

سابق کونسلر میونسپل کمیٹی میلسی عباد احمد خان شیروانی 1947میں پیدا ہوئے اُ نکے والد محترم شادی خان اور بھائی رئیس احمد خان شہید کا میلسی شہر میں بڑا نام اور وقار تھا۔شادی خان یہاں کے ایک معزز زمیندار تھے جبکہ رئیس احمد خان شہید پنجاب پولیس میں ڈی۔ایس۔ پی تھے۔یہ خاندان 1947کے انقلاب کے بعد ہندوستان سے ہجرت کر کے پاکستان آیا اور میلسی میں آباد ہوا۔
عباد احمد خان شیر وانی میلسی کی تاریخی درس گاہ گورنمنٹ ہائی سکول میلسی میں زیر تعلیم رہے جہاں سے اُنہوں نے 1967میں میٹرک کا امتحان پاس کیا بعد ازاں وہ مزید تعلیم کے لیے ولایت حسین اسلامیہ ڈگری کالج ملتان میں داخل ہوئے۔ عباد احمد خان شیروانی نے تعلیم کے ساتھ ساتھ ہم نصابی سرگرمیوں میں بھی غیر معمولی دلچسپی لی۔ وہ زمانے میں والی بال کے بہترین کھلاڑی کے طور پر متعارف ہوئے۔ عباد احمد خان شیروانی نے زراعت کا پیشہ اختیار کیا اور سماجی خدمات میں بھی حصہ لینے لگے وہ لوگوں کے دکھ سکھ میں شریک ہوتے جس سے انکے وقار میں بہت اضافہ ہوا۔ عباد احمد خان شیروانی 1979میں پہلی مرتبہ میونسپل کمیٹی میلسی کے رکن منتخب ہوئے اور چار سال اس منصب پر فائز رہے۔ ان انتخابات میں توفیق احمد خان یوسف زئی ممتاز شخصیت اللہ یار خان کھچی کو شکست دے کر پہلے رکن اور بعد ازاں چیر مین میونسپل کمیٹی منتخب ہوئے تھے۔ عباد احمد خان شیروانی، ارشاد احمد خان اور بعد ازاں محمود حیات خان کی سربراہی میں سیاست کرنے والے پٹھان گروپ کے دیرینہ حامی ہیں اور ہمیشہ اسی گروپ کے ساتھ رہے ہیں۔ عباد احمد خان شیروانی 1983میں دوسری،1987میں تیسری،1991میں چوتھی مرتبہ میونسپل کمیٹی میلسی کے رکن منتخب ہوئے۔ مزید براں وہ 2001میں یونین کونسل میلسی شہر (شرقی) کے نائب ناظم منتخب ہوئے۔ عباد احمد خان شیروانی نے اپنے عہدے کے ذریعے شہر میں مختلف ترقیاتی منصوبے مکمل کرائے جن میں پرانی تحصیل میں ٹیوب ویل نصب کروانا شامل تھا۔
عباد احمد خان شیروانی امن کمیٹی میلسی کے رکن اور فعال سماجی تنظیم میلسی سوشل ویلفیر کے نائب صدر بھی رہے ہیں۔ عباد احمد خان شیروانی کے دو بیٹے فرجان احمد خان اور حسنین احمد خان شیروانی ہیں۔ عباد احمد خان شیروانی کے بھائی رئیس احمد خان شیروانی مصیبت میں گرفتار میلسی کے شہریوں کی مدد کرتے تھے جس کی وجہ سے اُ نہیں بہت عزت اور شہرت ملی وہ ایک فرض شناس، بہادر اور محنتی پولیس آفیسر تھے اور ڈی۔ ایس۔ پی کے عہدے پر فائز رہے۔ رئیس احمد خان شیروانی 17دسمبر 1985کو بدنام زمانہ نوری ڈاکو اور اسکے ساتھیو ں کے ساتھ مقابلے میں شہید ہوگئے۔ حکومت پاکستان نے ان کی بہادری اور قربانی کے اعتراف میں اُنہیں قائد اعظم پولیس میڈل عطا کیا۔ رئیس احمد خان شہید کے دو بیٹے حسن احمد خان شیروانی اور حسین احمد خان شیروانی ہیں۔حسین احمد خان شیر وانی نے تاریخ میں ڈاکڑیٹ کی ڈگری حا صل کرنے کے بعد تدریس کا پیشہ اختیار کیاہے۔ عباد احمد خان شیروانی کے دو بیٹے فرجاد احمد خان شیروانی اور حسنین احمد خان شیروانی ہیں۔ حسنین احمد خان شیروانی پاکستان پیپلز پارٹی تحصیل میلسی کے صدر ہیں او رجماعت میں بہت فعال ہیں حسنین احمد خان شیروانی سمجھتے ہیں کہ پاکستان شدید سیاسی بحران سے دوچار ہے اور بلاول بھٹو کی قیادت میں پاکستان پیپلز پارٹی ہی ملک کو بحران سے نکال سکتی ہے۔

 

محمد زاہد خان کھچی

میلسی میں مقیم کھچی خاندان کا شمار وہاڑی کے بڑے زمیندار وں میں ہوتا ہے۔ یہ خاندان تحصیل میلسی کے مواضعات میلسی، فدا، ڈھوڈہ، عمر کھچی، جیون کھچی، ترکی، حلیم کھچی، شیر گڑھ، سرگانہ، علی واہ اور شتاب گڑھ میں زرعی زمینوں کا مالک ہے۔ اس خاندان کے افراد قومی و صوبائی اسمبلی کے رکن ڈسٹرکٹ کونسل وہاڑی، میونسپل کمیٹی میلسی اور مارکیٹ کمیٹی میلسی کے چیرمین اور کچھ دوسرے عہدوں پر فائز رہے ہیں۔ کھچی خاندان کے افراد عام طور پر زراعت پیشہ ہیں تا ہم حالیہ سالوں میں بعض افراد تجارت، قانون، میڈیکل اور دوسرے شعبوں میں بھی نمایاں ہوئے ہیں۔ اس خاندان کے نام ور فرزند سابق رکن پنجاب بار کونسل و سابق صدر بار ایسوسی ایشن میلسی محمد زاہد خان کھچی 15جون 1972کو اپنے آبائی گاؤں عمر کھچی میں پیدا ہوئے اُن کے والد حاجی اللہ یار خان کھچی تحصیل میلسی کے دیہات عمر کھچی اور جیون کھچی اور تحصیل جتوئی میں زرعی زمینوں کے مالک تھے حاجی اللہ یار خان کھچی عزت و احترام کی زندگی گزارنے کے بعد2014ء میں وفا ت پا گئے۔
محمد زاہد خان کھچی معروف تعلیمی ادارے لاسال ہائی سکول ملتان میں زیر تعلیم رہے جہاں سے اُنہوں نے 1987ء میں میڑک کا امتحان پاس کیا بعد میں وہ تاریخی درس گاہ گورنمنٹ ایمرسن کالج ملتان میں داخل ہوئے یہاں سے اُنہوں نے 1989ء میں ایف ایس سی (پری انجینرنگ) کا امتحان پاس کیا۔ محمد زاہد خان کھچی تقریباً دو سال ایف سی کالج لاہور میں زیر تعلیم رہے یہاں سے اُنہوں نے بی اے تک تعلیم حاصل کی بعد ازاں وہ قانون کی تعلیم کے لیے ملتان لاکالج ملتان میں داخل ہوئے اور 1994ء میں ایل ایل بی کا امتحان پاس کیا محمد زاہد خان کھچی نے1996ء میں معروف قانون دان مظہر علی بھٹی اور بعد ازاں عبد القیوم کمبو ہ کی راہنمائی میں وکالت کا آغاز کیا تاہم وہ جلد میلسی آگئے دریں اثنااُنہوں نے کچھ عرصہ لاہور میں جسٹس (ر) زاہد حسین بخاری کی راہنمائی میں وکالت کی محمد زاہد خان کھچی نے وکلا کے مسائل کے حل میں دلچسپی ظاہر کی 9مارچ 2007ء کو جب جنرل پرویز مشرف نے جسٹس افتخار محمد چوہدری کو معطل کیا تو اُن کے اس غیر آئینی اقدام کے خلاف پورے ملک میں شدید رد عمل ہوا۔وکلا نے بے مثال احتجاجی تحریک شروع کی اور جسٹس افتخار محمد چوہدری کو اُن کے عہدے پر بحال کراکے دم لیا۔ یقینایہ بہت بڑی تحریک تھی۔پاکستان میں وکلا احتجاج کی ایسی کوئی دوسری مثال نہیں۔ محمد زاہد خان کھچی اس جدوجہد میں قانونی برادری کے شانہ بہ شانہ تھے۔ وہ اس تحریک کے دوران میلسی، ملتان، لاہوراور اسلام آباد میں مظاہروں میں شریک ہوئے۔ محمد زاہد خان کھچی نومبر2009ء میں وہاڑی سیٹ سے پنجاب بار کونسل کے رکن منتخب ہوئے اور 2010تا2015اس منصب پر فائز رہے۔وہ 2011ء میں پہلی مرتبہ اور 2015ء میں دوسری مرتبہ میلسی بار ایسوسی ایشن کے صدر منتخب ہوئے۔ محمد زاہد خان کھچی نوجوان وکیلوں کی حوصلہ افزائی اور اُن کی راہنمائی کرتے ہیں۔بطور چیئرمین لیگل ایجوکیشن اُن کی تحریک پر پنجاب بار کونسل نے انٹری ٹیسٹ میں اول آنے والے پنجاب بھر کے نئے اُمید وار وکیلوں کو تعریفی اسناد جاری کیں۔ محمد زاہد خان کھچی 2020ء میں ایک مرتبہ پھر وہاڑی سیٹ کے لیے پنجاب بار کونسل کا الیکشن لڑنے کا ارادہ رکھتے ہیں

ملک اختر حسین ایڈوکیٹ

میلسی بار ایسوسی ایشن کے صدر ملک اختر حسین ایڈوکیٹ 15اکتوبر 1966کو پیدا ہوئے۔ اُن کے والد محترم ملک مختار حسین میلسی کے ایک معروف وکیل تھے۔ وہ 2مرتبہ (1975،1993) میلسی بار ایسوسی ایشن کے صدر اور 2مرتبہ (1971،1974) سیکر ٹری جنرل منتخب ہوئے تھے۔ ملک مختار حسین اُن اولین وکلاء میں شامل تھے جنہوں نے 1970میں میلسی میں سول عدالت کے قیام کے موقع پر وکالت کا آغاز کیا۔ ملک مختار حسین 1987میں میونسپل کمیٹی میلسی کے بلا مقابلہ رکن منتخب ہوئے تھے وہ عزت و احترام کی زندگی گزارنے کے بعد 27جولائی 1995کو وفات پا گئے ملک اختر حسین تاریخی درس گاہ گورنمنٹ ہائی سکول میلسی میں داخل ہوئے جہاں سے اُنہوں نے 1982میں میٹرک کا امتحان پاس کیا۔ اُنہوں نے FScتک تعلیم گورنمنٹ کا لج میلسی سے حاصل کی اور بعد ازاں معروف تعلیمی ادارے گورنمنٹ ایمرسن کالج ملتان میں داخل ہوئے یہاں سے اُنہوں نے 1986میں بی اے کا امتحان پاس کیا وہ قانون کی تعلیم کے لیے گیلانی لا کالج ملتان میں داخل ہوئے اور اُنہوں نے 1989میں ایل ایل بی کا امتحان پاس کیا۔ ملک اختر حسین نے 1991میں اپنے والد کی راہنمائی میں میلسی میں وکالت کا آغاز کیا 1993میں اُنہیں ہائی کورٹ میں بطور وکیل پیش ہونے کا لائسنس ملا۔ ملک اختر حسین نے قانونی پیشے میں بہت مہارت حاصل کی اور وہ بہت جلد میلسی کی قانونی برادری میں ممتاز ہوگئے۔
وہ 1998میں میلسی بار ایسوسی ایشن کے جنرل سیکرٹری منتخب ہوئے۔ اسی سال وہ میونسپل کمیٹی میلسی کے رکن بھی منتخب ہوئے۔ ملک اختر حسین 2001کے بلدیاتی انتخابات میں میلسی شہر کی یونین کونسل نمبر 27کے جنرل کونسلر منتخب ہوئے۔وہ 2009میں میلسی بار ایسو سی ایشن کے نائب صدر منتخب ہوئے اُنہوں نے 2018کے عام انتخابات میں پاکستان تحریک انصاف کی انتخابی مہم میں بھر پور حصہ لیا اس موقع پر محمد اورنگ زیب خان کھچی پاکستان تحریک انصاف کے ٹکٹ پر میلسی سے قومی اسمبلی جبکہ محمد جہاں زیب خان کھچی صوبائی اسمبلی کے رکن منتخب ہوئے بعد میں محمد جہا نزیب خان کھچی نے وزیر اعلیٰ پنجاب سردا ر محمد عثمان بزدار کی کابینہ میں بطور وزیر ٹرانسپورٹ اپنے عہدے کا حلف اُٹھایا۔ دیرینہ تعلقات کی بنا پر محمد اورنگ زیب خان کھچی، محمد جہانزیب خان کھچی اور کھچی گروپ سے وابستہ دوسرے افراد ملک اختر حسین کی بہت عزت کرتے ہیں۔ 12جنوری 2019کو ملک اختر حسین میلسی بار ایسوسی ایشن کی تاریخ میں ریکاڈ 93ووٹوں کی اکثریت سے صدر منتخب ہوئے اسی سال وہ عشر زکوۃ کمیٹی وارڈنمبر 2میلسی کے چیرمین بھی مقرر ہوئے۔ ملک اختر حسین کی اہلیہ محترمہ غلام سکینہ میلسی کی پہلی خاتون ہیں جنہوں نے عربی میں ڈاکٹریٹ کی ڈگری حاصل کی ہے۔ یہ ڈگری اُنہیں اسلامیہ یونیورسٹی بہاولپور کی طرف سے جاری کی گئی ہے۔ محترمہ غلام سکینہ گورنمنٹ گرلز ہائی سکول میلسی میں تدریسی خدمات انجام دے رہی ہیں۔ ملک اختر حسین کے تین بیٹے محمد وقار حسین، علی احسن اور محمد ہاری مختار ہیں۔ محمد وقار حسین حبیب بنک میلسی میں آپریشنل منیجر ہیں۔ علی احسن پنجاب یونیورسٹی لاہور میں ایم۔ فل پیتھالوجی کے طالب علم ہیں جبکہ محمد ہادی مختار اسلامیہ یونیورسٹی بہاولپور سے قانون کی تعلیم حاصل کر رہے ہیں ملک اختر حسین نے امن پسندی اور حسن اخلاق کی خوبیاں اپنے والد سے ورثے میں پائی ہیں۔ ملک اختر حسین کے بھائی ملک طاہر حسین ایڈوکیٹ اور ملک اظہر حسین ایڈوکیٹ ملتان میں وکالت کے پیشے سے وابستہ ہیں

