بیرسٹر تاج محمد خان لنگاہ

  نے کہا TW EMERSON انگریزی زبان کے مشہور شاعر

 ا ” قومیں دولت سے نہیں بلکہ ان افراد سے عظیم اور مضبوط ہوتی ہیں جو مسیحائی غیرت و عزت کےموقف پر بہادری کے ساتھ ڈٹ جاتے ہیں اور پھر ہر قسم کے مسائل اور مشکلات کا مردانہ وار مقابلہ کرتے ہیں“ ۔ایسے ہی ایک فرد سرائیکی قوم کے نجات دہندہ بیرسٹرتاج محمد خان لنگاہ تھے۔وہ فقط صوبہ سرائیکستان تحریک کے قائد ہی نہیں بلکہ وہ اپنی اعلیٰ تعلیم‘طویل سیاسی تجربے‘اصول پسندی‘ محنت ِ شاقہ‘ دیانت داری اور اخلاقی برتری کی بدولت معاصر سیاستدانوں میں ممتاز بھی تھے۔ تاج محمد خان لنگاہ نے اپنی تاریخی جدوجہد کے دوران محترمہ بے نظیر بھٹو‘ آصف علی زر داری، سیدیوسف رضا گیلانی،جی ایم سید، الطاف حسین، عطاء اللہ مینگل،اجمل خان خٹک، میر بلخ شیر مزاری،علامہ ساجد نقوی، مولانا فضل الرحمن، ڈاکٹر قادر مگسی، ممتاز علی بھٹو اور دوسرے سیاسی رہنماؤں کو اس بات پر قائل کیا کہ پاکستان کے پانچویں مجوزہ صوبہ سرائیکستان کا قیام ملک و قوم کے مفاد میں ہے۔ چنانچہ مختلف ادوار میں مندرجہ بالا رہنماؤں اور زندگی کے مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والے بے شمار افراد نے سرائیکی صوبے کی حمایت میں بیانات دیے۔ ایک مرتبہ عدالت میں آصف علی زرداری نے جبکہ وہ ہتھکڑیوں میں جکڑے ہوئے تھے تاج لنگاہ کو دیکھ کر”جئے سرائیکی“ کا نعرہ لگایا۔”پنجاب کا مقدمہ“لکھنے والے دانشورحنیف رامے نے بھی اپنی زندگی کے آخری دنوں میں صوبہ سرائیکستان کے قیام کی حمایت کی تھی۔مہاتماگاندھی‘ قائداعظم‘جی ایم سید اور باچا خان کی طرح تاج لنگاہ بھی عدم تشدد کے داعی ہیں انہوں نے ہمیشہ امن سے محبت اور جنگ سے نفرت کی۔ تاج لنگاہ نے پاکستان کے ہمسایہ ممالک کے ساتھ دوستی کی اہمیت کا پرچا ر کیا۔ وہ جب دوستی اور امن کے لیے سرائیکی عالمی کانفرنس میں شرکت کے لیے دہلی گئے تو انہیں ملک دشمن اور ہندوستان کا ایجنٹ کہا گیاتاہم وہ ناقدین کی پروا کیے بغیر ملک و قوم اور انسانیت کی خدمت میں مصروف ِعمل رہے۔ تاج لنگاہ ضمیر کے قیدی ہیں۔ صوبہ سرائیکستان کا قیام‘ غربت کا خاتمہ‘ قومی حاکمیت (SOVEREIGNTY)‘آزاد خارجہ پالیسی اور سماجی اور معاشی انصاف کا حصول انکی زندگی کا نصب العین ہے۔ تاج محمد خان لنگا ہ کی ولادت 8 اگست 1939 کو بھیئیں نامی گاؤں میں ہوئی یہ گاؤں تحصیل کہروڑ پکا میں واقع ہے تاج محمد خان لنگاہ کے والد دوست محمد خان لنگا ہ یہا ں کے ایک معروف اور معزززمیندار تھے۔ تاج لنگاہ نے 1959 ء میں گورنمنٹ کالج لاہور سے بی ایس سی کا امتحان پاس کیا اور پنجاب یونیورسٹی لا کالج میں داخلہ لے لیا۔ بعدمیں انکے والد نے انکی خواہش پر انہیں قانون کی تعلیم کے لیے لندن بھیج دیا اس زمانے میں کسی متوسط زمیندار کے بیٹے کے لیے تعلیم کے لیے لندن جانا بہت حیرت ناک تھا۔ بیرسٹر تاج محمد خان لنگاہ لندن میں مشہور تعلیمی ادارے LINCOLN INN میں داخل ہوئے یہ وہی ادارہ ہے جہاں سے قائداعظم محمد علی جناح نے بھی قانون کی تعلیم حاصل کی تھی۔ بیرسٹر تاج محمد خان لنگاہ نے 1963ء میں بار ایٹ لا کی سند حاصل کی بعدازاں انہوں نے LUXEMBURG INSTITUTION OF COMPARATIVE LAW & ECONOMICS سے COMPARATIVE LAW & ECONOMICSکی تعلیم مکمل کی اور THE ACADEMY OF INTERNATIONAL LAW THE HAGUE(HOLLAND) سے INTERNATIONAL LAW کا ڈپلومہ حاصل کیا۔ قاعدے کے مطابق شاگرد بیرسٹرر ہے۔1963 ء میں بیرسٹر تاج محمد خان لنگاہ وطن واپس آگئے مئی 1963ء میں ملتان ڈسٹرکٹ بارایسوسی ایشن اور ہائی کوٹ ملتان کے رکن بنے۔ایوب خان کے جابرانہ سیاسی ماحول کے باعث تاج محمد خان لنگاہ دوبارہ برطانیہ چلے گئے

وہ تعلیمی اور پیشہ وارانہ مسابقت سے حکومتِ برطانیہ میں ہیلتھ ہاؤسنگ پلاننگ اور لوکل گورنمنٹ کی وزارت میں اسسٹنٹ لیگل ایڈوائزر مقرر ہوئے اس عہدے کی بدولت انہوں نے پارلیمنٹ کے بل اور دوسرے قانونی مسودے تحریر کیے۔ تاج لنگاہ نے امورِ قانون سازی میں بعض معاملات میں وزارت کومشورے دیے اور بعض معاملات میں وزیر کی طرف سے اپیلوں کی سماعت کی وکالت کے دوران انہیں برطانیہ میں ہاؤس آف لارڈ ہیگ میں سینئر کے ہمراہ انٹرنیشنل کورٹ آف جسٹس اور سوئزر لینڈ میں انٹرنیشنل آربی ٹریشن عدالت میں پیش ہونے کا موقع ملا نوجوانی میں یورپی ممالک کے دوروں اور عالمی سطح کی کانفرنسوں میں شرکت کی بدولت تاج محمد خان لنگاہ کے مشاہدے اور تجربے اور سوچ میں بہت و سعت پیداہوئی۔ 1966 ء میں ذوالفقار علی بھٹو ایوب خان کی حکومت میں وزارت کے عہدے سے مستعفی ہو ئے بعد میں انہوں نے برطانیہ فرانس،جرمنی اورسوئزرلینڈ کے دورے کیے۔ تاج محمد خان لنگاہ نے ترقی پسند نوجوانوں کے ساتھ مل کر ذوالفقار علی بھٹو کے اعزاز میں لندن میں استقبالیہ دیا۔ ذوالفقار علی بھٹو نے استقبالیے کے منتظمین کو اپنے ہوٹل میں مدعو کیا۔ انہوں نے بتایا کہ وہ برطانیہ میں لیبر پارٹی اور فرانس جرمنی سویڈن اور نارو ے میں قائم سو شلسٹ و سوشل ڈیمو کر ٹیک جماعتوں کی طرز پر پاکستان میں ایک سیاسی جماعت بنانا چاہتے ہیں۔ انہوں نے ملک کی خدمت کے لیے تعلیم یافتہ نوجوانوں کو وطن واپس آ نے کی اپیل کی۔ تاج محمد لنگاہ کو نومبر 1967 ء میں PPP کے تاسیسی اجلاس میں شرکت کا دعوت نامہ ملا چنانچہ وہ اپنے تمام مفادات کی قربانی دیکر دسمبر 1967 ء میں پاکستان آ گئے اور ذوالفقار علی بھٹو کی قیادت میں سیاست میں سرگرم ہوئے اسی زمانے میں تاج لنگاہ نے لاہور میں وکالت کا آغازبھی کیا۔ذوالفقار علی بھٹو ایوب خان کی مخالفت اور بعدازاں اپنے سوشلسٹ پروگرام کی بدولت پنجاب اور سندھ میں بہت مقبول ہوئے۔ تاج لنگاہ ذوالفقار علی بھٹو کے ہمراہ رہے۔تاج لنگاہ نے پاکستان پیپلز پارٹی کی تنظیم سازی میں کلیدی کردار ادا کیا17، 18، 19 جنوری 1968 ء کو انہوں نے ملتان اور دوسرے مقامات پر بھٹو کے جلسوں کا انتظام کیا۔ تاج لنگا نے اپنی جماعت (پی پی پی) سے بہاولپور اور ملتان ڈویژن پر مشتمل نیا صوبہ بنانے کا مطالبہ کیا۔1970 ء میں بیرسٹر تاج محمد خان لنگاہ نے معروف مسلم لیگی رہنما اور سابق وزیرِ اعلیٰ پنجاب میاں ممتاز محمد خان دولتانہ کے مقابلے میں الیکشن لڑا۔ تاج لنگاہ نے انتخابی مہم کے دوران ممتاز دولتانہ کے چھکے چھڑا دیے‘ تاہم کامیاب نہ ہوسکے۔ بھٹو نے تاج لنگاہ کی کارکردگی کو سراہا اور جنوری 1971 ء میں انہیں پاکستان پیپلز پارٹی کی سنٹرل کمیٹی کارکن نامزد کر دیا 20 دسمبر 1971 ء کو پیپلز پارٹی برسراقتدار آئی تو شیخ رشید کے وفاقی وزیربننے پر تاج لنگاہ پی پی پی پنجاب کے قائم مقام صدرمقررہوئے پارٹی کی تنطیمِ نوپروہ پی پی پی پنجاب کے ڈپٹی سیکرٹری جنرل اور سنٹرل کمیٹی کے رکن منتخب ہوئے۔ مئی 1974 ء میں جب ہندوستان نے ایٹمی تجربہ کیا تو انہوں نے ایٹم بم کے خلاف اور پاکستان کے حق میں سعودی عرب اور سوڈان میں مہم چلائی تاج لنگاہ نے ستمبر1974 ء میں وزیرِ اعظم ذوالفقار علی بھٹو کے ہمراہ سویٹ یونین اور ایران کے دورے کیے اس سفر میں محترمہ بے نظیر بھٹو بھی شریک تھیں اسی موقع پر تاج لنگاہ کی پہلی ملاقات بے نظیر بھٹو سے ہوئی۔1975 ء میں ملتان میں کل پاکستان علمی وادبی سرائیکی کانفرنس منعقد ہوئی جس کے افتتاحی اجلاس کی صدارت بیر سٹر تاج محمد خان لنگاہ نے کی۔ اس موقع پر بہاولپور صوبہ محاذاور تحریک بحالیء صوبہ بہاولپور کے رہنماؤں مامون الرشید، برگیڈیر نذیر علی شاہ‘ حاجی سیف اللہ خان‘ نذیر علی شاہ اور افضل مسعود نے سرائیکی صوبے کے قیام کی قراد داد پر اتفاق کیا اور بہاولپور صوبہ تحریک کو ابھرتی ہوئی سرائیکی قومی تحریک میں ضم کر دیا۔ 8 اپریل 1977 ء کو بیرسٹر تاج محمد خان لنگاہ نے پاکستان پیپلز پارٹی سے  علیحدگی اختیار کر لی۔ جس پر انہیں گرفتار کر لیا