پیربختیارعالم مسعودچشتی

چشتی خاندان کاشمارملتان ڈویژن کے پارلیمارنی خاندانوں میں ہوتا ہے۔ اس خاندان کے افراد سینٹ، پنجاب اسمبلی، ڈسٹرکٹ کونسل وہاڑی اور ڈسٹرکٹ کونسل ساہیوال کے رکن ڈسٹر کٹ کونسل وہاڑی کے چیر مین صوبائی وزیر یونین کونسلوں کے ناظم اور کچھ دوسرے عہدوں پر فائز رہے ہیں یہ خاندان ضلع وہاڑی اور ضلع پاکپتن کے مختلف دیہا ت میں زرعی زمینوں کا مالک ہے چشتی خاندان کا سیاسی و سماجی اثر قیام ِ پاکستان سے پہلے قائم ہو چکا تھا یہ خاندان پاکپتن میں آسودۂ خواب صوفی بزرگ حضر ت بابا فرید الدین مسعود گنج شکر کی اولاد ہے حضرت بابا فرید الدین مسعود ایک متقی اور پر ہیز گار انسان تھے وہ زندگی کی عشرتوں سے دور رہے اور اپنے عقیدت مندوں کو انسان دوستی اور اخوت کا درس دیتے رہے حضرت ؒ کے طرز عمل سے متاثر ہو کر ہندوستا ن کے بہت سے لوگ توحید اور رسالت پر ایمان لے آئے آپ ؒ کا مزار پاکپتن میں ہے جہاں پاکستان کے طول و عرض سے زائرین زیارت کے لیے آتے ہیں موجودہ زمانے میں اس خاند ان کے فرزند پیر بختیار عالم مسعود چشتی ضلع وہاڑی کے سیاسی منظر نامے پر بہت نمایاں ہیں۔وہ پیشے کے اعتبارسے وکیل ہیں اور دیوانی وفوجداری مقدمات میں بہت مہارت رکھتے ہیں پیر بختیار عالم مسعود چشتی 1955میں پاکپتن میں پیدا ہوئے اُن کے والد محترم پیر فیض احمد چشتی یہاں کے ایک معز ز زمیندار تھے پیر فیض احمد چشتی ایوب خان کے دور حکومت میں یونین کونسل کے رکن منتخب ہوئے تھے وہ عزت و احترام کی زندگی گزارنے کے بعد 1983ء میں وفات پا گئے۔ پیر بختیار عالم مسعود نے میٹر ک تک تعلیم ایم سی ہائی سکول بوریوالا سے حاصل کی اور چار سال گورنمنٹ کالج بوریوالا میں زیر تعلیم رہے یہاں سے اُنہوں نے1976میں بی اے کا امتحان پاس کیا پیر بختیار عالم مسعودنے جامعہ کراچی سے 1980 میں ا یل ایل بی کی ڈگر ی حاصل کی اور سید ریاض حسین ایڈووکیٹ کی راہنمائی میں بوریوالا میں قانونی پیشے سے وابستہ ہوئے وہ تاریخی شخصیت ذوالفقار علی بھٹو کے افکار سے متاثر ہو کر پاکستان پیپلز پارٹی میں شامل ہوئے پیر بختیار عالم مسعود چشتی تقریباً گیارہ سال پی پی پی بوریوالا شہر کے جنرل سیکرٹر ی اور بعد ازاں پی پی صوبائی حلقہ 235کے صدر رہے اُنہوں نے بھٹہ مزدوں اور کسانوں کے حقوق کے لیے جدو جہد کی بختیار عالم مسعود 1987میں ضلع کونسل وہاڑی کے رکن اور 2001میں یونین کونسل 67کے نا ظم منتخب ہوئے بختیار عالم مسعود ایک روشن ضمیر انسان ہیں اُنہوں نے قومی خدمت کے جذبے سے گورنمنٹ گرلز ہائی سکول چک نمبر 507/EBکے لیے ایک ایکڑ زمین کا عطیہ دیا علاوہ ازیں اُن کی مساعئی جمیلہ سے 63ایکڑ اراضی پر مشتمل پولی ٹیکنیکل انسٹیٹوٹ قائم کیا گیا اُنہوں نے بطور ناظم اپنے حلقے میں متعدد ترقیاتی منصوبے حل کرائے جن میں میٹل روڈ، سولنگ، واٹر سپلائی، سیوریج اور سٹریٹ لائٹس کی سکیمیں شامل ہیں بعض وجوہات کی بنا پر بختیا ر عالم مسعود چشتی نے پاکستان پیپلز پارٹی سے علیحدگی اختیار کر لی اور پاکستان مسلم لیگ(ن) میں شامل ہوئے وہ 2010میں پاکستان مسلم لیگ (ن) لایرز فورم بوریوالا کے صدر اور 2013میں عشر زکوۃ کمیٹی ضلع وہاڑی کے رکن مقرر ہوئے. بختیار عالم مسعود چشتی کی دو بیٹیا ں اور تین بیٹے سکند ر فرید الدین، احمد فرید الدین اور احسن فرید الدین ہیں۔ سکند ر فیروزالدین چشتی اپنے والد کی راہنمائی میں بوریوالا میں اور لاہور ہائی کورٹ ملتان بینچ میں وکالت کرتے ہیں

 

میاں دوست محمد جھنڈیر

میاں دوست محمد جھنڈیر میلسی کے ایک معزز اور امن پسند زمیندار ہیں۔ ان کا سلسلہء نسب اسلام کے عظیم فرزند حضرت عباس ؑ سے ملتا ہے۔ حضرت عباس کربلاکے معرکہ حق و باطل میں حضرت امام حسین ؑ کے شانہ بشانہ تھے اور لشکر امام کا پرچم حضرت عباس ؑ کے ہاتھ میں تھا۔ اُنہوں نے یہ پرچم تا دم ِ شہادت بلند کیے رکھاجس کے باعث وہ تاریخ ِ اسلام میں غازی علمدار کے لقب سے سر فراز ہوئے۔ اولاد علمدار کو دیگر عظیم قیدیوں کے ہمراہ کوفہ اور دمشق لاگیا اور بعد میں اُنہیں مدینہ بھیج دیا گیا تاریخ کے کسی دور میں اخلاف علمدار میں سے چند خاندان ایران کے راستے ہندوستان آئے یہاں اُنہیں پہلے جھنڈاگیر اور بعد میں جھنڈیر کہا گیا۔ موجودہ زمانے میں جھنڈیر خاندان میلسی، لودھراں، جھنگ اور جنوبی پنجاب کے دوسرے مقامات پر زرعی زمینوں کے مالک ہیں۔
اس خاندان کے نامور فرزند میاں دوست محمد جھنڈیر 1946میں پیدا ہوئے۔ اُن کے والد محترم میاں غلام محیی الدین جھنڈیر تحصیل میلسی کے مختلف دیہات میں زرعی زمینوں کے مالک تھے۔میاں غلام محیی الدین جھنڈیر کا بڑانام اور وقار تھا اور وہ علاقے میں ایک بااثراور صاحب ثروت زمیندارکے طورپرمتعارف تھے میاں غلام محیی الدین انصاف پرور زمیندار تھے وہ اپنے ڈیڑے پر انصاف کے اصولوں کے مطابق لوگو ں کے مسائل حل کرتے تھے جس کی وجہ سے اُنہیں بہت عز ت وشہرت ملی۔انصاف پسندی کی یہ خوبی میاں دوست محمد جھنڈیر نے اپنے والد سے ورثے میں پائی ہے۔جھنڈیر اسلاف تقریباً ڈیڑ ھ سو سال قبل جھنگ سے نقل مکانی کر کے یہاں آئے تھے۔ میاں دوست محمد جھنڈیر کے چچا میاں محمد شرف الدین بہت بڑے حکیم تھے۔ وہ پاکستان اور پاکستان سے باہر کے مریضوں کا مفت علاج کرتے تھے۔ وقت کے حکمران جنرل محمد ایوب خان بھی ان کے زیر علاج رہے تھے۔ میاں دوست محمد جھنڈیر نے میٹر ک تک تعلیم تاریخی درس گاہ گورنمٹ ہائی سکول میلسی سے حاصل کی بعد ازاں وہ گورنمٹ ایمرسن کالج ملتان میں داخل ہوئے جہاں سے اُنہوں نے بی۔ اے کا امتحان پا س کیا۔ میاں دوست محمد جھنڈیر نے زراعت کا آبائی پیشہ اختیار کیا اور جدید زراعت میں بہت مہارت حاصل کی میاں دوست محمد جھنڈیر لوگوں کے دکھ سکھ میں شریک ہونے لگے جس کی وجہ سے انکے سماجی وقار میں بہت اضافہ ہوا۔ میاں دوست محمد جھنڈیر 1987میں میاں محمد اقبال بھٹہ کو شکست دے کر بھاری اکثریت سے ضلع کونسل وہاڑی کے رکن منتخب ہوئے۔ میاں دوست محمد جھنڈیر 1991میں سید طالب حسین اور سردار محمد اسلم خان ملیزئی کو شکست دے کر ضلع کونسل کے دوبارہ رکن منتخب ہوئے میاں دوست محمد جھنڈیر کسانوں کے حقوق کے لیے اُٹھنے والی تحریکوں کی معاونت کرتے رہے ہیں۔ وہ سمجھتے ہیں کہ کسانوں کی خوشحالی کے بغیر پاکستان کی خوشحالی ممکن نہیں۔ میاں دوست محمد جھنڈیر اپنے ڈیرے میں بیٹھ کر لوگو ں کے مسائل سنتے ہیں اور اُن کے حل کے لیے ہر ممکن کوشش کرتے ہیں۔ میاں دوست محمد جھنڈیر کے چار بیٹے میاں محمد عدنا ن جھنڈیر، میاں محمد صنعان جھنڈیر، میاں محمد رومان جھنڈیر اور میاں محمد منان جھنڈیر ہیں۔میاں محمد منان اور میاں محمد عدنان میلسی میں وکالت کرتے ہیں۔

مہر عبدالغفار مہار

الحاج مہر عبدالغفار مہار اپنی امن پسندی اور مصالحتی کردار کے باعث شہر میں عزت کی نگاہ سے دیکھے جاتے ہیں۔ وہ پیشے کے لحاظ سے زمیندار ہیں اور 5۔ مرتبہ مسلسل  1979 -83-87-91-98 انتخابی کامیابیوں کے بعد میونسپل کمیٹی میلسی کے رکن منتخب ہوئے ہیں 1924تا حال میونسپل کمیٹی میلسی کی تاریخ میں وہ پہلے شخص ہیں جنہوں نے یہ اعزاز حا صل کیاہے۔ مہر عبدالغفار   1998 تا 1999 میونسپل کمیٹی میلسی کے وائس چیرمین بھی رہے علاوہ ازیں مہر عبدالغفار کے والد محترم مہر احمد بخش مہار 2مرتبہ میونسپل کمیٹی میلسی کے رکن منتخب ہوئے۔ مہر احمد بخش مہار کی وفات کے بعد ان کے برادر حقیقی مہر حاجی اللہ ڈتہ میونسپل کمیٹی میلسی کے رکن منتخب ہوئے۔
مہر عبدالغفار نے بطور کونسلر میونسپل کمیٹی میلسی شہر کے ترقیاتی منصوبوں میں گہری دلچسپی لی اور نکاسی آب سمیت مختلف منصوبے مکمل کرائے۔ مقامی سطح پرمہر عبدالغفار کا تعلق کھچی گروپ سے ہے۔ دیرینہ تعلقات کی بنا پر صوبائی وزیر مواصلات محمد جہان زیب خان کھچی اور رکن قومی اسمبلی محمد اورنگ زیب خان کھچی اُن کی بہت عزت کرتے ہیں۔ مہر عبدالغفار کے آباء کسی زمانے میں چشتیاں سے نقل مکانی کر کے میلسی آئے تھے۔ مہر عبدالغفار کی ولادت 1952میں ہوئی۔ اُنہوں نے گورنمنٹ ہائی سکول میلسی سے تعلیم حاصل کی۔ عملی زندگی میں آنے کے بعد آبائی پیشہ زراعت اختیار کیا اور اس کے ساتھ ساتھ ٹرانسپورٹ کا بزنس بھی شروع کیا۔ وہ 25سال ٹرانسپورٹ یونین میلسی کے صدر رہے ہیں۔ مہر عبدالغفار مذہبی لگاؤ رکھتے ہیں اور جامعہ تعلیم القرآن میلسی کے نائب صدر رہے ہیں۔ مہر عبدالغفار رحمانیہ مسجد میلسی کے صدر ہیں۔ وہ امن کمیٹی وہاڑی اورامن کمیٹی میلسی کے رکن بھی ہیں۔ امن کمیٹی ایک کامیاب ادارہ ہے۔ضلعی انتظامیہ اور معتبر شہریوں پر مشتمل اس ادارے نے میلسی میں عاشورے کے دوران قیام امن مین کلیدی کردار اداکیا ہے۔ مہر عبدالغفار 1974کی تحریک ختم نبوت کے دوران گرفتار ہوئے تھے۔ مہر عبدالغفار پاکستان مسلم لیگ ن میلسی شہر کے صدر اور PMLNکی صوبائی کونسل کے ممبر بھی رہے ہیں۔ 2005میں مہر عبدالغفار کے بیٹے مہر ولایت حسین یونین کونسل علی واہ کے نائب ناظم منتخب ہوئے۔ مہر عبدالغفار تقریباً ڈیڑھ سال سی۔پی۔سی میلسی کے چیرمین بھی رہے ہیں۔

 