گیا 5 جولائی 1977 کے بعد جب سیاسی اسیر رہا ہوئے تو تاج لنگاہ کی رہائی بھی عمل میں آئی۔ انہوں نے سرائیکی وسیب میں بنیادی انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں اور نا انصافیوں کے خاتمے کیلئے قاری محمد نورالحق قریشی اوردوسرے ساتھیوں کے مشور ے سے لاہور میں سرائیکی لایر زفورم کے نام سے ایک تنظیم قائم کی اور خود اس کے اولین صدر مقرر ہوئے سردارمحمد لطیف خان کھوسہ اور شمیم عباس بخاری اس تنظیم کے علی ا لترتیب سینئر نائب صدر اور جنرل سیکرٹری مقرر ہوئے۔ قاری نور الحق قریشی نے سرائیکی صوبہ محاذ کا پہلا اجلاس ملتان میں 5 اپریل 1984 کو طلب کیا۔ 1987 میں تاج لنگاہ سرائیکی صوبہ محاذ کے صدر منتخب ہوئے۔ 6 مارچ 1989 کو ملتان میں بیرسٹر تاج محمد خان لنگاہ کے دفتر میں سرائیکی صوبہ محاذ کا اجلاس بلایا گیا اور محاذ کو باقاعدہ سیاسی جماعت میں تبدیل کرنے کا فیصلہ کیا گیاچنانچہ 7 اپریل 1989کو ہوشیانہ ہوٹیل ملتان میں پاکستان سرائیکی پارٹی کا قیام عمل میں آیا تاسیسی اجلاس میں تاج محمد خان لنگاہ‘سرادر رشیداحمد خان قیصرانی‘ افضل مسعودخان‘اسداللہ خان لنگاہ‘اسلم رسول پوری‘منصور کریم سیال‘مظفر حسین خان مگسی‘عبدالرؤف ساسولی‘ محمد اکبر انصاری‘محمد علی مہدی گردیزی‘علی نواز گردیزی‘فاروق انجم سانگی‘رانا بشیر نون ایڈوکیٹ‘محمد حیات بھٹہ‘ایم اے بھٹہ‘‘سردار اللہ بخش دستی‘شفقت میتلا‘اظہر شاہ بخاری‘امیر بخش مستوئی‘لائق خان جوئیہ‘ مقصود احمد خان لنگاہ‘حکیم حیدر اقبال‘سردار جہانگیر خان‘ڈاکٹر مشتاق چاولہ‘خالد محمود ڈاہااورطارق سرائیکوسمیت 200 افراد نے شرکت کی اجلاس میں تاج محمد خان لنگاہ صدر‘ افضل مسعود خان اور رشید خان قیصرانی نائب صدر‘ سید علی نواز گردیزی چیئر مین پالیسی پلاننگ کمشن اسلم رسول پورہ کلچرل سیکرٹری اور منصور کریم سیال ڈپٹی سیکرٹری جنرل منتخب ہوئے۔ بعدازاں قاری نورالحق قریشی پارٹی کے سینئر نائب صدر منتخب ہوئے۔ 17 جنوری 1992 ء کو تاج لنگاہ نے جی ایم سید کی سالگرہ کے سلسلے میں نشتر پارک کراچی میں منعقد جلسے سے خطاب کیا۔ تاج لنگاہ نے اپنے خطاب میں سرائیکی صوبے کے قیام اور مظلوم قوموں کے حقوق کا مطالبہ کیا اس جلسے میں جی ایم سید نے نام نہاد سندھو دیش کی آزادی کا اعلان کیا 18 جنوری 1992کو جی ایم سید کے خلاف بغاوت کا مقدمہ درج کر دیا گیا جس میں تاج لنگاہ اور کچھ دوسرے افراد کے نام بھی شامل کیے گئے 1992 ء میں بیرسٹر تاج لنگاہ سرائیکی انٹرنیشنل کانفرنس میں شرکت کے لیے دہلی گئے۔ اس سال کے آخر میں پاکستان سرائیکی پارٹی نے ملتان میں سرائیکی عالمی کانفرنس منعقد کی۔ اپریل 1993 میں پاکستان سرائیکی پارٹی کے چیف آرگنائزر رانا رب نواز نون نے نوقابل واہ میں جماعت کا سالانہ جلسہ منعقد کیا اس جلسے میں تاج لنگاہ نے سرائیکی صوبے کا مطالبہ دہرایا علاوہ ازیں اس موقع پر مجوزہ صوبہ سرائیکستان کا نقشہ بھی تقسیم کیا گیا اسی ماہ صدر غلام اسحق خان نے قومی اسمبلی تحلیل کر دی اور نئے انتخابات کے لیے میر بلخ شیر مزاری کو نگران وزیرِاعظم مقرر کیا تاج لنگاہ نے دیرینہ تعلقات کی بنا پر میربلخ شیر مزاری کے اعزاز میں ملتان سرورسز کلب میں ایک استقبالیہ دیا۔ پاکستان سرائیکی پارٹی قوم پرستوں کے سیاسی اتحاد یونائٹڈنیشنل الائنس (UNA) کی رکن بنی۔ممتاز علی بھٹو UNA کے چیئر مین تھے ممتاز علی بھٹو ملتان‘بہاولپوراور کہروڑ پکا آئے UNA کے رہنماؤں کی سرائیکی وسیب میں آمد کی وجہ سے سرائیکی صوبہ تحریک کو بہت تقویت ملی۔تاج لنگاہ سرائیکی قومی حقوق کے لیے سرگرم رہے انہوں نے وسیب کے دورے کیے اور عوام میں شعور بیدار کیا۔1996میں پاکستان سرائیکی پارٹی پی پی پی حکومت کے مخالف 14 جماعتی سیاسی اتحاد کا حصہ بنی اسی سال تاج لنگاہ نے میلسی اور کہروڑ پکا میں کاٹن ریلیوں کی قیادت کی۔پاکستان سرائیکی پارٹی نے 1997 کے انتخابات کا بائیکاٹ کیا۔15 اگست 1997 کو تاج لنگاہ نے دہلی میں سرائیکی عالمی کانفرنس میں شرکت کی اگست 1998 میں اجمل خان خٹک ملتان آئے اس موقع پر بیرسٹر تاج محمد خان لنگاہ‘عبدالمجید خان کانجو‘حمید اصغر شاہین اور مرزا اعجاز پر مشتمل سرائیکی رہبر کمیٹی کا قیام عمل میں آیااجمل خٹک کے رابطوں کے نتیجے میں سندھ‘سرائیکستان‘پختونخواہ اور بلوچستان کے 200 قوم پرست رہنما اسلام آباد میں یکم اور دواکتوبر کو پونم کے تاسیسی اجلاسوں میں شریک ہوئے ان میں اجمل خٹک،تاج لنگاہ،عطاء اللہ مینگل،سید امداد حسین شاہ،ممتاز علی بھٹو،محمود خان اچکزئی،غلام احمد بلور،ڈاکٹر قادر مگسی،ڈاکٹر عبدالحئی،قاضی انور اور لطیف آفریدی نمایاں تھے افتتاحی اجلاس میں مخدوم امین فہیم اور نثار کھوڑد بھی شریک ہوئے سرائیکی رہنماؤں میں تاج لنگاہ کے علاوہ عبدالمجید خان کانجو،حمید اصغر شاہین،میاں منصور کریم سیال،ایم اے بھٹہ،الحاج سید محمد علی،مہدی گردیزی،احمد نواز سومرو،شفقت میتلا،محمدممتازخان ڈاہر(راقم الحروف)،غلام رسول گورمانی،منظور بوہڑ وغیر ہ شامل تھے۔تاج لنگاہ نے سندھی بلوچ اور پختون رہنماؤں کے ساتھ ملکر پونم کا منشور مرتب کیا جسے سندھ‘سرائیکستان‘پختونخواہ اور بلوچستان کی کم و بیش30 جماعتوں کے 200 افراد نے اختتامی اجلاس میں منظور کیا پونم کے منشور کے اہم نکات میں مندرجہ ذیل مطالبات شامل تھے۔

۔ 1سرائیکستان کو صوبے کا درجہ دیا جائے۔
۔2سندھی،سرائیکی،پشتواور بلوچی کو قومی زبانوں کا درجہ دیا جائے۔
3۔دفاع،خارجہ،کرنسی اور مواصلات کے سوا تمام محمکے صوبوں کو دیے جائیں اور اختیارات کے متعلق کنکرینٹ لسٹ ختم کی جائے۔چارصوبوں (سند ھ سرائیکستان پختونخواہ اور بلوچستان میں)پونم کی صوبائی تنظیمیں قائم کی گئیں۔ 2000 میں پاکستان سرائیکی پارٹی نے چولستان میں خشک سالی سے متاثرہ افراد کو امداد ی سا مان فراہم کیا2002 میں پاکستا ن سرائیکی پارٹی نے اپنے اصولوں سے انحراف کر تے ہو ئے مرکزی کمیٹی کے فیصلے کے تحت جنر ل پر ویز مشر ف کے صدار تی ریفرنڈم کی مشروط حمایت کی اسی سال بیرسٹر تاج محمد خان لنگاہ لندن میں محترمہ بینظیر بھٹو کے ساتھ انتخاب میں سیٹ ایڈجسٹمنٹ کے لیے بات کی انہو ں نے قائم علی شاہ کی سربرا ہی ایک تین رکنی کمیٹی قائم کی مگر بے نظیر بھٹو کی واضح ہدایت کے باوجود اس کمیٹی نے سیٹ ایڈ جسٹمنٹ نہیں کی پاکستان سرائیکی پارٹی نے 2002کے انتخابات میں فاروق لغاری کے ساتھ انتخابی اتحاد بنایامگر پاکستان سرائیکی پارٹی انتخابات میں ناکام رہی 2003 میں تاج لنگاہ اعتزاز احسن کی خالی کردہ نشست پر یزمان سے اے آر ڈی کے امیدوار تھے مگر پیپلزپارٹی اور مسلم لیگ ن کی عدم دلچسپی کے باعث کامیاب نہ ہوئے وہ 2003 میں لندن گئے جہاں ماہ ستمبر میں سرائیکی انٹر نشنل کانفرنس منقعد ہوئی جس میں تاج لنگاہ اور سندھی پشتو‘بلوچ‘پنجابی اور اردو بولنے والے دانشوارں نے شر کت کی محترمہ بے نظیر بھٹو‘ عطاء اللہ‘ مینگل‘ غلام مصطفے جتوئی اور پاکستان و بیرون پاکستان مقیم بہت سے لوگوں نے اس کانفرنس میں ای میل کے ذریعے پیغامات بھیجے اکتوبر2003 میں تاج لنگاہ نے میلسی اور کہروڑپکامیں کاٹن ریلیوں کی قیادت کی اور اسی ماہ بہاولپومیں پی ایس پی کے زیرِ اہتمام بہاولپور میں آبی وسائل پرایک سیمنار سے خطاب کیا10 دسمبر کو پاکستان سرائیکی پارٹی نے ملتان میں سرائیکی انٹرنیشنل کانفر نس منقعد کی جس میں ممتاز دانشوروں اور محققین نے مقالے پڑھے محترمہ بے نظیر بھٹو نے کانفرنس کو ایک ای میل پیغام بھیجا۔اپریل 2004میں ملتان آرٹس کونسل میں پاکستان کا سا لانہ جلسہ منعقد ہواجس میں سرائیکی پارٹی کے کارکنوں کے علاوہ رکن قومی اسمبلی میاں ریاض پیر زادہ، ممتاز عالم گیلانی رکن صوبی اسمبلی جاوید صدیقی اور سابق وفاقی وزیر ملک مختار اعوان نے بھی شرکت کی سال 2004میں تاج لنگاہ نے سرائیکی قومی حقوق کے لئے عوامی رابطے جاری رکھے مئی 2004میں لندن میں انٹرنیشنل کشمیر کانفرنس منعقد ہوئی جس میں بے نظیر بھٹو اور فاروق عبداللہ مہمانان ِخصوصی تھے اس کانفرنس میں تاج لنگاہ کو بھی شرکت کی دعو ت دی گئی انہوں نے اس کانفرنس میں جو مقالہ پڑھا اس کی بہت پذیرائی ہو ئی لند ن میں قیام کے دوران تا ج لنگا ہ نے میاں نواز شریف اور میا ں شہبازشریف سے ملاقات کی جس کی   وجہ سے سرائیکی حقوق سے متعلق مسلم لیگ کے

نقطہ ء نظر میں تبدیلی آئی اورنفیس احمد انصاری مولوی سلطان عالم رفیق رجوانہ اور دوسرے مسلم لیگی رہنماؤں کے ساتھ تاج لنگاہ کے رابطے بڑھے پاکستان سرائیکی پارٹی نے ملتان اور دوسرے مقامات پر مظاہرے کیے 2 جون2004 کو نواب مظفرخان شہیدکی قبرپر پھولوں کی چادر چڑھائی اسی ماہ پاکستان سرا ئیکی پارٹی نے اسلام آباد میں قو می اسمبلی کے سامنے غیر منصفانہ بجٹ کے خلاف ایک احتجا جی مظاہر ہ کیاجس میں کچھ دیر کے لیے اراکین قو می اسمبلی عبدالقیوم جتوئی لیاقت بلوچ اور رکن صوبائی اسمبلی نفیس احمد انصاری بھی شریک ہوے یہ مظاہرہ بہت ہی دلچسپ تھا جس وقت تاج لنگاہ مظاہرہ سے خطاب کررہے تھے اسی وقت قو می اسمبلی میں متعدد اراکین تاج لنگاہ کی حمایت میں انکاخط لہراکر سرائیکی حقوق کی تائید کر رہے تھے 2005 میں پاکستان سرائیکی پارٹی نے غیر معمولی سرگرمیوں کا مظاہر ہ کیا تاج لنگاہ نے کارکنوں کو ہدایت کی وہ پارٹی کے سالانہ جلسے کے لیے عوام سے رابطہ کریں اس مقصد کے لیے انہوں نے خود بھی وسیع پیمانے پر رابطے کیے وہاڑی‘لودھراں‘ڈیرہ غازی خان اور دوسرے مقامات ورکرز کنونشن منعقد ہوئے 26 فروری 2005 کو بیرسٹر تاج محمد خان لنگاہ نے وہاڑی بارسے خطاب کیا اور وکلاء سے سرائیکی صوبہ تحریک کے لیے تعاون کی درخواست کی۔8 اپریل 2005 کو بیرسٹر تاج محمد خان لنگاہ نے ملتان قلعے پر پاکستان سرائیکی پارٹی کے سالانہ جلسے سے خطاب کیا۔9 اپریل 2005 کو ”سرائیکی صوبہ کی ضرورت کیوں؟“کے عنوان پرپاکستان سرائیکی پارٹی نے سند باد ہوٹیل ملتان میں ایک مذاکرے کا اہتمام کیا جس میں تاج محمد لنگاہ اور دوسرے مقررین نے صوبہ سرائیکستان کو وقت کی اہم ضرورت قراردیا اس مذاکرے میں پیپلز پارٹی کے رہنماء ملک مختار اعوان نے بھی خطاب کیا۔6 مئی 2005 کو رحیم یار خان کے ایک ریستوران میں سرائیکی رابطہ کونسل کا اجلاس ہوا جس کا اہتمام ارشاد امین اور سیدحیدر جاویدنے کیا تھا۔پاکستان سرائیکی پارٹی کے رہنما محمد اسد اللہ خان لنگاہ‘ تاج گوپانگ‘ممتاز ڈاہر‘انور ڈاہر‘علامہ اقبال وسیم‘شفقت میتلا اور قاضی وحید اس میں شریک ہوئے دوسرے روز یہ رہنماء رحیم یار خان ڈسٹرکٹ بار روم میں قومی ورثوں کی حفاظت کے سلسلے میں منعقدہ ایک سمینار میں شریک ہوئے بعد ازاں انہوں نے پتن منارہ کانفرنس میں شرکت کی۔ 2جون 2005 ء کو بیرسٹر تاج محمد خان لنگاہ نے نواب مظفر حسین شہید کی برسی کے موقع پر ملتان قلعے پر ایک اجتجاحی مظاہرے سے خطاب کیا جس میں میاں منصور کریم، ممتاز ڈاہر، تاج گوپانگ، عبدالستار تھئیم احمد نواز سومرو، منصور کریم میاں، اعجاز راں،خضر حیات خان‘ حکیم حیدر اقبال اور جاوید چنڑ وغیرہ نے شرکت کی۔ 3 جون 2005 ء کو بیرسٹر تاج محمد خان لنگاہ نے اسلام آباد میں سرائیکی دشمن بجٹ کے خلاف احتجاجی مظاہرے کی قیادت کی اس مظاہرے میں 60 کے قریب رہنما اور کارکن شامل تھے۔ جن میں میاں منصور کریم سیال، حسن رضا بخاری، اسد اللہ خان لنگاہ، عبدالستار تھیئم، ممتاز ڈاہر، احمد نواز سومرو، عمر حیات خان لنگاہ، حکیم حیدر اقبال، قاصد عباس، جاویدچنڑ،ظفر ڈھڈی، ملک اعجاز راں، غضنفر عباس راں، علامہ اقبال وسیم، اشرف خان لنگاہ، ہارون خان، منور بلوچ،اور مظہر مہار نمایا ں تھے اراکینِ قومی اسمبلی سردار بہادر سلطان سیہڑاور عبدالقیوم خان جتوئی نے مظاہرین سے اظہارِ یکجہتی کیا 16 جون 2005 ء کو تاج محمد خان لنگاہ نے ہالیڈے ان ملتان میں ”پاکستان کی سیاسی وا قصادی صورتِ حال“کے موضوع پر منعقدہ سمینار کی صدارت کی جس سے پاکستان سرائیکی پارٹی کے رہنماؤں کے علاوہ ملک مختار اعوان، سہیل جاوید، علی رضاگردیزی، نذر بلوچ اور اقبال کامریڈ نے بھی خطاب کیا۔ 9 ستمبر 2005 ء کو پاکستان سرائیکی پارٹی نے مشرف حکومت کے خلاف چوک کچہری ملتان میں ایک اجتحاجی مظاہرہ کیا۔ جس میں مصنف، حکیم حیدر اقبال، محمد ظفر خان ڈھڈی، مجاہد بلوچ، اور عبدالرزاق گرفتار کر لیے گے تاج لنگاہ اور اسد اللہ خان لنگاہ نے اسیر کارکنوں سے ملاقات کی اور انکی جدوجہد کو سراہا، 25 ستمبر2005 کو تاج محمد خان لنگاہ نے تونسہ میں ورکرز کنونش سے خطاب کیا۔ وہ رشید خان قیصرانی کی طرف سے دیے گئے استقبالیے میں شریک ہوئے۔ 26 ستمبر کو تاج لنگاہ نے تونسہ بار ایسوسی ایشن سے خطاب کیا۔ اس موقع پر وکلاء نے ایک متفقہ قرار داد کے ذریعے سرائیکی صوبے کے قیام کا مطالبہ کیا۔ اسی روز تاج محمد خان لنگاہ نے پی ایس پی ضلع تونسہ کے صدر فرید ساجد کی طرف سے اپنے اعزاز میں دیے گئے، استقبالیے میں شریک ہوئے 29 دسمبر2005 کو تاج لنگاہ نے کوٹ مٹھن میں خواجہ غلام فرید کانفرنس میں شرکت کی‘ منصور کرم سیال، تاج گوپا نگ، حسن رضا بخاری، ممتاز ڈاہر، احمد نواز سومرو، عبدالستار تھیئم، ملک اعجاز راں، اسلم جاوید، اسلم رسول پوری، شفقت میتلا، خضر حیات خان، نذر خان بلوچ، اشرف خان لنگاہ ہارون چانڈیو، اور رائے خیرمحمد انکے ہمراہ تھے23 مارچ 2006 کو تاج لنگاہ کو پاکستان سرائیکی پارٹی کی قومی کونسل کے اجلاس میں ایک مرتبہ پھر متفقہ طور پر پی ایس پی کے صدر منتخب ہوئے پارٹی کے مرکزی عہدیداروں کے انتخابات ہر تین سال بعد منعقد ہوتے ہیں اپریل 2006 میں پاکستان سرائیکی پارٹی کا سالانہ جلسہ ملتان قلعے پر منعقد ہوا جس سے تاج لنگاہ اور دوسرے رہنماؤں نے خطاب کیا جون 2006 میں تاج لنگاہ نے پاکستان سرائیکی پارٹی کے زیرِ اہتمام اسلام آباد میں ایک احتجاجی مظاہرے کی قیادت کی جولائی 2006 میں بیرسٹر تاج محمد خان لنگاہ نے لندن میں بے نظیر بھٹو‘میاں نواز شریف اور دوسرے جمہوریت پسند رہنماؤں کے درمیان طے پانے والے اس معاہدے پر دستخط کیے جسے چارٹر آف ڈیموکریسی (میثاقِ جمہوریت)کا نام دیا گیا28 اگست 2006 کو تاج لنگاہ نے چوک کچہری ملتان میں نواب اکبر خان بگٹی کے بہیمانہ قتل کے خلاف پی ایس پی کے احتجاجی مظاہرے سے خطاب کیا2007 نہایت ہنگامہ خیز سال تھا 9 مارچ 2007 کو فوجی حکمران جنرل پرویز مشر ف نے چیف جسٹس افتخار محمد چودھری پر جھوٹے الزامات لگا کر انہیں معطل کردیا تاج لنگاہ نے اس غیر آئینی اور غیر قانونی اقدام کی شدید مذمت کی اور احتجاج کیا 25 اور 26 مارچ 2007 کی درمیانی شب کو مصنف ممتاز ڈاہر کو پولیس نے وکلاء کے جلوس میں شرکت سے روکنے کیلئے گرفتار کرلیا