حاجی بشیر احمد چوغطہ

حاجی بشیر احمد چوغطہ میلسی کے ایک معروف سیاسی اور سماجی کارکن ہیں۔ وہ پیشے کے لحاظ سے تاجرہیں اور شہر میں اُن کی مضبوط تجارتی ساکھ ہے۔ حاجی بشیر احمد چوغطہ 1945ء میں پیدا ہوئے۔ اُنکے والد میاں محمد حسین خدمت خلق پر یقین رکھتے تھے۔ وہ سماجی خدمات میں مصروف عمل رہے اور عزت و احترام کی زندگی گزارنے کے بعد 1999ء میں وفات پا گئے۔ حاجی بشیر احمد چوغطہ نے تاریخی درس گاہ گورنمنٹ ہائی سکول میلسی سے تعلیم حاصل کی عملی زندگی میں آنے کے بعد حاجی بشیر احمد چوغطہ نے سگریٹ، اخبار ات اور برانڈد مشروبات کا بزنس شروع کیابعد میں اُنہوں نے اپنے بھائیوں کو بھی کاروبار میں ساتھ ملایا چوغطہ برادران نے بہت محنت کی اور بہت ترقی کی۔
حاجی بشیر احمد چوغطہ 1977ء میں دلاور خان کھچی کی انتخابی مہم میں شریک ہوئے اس موقع پر دلاور خان کھچی پاکستان پیپلز پارٹی کے ٹکٹ پر میلسی سے قومی اسمبلی کے رکن منتخب ہوئے۔ حاجی بشیر احمد چوغطہ 1977ء میں پاکستان پیپلز پارٹی میلسی شہر کے سیکرٹری جنرل تھے۔ حاجی بشیر احمد چوغطہ ایک زمانے میں روزنامہ جنگ، پاکستان، خبریں، آفتاب، سنگ میل اور دوسرے اخبارات کے میلسی میں ڈسٹری بیوٹر تھے۔ حاجی بشیر احمد چوغطہ روزنامہ سنگ میل کے نامہ نگار بھی تھے۔ اُس زمانے میں اخبارات اور صحافت کا بہت وقار تھا۔ حاجی نشیر احمد چوغطہ نے دوستانہ انداز میں میلسی کے اخبار نویسوں کی رنجشوں کو ختم کیا اور اُنہیں ایک پلیٹ فارم پر اکٹھا کرنے کی کوشش کی۔حاجی بشیر احمد چوغطہ یونین آف جرنلسٹس میلسی اور میلسی پریس کلب کے صدر منتخب ہوئے۔ سابق چیرمین میونسپل کمیٹی میلسی الحاج اللہ یار خان کھچی حاجی بشیر احمد چوغطہ پر بہت اعتماد کرتے تھے اور اُنہیں بیٹوں کی طرح جانتے تھے چنانچہ حاجی بشیر احمد چوغطہ 1979ء کے بلدیاتی انتخابات میں سردار محمد خان کھچی (بعد ازاں چیرمین میونسپل کمیٹی میلسی، رکن پنجاب اسمبلی) کے کورنگ اُمید وار تھے۔1985ء میں اُنہوں نے چوغطہ ویلفیرکونسل میلسی بنائی اور اس فلاحی تنظیم کے چیرمین منتخب ہوئے۔ 1998ء کے بلدیاتی انتخابات میں حاجی بشیر احمد چوغطہ معروف زمیندار غلام قادر خان کھچی کو شکست دے کر میونسپل کمیٹی میلسی کے رکن منتخب ہوئے اس موقع پر سردار امحمد خان کھچی مونسپل کمیٹی میلسی کے چیرمین منتخب ہوئے۔ غلام قادر خان کھچی نے حاجی بشیر احمد چوغطہ کے انتخاب کا نتیجہ تسلیم نہ کیا اور اسے عدالت میں چیلنج کر دیا جس پر حاجی بشیر احمد چوغطہ نے سپریم کورٹ تک اپنی کامیابی کا دفاع کیا۔
حاجی بشیر احمد چوغطہ سردار محمد خان کھچی، دلاور خان کھچی، اورنگ زیب خان کھچی اور محمد جہاں زیب خان کھچی کی انتخابی مہمات میں شریک رہے ہیں۔ حاجی بشیر احمد چوغطہ 2005ء میں یونین کونسل کمیٹی میلسی شہر غربی کے جنرل کونسلر منتخب ہوئے۔ محمد ممتاز خان کھچی جب اپنے بیٹے آفتاب احمد خان کھچی بھتیجوں محمد اورنگ زیب خان کھچی اور محمد جہاں زیب خان کھچی اور دوستوں کے ہمراہ پاکستان تحریک انصاف میں شامل ہوئے تو حاجی بشیر احمد چوغطہ نے بھی پی ٹی آئی کا پر چم اُٹھایا۔ حاجی بشیر احمد چوغطہ سال 2018ء کے انتخابات میں محمد اورنگ زیب خان کھچی اور محمد جہاں زیب خان کھچی کی انتخابی مہم میں شریک ہوئے اس موقع پر محمد اورنگ زیب خان کھچی پی ٹی آئی کے ٹکٹ پر قومی جبکہ اُن کے بھائی محمد جہاں زیب خان کھچی پنجاب اسمبلی کے رکن منتخب ہوئے بعد ازاں محمد جہاں زیب خان کھچی سردار محمد عثمان بزدار کی کابینہ میں وزیر ٹرانسپورٹ مقرر ہوئے۔حاجی بشیر احمد چوغطہ ایک عملی مسلمان ہیں وہ صوم و صلوۃ کے پابند ہیں اُنہوں نے دو مرتبہ حج بنت اللہ اور متعدد عمروں کی سعادت حاصل کی ہے۔

میاں ممتاز محمد خان دولتانہ

تحریک پاکستان کے رہنما میاں ممتاز محمد خان دولتانہ قیام پاکستان کے بعد پنجاب کے پہلے وزیر خزانہ اور بعد ازاں وزیر اعلیٰ بنے وہ وزیر دفاع اور مغربی پاکستان حکومت میں خزانہ ،مواصلات اور تعمیرات کے وزیر بھی رہے ۔میاں ممتاز محمد خان دولتانہ اعلیٰ تعلیم یافتہ اور نہایت ذہین سیاست دان تھے تحریک پاکستان کے دوران وہ قائد اعظم کے ہمراہ رہے اور 1945-46کے تاریخ ساز انتخابات میں کہ جس کے نتیجے میں پاکستان کا قیام عمل میں آیا میاں ممتاز محمد خان دولتانہ نے پنجاب میں مسلم لیگ کی انتخابی مہم کو منظم کیاتھا۔ میاں ممتاز محمد خان دولتانہ نوابانہ شان وشوکت کے ساتھ رہتے تھے اور ملتان ڈویژن کے رئوسا انکی تعلیم اور وسیع زرعی زمین سے بہت متاثر تھے کہتے ہیں کہ وہ پنجاب میں وہ سب سے بڑے زمیندار سیاستدان تھے قول معروف کے مطابق انکے والد نواب احمد یار خان دولتانہ 1500مربع زرعی زمین کے مالک تھے۔میاں ممتاز محمد خان دولتانہ اپنے والد کے اکلوتے بیٹے تھے۔نواب احمد یار خان دولتانہ 1937کے انتخابات میں پنجاب اسمبلی کے ممبر منتخب ہوئے تھے اور بعد میں اسمبلی میں چیف وہپ بنے دولتانہ خاندان کی سخاوت اور فیض بخشیوں کی داستانیں میلسی اور وہاڑی کے قدیم باشندے بیان کرتے ہیں میاں ممتاز محمد خان دولتانہ کے پر دادا میاں غلام محمد خان دولتانہ نے جو زمانہ میںگو گا دولتانہ کے نام سے مشہور ہوئے بے مثال مہمان نوازی کی بدولت شہرت پائی ۔ لڈن میں انکے ڈیرے پر دن رات مہمان اورعام مسافر قیام پذیر رہتے نواب احمد یار دولتانہ نے اس روایت کو قائم رکھا۔میاں ممتاز محمد خان دولتانہ گڑھی شاہولاہور میں سیکڑوں مہمانوں کے ساتھ مل کر کھانا کھاتے تھے مہمان نوازی دنیا کی ہر قوم اور ہر قبیلے کی ایک مستحن روایت ہے تاہم دولتانہ خاندان اس روایت کی پاسداری کی بدولت زمانے میں منفرد رہا ہے قیام پاکستان سے پہلے پنجاب کے اکثر مسلمان زمیندار ہندو ساہو کاروں کے مقروض تھے ۔وہ اپنے قرضہ جات پر سود ادا کرتے عدم ادائیگی کی وجہ سے یہ قرضے پہاڑ کے وزن کے برابر ہوچکے تھے چنانچہ سر سکندر حیات وزیراعظم (وزیراعلیٰ پنجاب )کے زمانے میں نواب احمد یار خان دولتانہ ،سر چھوٹو رام اور دوسرے مشاہیر کی کوششوں سے ایک قانون منظور ہوا ۔جو تاریخ میں Land Alienation And Debt Cancellation act کہلاتاہے اس قانون کے روسے مسلمان زمینداروں کی لاکھوں ایکڑ زرعی زمین بیک جنبش قلم ہندو ساہو کاروں کی رہن سے آزاد ہو گئی۔ نواب احمد یار خان دولتانہ نے مساجد تعمیر کرائیں ۔علم کی اشاعت میں مدد کی اور مختلف فلاحی منصوبوں میں تعاون کرتے رہے انہوں نے 1942میں وفات پائی۔ انکے نامور فرزند میان ممتاز محمد خان دولتانہ 23فروری 1916کو لاہور میں پیدا ہوئے برطانیہ سے بارایٹ لا کی ڈگری حاصل کی اوروطن واپس آکر آل انڈیا مسلم لیگ میں شمولیت اختیار کی۔1943کے ایک ضمنی انتخاب میں وہ مسلم لیگ کے ٹکٹ پر پنجاب اسمبلی کے رکن منتخب ہوئے 1944میں میاں ممتاز محمد خان دولتانہ آل انڈیا مسلم لیگ پنجاب کے جنرل سیکرٹری جبکہ انکی اہلیہ بیگم الماس دولتانہ فنانس سیکرٹری منتخب ہوئیں 1945میں ہندوستان کے مسلمان حلقوں میں آل انڈیا مسلم لیگ سر چڑھ کر بولنے والا جادو ثابت ہوئی۔ان انتخابات میں پنجاب اور مسلم اکثریت کے دوسرے صوبوں (ماسوائے سرحد )میں مسلم لیگ نے مسلم نشستوں پر تاریخی کا میابی حاصل کی۔ میاں ممتاز محمد خان دولتانہ نارووال سے پنجاب اسمبلی کے رکن منتخب ہوئے۔ اس موقع پر نواب اللہ یار خان دولتانہ میلسی اور وہاڑی مشترکہ نشست سے کامیاب ہوئے ۔ تاہم کانگریس کی مخالفت کی وجہ سے پنجاب میں یونینیسٹ حکومت قائم ہوئی ۔ مسلم لیگ نے پنجاب میں سول نافرمانی کی تحریک چلائی ۔ وزیر اعلیٰ خضر حیات ٹوانہ نے مسلم لیگ پر کریک ڈائون کیا ۔میاں ممتاز محمد خان دولتانہ اور پنجاب میں ہزاروں مسلم لیگی کارکن گرفتار ہوئے قیام پاکستان کے بعد میاں ممتاز محمد خان دولتانہ نواب افتخار ممدوٹ کی کابینہ میں پنجاب کے وزیر خزانہ بنے ۔ وہ 1951تا 1953صوبے کے وزیر اعلیٰ رہے ۔14اکتوبر 1955کو وحدت مغربی پاکستان (ون یونٹ )کا قیام عمل میں آیا ۔ڈاکٹر خان صوبے کے پہلے وزیر اعلیٰ بنے جبکہ میاں ممتاز محمد خان دولتانہ کو خزانہ مواصلات اور تعمیرات کے قلمدان سونپے گئے۔میاں ممتاز محمد خان دولتانہ وزیراعظم ابراہیم اسماعیل حیدری گر کی کابینہ میں وزیر دفاع  مقرر ہوئے ۔ 8 اکتوبر 1958 کو ملک میں مارشل لا کے نفاذ کے بعد میاں ممتاز محمد خان دولتانہ اور دوسرے اہم سیاستدانوں پر سیاسی پابندی عائد کردی گئی میاں ممتاز محمد خان دولتانہ نے محترمہ فاطمہ جناح کی رہنمائی میں انکے مشورے کیساتھ قائد اعظم کے پرانے ساتھیوں کے ساتھ مل کر کونسل مسلم لیگ کی بنیاد رکھی ۔ 1970 کے عام انتخابات میں میاں ممتاز محمد خان دولتانہ اور چھ دوسرے افراد چودھری ظہور الٰہی وغیرہ کونسل مسلم لیگ کے ٹکٹ پر قومی اسمبلی کے رکن منتخب ہوئے۔1973میںمیاں ممتاز محمد خان دولتانہ نے قومی اسمبلی کے نشست سے استعفا دے دیا اور برطانیہ میں پاکستان کے سفیر مقرر ہوئے۔جنرل محمد ضیاالحق کے مارشل لا کے نفاذ کے بعد انہیں اس منصب سے سبکدوش کردیا گیا اور وہ طن واپس آگئے۔میاں ممتاز محمد خان دولتانہ اپنی آخری زندگی میں عملی سیاست سے کنارہ کش  ہوچکے تھے ۔تاہم اخباری بیانات کے ذریعے قومی کی رہنمائی کرتے اور اپنا نقطہ نظر بیان کرتے ۔ میاں ممتاز محمد خان دولتانہ کا 30جون 1995ء کو 79سال کی عمر میں لاہور میں انتقال ہوا۔ ان کا ایک بیٹا میاں جاوید ممتاز دولتانہ اور ایک بیٹی شاہدہ ممتاز ہے۔ میاں جاوید ممتاز دولتانہ1977ء ، 1988ء اور 1993میں صوبائی اسمبلی کے رکن منتخب ہوئے۔ شاہدہ ممتاز کی شادی محمد ایوب کھوڑو(سابق وزیرا علیٰ سندھ ) کے بیٹے خالد محمود کھوڑو سے ہوئی شاہدہ ممتاز بے نظیر بھٹو کی گہری دوست تھیں وہ سوشل ایکشن بورڈ وہاڑی کی چیئرمین رہیں ۔انہوں نے 2002کے عام انتخابات میں پاکستان پیپلز پارٹی کے ٹکٹ پر قومی اسمبلی کا لیکشن لڑا تاہم کامیاب نہیں ہوئیں ۔ تحریک پاکستان کے رہنما میاںممتاز محمد خان دولتانہ قیام پاکستان کے بعد پنجاب کے پہلے وزیر خزانہ اور بعد ازاں وزیر اعلیٰ بنے وہ وزیر دفاع اور مغربی پاکستان حکومت میں خزانہ ،مواصلات اور تعمیرات کے وزیر بھی رہے ۔میاں ممتاز محمد خان دولتانہ اعلیٰ تعلیم یافتہ اور نہایت ذہین سیاست دان تھے تحریک پاکستان کے دوران وہ قائد اعظم کے ہمراہ رہے اور 1945-46کے تاریخ ساز انتخابات میں کہ جس کے نتیجے میں پاکستان کا قیام عمل میں آیا میاں ممتاز محمد خان دولتانہ نے پنجاب میں مسلم لیگ کی انتخابی مہم کو منظم کیاتھا۔ میاں ممتاز محمد خان دولتانہ نوابانہ شان وشوکت کے ساتھ رہتے تھے اور ملتان ڈویژن کے رئوسا انکی تعلیم اور وسیع زرعی زمین سے بہت متاثر تھے کہتے ہیں کہ وہ پنجاب میں وہ سب سے بڑے زمیندار سیاستدان تھے قول معروف کے مطابق انکے والد نواب احمد یار خان دولتانہ 1500مربع زرعی زمین کے مالک تھے۔میاں ممتاز محمد خان دولتانہ اپنے والد کے اکلوتے بیٹے تھے۔نواب احمد یار خان دولتانہ 1937کے انتخابات میں پنجاب اسمبلی کے ممبر منتخب ہوئے تھے اور بعد میں اسمبلی میں چیف وہپ بنے دولتانہ خاندان کی سخاوت اور فیض بخشیوں کی داستانیں میلسی اور وہاڑی کے قدیم باشندے بیان کرتے ہیں میاں ممتاز محمد خان دولتانہ کے پر دادا میاں غلام محمد خان دولتانہ نے جو زمانہ میںگو گا دولتانہ کے نام سے مشہور ہوئے بے مثال مہمان نوازی کی بدولت شہرت پائی ۔ لڈن میں انکے ڈیرے پر دن رات مہمان اورعام مسافر قیام پذیر رہتے نواب احمد یار دولتانہ نے اس روایت کو قائم رکھا۔میاں ممتاز محمد خان دولتانہ گڑھی شاہولاہور میں سیکڑوں مہمانوں کے ساتھ مل کر کھانا کھاتے تھے مہمان نوازی دنیا کی ہر قوم اور ہر قبیلے کی ایک مستحن روایت ہے تاہم دولتانہ خاندان اس روایت کی پاسداری کی بدولت زمانے میں منفرد رہا ہے قیام پاکستان سے پہلے پنجاب کے اکثر مسلمان زمیندار ہندو ساہو کاروں کے مقروض تھے ۔وہ اپنے قرضہ جات پر سود ادا کرتے عدم ادائیگی کی وجہ سے یہ قرضے پہاڑ کے وزن کے برابر ہوچکے تھے چنانچہ سر سکندر حیات وزیراعظم (وزیراعلیٰ پنجاب )کے زمانے میں نواب احمد یار خان دولتانہ ،سر چھوٹو رام اور دوسرے مشاہیر کی کوششوں سے ایک قانون منظور ہوا ۔جو تاریخ میں Land Alienation And Debt Cancellation act کہلاتاہے اس قانون کے روسے مسلمان زمینداروں کی لاکھوں ایکڑ زرعی زمین بیک جنبش قلم ہندو ساہو کاروں کی رہن سے آزاد ہو گئی۔ نواب احمد یار خان دولتانہ نے مساجد تعمیر کرائیں ۔علم کی اشاعت میں مدد کی اور مختلف فلاحی منصوبوں میں تعاون کرتے رہے انہوں نے 1942میں وفات پائی۔ انکے نامور فرزند میان ممتاز محمد خان دولتانہ 23فروری 1916کو لاہور میں پیدا ہوئے برطانیہ سے بارایٹ لا کی ڈگری حاصل کی اوروطن واپس آکر آل انڈیا مسلم لیگ میں شمولیت اختیار کی۔1943کے ایک ضمنی انتخاب میں وہ مسلم لیگ کے ٹکٹ پر پنجاب اسمبلی کے رکن منتخب ہوئے 1944میں میاں ممتاز محمد خان دولتانہ آل انڈیا مسلم لیگ پنجاب کے جنرل سیکرٹری جبکہ انکی اہلیہ بیگم الماس دولتانہ فنانس سیکرٹری منتخب ہوئیں 1945میں ہندوستان کے مسلمان حلقوں میں آل انڈیا مسلم لیگ سر چڑھ کر بولنے والا جادو ثابت ہوئی۔ان انتخابات میں پنجاب اور مسلم اکثریت کے دوسرے صوبوں (ماسوائے سرحد )میں مسلم لیگ نے مسلم نشستوں پر تاریخی کا میابی حاصل کی۔ میاں ممتاز محمد خان دولتانہ نارووال سے پنجاب اسمبلی کے رکن منتخب ہوئے۔ اس موقع پر نواب اللہ یار خان دولتانہ میلسی اور وہاڑی مشترکہ نشست سے کامیاب ہوئے ۔ تاہم کانگریس کی مخالفت کی وجہ سے پنجاب میں یونینیسٹ حکومت قائم ہوئی ۔ مسلم لیگ نے پنجاب میں سول نافرمانی کی تحریک چلائی ۔ وزیر اعلیٰ خضر حیات ٹوانہ نے مسلم لیگ پر کریک ڈائون کیا ۔میاں ممتاز محمد خان دولتانہ اور پنجاب میں ہزاروں مسلم لیگی کارکن گرفتار ہوئے قیام پاکستان کے بعد میاں ممتاز محمد خان دولتانہ نواب افتخار ممدوٹ کی کابینہ میں پنجاب کے وزیر خزانہ بنے ۔ وہ 1951تا 1953صوبے کے وزیر اعلیٰ رہے ۔14اکتوبر 1955کو وحدت مغربی پاکستان (ون یونٹ )کا قیام عمل میں آیا ۔ڈاکٹر خان صوبے کے پہلے وزیر اعلیٰ بنے جبکہ میاں ممتاز محمد خان دولتانہ کو خزانہ مواصلات اور تعمیرات کے قلمدان سونپے گئے۔میاں ممتاز محمد خان دولتانہ وزیراعظم ابراہیم اسماعیل حیدری گر کی کابینہ میں وزیر دفاع  مقرر ہوئے ۔ 8 اکتوبر 1958 کو ملک میں مارشل لا کے نفاذ کے بعد میاں ممتاز محمد خان دولتانہ اور دوسرے اہم سیاستدانوں پر سیاسی پابندی عائد کردی گئی میاں ممتاز محمد خان دولتانہ نے محترمہ فاطمہ جناح کی رہنمائی میں انکے مشورے کیساتھ قائد اعظم کے پرانے ساتھیوں کے ساتھ مل کر کونسل مسلم لیگ کی بنیاد رکھی ۔ 1970 کے عام انتخابات میں میاں ممتاز محمد خان دولتانہ اور چھ دوسرے افراد چودھری ظہور الٰہی وغیرہ کونسل مسلم لیگ کے ٹکٹ پر قومی اسمبلی کے رکن منتخب ہوئے۔1973میںمیاں ممتاز محمد خان دولتانہ نے قومی اسمبلی کے نشست سے استعفا دے دیا اور برطانیہ میں پاکستان کے سفیر مقرر ہوئے۔جنرل محمد ضیاالحق کے مارشل لا کے نفاذ کے بعد انہیں اس منصب سے سبکدوش کردیا گیا اور وہ طن واپس آگئے۔میاں ممتاز محمد خان دولتانہ اپنی آخری زندگی میں عملی سیاست سے کنارہ کش  ہوچکے تھے ۔تاہم اخباری بیانات کے ذریعے قومی کی رہنمائی کرتے اور اپنا نقطہ نظر بیان کرتے ۔ میاں ممتاز محمد خان دولتانہ کا 30جون 1995ء کو 79سال کی عمر میں لاہور میں انتقال ہوا۔ ان کا ایک بیٹا میاں جاوید ممتاز دولتانہ اور ایک بیٹی شاہدہ ممتاز ہے۔ میاں جاوید ممتاز دولتانہ1977ء ، 1988ء اور 1993میں صوبائی اسمبلی کے رکن منتخب ہوئے۔ شاہدہ ممتاز کی شادی محمد ایوب کھوڑو(سابق وزیرا علیٰ سندھ ) کے بیٹے خالد محمود کھوڑو سے ہوئی شاہدہ ممتاز بے نظیر بھٹو کی گہری دوست تھیں وہ سوشل ایکشن بورڈ وہاڑی کی چیئرمین رہیں ۔انہوں نے 2002کے عام انتخابات میں پاکستان پیپلز پارٹی کے ٹکٹ پر قومی اسمبلی کا لیکشن لڑا تاہم کامیاب نہیں ہوئیں ۔