ملک میں حقیقی جمہوریت کی بحالی کے لیے جلاوطن رہنماؤں نے کوششیں تیز کردیں اس سال میاں نواز شریف نے لندن میں کل جماعتی کانفرنس طلب کی جس میں تاج لنگاہ اوردوسرے سیاسی رہنماؤں نے شرکت کی 3 نومبر 2007 کو جنرل پرویز مشرف نے ملک میں ایمرجنسی نافذ کر دی تاج لنگاہ نے پرویز مشرف کے اس اقدام کی پُر زور مذمت کی اور اسے غیر علانیہ مارشل لاقرار دیا تاج لنگاہ نے اے پی ڈی ایم کی کال پر 9 جنوری 2008 (التواء کے بعد 18 فروری 2008) کے انتخابات کا بائیکاٹ کیا انہوں نے 27 دسمبر 2007 کو بینظیر بھٹو کے نہایت سفاکانہ قتل کی پُر زور مذمت کی مارچ /اپریل 2008 میں نئی منتخب جمہوری حکومت کے قیام کے بعد تاج لنگاہ نے سرائیکی قوم کے مطالبات کو دہرایا اور امید ظاہر کی کہ نئی حکومت صوبہ سرائیکستان کے قیام کے لیے عملی اقدامات کرے گی اس سال انہوں نے خرابیء صحت کی وجہ سے پارٹی کی قیادت سے استعفاء دے دیا ان کے استعفے کے بعد افضل مسعود خان جماعت کے قائم مقام صدر مقرر ہوئے 9 ستمبر 2008 کو انہوں نے راقم الحروف (محمد ممتاز خان ڈاہر)اور دوسرے کارکنوں جماعت کے پُر زور اصرار پراپنا استعفاء واپس لے لیا اور ایک مرتبہ پھر جماعت کی قیادت سنبھال لی۔ تاج لنگاہ اور ان کی قیاد ت میں کام کرنے والی جماعت کو پورا یقین تھا کہ ایک دن صوبہ سرائیکستان وجود میں آئے گا یہاں معاشی اور سماجی انصاف قائم ہوگا لوگوں کو عزت اور خوشحالی ملے گی تنگ نظری بنیاد پرستی اور نفرتوں کا خاتمہ ہوگاانہی مقاصد کا حصول ہی تاج لنگاہ کی زندگی کا نصب العین تھا۔ خدا کرے وہ دن جلد آئے۔بیرسٹر تاج محمد لنگاہ 7 اپریل 2013ء کو حرکت قلب بند ہوجانے سے وفات پاگئے۔

سید یوسف رضا گیلانی

جدیدملتان کے معمار ،فرزندِاولیاء،اسیرجمہوریت،نقیب ِ سرائیکستان ،سابق وزیر اعظم پاکستان سید یوسف رضا گیلانی اپنی امن پسندی،دوست شناسی،انسانی ہمدردی،اپنے مزاج کی شرافت اوراپنے آباکی بے مثال اور غیرمعمولی قومی خدمات کی بدولت معاصرسیاست دانوں میں منفرداور ممتازہیں ۔ تاریخ اور سیاست کا ہر کردارمتنازعہ ہوتا ہے ،اس قانون کا اطلاق سید یوسف رضا گیلانی پر بھی ہوتا ہے چنانچہ پاکستان میں ہر شخص انہیں اپنے اپنے نقطہ نظر سے دیکھتا اور سمجھتا ہے۔مگر ربِ کریم اور صاحب ِالطافِ عمیم کی  خاص عنایت سے اُن کے کریڈٹ پریہ تاریخی حقیقت موجود ہے کہ ان کی وزارتِ عظمیٰ کے دوران پاکستان میں کوئی سیاسی اسیر نہ تھا ۔سیدیوسف رضا گیلانی ریاستی جبراورسیاسی انتقام کا نشانہ بنے مگر انہوں نے کسی سے انتقام نہیں لیا۔پاکستان کا سیاسی ماحول جوالزامات اوردُشنام طرازی سے داغدار ہے وہاں سیدیوسف رضا گیلانی کی گفتگو’’وہ بولے تو باتوں سے پھول جھڑتے ہیں‘‘کی مصداق ہوتی ہے۔خدااِس وجودِ گرامی کو اپنی حفظ و امان میں رکھے۔سیدیوسف رضا گیلانی 9 جون 1952کو عروس البلاد کراچی میں پیدا ہوئے۔ ان کا خاندان اشاعت ِ اسلام، فروغِ علم، امن پسندی اور تحریک پاکستان میں شمولیت کے باعث زمانے میں ممتاز رہا ہے۔ گیلانی حسنی الحسینی سید ہیں۔ سید یوسف رضا گیلانی کے جد امجد سید بندگی محمد غوث حلبی 9 ویں صدی عیسوی میں اشاعت ِ اسلام کی غرض سے شام سے ہجرت کرکے اوچ شریف آئے تھے۔ سید بندگی محمد غوث کا سلسلہ نسب پیر پیران حضرت غوث الاعظم میراں محیی الدین شیخ عبدالقادر جیلانی سے ملتا ہے۔ سید بندگی محمد غوث کی اولاد میں سے ایک بزرگ حضرت سید ابو الحسن جمال الدین معروف بہ حضرت موسیٰ پاک شہید ( وفات 1010ھ ) ملتان میں آسودۂ خاک ہیں۔ آپ کا مزار اندرون پاک دروازہ مرجعِ خلائق ہے۔ سید یوسف رضا گیلانی انہی کی اولاد میں سے ہیں۔ گیلانی اولیاء کے مزارات ملتان کے علاوہ دوسرے شہروں میں بھی ہیں تاریخ کے مطالعے سے معلوم ہوا ہے کہ ملتان کا گیلانی خاندان قیام پاکستان سے قبل اشاعت اسلام اور قومی اور سماجی خدمات کی بدولت نہایت قدر و عزت کی نگاہ سے دیکھاجاتا تھا ۔ رئوسائے ملتان، بوسن، کھچی، سندھل، کانجو، سید ، ہراج نون، ڈیہڑوغیرہ ان کے عقیدت مند اوردوست تھے۔ قیام پاکستان سے پہلے گیلانی خاندان اسلامی اور قومی تحریکوں میں پیش پیش رہا۔ گیلانی اسلاف نے تحریک خلافت اور تحریک آزادی میں قائدانہ کردار ادا کیا۔ سید زین العابدین گیلانی اسلام کی سربلندی کے لیے سب کچھ قربان کرنے کا جذبہ رکھتے تھے۔ انہوں نے تحریک خلافت میں حصہ لیا۔ پیر صدر الدین شاہ ( پردادا  یوسف رضاگیلانی ) کے بیٹے محمد رضا گیلانی بھی تحریک خلافت سے بہت متاثر تھے۔ انہیں ترکوں کے حق میں تقریر کرنے اور طلبہ کو منظم کرنے کی پاداش میں کالج سے خارج کردیا گیا تھا۔ مسلمانوں کی جانی دفاع کے لیے سید زین العابدین نے ایک عسکری دستہ منظم کیا تھا جس کی وجہ سے ہندوئوں کو مسلمانوں پر حملے کی جرأت نہ ہوئی تھی۔ اس سیاسی پس منظر کے ساتھ جب گیلانی خاندان نے آل انڈیا مسلم لیگ میں شمولیت اختیار کی تو ملتان میں سبز جھنڈے نظر آنے لگے۔ سید زین العابدین گیلانی، سید علمدار حسین گیلانی ( والد سید یوسف رضا ) اور دوسرے گیلانی مشاہیر نے لاہور میں اس تاریخی اجتماع میں شرکت کی جس میں قرار داد پاکستان منظور کی گئی۔ 1940 کے عشرے میں جب ہندوستان کے مسلمان حلقوں میں ہر طرف ’’بن کے رہے گا پاکستان‘‘، ’’لے کے رہیںگے پاکستان‘‘ کے نعرے لگ رہے تھے۔ اس وقت گیلانی خاندان ہی ملتان میں آزادی کا نقیب تھا۔ بانی ٔ پاکستان قائد اعظم محمد علی جناح کو جب ملتان آنے کی دعوت دی گئی تو انہوں نے کہا کہ گیلانی خاندان کے ہوتے ہوئے مجھے ملتان جانے کی ضرورت نہیں اور پھر تاریخ نے گواہی دی کہ قائد اعظم کا ادراک درست تھاانگریز حکومت نے ہندوستان میں قانون ساز اسمبلیوں کے انتخابات کرائے۔ 9 جنوری 1946 کو آل انڈیا مسلم لیگ نے صوبہ سرحد کے سوا ہندوستان کے تمام مسلم اکثریتی صوبوں میں بھاری اکثریت حاصل کی مسلم اقلیت کے صوبوں میں بھی مسلم لیگ نے مسلمان نشستوں پر اکثریت حاصل کی۔ ملتان میں مسلم لیگ نے الیکشن سویپ کیا۔ یہاں سے عام نشستوں پر مسلم لیگ کے تمام امیدوار سید غلام مصطفی شاہ ( دادا سید یوسف رضا گیلانی ) سید مخدوم محمد رضا شاہ گیلانی، نواب اللہ یار خان دولتانہ، ملک محمد اکرم خان بوسن، پیر بڈھن شاہ کھگہ اور سید نوبہار شاہ کامیاب ہوکر پنجاب اسمبلی کے رکن ( MLA ) بنے۔ مزید برآں وہاڑی کے نواب میاں ممتاز محمد خان دولتانہ نارووال ( تب ضلع سیالکوٹ) سے جبکہ جہانیاں کے چودھری ظفر اللہ واہلہ اجنالہ ضلع امرتسر سے MLA منتخب ہوئے۔ نیز سید شیرشاہ گیلانی سنٹرل اسمبلی کے رکن منتخب ہوئے۔ ان انتخابات کے نتیجے میں پاکستان کا قیام عمل میں آیا۔ گیلانی خاندان کو یہ اعزاز ملا کہ اس خاندان کے دو حقیقی بھائی سیدغلام مصطفی شاہ اور سید محمد رضا شاہ گیلانی MLA منتخب ہوئے ۔ گیلانی خاندان کی انتخابی کامرانیوں کا تذکرہ اس کتاب کے مختلف صفحات پر موجود ہیں۔ قیام پاکستان سے پہلے اور بعد میں انجمن اسلامیہ ملتان کے زیر اہتمام گیلانی خاندان نے ملتان میں سکول اور کالج قائم کئے اور تاریخ نے دیکھا کہ یہ تعلیمی ادارے ایک انقلاب کی بنیاد ثابت ہوئے۔ گیلانی خاندان پاکستان کی ایک مؤثر سیاسی قوت ہے۔ اس کی جڑیں عوام میں بہت گہری ہیں۔ سید یوسف رضا گیلانی نے ابتدائی تعلیم سینٹ میریز کانونٹ ملتان سے حاصل کی اور بعد میں معروف تعلیمی ادارے لاسال ہائی سکول ملتان میں داخل ہوئے۔ سید یوسف رضا گیلانی نے اپنی کتاب چاہِ یوسف سے صدا میں لاسال سکول کی یادوں کو قلمبند کیاہے۔ میٹرک تک تعلیم حاصل کرنے کے بعد سید یوسف رضا گیلانی نے ولایت حسین اسلامیہ کالج ملتان میں داخلہ لیا۔ یہ کالج انجمن اسلامیہ ملتان کے کارناموں میں سے ایک ہے۔ یہاں سے سید یوسف رضا گیلانی نے ایف ایس سی ( پری میڈیکل) کا امتحان پاس کیا۔ اور مزید تعلیم کے لیے گورنمنٹ کالج لاہور میں داخل ہوئے۔ جہاں سے انہوں نے بی اے تک تعلیم حاصل کی بعد میں وہ پنجاب یونیورسٹی لاہور کے شعبہ صحافت میں داخل ہوئے۔ 1976 میں سید یوسف رضا گیلانی نے ایم اے صحافت کا امتحان پاس کیا۔ ان کی شادی پیر اسرار شاہ کی دختر سے انجام پائی۔ 9 اگست 1978 کو ان کے والد سید علمدار حسین گیلانی وفات پاگئے۔ سید یوسف رضا گیلانی 1978 میں مسلم لیگ کی سنٹرل کمیٹی کے رکن بنے اور 1982 میں وفاقی مجلس شوریٰ کے رکن نامزد ہوئے۔ 1983 میں ڈسٹرکٹ کونسل ملتان کے رکن منتخب ہوئے اور ایک دلچسپ انتخابی معرکے میں سید فخر امام کو شکست دے کر ڈسٹرکٹ کونسل ملتان کے چیئرمین منتخب ہوئے۔ 1985 کے غیر جماعتی انتخابات میں لودھراں سے قومی اسمبلی کے رکن منتخب ہوئے۔ 1986 میں وزیر اعظم محمد خان جونیجو کی کابینہ میں ریلوے کے وزیر مقرر ہوئے۔ 1988 میں پاکستان پیپلز پارٹی میں شامل ہوئے۔ اسی سال تاریخی شخصیت میاں نواز شریف کو شکست دے کر ملتان سے پی پی پی کے ٹکٹ پر قومی اسمبلی کے رکن منتخب ہوئے۔ وہ وزیر اعظم محترمہ بے نظیر بھٹو کی کابینہ میں پہلے سیاحت کے اور بعد میں ہائوسنگ و تعمیرات کے وزیر مقرر ہوئے۔ 1990 میں اپنے والد کے کزن اور گیلانی خاندان کی ممتاز ترین شخصیت مخدوم سید حامد رضا گیلانی وغیرہ کو شکست دے کر قومی اسمبلی کے ممبر منتخب ہوئے۔ سید یوسف رضا گیلانی 1993 میں نگران وزیر اعظم میر بلخ شیر مزاری کی کابینہ میں بلدیات و دیہی ترقی کے وزیر مقرر ہوئے ۔ 1993 میں ایک مرتبہ پھر قومی اسمبلی کے رکن منتخب ہوئے اور بعد ازاں قومی اسمبلی کے سپیکر منتخب ہوئے۔ سید یوسف رضا گیلانی 1997 میں سکندر حیات خان بوسن کے مقابلے میں قومی اسمبلی کا الیکشن ہار گئے۔ 1998 میں سید یوسف رضا گیلانی پاکستان پیپلز پارٹی کے وائس چیئرمین منتخب ہوئے۔ سید یوسف رضا گیلانی مشرف دور میں سیاسی انتقام کا نشانہ بنے اور ایک طویل عرصہ جیل میں رہے۔ وہ 18 فروری 2008 کو پانچویں مرتبہ قومی اسمبلی کے رکن اور بعد ازاں 26مارچ 2008 کو وزیر اعظم پاکستان منتخب ہوئے۔سید یوسف رضا گیلانی نے قومی اسمبلی میں اپنی افتتاحی تقریب میں چیف جسٹس افتخار محمد چودھری کی رہائی کا حکم دیا ۔ 16مارچ 2009کو انہوں نے جسٹس افتخار محمد چودھری کی چیف جسٹس آف پاکستان کے منصب پر بحالی کا تاریخی حکم صادر کیا۔13مارچ2011کو سید یوسف رضا گیلانی نے جلال پور میں ایک جلسۂ عام میں اعلان کیا کہ پاکستان پیپلز پارٹی سرائیکی صوبے کے قیام کو اپنے منشورکا حصہ بنائے گی جس کے بعد سرائیکی صوبہ تحریک کو بہت تقویت ملی۔ سید یوسف رضا گیلانی نے مفاہمت کی سیاست اپنائی جس کی وجہ سے انکی مقبولیت میں اضافہ ہوا۔ سید یوسف رضا گیلانی کے احکاما ت سے پاکستان او خاص طور پر ملتان میں بہت سے تعمیراتی منصوبے شروع ہوئے ہیں۔ جن میں ملتان تا فیصل آباد موٹروے ہیڈ محمد والا،جلال پور اوچ شریف موسیٰ پاک برج تعمیر ایئر پورٹ ملتان ، ملتان شہر میں سات فلائی اوور،بے نظیر برج چاچڑاں شریف، متعدد پارک اورہسپتال ملک بھر میںآئی ٹی یونیورسٹیوںکا قیام اوردوسرے منصوبے شامل ہیں۔ 6 جنوری 2012ء کو قومی اسمبلی سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم سید یوسف رضا گیلانی نے کہا کہ ہم سرائیکی صوبہ بنائیں گے۔ 19 جون 2012ء کوسید یوسف رضا گیلانی ایک متنازعہ عدالتی فیصلے کے باعث وزارتِ عظمیٰ کے منصب سے معزول کردیئے گئے۔

عباد احمد خان شیروانی

سابق کونسلر میونسپل کمیٹی میلسی عباد احمد خان شیروانی 1947میں پیدا ہوئے اُ نکے والد محترم شادی خان اور بھائی رئیس احمد خان شہید کا میلسی شہر میں بڑا نام اور وقار تھا۔شادی خان یہاں کے ایک معزز زمیندار تھے جبکہ رئیس احمد خان شہید پنجاب پولیس میں ڈی۔ایس۔ پی تھے۔یہ خاندان 1947کے انقلاب کے بعد ہندوستان سے ہجرت کر کے پاکستان آیا اور میلسی میں آباد ہوا۔
عباد احمد خان شیر وانی میلسی کی تاریخی درس گاہ گورنمنٹ ہائی سکول میلسی میں زیر تعلیم رہے جہاں سے اُنہوں نے 1967میں میٹرک کا امتحان پاس کیا بعد ازاں وہ مزید تعلیم کے لیے ولایت حسین اسلامیہ ڈگری کالج ملتان میں داخل ہوئے۔ عباد احمد خان شیروانی نے تعلیم کے ساتھ ساتھ ہم نصابی سرگرمیوں میں بھی غیر معمولی دلچسپی لی۔ وہ زمانے میں والی بال کے بہترین کھلاڑی کے طور پر متعارف ہوئے۔ عباد احمد خان شیروانی نے زراعت کا پیشہ اختیار کیا اور سماجی خدمات میں بھی حصہ لینے لگے وہ لوگوں کے دکھ سکھ میں شریک ہوتے جس سے انکے وقار میں بہت اضافہ ہوا۔ عباد احمد خان شیروانی 1979میں پہلی مرتبہ میونسپل کمیٹی میلسی کے رکن منتخب ہوئے اور چار سال اس منصب پر فائز رہے۔ ان انتخابات میں توفیق احمد خان یوسف زئی ممتاز شخصیت اللہ یار خان کھچی کو شکست دے کر پہلے رکن اور بعد ازاں چیر مین میونسپل کمیٹی منتخب ہوئے تھے۔ عباد احمد خان شیروانی، ارشاد احمد خان اور بعد ازاں محمود حیات خان کی سربراہی میں سیاست کرنے والے پٹھان گروپ کے دیرینہ حامی ہیں اور ہمیشہ اسی گروپ کے ساتھ رہے ہیں۔ عباد احمد خان شیروانی 1983میں دوسری،1987میں تیسری،1991میں چوتھی مرتبہ میونسپل کمیٹی میلسی کے رکن منتخب ہوئے۔ مزید براں وہ 2001میں یونین کونسل میلسی شہر (شرقی) کے نائب ناظم منتخب ہوئے۔ عباد احمد خان شیروانی نے اپنے عہدے کے ذریعے شہر میں مختلف ترقیاتی منصوبے مکمل کرائے جن میں پرانی تحصیل میں ٹیوب ویل نصب کروانا شامل تھا۔
عباد احمد خان شیروانی امن کمیٹی میلسی کے رکن اور فعال سماجی تنظیم میلسی سوشل ویلفیر کے نائب صدر بھی رہے ہیں۔ عباد احمد خان شیروانی کے دو بیٹے فرجان احمد خان اور حسنین احمد خان شیروانی ہیں۔ عباد احمد خان شیروانی کے بھائی رئیس احمد خان شیروانی مصیبت میں گرفتار میلسی کے شہریوں کی مدد کرتے تھے جس کی وجہ سے اُ نہیں بہت عزت اور شہرت ملی وہ ایک فرض شناس، بہادر اور محنتی پولیس آفیسر تھے اور ڈی۔ ایس۔ پی کے عہدے پر فائز رہے۔ رئیس احمد خان شیروانی 17دسمبر 1985کو بدنام زمانہ نوری ڈاکو اور اسکے ساتھیو ں کے ساتھ مقابلے میں شہید ہوگئے۔ حکومت پاکستان نے ان کی بہادری اور قربانی کے اعتراف میں اُنہیں قائد اعظم پولیس میڈل عطا کیا۔ رئیس احمد خان شہید کے دو بیٹے حسن احمد خان شیروانی اور حسین احمد خان شیروانی ہیں۔حسین احمد خان شیر وانی نے تاریخ میں ڈاکڑیٹ کی ڈگری حا صل کرنے کے بعد تدریس کا پیشہ اختیار کیاہے۔ عباد احمد خان شیروانی کے دو بیٹے فرجاد احمد خان شیروانی اور حسنین احمد خان شیروانی ہیں۔ حسنین احمد خان شیروانی پاکستان پیپلز پارٹی تحصیل میلسی کے صدر ہیں او رجماعت میں بہت فعال ہیں حسنین احمد خان شیروانی سمجھتے ہیں کہ پاکستان شدید سیاسی بحران سے دوچار ہے اور بلاول بھٹو کی قیادت میں پاکستان پیپلز پارٹی ہی ملک کو بحران سے نکال سکتی ہے۔

مہر عبدالغفار مہار

الحاج مہر عبدالغفار مہار اپنی امن پسندی اور مصالحتی کردار کے باعث شہر میں عزت کی نگاہ سے دیکھے جاتے ہیں۔ وہ پیشے کے لحاظ سے زمیندار ہیں اور 5۔ مرتبہ مسلسل  1979 -83-87-91-98 انتخابی کامیابیوں کے بعد میونسپل کمیٹی میلسی کے رکن منتخب ہوئے ہیں 1924تا حال میونسپل کمیٹی میلسی کی تاریخ میں وہ پہلے شخص ہیں جنہوں نے یہ اعزاز حا صل کیاہے۔ مہر عبدالغفار   1998 تا 1999 میونسپل کمیٹی میلسی کے وائس چیرمین بھی رہے علاوہ ازیں مہر عبدالغفار کے والد محترم مہر احمد بخش مہار 2مرتبہ میونسپل کمیٹی میلسی کے رکن منتخب ہوئے۔ مہر احمد بخش مہار کی وفات کے بعد ان کے برادر حقیقی مہر حاجی اللہ ڈتہ میونسپل کمیٹی میلسی کے رکن منتخب ہوئے۔
مہر عبدالغفار نے بطور کونسلر میونسپل کمیٹی میلسی شہر کے ترقیاتی منصوبوں میں گہری دلچسپی لی اور نکاسی آب سمیت مختلف منصوبے مکمل کرائے۔ مقامی سطح پرمہر عبدالغفار کا تعلق کھچی گروپ سے ہے۔ دیرینہ تعلقات کی بنا پر صوبائی وزیر مواصلات محمد جہان زیب خان کھچی اور رکن قومی اسمبلی محمد اورنگ زیب خان کھچی اُن کی بہت عزت کرتے ہیں۔ مہر عبدالغفار کے آباء کسی زمانے میں چشتیاں سے نقل مکانی کر کے میلسی آئے تھے۔ مہر عبدالغفار کی ولادت 1952میں ہوئی۔ اُنہوں نے گورنمنٹ ہائی سکول میلسی سے تعلیم حاصل کی۔ عملی زندگی میں آنے کے بعد آبائی پیشہ زراعت اختیار کیا اور اس کے ساتھ ساتھ ٹرانسپورٹ کا بزنس بھی شروع کیا۔ وہ 25سال ٹرانسپورٹ یونین میلسی کے صدر رہے ہیں۔ مہر عبدالغفار مذہبی لگاؤ رکھتے ہیں اور جامعہ تعلیم القرآن میلسی کے نائب صدر رہے ہیں۔ مہر عبدالغفار رحمانیہ مسجد میلسی کے صدر ہیں۔ وہ امن کمیٹی وہاڑی اورامن کمیٹی میلسی کے رکن بھی ہیں۔ امن کمیٹی ایک کامیاب ادارہ ہے۔ضلعی انتظامیہ اور معتبر شہریوں پر مشتمل اس ادارے نے میلسی میں عاشورے کے دوران قیام امن مین کلیدی کردار اداکیا ہے۔ مہر عبدالغفار 1974کی تحریک ختم نبوت کے دوران گرفتار ہوئے تھے۔ مہر عبدالغفار پاکستان مسلم لیگ ن میلسی شہر کے صدر اور PMLNکی صوبائی کونسل کے ممبر بھی رہے ہیں۔ 2005میں مہر عبدالغفار کے بیٹے مہر ولایت حسین یونین کونسل علی واہ کے نائب ناظم منتخب ہوئے۔ مہر عبدالغفار تقریباً ڈیڑھ سال سی۔پی۔سی میلسی کے چیرمین بھی رہے ہیں۔