سید محمد رضی شاہ گردیزیسید محمد رضی شاہ گردیزی

گردیزی ملتان کے قدیمی زمیندار ہیں۔ کبیر والا، ملتان، میاں چنوں، لودھراں اور دوسرے مقامات پر ان کی زرعی زمینیں ہیں۔ گردیزی خاندان کے مورثِ اعلیٰ سید ابو الفضل الشیخ جمال الدین معروف بہ شاہ یوسف گردیز گیارہویں صدی عیسوی میں محمود غزنوی کے بیٹے سلیم غزنوی کی دعوت پر پاکتیا( افغانستان ) کے علاقہ سے ملتان آئے تھے۔ یہ خاندان اسی زمانے سے زرعی زمینوں کا مالک ہے۔ شاہ یوسف گردیز نے توحید، رسالت اور امامت کی شمعیں روشن کیں اور دنیا کو امن و اخوت کا پیغام دیا۔ آپ کا مزار اندرون بوہڑ گیٹ ملتان میں صدیوں سے مرجع خلائق ہے۔ گردیزی خاندان کے نامور فرزند سید محمد رضی شاہ گردیزی 1924 میں ملتان میں پیدا ہوئے۔ ان کے پردادا سید غلام رسول شاہ افغانستان میں حکومت برطانیہ کے سفیر تھے۔ سید محمد رضی شاہ کے والد کا نام بھی سید محمد غلام رسول شاہ تھا۔ سید محمد رضی شاہ نے مشہور تعلیمی ادارے گورنمنٹ ایمرسن کالج ملتان سے بی اے تک تعلیم حاصل کی۔ عملی زندگی میں آنے کے بعد آبائی پیشہ زراعت اختیار کیا۔ انہوں نے قومی خدمت کے جذبے سے میانی نصفی میں پہلا گرلز پرائمری سکول قائم کیا۔ سید محمد رضی شاہ نے 1947 کے انقلاب کے موقع پر مہاجرین کی آباد کاری میں ان کی مدد کی تھی۔ انہوں نے ملتان اور لودھراں میں مہاجرین کو عارضی قیام کے لئے مکانات دیے تھے۔ سید محمد رضی شاہ گردیزی ایوب خان کے دور حکومت میں یونین کونسل بنگل والا، ڈسٹرکٹ کونسل ملتان اور ڈویژنل کونسل ملتان کے رکن رہے۔ انہوں نے نواب صادق حسین قریشی ( بعد ازاں وزیر اعلیٰ پنجاب ) کے ہمراہ پیپلز پارٹی میں شمولیت اختیار کی۔ سید محمد رضی شاہ گردیزی 1970 میں پی پی پی کے ٹکٹ پر صوبائی اسمبلی کے رکن منتخب ہوئے۔ 10 مارچ 1977ء کو سید محمد رضی شاہ گردیزی دوبارہ پاکستان پیپلز پارٹی کے ٹکٹ پر پنجاب اسمبلی کے رکن منتخب ہوئے۔ 5جولائی 1977 کو مارشل لا کے نفاذ کے موقع پر سید محمد رضی شاہ گردیزی گھر پر نظر بند کردیے گئے۔ انہوں نے  1985 میں مخدوم حامد رضا گیلانی کے مقابلے میں قومی اسمبلی کا الیکشن لڑا۔ سید محمد رضی شاہ گریزی نے 1986 میں وفات پائی ۔ سید محمد رضی شاہ گردیزی نے قدرت سے ایک بیٹی کی نعمت پائی جن کی شادی سید علی حیدر زمان گردیزی سے ہوئی۔ سید علی حیدر گردیزی نے ایگریکلچر یونیورسٹی فیصل آباد سے 1965میں ایم ایس سی کی ڈگری حاصل کی۔ سید علی حیدر زمان گردیزی 1987 میں ڈسٹرکٹ کونسل ملتان کے رکن منتخب ہوئے۔1990 میں انہوں نے پی پی پی کے ٹکٹ پر سید یوسف رضا گیلانی ( بعد ازاں وزیر اعظم پاکستان ) کے پینل میں سے ملک سکندر حیات خان بوسن کے مقابلے میں صوبائی اسمبلی کا الیکشن لڑا ۔ سید علی حیدر زمان گردیزی 2 مرتبہ ( 2001 اور 2005 میں ) یونین کونسل 71 ٹاٹے پور کے ناظم منتخب ہوئے۔ انہوں نے اپنے حلقے کی ترقی میں گہری دلچسپی لی۔ جس کی وجہ سے یہاں رابطہ سڑکیں، پختہ کھالہ جات ، بجلی، گیس، پلیں اور دوسرے ترقیاتی منصوبے مکمل ہوئے ، نیز صحت اور تعلیمی ادارے دوبارہ فنکشنل ہوئے ۔

الحاج سیدمحمدعلی مہدی گردیزی الحاج سید محمدعلی مہدی گردیزی

 

الحاج سیدمحمدعلی مہدی گردیزی کے جد ِ امجد سید یوسف شاہ گردیزیؒ اشاعت ِ اسلام کی غرض سے افغانستان سے ہجرت کر کے ملتان آئے۔یوسف شاہ گردیزؒ نے توحیدو ختم نبوت کے چراغ جلائے اور لوگوں تک اسلام کا پیغام پہنچایا۔آپؒ کا تذکرہ ملتان پر لکھی گئی مختلف کتب میں موجود ہے۔حضرت یوسف شاہ گردیزؒ کا مزار اندرون بوہڑگیٹ ملتان میں ہے جہاں آپ ؒ کے عقیدت مند مزار کی زیارت کے لئے آتے ہیں،آپ کے اخلاف میںسے ایک فرزند الحاج سیدمحمدعلی مہدی گردیزی نے سرائیکی قومی تحریک کی اعانت کی بدولت زمانے میں عزت اور شہرت پائی ہے۔الحاج سیدمحمدعلی مہدی گردیزی کی ولادت 2 نومبر1947 ء کو بڑا گھر یوسف شاہ گردیز ملتان میں ہوئی۔ان کے والد سید نذیر حسین گردیزی ایک امن پسند زمیندار تھے۔تحصیل کبیروالا میں ان کی زرعی زمینیں ہیں۔الحاج سیدمحمدعلی مہدی گردیزی نے گورنمنٹ پائلٹ ہائی سکول ملتان سے مڈل کا امتحان پاس کیا اور مزید تعلیم کے لئے لاہور چلے گئے یہاں انہوں نے فارورڈکالج لاہور سے 1966 ء میں میٹرک کا امتحان پاس کیا۔ملک مختاراحمداعوان کی دعوت پر پاکستان پیپلزپارٹی میں شامل ہوئے ۔ 1970 ء میں انہوں نے ذوالفقارعلی بھٹواور مختار اعوان کی انتخابی مہم میں بھرپور حصہ لیا ۔1977 ء کی تحریک نظا م مصطفی کے دوران پیپلزپارٹی کے ساتھ ثابت قدم رہے۔20 اگست 1977 ء کو پی این اے کے کارکنوں نے ملک مختاراعوان ااور ان کے ساتھیوں پر حملہ کیا ۔الحاج سیدمحمدعلی مہدی گردیزی اس حملے میں زخمی ہوگئے ۔ضیاء الحق کے دورِ جبر میں دوسری جمہوری کارکنوں کے ہمراہ جمہوریت کی بحالی کے لئے جدوجہد کرتے رہے۔ 1984 ء میں انہوں نے بیرسٹرتاج محمدخان لنگاہ کی قیادت میں دوسرے ساتھیوں کے ہمراہ سرائیکی صوبہ محاذ کی بنیاد رکھی اور نئے سیاسی محاذ کی منشور کی اشاعت کے لئے سرگرم ہوئے ۔7 اپریل 1989 ء کو ملتان میں تاج محمدخان لنگاہ کی قیادت میں پاکستان سرائیکی پارٹی کی بنیاد رکھی اور پی۔ایس۔پی ملتان سٹی کے صدر منتخب ہوئے۔بعدازاں وہ پی۔ایس۔پی ملتان ڈویژن کے صدر اور جماعت کے مرکزی رابطہ سیکرٹری رہے۔الحاج سیدمحمدعلی مہدی گردیزی نے پاکستان سرائیکی پارٹی کی تنظیم نو میں گہری دلچسپی لی۔ وہ جماعت کے سالانہ جلسوں اور مختلف اوقات میں سرائیکی قومی حقوق کے مظاہروں میں شریک ہوتے رہے۔1992 ء میں ملتان میں سرائیکی عالمی کانفرنس کے انتظامات میں حصہ لیا۔ستمبر1994 ء کو کراچی میں قوم پرستوں کے سیاسی اتحاد UNA کے کنونشن میں شریک ہوئے ۔1997 ء میں پاکستان سرائیکی پارٹی کے وفد کے ہمراہ ہندوستان گئے یہاں انہوں نے دہلی میں سرائیکی عالمی کانفرنس میں شرکت کی ۔ہندوستان میں ان کی ملاقات کے ۔ایل ۔بھاٹیا ، نرندرکمار،جگدیش چندربترا،کے ۔ایل شرما،سندیا بجاج ،بدھ راج اور بیرسٹرراج کمارسے ہوئی۔ الحاج سیدمحمدعلی مہدی گردیزی نے 1997 ء میں مردم شماری کے مسئلے پر پاکستان سرائیکی پارٹی کی احتجاجی تحریک میں حصہ لیا۔ یکم اور دو اکتوبر1998 ء کو اسلام آباد میں پونم کے تاسیسی اجلاسوں میں شریک ہوئے۔یکم اکتوبر کے اجلاس میں جب اخبارنویسوں نے تاج لنگاہ کے خطاب کے دوران رکاوٹ ڈالی تو سید محمدعلی مہدی گردیزی نے تاج لنگاہ کے حق میں نعرے لگائے اور سرائیکی کاز کے خلاف بات کرنے والے صحافیوں کی سرزنش کی۔ اِس واقعے کو عالمی نشریاتی ادارے بی بی سی لندن نے اپنے اردو سروس میں نشرکیا۔سرائیکی قومی حقوق کی جدوجہد میں انہوں نے کراچی ،حیدرآباد،لاڑکانہ، اسلام آباد،کوئٹہ،زیارت ،ڈیرہ بگٹی،رحیم یار خان،بہاولپور اور دوسرے شہروں کے دورے کئے ۔ سیدمحمدعلی مہدی گردیزی کی مختلف اوقات میں ذوالفقارعلی بھٹو،ممتازعلی بھٹو،جی ۔ایم سید،سید امداد حسین شاہ ، عطاء اﷲخان مینگل، اختر مینگل ، نواب اکبر بگٹی،یوسف رضا گیلانی، سیدمحمدقسور گردیزی،اجمل خٹک،میاں محمد نواز شریف، سجاد حسین قریشی،محمودخان اچکزئی، ڈاکٹر قادر مگسی ، ڈاکٹرکامل بنگش،شاہ محمود قریشی، ڈاکٹرمبشرحسن ،سیدہ عابدہ حسین،رسول بخش پلیجو ، جلال محمود شاہ ، لالہ افضل خان سواتی ، عبداللطیف بھویو ، مولانا عبدالعزیز (صدر سندھ ساگر پارٹی) ، مولانا عبیداللہ بھٹو (صدر جمعیت علماء اسلام سندھ) اور یوسف لغاری سے ملاقات ہوئی۔23 مئی2003 ء کو انہوں نے سرائیکی عوامی پارٹی کی بنیاد رکھی وہ سرائیکی قومی حقوق کے لئے مسلسل جدوجہد کررہے ہیں۔

الحاج محمد نواز خان عرف الحاج محمد نواز خان عرف دلاور خان کھچی

تحصیل میلسی کے مختلف دیہات میں مقیم کھچی خاندان ملتان ڈویژن کی ایک مسلمہ سیاسی قوت ہے ۔ قیام پاکستان کے بعد اس خاندان کے افراد (الحاج محمد یار خان کھچی ، محمد نواز خان عرف دلاور خان کھچی ، آفتاب احمد خان کھچی ۔ الحاج غلام حیدر خان کھچی ، محمد اسلم خان کھچی ، الحاج محمود خان کھچی ، جاوید اقبال خان کھچی ، سردار محمد خان کھچی )نے قومی اور صوبائی اسمبلی کے 18 الیکشن جیتے ہیں۔مزید برآں محمد ممتاز خان کھچی (براد رحقیقی دلاور خان کھچی )4 مرتبہ مسلسل ڈسٹرکٹ کونسل کے چئیرمین اور پانچویں مرتبہ ناظم ضلع وہاڑی منتخب ہوئے۔ اس خاندان کے ایک اور فرزند اللہ یار خان کھچی 6 مرتبہ میونسپل کمیٹی میلسی کے کونسلر اور 4مرتبہ چیئرمین منتخب ہوئے کھچی مشاہر کے حالاتِ زندگی اس کتاب کے مختلف صفحات پر درج ہیں فدا ٹائون میں مقیم کھچی خاندان کی سیاسی تاریخ دلاور خان کھچی کے دادا خان در محمد خان کھچی کے نام سے شروع ہوتی ہے۔در محمد خان کھچی بڑے نام اور اثر والے زمیندار تھے وہ اپنی زندگی میں ڈسٹرکٹ بورڈ ملتان کے وائس چیئرمین رہے ۔درمحمد خان کھچی تحریکِ پاکستان کے رہنمائوں نواب اللہ یار خان دولتانہ اور محمد رضا شاہ گیلانی کے قریبی دوست تھے۔ دولتانہ اور گیلانی خاندان سے کھچی خاندان کی دوستی ایک صدی کا احاطہ کرتی ہے۔ در محمد خان کھچی کے ڈیرے میں نئی عمارت کا سنگ بنیاد پیر صدر الدین شاہ گیلانی نے 1930 کے عشرے میں رکھا تھا ۔ محمدرضا شاہ گیلانی درمحمد خان کھچی اور دوسرے سیاسی مشاہیر کی سیاسی حمایت سے انگریز ڈپٹی کمشنر ای پی مون کے مقابلے میںڈسٹرکٹ بورڈ ملتانکے چیئرمین منتخب ہوئے تھے۔ دُر محمد خان کھچی 1938ء سے 1944ء تک ڈسٹرکٹ بورڈ ملتان کے وائس چیئرمین رہے۔ درمحمد خان کھچی اور انکے عظیم فرزند الحاج محمد یار خان کھچی نے 1945-46 کے انتخابات میں کہ جس کے نتیجے میں پاکستان کا قیام عمل میں آیا میلسی اور وہاڑی سے مسلم لیگی امیدوار نواب اللہ یار خان دولتانہ کے حمایت کر کے انہیں کامیابی سے ہمکنار کیا درمحمد خان کھچی (چیئرمین بحالیات کمیٹی میلسی) نے 1947 کے انقلاب کے موقع پر اجڑے ہوئے مسلمان مہاجرین کی آبادکاری اوریہاں سے غیر مسلموں کے پر امن انخلامیں نہایت قابل تحسین کردار ادا کیا۔ در محمد خان کھچی نے نومبر 1950 میں وفات پائی اور میلسی کے قدیمی قبرستان بابا نتھے شاہ میںپیوندِخاک ہوئے دلاور خان کھچی کی ولادت 1939 میں ہوئی ۔انہوں نے ایف اے تک تعلیم حاصل کی ۔ خاندانی ماحول میں قومی اور سماجی خدمت کا شعورپایا اور اپنے والد الحاج محمد یار خان کے ہمراہ سیاسی خدمات کا آغاز کیا۔ دلاور خان کھچی 1965 میں پہلی مرتبہ قومی اسمبلی کے رکن منتخب ہوئے۔ اُس وقت وہ تمام اراکین قومی اسمبلی میں کم عمر تھے۔ دلاور خان کھچی نے کراچی اور اسلام آباد کے علاوہ ڈھاکہ (بنگلہ دیش) میں بھی قومی اسمبلی کے اجلاسوں میں شرکت کی۔وہ 1966ء سے 1971ء تک یونین کونسل فدہ کے چیئرمین رہے۔  دلاور خان کھچی جب پہلی مرتبہ قومی اسمبلی کے رکن منتخب ہوئے تو حامد رضا گیلانی اس ایوان کے لیے دوسری مرتبہ منتخب ہوئے تھے۔ حامد رضا گیلانی تاریخی شخصیت ذوالفقار علی بھٹو کے قریبی دوست تھے چنانچہ 1970 حامد رضا گیلانی اور دلاور خان کھچی کا خیال تھا کہ گیلانی گروپ پیپلز پارٹی کے پلیٹ فارم پر الیکشن لڑے۔ اس وقت گیلانی گروپ میں دو آراسامنے آئیں تاہم علمدار حسین گیلانی اور شاہ محمد خان کھچی نے دوستوں کو مسلم لیگ قیوم گروپ کی طرف سے الیکشن لڑنے پر قائل کیا۔ 1977 میں حامد رضا گیلانی اور دلاور خان کھچی دونوں پیپلز پارٹی کے ٹکٹ پر قومی اسمبلی کے رکن منتخب ہوئے۔ 1985 کے غیر جماعتی انتخابات میں یوسف رضا گیلانی اور دلاور خان کھچی قومی اسمبلی کے رکن منتخب ہوئے ۔ دلاور خان کھچی 1990 اور 1997 میں بھی قومی اسمبلی کے رکن منتخب ہوئے۔ انہوں نے 8 مرتبہ قومی اسمبلی کے انتخابات میں حصہ لیا جن میں سے 5 انتخابات میں انہوں نے کامیابی حاصل کی۔ دلاور خان کھچی لوگوں کے مسائل کے حل میں ہمہ وقت مصروف عمل رہے۔ انہوں نے گیلانی خاندان کے ساتھ مل کر ملتان یونیورسٹی کے قیام کے لیے کوشش کی دلاور خان کھچی کے ادوارِاقتدار میں بے شمار ترقیاتی منصوبے مکمل ہوئے۔ انکی مساعیٔ جمیلہ سے نئے سکولوں کا اجرا۔ پرانے سکولوں کی اپ گریڈیشن رابطہ سٹرکوں اور پختہ کھالہ جات کی تعمیر ہوئی متعدد دیہات کو بجلی فراہم کی گئی۔ دیہی مراکز صحت قائم ہوئے اور بے شمار تعلیم یافتہ اور ہنر مند افراد نے ملازمت حاحل کی ۔پوری زندگی دلاور خان کھچی کا کسی سے جھگڑا نہیں ہوا۔ انکے حلقہ ٔ احباب میں جہاں میاں ممتازمحمد خان دولتانہ ۔ حامد رضا گیلانی ، چودھری فضل القادر ، سردار شوکت حیات خان ، نواب افتخار ممدوٹ ، عبدا  لصبورخان ،راجہ تری دیورائے ، مخدوم سجاد حسین قریشی ، سید یوسف رضا گیلانی ، عبدالمنعم خان ، سردار بہادر خان  اے کے بروہی ، شہزادہ محیی الدین ، نواب سر صادق محمد خان غلام مصطفیٰ کھر۔ مخدوم حسن محمود، جام صادق علی ، میاں منظور احمد وٹو، مظفر علی قز لباش، نواب صادق حسین قریشی ، فضل حق، عبدالقیوم خان ، تاج محمد جمالی، ظفر اللہ جمالی، چودھری فضل الٰہی، جام محمد یوسف ، چودھری فضل الہی، میر بلخ شیر مزاری ، غلام مصطفی جتویٔ، حسین شہید سہروردی ، ملک فیروز خان نون، میاں نواز شریف ،سردار فاروق خان لغاری، پیر پگاڑا ، چودھری شجاعت حسین اور چودھری پرویز الٰہی جیسی نامور شخصیات تھیں۔ وہاں علاقے کے غریب لوگ بھی انکے گہرے دوست تھے۔ دلاور خان کھچی نے 16 جولائی 2010 کو لاہور میں 71 سال کی عمر میں وفات پائی۔ انکی نماز جنازہ 17 جولائی 2010 کو فداٹائون میں ادا کی گئی۔ انکے جسد خاکی کو والد الحاج محمد یار خان اور دادا در محمد خان کی قبروں کیساتھ قدیمی قبرستان بابا نتھے شاہ سپرد خاک کیا گیا۔ کوئی دلاور خان کھچی کے سیاسی اصولوں سے لاکھ اختلاف کرے مگر ان کی شراقت پر کسی کو کلام نہیں۔ دلاور خان کھچی اس جہاں سے اُٹھے تو ایک زمانے کی روایت کو بھی اپنے ساتھ لے کر گئے۔ انکی موت ایک سیاسی عہد کا خاتمہ ہے ۔ دلاور خان کھچی کے چار بیٹے ڈاکٹر در محمد خان ، بیرسٹر اورنگ زیب خان جہانزیب خان اور عالمگیر خان ہیں۔ بیرسٹر اورنگ زیب خان جہازیب خان اور عالمگیر خان اپنے آباء کی خدمتِ خلق کی روایت کو جاری رکھے ہوئے ہیں۔ عالمگیر خان نے قائداعظم یونیورسٹی اسلام آباد سے ایم تاریخ کی ڈگری حاصل کی ۔