 

حاجی بشیر احمد چوغطہ

حاجی بشیر احمد چوغطہ میلسی کے ایک معروف سیاسی اور سماجی کارکن ہیں۔ وہ پیشے کے لحاظ سے تاجرہیں اور شہر میں اُن کی مضبوط تجارتی ساکھ ہے۔ حاجی بشیر احمد چوغطہ 1945ء میں پیدا ہوئے۔ اُنکے والد میاں محمد حسین خدمت خلق پر یقین رکھتے تھے۔ وہ سماجی خدمات میں مصروف عمل رہے اور عزت و احترام کی زندگی گزارنے کے بعد 1999ء میں وفات پا گئے۔ حاجی بشیر احمد چوغطہ نے تاریخی درس گاہ گورنمنٹ ہائی سکول میلسی سے تعلیم حاصل کی عملی زندگی میں آنے کے بعد حاجی بشیر احمد چوغطہ نے سگریٹ، اخبار ات اور برانڈد مشروبات کا بزنس شروع کیابعد میں اُنہوں نے اپنے بھائیوں کو بھی کاروبار میں ساتھ ملایا چوغطہ برادران نے بہت محنت کی اور بہت ترقی کی۔
حاجی بشیر احمد چوغطہ 1977ء میں دلاور خان کھچی کی انتخابی مہم میں شریک ہوئے اس موقع پر دلاور خان کھچی پاکستان پیپلز پارٹی کے ٹکٹ پر میلسی سے قومی اسمبلی کے رکن منتخب ہوئے۔ حاجی بشیر احمد چوغطہ 1977ء میں پاکستان پیپلز پارٹی میلسی شہر کے سیکرٹری جنرل تھے۔ حاجی بشیر احمد چوغطہ ایک زمانے میں روزنامہ جنگ، پاکستان، خبریں، آفتاب، سنگ میل اور دوسرے اخبارات کے میلسی میں ڈسٹری بیوٹر تھے۔ حاجی بشیر احمد چوغطہ روزنامہ سنگ میل کے نامہ نگار بھی تھے۔ اُس زمانے میں اخبارات اور صحافت کا بہت وقار تھا۔ حاجی نشیر احمد چوغطہ نے دوستانہ انداز میں میلسی کے اخبار نویسوں کی رنجشوں کو ختم کیا اور اُنہیں ایک پلیٹ فارم پر اکٹھا کرنے کی کوشش کی۔حاجی بشیر احمد چوغطہ یونین آف جرنلسٹس میلسی اور میلسی پریس کلب کے صدر منتخب ہوئے۔ سابق چیرمین میونسپل کمیٹی میلسی الحاج اللہ یار خان کھچی حاجی بشیر احمد چوغطہ پر بہت اعتماد کرتے تھے اور اُنہیں بیٹوں کی طرح جانتے تھے چنانچہ حاجی بشیر احمد چوغطہ 1979ء کے بلدیاتی انتخابات میں سردار محمد خان کھچی (بعد ازاں چیرمین میونسپل کمیٹی میلسی، رکن پنجاب اسمبلی) کے کورنگ اُمید وار تھے۔1985ء میں اُنہوں نے چوغطہ ویلفیرکونسل میلسی بنائی اور اس فلاحی تنظیم کے چیرمین منتخب ہوئے۔ 1998ء کے بلدیاتی انتخابات میں حاجی بشیر احمد چوغطہ معروف زمیندار غلام قادر خان کھچی کو شکست دے کر میونسپل کمیٹی میلسی کے رکن منتخب ہوئے اس موقع پر سردار امحمد خان کھچی مونسپل کمیٹی میلسی کے چیرمین منتخب ہوئے۔ غلام قادر خان کھچی نے حاجی بشیر احمد چوغطہ کے انتخاب کا نتیجہ تسلیم نہ کیا اور اسے عدالت میں چیلنج کر دیا جس پر حاجی بشیر احمد چوغطہ نے سپریم کورٹ تک اپنی کامیابی کا دفاع کیا۔
حاجی بشیر احمد چوغطہ سردار محمد خان کھچی، دلاور خان کھچی، اورنگ زیب خان کھچی اور محمد جہاں زیب خان کھچی کی انتخابی مہمات میں شریک رہے ہیں۔ حاجی بشیر احمد چوغطہ 2005ء میں یونین کونسل کمیٹی میلسی شہر غربی کے جنرل کونسلر منتخب ہوئے۔ محمد ممتاز خان کھچی جب اپنے بیٹے آفتاب احمد خان کھچی بھتیجوں محمد اورنگ زیب خان کھچی اور محمد جہاں زیب خان کھچی اور دوستوں کے ہمراہ پاکستان تحریک انصاف میں شامل ہوئے تو حاجی بشیر احمد چوغطہ نے بھی پی ٹی آئی کا پر چم اُٹھایا۔ حاجی بشیر احمد چوغطہ سال 2018ء کے انتخابات میں محمد اورنگ زیب خان کھچی اور محمد جہاں زیب خان کھچی کی انتخابی مہم میں شریک ہوئے اس موقع پر محمد اورنگ زیب خان کھچی پی ٹی آئی کے ٹکٹ پر قومی جبکہ اُن کے بھائی محمد جہاں زیب خان کھچی پنجاب اسمبلی کے رکن منتخب ہوئے بعد ازاں محمد جہاں زیب خان کھچی سردار محمد عثمان بزدار کی کابینہ میں وزیر ٹرانسپورٹ مقرر ہوئے۔حاجی بشیر احمد چوغطہ ایک عملی مسلمان ہیں وہ صوم و صلوۃ کے پابند ہیں اُنہوں نے دو مرتبہ حج بنت اللہ اور متعدد عمروں کی سعادت حاصل کی ہے۔