محمد جہاں زیب خان کھچی

محمد جہاں زیب خان کھچی کا یہ منفرد اعزاز ہے کہ وہ تین ماہ کی مختصر مدت میں 2 مرتبہ پنجاب اسمبلی کے رکن منتخب ہوئے۔ پہلی مرتبہ اُنہوں نے 18 فروری 2013ء کو صوبائی حلقہ 239 سے آزاد اُمیدوار کی حیثیت سے جبکہ دوسری مرتبہ 11 مئی 2013کو پاکستان تحریکِ انصاف کے ٹکٹ پر الیکشن جیتا۔ محمد جہاں زیب خان کھچی، الحاج محمد یار خان کھچی کے پوتے، محمد نواز خان عرف دِلاور خان کھچی کے بیٹے اور محمد ممتاز خان کھچی کے بھتیجے اور محمد اورنگزیب خان کھچی کے بھائی ہیں۔ کھچی مشاہیر کے حالاتِ زندگی اس کتاب کے مختلف صفحات پر درج ہیں۔
کھچی خاندان کا سیاسی اور سماجی اثر قیامِ پاکستان سے قبل قائم ہوچکا تھا۔ محمد جہاں زیب خان کھچی کے پر دادا خان دُر محمد خان کھچی آل اِنڈیا مسلم لیگ تحصیل میلسی کے صدر تھے اُنہوں نے 1934ء میں انگریز ڈپٹی کمشنر ملتان ای پی مون کے مقابلے میں مخدوم محمد رضا شاہ گیلانی کی حمایت کی تھی تب محمد رضا شاہ گیلانی ڈسٹرکٹ بورڈ ملتان کے چیئرمین منتخب ہوئے تھے۔ دُرمحمدخان کھچی 1938 تا 1944ء ڈسٹرکٹ بورڈ ملتان کے چیئرمین رہے۔ کھچی اسلاف نے 1945-46ء کے انتخابات میں مسلم لیگی اُمیدوار نواب اللہ یار خان دولتانہ کی حمایت کر کے اُنہیں کامیابی سے ہمکنار کیا تھا۔ خان دُر محمد خان کھچی اور شاہ محمد خان کھچی نے 1947ء کے انقلاب کے موقع پر ہندوئوں کے پرامن انخلاء اور مسلمان مہاجرین کی آبادکاری میں اپنی سماجی اور اخلاقی اور قومی ذمہ داریاں نبھائیں تھیں جس کی وجہ سے میلسی میں نہ تو ہندو مسلم فسادات ہوئے اور نہ ہی غیر مسلم متروکہ جائیداد کی لوٹ مار ہوئی۔1951 ء میں محمد جہازیب خان کھچی کے دادامحترم الحاج محمدیارخان کھچی پاکستان مسلم لیگ کے ٹکٹ پر ایم ایل اے منتخب ہوئے ۔محمدجہانزیب خان کھچی کے والد محترم محمدنواز خان عرف دِلاور خان کھچی پانچ مرتبہ قومی اسمبلی کے رکن منتخب ہوئے ۔محمدجہانزیب خان کھچی کے چچا محمدممتاز خان کھچی چارمرتبہ بلامقابلہ ضلع کونسل و

 

مہر ظفر اقبال

پاکستان تحریک انصاف میلسی شہر کے صدرمہر ظفر اقبال شہر کے سیاسی اور سماجی منظر نامے پر بہت نمایاں ہیں۔ وہ پیشے کے لحاظ سے وکیل ہیں اور دیوانی اور فوجداری مقدمات میں بہت مہارت رکھتے ہیں۔ مہر طفر اقبال نے اپنا سماجی مقام خود اپنی محنت سے بنایا ہے۔ مہر ظفر اقبال 4جنوری 1974ء کو محلہ اسلام پورہ میلسی میں پیدا ہوئے ان کے والد محترم مہر حاجی خدا بخش یہاں کے ایک معزز تاجر تھے اور اپنی امن پسندی کے باعث عزت کی نگاہ سے دیکھے جاتے تھے مہر ظفر اقبال تاریخی درس گاہ گورنمنٹ ہائی سکول میلسی میں زیر تعلیم رہے جہاں سے اُنہوں نے 1987میں میٹرک کا امتحان پاس کیا۔ وہ اعلیٰ تعلیم کے لیے گورنمنٹ ڈگری کالج وہاڑی اور گورنمنٹ سائنس کالج ملتان میں داخل ہوئے اور 1944ء میں BScکا امتحان پاس کیا۔
مہر ظفر اقبال انجیئرنگ کی تعلیم حاصل کرنے کے لیے ترکی چلے گئے تاہم جلد وطن واپس آگئے وہ بہاء الدین زکریا یونیورسٹی کے ذیلی ادارہ گیلانی کالج ملتان میں داخل ہوئے 2000ء میں اُنہوں نے ایل۔ایل۔بی کا امتحان پاس کیا اور میلسی میں وکالت کے پیشے سے وابستہ ہوئے۔ 2001ء کے بلدیاتی انتخابات میں مہر ظفر اقبال یونین کونسل نمبر 27میلسی شہر کے نائب ناظم منتخب ہوئے۔ مہر ظفر اقبال 2007میں کنور ریاض احمد خان کے مقابلے میں میلسی بار ایسوسی ایشن کے صدر منتخب ہوئے۔
9مارچ2007ء کو جب فوجی آمر جنرل پرویز مشرف کے چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کو معطل کیا تو پاکستان کے وکلانے اس غیر آئینی اقدام کے خلاف تاریخی جدوجہد کی اور چیف جسٹس کو اُنکے منصب پر بحال کراکے دم لیا۔ مہر طفر اقبال نے اس اقدام کے خلاف آواز بلند کی اور ہر جمعرات کو ہفتہ وار عدالتوں کے بائیکاٹ کا اعلان کیا اور پھر پورے پاکستان میں جمعرات کے دن عدالتی بائیکاٹ کا طویل سلسلہ شروع ہوگیا۔ مہر ظفر اقبال تحریک بحالی عدلیہ کے سلسلے میں لاہور،اسلام آباد، ایٹ آباد، سیالکوٹ، ملتان، اور ساہیوال میں مظاہروں میں شریک ہوئے۔ مہر ظفر اقبال عمران خان (وزیر اعظم پاکستان) کی دعوت پر پی۔ ٹی۔آئی میں شامل ہوئے۔ اُنہوں نے 2013ء میں میلسی میں پی۔ ٹی۔ آئی کی انتخابی مہم میں حصہ لیا۔ وہ 27جون 2014 ء کو بہاولپور اور 10اکتوبر 2014ء کو ملتان میں پی۔ ٹی۔ آئی کے جلسوں میں شریک ہوئے جس سے عمران خان اور دوسرے رہنماؤں نے خطاب کیا۔
31اکتوبر 2015ء کو مہر ظفر اقبال پی۔ ٹی۔ آئی کے ٹکٹ پر میونسپل کمیٹی میلسی کے کونسلر منتخب ہوئے۔ مہر ظفر اقبال پاکستان تحریک انصاف میلسی شہر کے صدر مقرر ہو گئے اور تا حال اس منصب پر فائز ہیں۔ 2018ء کے انتخابات میں مہر ظفر اقبال نے پاکستان تحریک انصاف کی انتخانی مہم میں بھر پور حصہ لیا۔ اس موقع پر محمد اورنگ زیب خان کھچی قومی اسمبلی جبکہ محمد جہانزیب خان کھچی پاکستان تحریک انصاف کے ٹکٹ پر پنجاب اسمبلی کے رکن منتخب ہوئے۔

شہزاد خان کھچی


یونین کونسل  89 فدا تحصیل میلسی ضلع وہاڑی کے چیرمین شہزاد خان کھچی سابق ناظم ضلع وہاڑی و سابق چیر مین ضلع کونسل وہاڑی محمد ممتاز خان کھچی کے بیٹے تحریک پاکستان کے کارکن الحاج محمد یار خان کھچی کے پوتے اور سابق رکن قومی اسمبلی آفتاب احمد خان کھچی کے بھائی ہیں ۔ کھچی خاندان کا شمار ملتان ڈویژن کے اُن بڑے خاندانوں میں ہوتا ہے جن کا سیاسی اور سماجی اثرقیام پاکستان سے پہلے قائم ہو چکاتھا۔ شہزاد خان کھچی کے پر دادا خان در محمد خان کھچی تحصیل میلسی کے مختلف دیہات میں تین ہزار ایکڑ اراضی کے مالک تھے ۔ در محمد خان کھچی کے چچا نور محمد خان کھچی تحصیل میلسی کے ذیل دار تھے دُ ر محمد خان کھچی آل انڈیا مسلم لیگ میلسی کے صدر تھے اور ڈسٹرکٹ بورڈ ملتان کے وائس چیرمین تھے ۔ 1945-46کے انتخابات میں اُنہوں نے مسلم لیگی امیدوارکی کامیابی میں اہم کردار ادا کیا۔در محمد خان کھچی نے قیام پاکستان کے وقت میلسی میں ہندوؤں کے پر امن انخلا اور یہاں مسلمان مہاجرین کی آبادکاری میں بھی اہم کردار ادا کیا۔ الحاج محمد یار خان کھچی 1951میں مسلم لیگ کے ٹکٹ پر پنجاب اسمبلی کے رکن  منتخب ہوئے تھے الحاج محمد یار خان کھچی 1956تا1958مغربی پاکستان اسمبلی کے رکن بھی رہے ۔ الحاج محمد یار خان کھچی نماز پنج گانہ بالالتزام اور تہجد حسب توفیق پڑھتے تھے ۔ وہ 10مئی 1964کو فریضہ حج ادا کرنے کے بعد سعودی عرب میں اچانک وفات پاگئے ۔ شہزاد خان کھچی کے تایا محمد نواز خان عرف دلاور خان کھچی پانچ مرتبہ قومی اسمبلی کے رکن منتخب ہوئے تھے ۔شہزاد خان کھچی کے نانا الحاج اللہ یار خان کھچی  4 مرتبہ میونسپل کمیٹی کے چیر مین رہے وہ کچھ عر صہ مارکیٹ کمیٹی میلسی کے چیر مین بھی رہے ۔ شہزاد خان کھچی کے ماموں سردار خان کھچی   18فروری 2008کو پاکستان پیپلز پارٹی کے ٹکٹ پر پنجاب اسمبلی کے رکن منتخب ہوئے سردار خان کھچی میونسپل کمیٹی میلسی اور مارکیٹ کمیٹی کے چیرمین بھی رہے ۔کھچی خاندان کے کچھ دوسرے افراد بھی قومی اورپنجاب اسمبلی کے رکن اور مختلف عوامی عہدوں پر فائز رہے ہیں اس خاندان کا تذکرہ میلسی ،وہاڑی اور ملتان پر لکھی گئی کتابوں میں کیا گیا ہے۔
شہزاد خان کھچی 11ستمبر 1979کو اپنے آبائی گاؤں فدا میں پیدا ہوئے وہ معروف تعلیمی ادارے ایچی سن کالج  لاہور میں زیر تعلیم رہے جہاں سے اُنہوں نے میٹرک کا امتحان پاس کیا اور مزید دوسا ل ایچی سن سے اُنہوں نے ایف ایس سی مکمل کی بعد میں انہوں نے بی اے کا امتحان پاس کیا

Business Management سے Kings College London بعد ازاں برطانیہ گئے جہاں اُنہوں نے
کا ڈپلومہ حا صل کیا ۔ شہزاد خان کھچی نے آبائی پیشہ زراعت کے ساتھ ساتھ بزنس کا آغاز بھی کیا۔ وہ اپنے وال محمد ممتاز خان کھچی بھائی آفتاب احمد خان کھچی اور محمد کزن محمد اورنگ زیب خان کھچی و محمد جہانزیب خان کچھی کے ہمراہ پاکستان تحریک انصاف میں شامل ہوئے ۔ 31اکتوبر 2015کو شہزاد خان کھچی یونین کونسل فداکے چیر مین منتخب ہوئے ۔ اس موقع پر اُن کے بھائی محمد اعظم خان کھچی یونین کونسل فتح پور کے چیر مین منتخب ہوئے ۔ علاوہ ازیں کھچی گروپ کے متعدد دوسرے افراد بھی پی ٹی آئی کے ٹکٹ پر ضلع وہاڑی کی مختلف یونین کونسلوں کے چیر مین منتخب ہوئے کھچی گروپ کی قیادت محمد ممتاز خان کھچی کرتے ہیں ۔

رانا ضیاء خاں

پیپلز یوتھ آرگنائزیشن (PYO) ضلع وہاڑی کے صدر رانا ضیاء خاں کے والد محترم رانا محمد دین خاں کا بڑا نام اور وقار تھا۔وہ میلسی کے مختلف دیہات میں زرعی زمینوں کے مالک تھے۔ رانا محمد دین خاں کا خاندان 1947ء کے انقلاب کے بعد ہندوستان سے ہجرت کر کے پاکستان آیا تھا۔ رانا محمد دین کے والد محترم ضابطہ خاں موضع دیوانہ تحصیل و ضلع حصار میں 1400ایکڑ زرعی اراضی کے مالک تھے۔ رانا محمد دین خاں فلاحی منصوبوں میں دلچسپی لیتے تھے اور ایوب خان کے دور حکومت میں یونین کونسل عالم پور کے رکن منتخب ہوئے تھے اُنہوں نے بستی اظہر آباد میں پرائمری سکول کے اجرا اور محکمہ زراعت کے دفتر کے لیے 2,2کنال زمین کا عطیہ دیا تھا۔ وہ ایوانِ زراعت میلسی کے جنرل سیکرٹری مقرر ہوئے تھے۔ رانا محمد دین خاں کا شتکاروں کے مسائل کے حل میں گہری دلچسپی لیتے تھے۔ وہ سماجی کاموں میں مصروف رہے اُنہوں نے میلسی میں پاکستان پیپلز پارٹی (پٹھان گروپ) کی انتخابی مہمات میں بھرپور حصہ لیا اور عزت و احترام کی زندگی گزارنے کے بعد وفات پا گئے۔
رانا ضیاء خاں کی ولادت 4فروری 1981کو موضع فدا میں ہوئی۔ وہ تاریخی درسگاہ گورنمنٹ ہائی سکول میلسی میں داخل ہوئے جہاں سے اُنہوں نے 1996ء میں میٹر ک کا امتحان پاس کیاعملی زندگی میں آنے کے بعد رانا ضیاء خاں نے زراعت کا آبائی پیشہ اختیار کیا۔رانا ضیاء خاں نے گھریلو ماحول میں سماجی خدمت کا شعور پایا اور اپنے والد کے ہمراہ لوگوں کے دُکھ سکھ میں شریک ہونے لگے۔
رانا ضیاء خاں پیپلز پارٹی کے سیاسی فلسفے اور بے نظیر بھٹو کی مظلومیت سے متا ثر ہو کر پاکستا ن پیپلز پارٹی میں شامل ہوئے۔ اگست 2013ء میں پیپلز یوتھ آرگنائز یشن (PYO) ضلع وہاڑی کے صدر مقرر ہوئے اُنہوں نے پیپلز پارٹی کے منشور کی اشاعت میں دلچسپی لی اور محمود حیات خان عر ف ٹوچی خان کے ہمراہ پاکستان پیپلز پارٹی کے اجلاسوں میں شرکت کرنے لگے۔ وہ اس سلسلے میں ملتان، وہاڑی، بوریوالہ، گڑھی خدا بخش،لاڑکانہ اور دیگر مقامات پر گئے۔ رانا ضیاء خاں، محمود حیات خاں عرف ٹوچی خاں کی زیر قیادت پی پی پی کے وفد کے ہمراہ 4اپریل کو گڑھی خدا بخش جاتے ہیں۔
رانا ضیاء خاں سمجھتے ہیں کہ پاکستان شدید سیاسی بحران سے دو چار ہے اور بلاول بھٹو زرداری اس ملک کو بحران سے نکالنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔رانا ضیاء الحق، محمود حیات خاں کے ہمراہ پاکستان پیپلز پارٹی کے پلیٹ فارم پر عوامی رابطے جاری رکھے ہوئے ہیں۔

راؤ محمد فاروق خاں

انجمن کا شتکاران پنجاب (رجسڑڈ) ضلع وہاڑی کے صدراور سابق رکن تحصیل میونسپل ایڈمنسٹریشن میلسی راؤ محمد فاروق خاں میلسی کے سیاسی اور سماجی منظر نامے پر بہت نمایاں ہیں۔وہ پیشے کے اعتبار سے زمیندار ہیں اور اُنہوں نے کاشتکاروں کے حقوق کے لیے گراں قدر خدمات انجام دی ہیں۔قیام پاکستان سے پہلے اُن کا خاندان ہندوستان کے ضلع حصار میں رہتا تھا راؤ محمد فاروق خاں کے دادا حاجی عبدالقادر خاں ڈولٹاں تحصیل فتح آباد کے ایک معزز زمیندار تھے۔ 1947کے انقلاب کے بعد حاجی عبدالقادر خاں اپنے خاندان اور برادری کے ہمراہ ہجرت کرکے میلسی آئے۔ یہاں اُنہیں اور ان کی برادری کے دوسرے افراد کو موضع میلسی میں زرعی رقبہ الاٹ کیا گیا۔ راؤ محمد فاروق خاں کی پیدائش مئی 1974میں سیالکوٹ میں اُنکے ننھیال میں ہوئی۔ راؤ محمد فاروق خاں کے والد راؤ منیر احمد خاں میلسی میں زمیندارہ کرتے ہیں۔ راؤ محمد فاروق خاں کے تایا محتر م راؤ عبدالرزاق خاں کا بڑا نام اور وقار تھا۔ میلسی شہر کے وسط میں اُنکے ڈیرے پر دوست اور مسافر قیام کرتے تھے۔ راؤ عبدالرزاق خاں نے مہمان نوازی کی مستحسن روایت کو اپنایا جس کی وجہ سے ان کی عزت اور وقار میں بہت اضافہ ہوا۔ راؤ عبدالرزاق خاں عزت اور احترام کی زندگی گزارنے کے بعد وفات پا گئے اُن کی وفات کے بعد راؤ عبدالرزاق خاں کے بھائیوں، بیٹوں اور بھتیجوں نے مہمان نوازی کی روایت کو جاری رکھا۔ راؤ عبدالرزاق خاں کے بھائی راؤ بشیر احمد خاں 1983میں میونسپل کمیٹی میلسی کے رکن منتخب ہوئے۔
راؤ محمد فاروق خاں نے پرائمری تعلیم سیالکوٹ سے حاصل کی بعد میں وہ تاریخی درسگاہ گورنمنٹ ہائی سکول میلسی میں داخل ہوئے جہاں سے اُنہوں نے 1990میں میٹرک کا امتحان پاس کیا۔ راؤ محمد فاروق خاں صادق ایجرٹن کالج بہاولپور میں زیر تعلیم رہے اور1992میں ایف اے کا امتحان پاس کیا اُنہوں نے غلہ منڈی میلسی میں آ ڑھت کا کاروبار شروع کیا اور اس کے ساتھ اپنے آبائی پیشہ زراعت سے وابستہ ہوئے۔ راؤ محمد فاروق خاں نے عوامی اور سماجی رابطوں کو بڑھایا۔وہ 2001میں تحصیل میونسپل ایڈمنسٹریشن میلسی کے آزادحیثیت سے کسان ممبر منتخب ہوئے اور 2005تک اس عہدے پر فائز رہے راؤ محمد فاروق خاں کا انتخاب اُن کے خاندان کی سماجی خدمات کا اعتراف تھا۔ راؤ محمد فاروق 2003میں ایک انتخابی عمل کے ذریعے دی پنجاب پرونشل کو آپریٹو سوسائیٹز(رجسٹرڈ) لاہور کے بورڈ آف ڈائریکٹرز کے ممبر منتخب ہوئے۔
2005میں راؤ محمد فاروق خاں دوسری مرتبہ آزاد حیثیت سے تحصیل میونسپل ایڈمنسٹریشن میلسی کے کسان ممبر منتخب ہوئے۔ راؤ محمد فاروق خاں 2016میں انجمن کاشتکار ان پنجاب (رجسٹرڈ) میں شامل ہوئے اور وہاڑی میں اس تنظیم کے صدر منتخب ہوئے راؤ محمد فاروق خاں نے 2018میں پاکستان تحریک انصاف میں شمولیت اختیار کی اور محمد اورنگ زیب خاں کھچی (بعد ازاں ایم۔ این۔ اے) اور محمد جہاں زیب خاں کھچی (بعد ازاں صوبائی وزیر ٹرانسپورٹ) کی انتخابی مہم میں بھر پور حصہ لیا۔
 
ڈاکٹر نخبہ تاج لنگاہ

دُخترِ سرائیکستان ڈاکٹر نخبہ تاج لنگاہ تاریخی شخصیت بیرسٹر تاج محمد خان نگاہ کی اکلوتی بیٹی ہیں ۔ بیرسٹر تاج محمد خان لنگاہ نے 7کروڑ افراد پر مشتمل سرائیکی قوم کی شناخت پیدا کی اور صوبہ سرائیکستان کے قیام کے لئے تادمِ آخر مصروف عمل رہے ۔ بیرسٹر تاج محمد خان لنگاہ کے حالات زندگی اس کتاب کے دوسرے صفحات پر درج ہیں ۔ ڈاکٹر نخبہ تاج لنگاہ 25نومبر 1973ء کو لاہور میں پیدا ہوئی ۔ وہ بیکن ہاءوس پبلک سکول لاہور میں زیر تعلیم رہیں ۔ انہوں نے 1989ء میں تعلیمی بورڈ لاہور سے میٹرک اور1991ء میں ایف ایس سی کا امتحان پاس کیا ۔ انہوں نے 1993ء میں پنجاب یونیورسٹی سے بی اے کیا اور 1995ء میں اعلیٰ تعلیم کے لئے برطانیہ چلی گئیں وہ معروف تعلیمی ادارے یونیورسٹی آف بکنگھم میں داخل ہوئیں ۔ یہاں سے انہوں نے 1997ء میں بی اے آنرز کا امتحان پاس کیا ۔ ڈاکٹر نخبہ تاج لنگاہ 1997ء میں اپنے والد کی قیادت میں ایک وفد کے ہمرہ دبئی گئیں ، جہاں انہوں نے سرائیکی عالمی کانفرنس میں شرکت کی ۔ ہندوستان کے اراکین پارلیمنٹ اور متعدد سیاست دانوں نے تاج لنگاہ کے اعزاز میں تقریبات منعقد کیں ، جس کی وجہ سے ڈاکٹر نخبہ تاج لنگاہ کو عالمی سیاست کے اصولوں کو سمجھنے کا موقع ملا ۔ 

اسی سال وہ ایک مرتبہ پھر ہندوستان گئیں ، یہ اُن کا تعلیمی، تحقیقی اور مطالعاتی دورہ تھا ۔ انہوں نے معروف محقق و مصنف خشونت سنگھ اوردوسرے ہندوستانی سکالروں سے ملاقات کی ۔ 1998ء میں ڈاکٹر نخبہ تاج لنگاہ نے ;85;niversity of ;87;arwick (;8575;) سے ایم اے (انگلش) کا امتحان پاس کیا ۔ 

ڈاکٹر نخبہ لنگاہ پی ایچ ڈی کرنے کے لئے ;85;niversity of ;76;eeds (;8575;) میں داخل ہوئیں ۔ انہوں نے ڈاکٹرانینہ جہاں آرا کبیر کی زیر نگرانی ;69;xpressing ;82;esistance ;84;hrough ;83;araiki ;80;oetry in ;80;ost ;67;olonial ;80;akistanکے موضوع پر تحقیقی مقالہ تحریر کیا، جس پر انہیں پی ایچ ڈی انگلش کی ڈگری دی گئی ۔ ڈاکٹر نخبہ تاج لنگاہ ملتان کے کاروانِ سیاست میں اس لحاظ سے ممتاز ہیں کہ انہوں نے برطانیہ کی تین اور پاکستان کی ایک یونیورسٹی سے ڈگری حاصل کی ہے ۔ 

ڈاکٹر نخبہ تاج لنگاہ نے عظیم سرائیکی شعراء ڈاکٹر اسلم انصاری ، سفیر لاشاری اور اسلم جاوید کے سرائیکی کلام کا انگریزی زبان میں ترجمہ کیا ہے ۔ علاوہ ازیں انہوں نے شریک مترجم ;76658673867365; ;7182696978766587;کے ساتھ مل کر معروف شاعرہ نوشی گیلانی کے کلام کا بھی انگریزی میں ترجمہ کیا جو 2008ء میں کتابی صورت میں لندن سے شاءع ہوا ۔ ڈاکٹر نخبہ تاج لنگاہ اپنے والد کی بے مثال اور غیر معمولی سیاسی جدوجہد سے بہت متاثر ہوئیں اور تعلیم کے ساتھ ساتھ سرائیکی قومی حقوق کی جدوجہد میں بھی شریک ہوئیں ۔ وہ یورپ میں مقیم سرائیکیوں کی عالمی تنظیم ;83658265737573; ;73788469827865847379786576; ;70798578686584737978;کی کلچرل سیکرٹری مقرر ہوئیں ۔ انہوں نے برطانیہ میں اپنے والد کے ہمراہ سرائیکی قومی حقوق کے لئے جدوجہد کی ۔ 

ڈاکٹر نخبہ تاج لنگاہ تعلیم مکمل کرنے کے بعد وطن واپس آگئیں ۔ اور تدریس کے پیشے سے وابستہ ہوئیں وہ ;70;cیونیورسٹی لاہور میں شعبہَ انگریزی سے منسلک ہوئیں ۔ بعد میں وہ اس شعبے کی سربراہ مقرر ہوئیں ، ڈاکٹر نخبہ تاج لنگاہ کے تعلیمی اور تدریسی اعزازات سرائیکی قوم کے لئے قابل فخر ہیں ۔ ڈاکٹر نخبہ تاج لنگاہ اپنے والد کی وفات (7 اپریل 2013ء )کے بعد پاکستان سرائیکی پارٹی کی صدر منتخب ہوئیں ۔ 