میاں ممتاز محمد خان دولتانہ

تحریک پاکستان کے رہنما میاں ممتاز محمد خان دولتانہ قیام پاکستان کے بعد پنجاب کے پہلے وزیر خزانہ اور بعد ازاں وزیر اعلیٰ بنے وہ وزیر دفاع اور مغربی پاکستان حکومت میں خزانہ ،مواصلات اور تعمیرات کے وزیر بھی رہے ۔میاں ممتاز محمد خان دولتانہ اعلیٰ تعلیم یافتہ اور نہایت ذہین سیاست دان تھے تحریک پاکستان کے دوران وہ قائد اعظم کے ہمراہ رہے اور 1945-46کے تاریخ ساز انتخابات میں کہ جس کے نتیجے میں پاکستان کا قیام عمل میں آیا میاں ممتاز محمد خان دولتانہ نے پنجاب میں مسلم لیگ کی انتخابی مہم کو منظم کیاتھا۔ میاں ممتاز محمد خان دولتانہ نوابانہ شان وشوکت کے ساتھ رہتے تھے اور ملتان ڈویژن کے رئوسا انکی تعلیم اور وسیع زرعی زمین سے بہت متاثر تھے کہتے ہیں کہ وہ پنجاب میں وہ سب سے بڑے زمیندار سیاستدان تھے قول معروف کے مطابق انکے والد نواب احمد یار خان دولتانہ 1500مربع زرعی زمین کے مالک تھے۔میاں ممتاز محمد خان دولتانہ اپنے والد کے اکلوتے بیٹے تھے۔نواب احمد یار خان دولتانہ 1937کے انتخابات میں پنجاب اسمبلی کے ممبر منتخب ہوئے تھے اور بعد میں اسمبلی میں چیف وہپ بنے دولتانہ خاندان کی سخاوت اور فیض بخشیوں کی داستانیں میلسی اور وہاڑی کے قدیم باشندے بیان کرتے ہیں میاں ممتاز محمد خان دولتانہ کے پر دادا میاں غلام محمد خان دولتانہ نے جو زمانہ میںگو گا دولتانہ کے نام سے مشہور ہوئے بے مثال مہمان نوازی کی بدولت شہرت پائی ۔ لڈن میں انکے ڈیرے پر دن رات مہمان اورعام مسافر قیام پذیر رہتے نواب احمد یار دولتانہ نے اس روایت کو قائم رکھا۔میاں ممتاز محمد خان دولتانہ گڑھی شاہولاہور میں سیکڑوں مہمانوں کے ساتھ مل کر کھانا کھاتے تھے مہمان نوازی دنیا کی ہر قوم اور ہر قبیلے کی ایک مستحن روایت ہے تاہم دولتانہ خاندان اس روایت کی پاسداری کی بدولت زمانے میں منفرد رہا ہے قیام پاکستان سے پہلے پنجاب کے اکثر مسلمان زمیندار ہندو ساہو کاروں کے مقروض تھے ۔وہ اپنے قرضہ جات پر سود ادا کرتے عدم ادائیگی کی وجہ سے یہ قرضے پہاڑ کے وزن کے برابر ہوچکے تھے چنانچہ سر سکندر حیات وزیراعظم (وزیراعلیٰ پنجاب )کے زمانے میں نواب احمد یار خان دولتانہ ،سر چھوٹو رام اور دوسرے مشاہیر کی کوششوں سے ایک قانون منظور ہوا ۔جو تاریخ میں Land Alienation And Debt Cancellation act کہلاتاہے اس قانون کے روسے مسلمان زمینداروں کی لاکھوں ایکڑ زرعی زمین بیک جنبش قلم ہندو ساہو کاروں کی رہن سے آزاد ہو گئی۔ نواب احمد یار خان دولتانہ نے مساجد تعمیر کرائیں ۔علم کی اشاعت میں مدد کی اور مختلف فلاحی منصوبوں میں تعاون کرتے رہے انہوں نے 1942میں وفات پائی۔ انکے نامور فرزند میان ممتاز محمد خان دولتانہ 23فروری 1916کو لاہور میں پیدا ہوئے برطانیہ سے بارایٹ لا کی ڈگری حاصل کی اوروطن واپس آکر آل انڈیا مسلم لیگ میں شمولیت اختیار کی۔1943کے ایک ضمنی انتخاب میں وہ مسلم لیگ کے ٹکٹ پر پنجاب اسمبلی کے رکن منتخب ہوئے 1944میں میاں ممتاز محمد خان دولتانہ آل انڈیا مسلم لیگ پنجاب کے جنرل سیکرٹری جبکہ انکی اہلیہ بیگم الماس دولتانہ فنانس سیکرٹری منتخب ہوئیں 1945میں ہندوستان کے مسلمان حلقوں میں آل انڈیا مسلم لیگ سر چڑھ کر بولنے والا جادو ثابت ہوئی۔ان انتخابات میں پنجاب اور مسلم اکثریت کے دوسرے صوبوں (ماسوائے سرحد )میں مسلم لیگ نے مسلم نشستوں پر تاریخی کا میابی حاصل کی۔ میاں ممتاز محمد خان دولتانہ نارووال سے پنجاب اسمبلی کے رکن منتخب ہوئے۔ اس موقع پر نواب اللہ یار خان دولتانہ میلسی اور وہاڑی مشترکہ نشست سے کامیاب ہوئے ۔ تاہم کانگریس کی مخالفت کی وجہ سے پنجاب میں یونینیسٹ حکومت قائم ہوئی ۔ مسلم لیگ نے پنجاب میں سول نافرمانی کی تحریک چلائی ۔ وزیر اعلیٰ خضر حیات ٹوانہ نے مسلم لیگ پر کریک ڈائون کیا ۔میاں ممتاز محمد خان دولتانہ اور پنجاب میں ہزاروں مسلم لیگی کارکن گرفتار ہوئے قیام پاکستان کے بعد میاں ممتاز محمد خان دولتانہ نواب افتخار ممدوٹ کی کابینہ میں پنجاب کے وزیر خزانہ بنے ۔ وہ 1951تا 1953صوبے کے وزیر اعلیٰ رہے ۔14اکتوبر 1955کو وحدت مغربی پاکستان (ون یونٹ )کا قیام عمل میں آیا ۔ڈاکٹر خان صوبے کے پہلے وزیر اعلیٰ بنے جبکہ میاں ممتاز محمد خان دولتانہ کو خزانہ مواصلات اور تعمیرات کے قلمدان سونپے گئے۔میاں ممتاز محمد خان دولتانہ وزیراعظم ابراہیم اسماعیل حیدری گر کی کابینہ میں وزیر دفاع  مقرر ہوئے ۔ 8 اکتوبر 1958 کو ملک میں مارشل لا کے نفاذ کے بعد میاں ممتاز محمد خان دولتانہ اور دوسرے اہم سیاستدانوں پر سیاسی پابندی عائد کردی گئی میاں ممتاز محمد خان دولتانہ نے محترمہ فاطمہ جناح کی رہنمائی میں انکے مشورے کیساتھ قائد اعظم کے پرانے ساتھیوں کے ساتھ مل کر کونسل مسلم لیگ کی بنیاد رکھی ۔ 1970 کے عام انتخابات میں میاں ممتاز محمد خان دولتانہ اور چھ دوسرے افراد چودھری ظہور الٰہی وغیرہ کونسل مسلم لیگ کے ٹکٹ پر قومی اسمبلی کے رکن منتخب ہوئے۔1973میںمیاں ممتاز محمد خان دولتانہ نے قومی اسمبلی کے نشست سے استعفا دے دیا اور برطانیہ میں پاکستان کے سفیر مقرر ہوئے۔جنرل محمد ضیاالحق کے مارشل لا کے نفاذ کے بعد انہیں اس منصب سے سبکدوش کردیا گیا اور وہ طن واپس آگئے۔میاں ممتاز محمد خان دولتانہ اپنی آخری زندگی میں عملی سیاست سے کنارہ کش  ہوچکے تھے ۔تاہم اخباری بیانات کے ذریعے قومی کی رہنمائی کرتے اور اپنا نقطہ نظر بیان کرتے ۔ میاں ممتاز محمد خان دولتانہ کا 30جون 1995ء کو 79سال کی عمر میں لاہور میں انتقال ہوا۔ ان کا ایک بیٹا میاں جاوید ممتاز دولتانہ اور ایک بیٹی شاہدہ ممتاز ہے۔ میاں جاوید ممتاز دولتانہ1977ء ، 1988ء اور 1993میں صوبائی اسمبلی کے رکن منتخب ہوئے۔ شاہدہ ممتاز کی شادی محمد ایوب کھوڑو(سابق وزیرا علیٰ سندھ ) کے بیٹے خالد محمود کھوڑو سے ہوئی شاہدہ ممتاز بے نظیر بھٹو کی گہری دوست تھیں وہ سوشل ایکشن بورڈ وہاڑی کی چیئرمین رہیں ۔انہوں نے 2002کے عام انتخابات میں پاکستان پیپلز پارٹی کے ٹکٹ پر قومی اسمبلی کا لیکشن لڑا تاہم کامیاب نہیں ہوئیں ۔ تحریک پاکستان کے رہنما میاںممتاز محمد خان دولتانہ قیام پاکستان کے بعد پنجاب کے پہلے وزیر خزانہ اور بعد ازاں وزیر اعلیٰ بنے وہ وزیر دفاع اور مغربی پاکستان حکومت میں خزانہ ،مواصلات اور تعمیرات کے وزیر بھی رہے ۔میاں ممتاز محمد خان دولتانہ اعلیٰ تعلیم یافتہ اور نہایت ذہین سیاست دان تھے تحریک پاکستان کے دوران وہ قائد اعظم کے ہمراہ رہے اور 1945-46کے تاریخ ساز انتخابات میں کہ جس کے نتیجے میں پاکستان کا قیام عمل میں آیا میاں ممتاز محمد خان دولتانہ نے پنجاب میں مسلم لیگ کی انتخابی مہم کو منظم کیاتھا۔ میاں ممتاز محمد خان دولتانہ نوابانہ شان وشوکت کے ساتھ رہتے تھے اور ملتان ڈویژن کے رئوسا انکی تعلیم اور وسیع زرعی زمین سے بہت متاثر تھے کہتے ہیں کہ وہ پنجاب میں وہ سب سے بڑے زمیندار سیاستدان تھے قول معروف کے مطابق انکے والد نواب احمد یار خان دولتانہ 1500مربع زرعی زمین کے مالک تھے۔میاں ممتاز محمد خان دولتانہ اپنے والد کے اکلوتے بیٹے تھے۔نواب احمد یار خان دولتانہ 1937کے انتخابات میں پنجاب اسمبلی کے ممبر منتخب ہوئے تھے اور بعد میں اسمبلی میں چیف وہپ بنے دولتانہ خاندان کی سخاوت اور فیض بخشیوں کی داستانیں میلسی اور وہاڑی کے قدیم باشندے بیان کرتے ہیں میاں ممتاز محمد خان دولتانہ کے پر دادا میاں غلام محمد خان دولتانہ نے جو زمانہ میںگو گا دولتانہ کے نام سے مشہور ہوئے بے مثال مہمان نوازی کی بدولت شہرت پائی ۔ لڈن میں انکے ڈیرے پر دن رات مہمان اورعام مسافر قیام پذیر رہتے نواب احمد یار دولتانہ نے اس روایت کو قائم رکھا۔میاں ممتاز محمد خان دولتانہ گڑھی شاہولاہور میں سیکڑوں مہمانوں کے ساتھ مل کر کھانا کھاتے تھے مہمان نوازی دنیا کی ہر قوم اور ہر قبیلے کی ایک مستحن روایت ہے تاہم دولتانہ خاندان اس روایت کی پاسداری کی بدولت زمانے میں منفرد رہا ہے قیام پاکستان سے پہلے پنجاب کے اکثر مسلمان زمیندار ہندو ساہو کاروں کے مقروض تھے ۔وہ اپنے قرضہ جات پر سود ادا کرتے عدم ادائیگی کی وجہ سے یہ قرضے پہاڑ کے وزن کے برابر ہوچکے تھے چنانچہ سر سکندر حیات وزیراعظم (وزیراعلیٰ پنجاب )کے زمانے میں نواب احمد یار خان دولتانہ ،سر چھوٹو رام اور دوسرے مشاہیر کی کوششوں سے ایک قانون منظور ہوا ۔جو تاریخ میں Land Alienation And Debt Cancellation act کہلاتاہے اس قانون کے روسے مسلمان زمینداروں کی لاکھوں ایکڑ زرعی زمین بیک جنبش قلم ہندو ساہو کاروں کی رہن سے آزاد ہو گئی۔ نواب احمد یار خان دولتانہ نے مساجد تعمیر کرائیں ۔علم کی اشاعت میں مدد کی اور مختلف فلاحی منصوبوں میں تعاون کرتے رہے انہوں نے 1942میں وفات پائی۔ انکے نامور فرزند میان ممتاز محمد خان دولتانہ 23فروری 1916کو لاہور میں پیدا ہوئے برطانیہ سے بارایٹ لا کی ڈگری حاصل کی اوروطن واپس آکر آل انڈیا مسلم لیگ میں شمولیت اختیار کی۔1943کے ایک ضمنی انتخاب میں وہ مسلم لیگ کے ٹکٹ پر پنجاب اسمبلی کے رکن منتخب ہوئے 1944میں میاں ممتاز محمد خان دولتانہ آل انڈیا مسلم لیگ پنجاب کے جنرل سیکرٹری جبکہ انکی اہلیہ بیگم الماس دولتانہ فنانس سیکرٹری منتخب ہوئیں 1945میں ہندوستان کے مسلمان حلقوں میں آل انڈیا مسلم لیگ سر چڑھ کر بولنے والا جادو ثابت ہوئی۔ان انتخابات میں پنجاب اور مسلم اکثریت کے دوسرے صوبوں (ماسوائے سرحد )میں مسلم لیگ نے مسلم نشستوں پر تاریخی کا میابی حاصل کی۔ میاں ممتاز محمد خان دولتانہ نارووال سے پنجاب اسمبلی کے رکن منتخب ہوئے۔ اس موقع پر نواب اللہ یار خان دولتانہ میلسی اور وہاڑی مشترکہ نشست سے کامیاب ہوئے ۔ تاہم کانگریس کی مخالفت کی وجہ سے پنجاب میں یونینیسٹ حکومت قائم ہوئی ۔ مسلم لیگ نے پنجاب میں سول نافرمانی کی تحریک چلائی ۔ وزیر اعلیٰ خضر حیات ٹوانہ نے مسلم لیگ پر کریک ڈائون کیا ۔میاں ممتاز محمد خان دولتانہ اور پنجاب میں ہزاروں مسلم لیگی کارکن گرفتار ہوئے قیام پاکستان کے بعد میاں ممتاز محمد خان دولتانہ نواب افتخار ممدوٹ کی کابینہ میں پنجاب کے وزیر خزانہ بنے ۔ وہ 1951تا 1953صوبے کے وزیر اعلیٰ رہے ۔14اکتوبر 1955کو وحدت مغربی پاکستان (ون یونٹ )کا قیام عمل میں آیا ۔ڈاکٹر خان صوبے کے پہلے وزیر اعلیٰ بنے جبکہ میاں ممتاز محمد خان دولتانہ کو خزانہ مواصلات اور تعمیرات کے قلمدان سونپے گئے۔میاں ممتاز محمد خان دولتانہ وزیراعظم ابراہیم اسماعیل حیدری گر کی کابینہ میں وزیر دفاع  مقرر ہوئے ۔ 8 اکتوبر 1958 کو ملک میں مارشل لا کے نفاذ کے بعد میاں ممتاز محمد خان دولتانہ اور دوسرے اہم سیاستدانوں پر سیاسی پابندی عائد کردی گئی میاں ممتاز محمد خان دولتانہ نے محترمہ فاطمہ جناح کی رہنمائی میں انکے مشورے کیساتھ قائد اعظم کے پرانے ساتھیوں کے ساتھ مل کر کونسل مسلم لیگ کی بنیاد رکھی ۔ 1970 کے عام انتخابات میں میاں ممتاز محمد خان دولتانہ اور چھ دوسرے افراد چودھری ظہور الٰہی وغیرہ کونسل مسلم لیگ کے ٹکٹ پر قومی اسمبلی کے رکن منتخب ہوئے۔1973میںمیاں ممتاز محمد خان دولتانہ نے قومی اسمبلی کے نشست سے استعفا دے دیا اور برطانیہ میں پاکستان کے سفیر مقرر ہوئے۔جنرل محمد ضیاالحق کے مارشل لا کے نفاذ کے بعد انہیں اس منصب سے سبکدوش کردیا گیا اور وہ طن واپس آگئے۔میاں ممتاز محمد خان دولتانہ اپنی آخری زندگی میں عملی سیاست سے کنارہ کش  ہوچکے تھے ۔تاہم اخباری بیانات کے ذریعے قومی کی رہنمائی کرتے اور اپنا نقطہ نظر بیان کرتے ۔ میاں ممتاز محمد خان دولتانہ کا 30جون 1995ء کو 79سال کی عمر میں لاہور میں انتقال ہوا۔ ان کا ایک بیٹا میاں جاوید ممتاز دولتانہ اور ایک بیٹی شاہدہ ممتاز ہے۔ میاں جاوید ممتاز دولتانہ1977ء ، 1988ء اور 1993میں صوبائی اسمبلی کے رکن منتخب ہوئے۔ شاہدہ ممتاز کی شادی محمد ایوب کھوڑو(سابق وزیرا علیٰ سندھ ) کے بیٹے خالد محمود کھوڑو سے ہوئی شاہدہ ممتاز بے نظیر بھٹو کی گہری دوست تھیں وہ سوشل ایکشن بورڈ وہاڑی کی چیئرمین رہیں ۔انہوں نے 2002کے عام انتخابات میں پاکستان پیپلز پارٹی کے ٹکٹ پر قومی اسمبلی کا لیکشن لڑا تاہم کامیاب نہیں ہوئیں ۔