سیّد تصور حسین بخاری

سیّد تصور حسین بخاری خلیفۂ چہارم سیدنا حضرت علی رضی اﷲعنہ کی فاطمی اولاد سے ہیں۔ حضرت علی رضی اﷲعنہ نب�ئ آخر الزماں حضرت محمد ﷺ کے دستِ راست تھے۔ اُنہوں نے اِسلام کی اشاعت و حفاظت اور اسکی سرفرازی کے لیے بے مثال اور غیر معمولی خدمات انجام دیں۔
ملتان ڈویژن سے تعلق رکھنے والے مشاہیرِ سیاست یوسف رضا گیلانی، فخر اِمام، خاور علی شاہ، جاوید علی شاہ، محمد مختار نقوی،سید نسیم مہدی، مجاہد علی شاہ، دیوان عاشق بخاری، علی حسین گردیزی مرحوم، محمد قسور گردیزی مرحوم، وغیرہ سیّد ہیں۔ ملتان ڈویژن کے مختلف اضلاع میں انکی زرعی زمینیں ہیں۔ سیّد اسلاف مختلف زمانے میں ہجرت کر کے یہاں آئے۔
پاکستان سرائیکی پارٹی ضلع وہاڑی کے صدر سیّد تصور حسین بخاری یکم مارچ 1974ء کو چک مغل میں پیدا ہوئے۔ اُنکے والدِ محترم سیّد سکندر حسین بخاری یہاں کے ایک معزز زمیندار تھے۔ سید سکند ر حسین بخاری عزت و احترام کی زندگی گزارنے کے بعد 8مئی2017کو وفات پا گئے۔ سیّد تصور حسین بخاری نے گورنمنٹ ہائی سکول 211-wb تحصیل میلسی سے 1991ء میں میٹرک کا اِمتحان پاس کیا اور بی اے تک تعلیم گورنمنٹ ڈگری کالج میلسی سے حاصل کی۔ عملی زندگی میں آنے کے بعد میلسی شہر میں پراپرٹی کے کاروبار سے وابستہ ہوئے۔ وہ زمانۂ طالبِ علمی میں فٹ بال کے کھلاڑی تھے۔ بعد میں بھی اُنہوں نے کھیلوں میں دلچسپی قائم رکھی۔ سیّد تصور حسین بخاری رکبی ٹیم تحصیل میلسی کے صدر اور فرینڈز فٹ بال کلب میلسی کے صدرہیں۔ سیّد تصور حسین بخاری سماجی تنظیم ینک میں سوسائٹی کے چیئرمین بھی ہیں۔
سیّد تصور حسین بخاری نے 27 ستمبر 2013ء کو پاکستان سرائیکی پارٹی کی قائد محترمہ نخبہ تاج لنگاہ کا میلسی آمد پر استقبال کیا۔ اس موقع پر اُنہوں نے نخبہ تاج لنگاہ کے اعزاز میں چائے کی دعوت دی اور پی ایس پی میں شمولیت کا اعلان کیا۔
سیّد تصور حسین بخاری کو پاکستان سرائیکی پارٹی ضلع وہاڑی کا صدر مقرر کیا گیا۔ وہ پی ایس پی کے منشور کی اشاعت میں مصروفِ عمل ہوئے۔ سیّد تصور حسین بخاری نے مصنف کے ساتھ مل کر شہر میں کسانوں کے حقوق کے لیے تحریک شروع کی۔
سیّد تصور حسین بخاری کی دعوت پر مہر ممتاز احمد، میاں جاوید اقبال اور کچھ دوسرے افراد نے پاکستان سرائیکی پارٹی میں شمولیت اختیار کی۔ سیّد تصور حسین بخاری 5 جنوری 2016ء کو پراپرٹی ڈیلرز ایسوسی ایشن میلسی کے صدر جبکہ حاجی عبدالباسط اویسی جنرل سیکرٹری اور عبدالغفار جموں چیئرمین منتخب ہوئے۔ سیّد تصور حسین بخاری لوگوں کے ساتھ رابطے میں رہتے ہیں۔ اور ان کے دُکھ سُکھ میں شریک ہوتے ہیں۔ وہ اپنی توفیقات سے بڑھ کر نادار اور غریب افراد کی مدد کرتے ہیں۔

 

حاجی ملک جمیل احمد

حاجی ملک جمیل احمد ایک فعال اور متحر ک سیاسی کارکن ہیں اُنکا تعلق پاکستان پیپلز پارٹی سے ہے پاکستان پیپلز پارٹی سے اُن کی وابستگی غیر متزلز ل ہے۔ پیپلز پارٹی اقتدار میں ہو یا اقتدار سے باہر اس سے اُنہیں کوئی غرض نہیں وہ ہمہ وقت پیپلز پارٹی کا پر چم اُٹھائے ہوئے جماعت کے منشورکی اشاعت کے لیے مصروف عمل ہیں۔ میلسی میں وہ پیپلز پارٹی کے حوالے سے متعارف ہیں یقینا وہ شہر میں پیپلز پارٹی کی پہچان ہیں۔ حاجی ملک جمیل احمد 13مئی 1969ء کو میلسی پیدا ہوئے اُن کے والد محترم ملک خدا بخش پیپلز پارٹی کے اولین کارکنوں میں شامل تھے۔ ملک خدا بخش کی جماعت کے قائد ذولفقار علی بھٹو سے ملاقات ہوئی تھی۔ خانیوال سے رکن قومی اسمبلی چوہدری برکت اللہ کو ٹکٹ الاٹ کرنے کے موقع پر ذولفقار علی بھٹو نے ملک خدا بخش کے ساتھ مشاورت کی تھی۔ ملک خدا بخش ہمیشہ پی پی پی کے ساتھ رہے اور عزت و احترام کی زندگی گزارنے کے بعد 2002ء میں وفات پا گئے حاجی ملک جمیل احمد نے گورنمنٹ ہائی سکول خانیوال سے تعلیم حاصل کی جہاں سے اُنہوں نے 1989ء میں میٹرک کا امتحان پاس کیاحاجی ملک جمیل احمد نے گھر یلو ماحول میں سیا سی شعور پایا اور زمانہ طالب علمی (1981) میں پیپلز سٹوڈینٹ فیڈریشن ضلع خانیوال کے سکرٹری جنرل مقررہوئے۔ ملک جمیل احمد نے پاکستان ریلوے میں ملازمت اختیار کی مگر پرویز مشرف کے دورِ آمریت میں ملازمت سے سبکدوش کر دیے گئے ملک جمیل احمد 1982ء میں ضیاء الحق کے خلاف ایک مظاہرے میں شرکت کی پاداش میں گرفتار ہوئے اور 16دن جیل میں رہے ملک جمیل احمد 1990ء میں پیپلز یوتھ آرگنا ئز شن ضلع خانیوال کے صدر مقرر ہوئے ملک جمیل احمد 2009ء میں پاکستان پیپلز پارٹی میلسی کے آفس سیکر ٹر ی مقرر ہوئے۔ 2018ء میں اُنہیں پاکستان پیپلز پارٹی تحصیل میلسی کا انفارمیشن سکرٹر ی مقرر کیا گیا۔ حاجی جمیل احمد کا شمار اُن سیاسی کارکنوں میں ہوتا ہے جنہوں نے نظریاتی اور جماعتی وفاداری کے ذریعے سیاست کا وقار اور اعتبار قائم کیا ہے۔ ایک سچا سیاسی کارکن ذاتی مفادات پر قومی اور جما عتی مفادات کو ترجیح دیتا ہے ملک جمیل احمد اُسی نظریے پر یقین رکھتے ہیں ملک جمیل احمد اپنے والد کے ہمراہ جماعت کے بانی چیرمین ذولفقار علی بھٹو سے ملے تھے۔ وہ مختلف اوقات میں محترمہ بے نظیر بھٹو، آصف علی زرداری، بلاول بھٹو، سید یوسف رضا گیلا نی، مخدوم احمد محمود اور جماعت کے دوسرے راہنماؤں سے بھی ملے ہیں وہ جما عت کے تنظیمی اجلاسوں اور جلسوں میں شرکت کرتے ہیں۔ اس سلسلے میں وہ گڑھی خدا بخش، اسلام آباد، لاہور، ملتان، کوئٹہ، بہاولپور، پشاور، وہاڑی اور دوسرے مقامات پر گئے ہیں وہ ہر سال 4اپریل کو ذولفقار علی بھٹو کی برسی کے موقع پر گڑھی خدا بخش جاتے ہیں شاید ہی کوئی موقع ہو جمیل احمد پاکستان پیپلز پارٹی کے احتجاجی مظاہرے یا تقریب میں شرکت نہ کی ہو ملک جمیل احمد 18اکتوبر 2007کو کراچی میں اُس جلوس میں شریک تھے جس کی قیادت محترمہ بے نظیر بھٹو نے جان ہتھیلی پر رکھ کر کی تھی۔ ملک جمیل احمد نے 2015ء میں پی پی پی کے ٹکٹ پر وارڈ نمبر 9 میونسپل کمیٹی میلسی کا الیکشن لڑا تا ہم کامیاب نہیں ہوئے ملک جمیل احمد سمجھتے ہیں کہ پاکستان شدید سیاسی بحران سے دو چار ہے اور بلاول بھٹو ملک کو اس بحران سے نکال سکتے ہیں۔

محمد عمران خان کھچی چیرمین یونین کونسل جہان پور 

کھچی خاندان کا شمار تحصیل میلسی کے بڑے خاندانوں میں ہوتا ہے ۔ یہ خاندان تحصیل میلسی کے مواضعات فدا۔ ڈھوڈاں ۔ شیر گڑھ۔ سرگانہ ۔ ترکی ۔ شتاب گڑھ ۔ علی واہ ۔ عمر کھچی ۔ ڈھمکی اور حلیم کھچی میں زرعی زمینوں کا مالک ہے کھچی خاندان کے بعض افراد قومی اسمبلی اور بعض دوسرے افراد پنجاب اسمبلی کے رکن رہے ہیں ۔ محمد ممتاز خان کھچی کا یہ منفرد اعزاز ہے کہ وہ 4مرتبہ مسلسل ضلع کونسل وہاڑی کے بلا مقابلہ چیرمین منتحب ہوئے ۔ محمد ممتاز خان کھچی 2001تا2005ضلع وہاڑی کے ناظم اعلیٰ بھی رہے۔ محمد ممتاز خان کھچی کے بڑے بھائی بھی محمد نواز عرف دلاور خان کھچی 5مرتبہ قومی اسمبلی کے رکن منتخب ہوئے ۔ اس خاندان کے معروف زمیندار محمد عمران خان کھچی چیرمین یونین کونسل جہانپور 1984میں پیدا ہوئے ۔ اُنکے والد صاحب خان کھچی ایک امن پسند زمیندار تھے ۔وہ ڈھمکی اور حلیم کھچی میں زرعی زمینوں کے مالک تھے ۔ صاحب خان کھچی مارچ 2006میں وفات پا گئے ۔ محمد عمران خان کھچی کے داد ا دلاور خان کھچی موضع ڈھمکی کے نمبردار تھے ۔ محمد عمران خان کھچی نے میٹرک تک تعلیم ملتان پبلک سکول سے حاصل کی بعد ازاں وہ معروف تعلیمی ادارے گورئمنٹ ایمرسن کالج ملتان میں داخل ہوئے یہاں سے اُنہوں نے 2009میں بی اے کا امتحان پاس کیا۔ محمد عمران خان کھچی نے عملی زندگی میں آنے کے بعد زراعت کا آبائی پیشہ اختیار کیا ۔ محمد عمران خان کھچی لوگوں کے دکھ سکھ میں شریک ہونے لگے جس کی وجہ سے اُنہیں بہت مقبولیت ملی ۔ محمد عمران خان کھچی کچھ عرصہ قبل محمد ممتاز خان کھچی ، محمد اورنگ زیب خان کھچی اور محمد جہاں زیب خان کھچی کے ہمراہ پاکستان تحریک انصاف میں شامل ہوئے ۔ محمد عمران خان کھچی میلسی ۔ ملتان اور وہاڑی میں پی ۔ٹی ۔ آئی کے جلسوں میں شریک ہوئے ہیں ۔
30۔اکتوبر 2015کو محمد عمران خان کھچی پی ۔ ٹی ۔آئی کے ٹکٹ پر سردار خان کھچی کے مقابلے میں یونین کونسل جہان پور تحصیل میلسی کے چیرمین مقرر ہوئے ۔ اس موقع پر اُن کے ساتھ ملک محمد یوسف ارائیں وائس چیرمین منتحب ہوئے ۔ محمد عمران خان کھچی اپنے ڈیرے میں بیٹھ کر کوگوں کے مسائل سنتے ہیں اور اُن کے حل کے لیے ہر ممکن کوشش کرتے ہیں ۔

میاں منیر احمد چوغطہ

پاکستان پیپلز پارٹی لیبر بیورو تحصیل میلسی کے صدر میاں منیر احمد چوغطہ 1958ء میں میلسی میں پیدا ہوئے۔ اُن کے والد محترم میاں محمد حسین خدمتِ انسانی پر یقین رکھتے تھے۔ وہ سماجی خدمات میں مصروف عمل رہے اور عزت و احترام کی زندگی گزارنے کے بعد 1997ء میں وفات پا گئے۔ میاں منیر احمد چوغطہ نے تاریخی درس گاہ گورنمنٹ ہائی سکول میلسی سے تعلیم حاصل کی جہاں سے اُنہوں نے میٹرک کا امتحان پاس کیا۔ عملی زندگی میں آنے کے بعد وہ اپنے بھائی حاجی بشیر احمد چوغطہ کے ہمراہ کاروبار میں شریک ہوئے۔چوغطہ برادری نے محنت کے باعث کاروبار میں بہت ترقی کی اور شہر میں تجارتی او رسماجی ساکھ بنائی۔ میاں منیر احمد چوغطہ 1986ء میں محترمہ بے نظیر بھٹو کی خود ساختہ جلاوطنی کے بعد وطن واپسی کے موقع پر پاکستان پیپلز پارٹی میں شامل ہوئے اور تا حال اسی جماعت کا پر چم اُتھائے ہوئے ہیں۔ 1998ء کے بلدیاتی انتخابات میں میاں منیر احمد چوغطہ کے بھائی حاجی بشیر احمد چوغطہ میونسپل کمیٹی میلسی کے رکن منتخب ہوئے۔ اس موقع پر سردار محمد خان کھچی (بعد ازاں ایم پی اے) میونسپل کمیٹی میلسی کے چیرمین منتخب ہوئے۔ حاجی بشیر احمد چوغطہ 2005ء میں یونین کونسل میلسی غربی کے جنرل کونسلر منتخب ہوئے۔
میاں منیر احمد چوغطہ پاکستان پیپلز پارٹی کے تنظیمی اجلاس اور جلوسوں میں شرکت کرتے رہے ہیں۔وہ اس سلسے میں گڑھی خدا بخش، وہاڑی، ملتان، لاہور، اور اسلام آباد جاتے رہے ہیں۔ 1990ء میں اُنہوں نے ایک وفد کے ہمراہ اسلام آباد میں پارٹی کی قائد وزیر اعظم پاکستان محترمہ بے نظیر بھٹو سے ملاقات کی۔ میاں منیر احمد چوغطہ لاہور بلاول بھٹو سے بھی ملے ہیں۔وہ ملتان میں گیلانی ہاؤس میں سابق وزیر اعظم سید یوسف رضا گیلانی کی زیر صدارت کارکنوں کے کنونشن میں بھی شرکت کرتے رہے ہیں۔