سید محمد رضی شاہ گردیزیسید محمد رضی شاہ گردیزی

گردیزی ملتان کے قدیمی زمیندار ہیں۔ کبیر والا، ملتان، میاں چنوں، لودھراں اور دوسرے مقامات پر ان کی زرعی زمینیں ہیں۔ گردیزی خاندان کے مورثِ اعلیٰ سید ابو الفضل الشیخ جمال الدین معروف بہ شاہ یوسف گردیز گیارہویں صدی عیسوی میں محمود غزنوی کے بیٹے سلیم غزنوی کی دعوت پر پاکتیا( افغانستان ) کے علاقہ سے ملتان آئے تھے۔ یہ خاندان اسی زمانے سے زرعی زمینوں کا مالک ہے۔ شاہ یوسف گردیز نے توحید، رسالت اور امامت کی شمعیں روشن کیں اور دنیا کو امن و اخوت کا پیغام دیا۔ آپ کا مزار اندرون بوہڑ گیٹ ملتان میں صدیوں سے مرجع خلائق ہے۔ گردیزی خاندان کے نامور فرزند سید محمد رضی شاہ گردیزی 1924 میں ملتان میں پیدا ہوئے۔ ان کے پردادا سید غلام رسول شاہ افغانستان میں حکومت برطانیہ کے سفیر تھے۔ سید محمد رضی شاہ کے والد کا نام بھی سید محمد غلام رسول شاہ تھا۔ سید محمد رضی شاہ نے مشہور تعلیمی ادارے گورنمنٹ ایمرسن کالج ملتان سے بی اے تک تعلیم حاصل کی۔ عملی زندگی میں آنے کے بعد آبائی پیشہ زراعت اختیار کیا۔ انہوں نے قومی خدمت کے جذبے سے میانی نصفی میں پہلا گرلز پرائمری سکول قائم کیا۔ سید محمد رضی شاہ نے 1947 کے انقلاب کے موقع پر مہاجرین کی آباد کاری میں ان کی مدد کی تھی۔ انہوں نے ملتان اور لودھراں میں مہاجرین کو عارضی قیام کے لئے مکانات دیے تھے۔ سید محمد رضی شاہ گردیزی ایوب خان کے دور حکومت میں یونین کونسل بنگل والا، ڈسٹرکٹ کونسل ملتان اور ڈویژنل کونسل ملتان کے رکن رہے۔ انہوں نے نواب صادق حسین قریشی ( بعد ازاں وزیر اعلیٰ پنجاب ) کے ہمراہ پیپلز پارٹی میں شمولیت اختیار کی۔ سید محمد رضی شاہ گردیزی 1970 میں پی پی پی کے ٹکٹ پر صوبائی اسمبلی کے رکن منتخب ہوئے۔ 10 مارچ 1977ء کو سید محمد رضی شاہ گردیزی دوبارہ پاکستان پیپلز پارٹی کے ٹکٹ پر پنجاب اسمبلی کے رکن منتخب ہوئے۔ 5جولائی 1977 کو مارشل لا کے نفاذ کے موقع پر سید محمد رضی شاہ گردیزی گھر پر نظر بند کردیے گئے۔ انہوں نے  1985 میں مخدوم حامد رضا گیلانی کے مقابلے میں قومی اسمبلی کا الیکشن لڑا۔ سید محمد رضی شاہ گریزی نے 1986 میں وفات پائی ۔ سید محمد رضی شاہ گردیزی نے قدرت سے ایک بیٹی کی نعمت پائی جن کی شادی سید علی حیدر زمان گردیزی سے ہوئی۔ سید علی حیدر گردیزی نے ایگریکلچر یونیورسٹی فیصل آباد سے 1965میں ایم ایس سی کی ڈگری حاصل کی۔ سید علی حیدر زمان گردیزی 1987 میں ڈسٹرکٹ کونسل ملتان کے رکن منتخب ہوئے۔1990 میں انہوں نے پی پی پی کے ٹکٹ پر سید یوسف رضا گیلانی ( بعد ازاں وزیر اعظم پاکستان ) کے پینل میں سے ملک سکندر حیات خان بوسن کے مقابلے میں صوبائی اسمبلی کا الیکشن لڑا ۔ سید علی حیدر زمان گردیزی 2 مرتبہ ( 2001 اور 2005 میں ) یونین کونسل 71 ٹاٹے پور کے ناظم منتخب ہوئے۔ انہوں نے اپنے حلقے کی ترقی میں گہری دلچسپی لی۔ جس کی وجہ سے یہاں رابطہ سڑکیں، پختہ کھالہ جات ، بجلی، گیس، پلیں اور دوسرے ترقیاتی منصوبے مکمل ہوئے ، نیز صحت اور تعلیمی ادارے دوبارہ فنکشنل ہوئے ۔

الحاج سیدمحمدعلی مہدی گردیزی الحاج سید محمدعلی مہدی گردیزی

 

الحاج سیدمحمدعلی مہدی گردیزی کے جد ِ امجد سید یوسف شاہ گردیزیؒ اشاعت ِ اسلام کی غرض سے افغانستان سے ہجرت کر کے ملتان آئے۔یوسف شاہ گردیزؒ نے توحیدو ختم نبوت کے چراغ جلائے اور لوگوں تک اسلام کا پیغام پہنچایا۔آپؒ کا تذکرہ ملتان پر لکھی گئی مختلف کتب میں موجود ہے۔حضرت یوسف شاہ گردیزؒ کا مزار اندرون بوہڑگیٹ ملتان میں ہے جہاں آپ ؒ کے عقیدت مند مزار کی زیارت کے لئے آتے ہیں،آپ کے اخلاف میںسے ایک فرزند الحاج سیدمحمدعلی مہدی گردیزی نے سرائیکی قومی تحریک کی اعانت کی بدولت زمانے میں عزت اور شہرت پائی ہے۔الحاج سیدمحمدعلی مہدی گردیزی کی ولادت 2 نومبر1947 ء کو بڑا گھر یوسف شاہ گردیز ملتان میں ہوئی۔ان کے والد سید نذیر حسین گردیزی ایک امن پسند زمیندار تھے۔تحصیل کبیروالا میں ان کی زرعی زمینیں ہیں۔الحاج سیدمحمدعلی مہدی گردیزی نے گورنمنٹ پائلٹ ہائی سکول ملتان سے مڈل کا امتحان پاس کیا اور مزید تعلیم کے لئے لاہور چلے گئے یہاں انہوں نے فارورڈکالج لاہور سے 1966 ء میں میٹرک کا امتحان پاس کیا۔ملک مختاراحمداعوان کی دعوت پر پاکستان پیپلزپارٹی میں شامل ہوئے ۔ 1970 ء میں انہوں نے ذوالفقارعلی بھٹواور مختار اعوان کی انتخابی مہم میں بھرپور حصہ لیا ۔1977 ء کی تحریک نظا م مصطفی کے دوران پیپلزپارٹی کے ساتھ ثابت قدم رہے۔20 اگست 1977 ء کو پی این اے کے کارکنوں نے ملک مختاراعوان ااور ان کے ساتھیوں پر حملہ کیا ۔الحاج سیدمحمدعلی مہدی گردیزی اس حملے میں زخمی ہوگئے ۔ضیاء الحق کے دورِ جبر میں دوسری جمہوری کارکنوں کے ہمراہ جمہوریت کی بحالی کے لئے جدوجہد کرتے رہے۔ 1984 ء میں انہوں نے بیرسٹرتاج محمدخان لنگاہ کی قیادت میں دوسرے ساتھیوں کے ہمراہ سرائیکی صوبہ محاذ کی بنیاد رکھی اور نئے سیاسی محاذ کی منشور کی اشاعت کے لئے سرگرم ہوئے ۔7 اپریل 1989 ء کو ملتان میں تاج محمدخان لنگاہ کی قیادت میں پاکستان سرائیکی پارٹی کی بنیاد رکھی اور پی۔ایس۔پی ملتان سٹی کے صدر منتخب ہوئے۔بعدازاں وہ پی۔ایس۔پی ملتان ڈویژن کے صدر اور جماعت کے مرکزی رابطہ سیکرٹری رہے۔الحاج سیدمحمدعلی مہدی گردیزی نے پاکستان سرائیکی پارٹی کی تنظیم نو میں گہری دلچسپی لی۔ وہ جماعت کے سالانہ جلسوں اور مختلف اوقات میں سرائیکی قومی حقوق کے مظاہروں میں شریک ہوتے رہے۔1992 ء میں ملتان میں سرائیکی عالمی کانفرنس کے انتظامات میں حصہ لیا۔ستمبر1994 ء کو کراچی میں قوم پرستوں کے سیاسی اتحاد UNA کے کنونشن میں شریک ہوئے ۔1997 ء میں پاکستان سرائیکی پارٹی کے وفد کے ہمراہ ہندوستان گئے یہاں انہوں نے دہلی میں سرائیکی عالمی کانفرنس میں شرکت کی ۔ہندوستان میں ان کی ملاقات کے ۔ایل ۔بھاٹیا ، نرندرکمار،جگدیش چندربترا،کے ۔ایل شرما،سندیا بجاج ،بدھ راج اور بیرسٹرراج کمارسے ہوئی۔ الحاج سیدمحمدعلی مہدی گردیزی نے 1997 ء میں مردم شماری کے مسئلے پر پاکستان سرائیکی پارٹی کی احتجاجی تحریک میں حصہ لیا۔ یکم اور دو اکتوبر1998 ء کو اسلام آباد میں پونم کے تاسیسی اجلاسوں میں شریک ہوئے۔یکم اکتوبر کے اجلاس میں جب اخبارنویسوں نے تاج لنگاہ کے خطاب کے دوران رکاوٹ ڈالی تو سید محمدعلی مہدی گردیزی نے تاج لنگاہ کے حق میں نعرے لگائے اور سرائیکی کاز کے خلاف بات کرنے والے صحافیوں کی سرزنش کی۔ اِس واقعے کو عالمی نشریاتی ادارے بی بی سی لندن نے اپنے اردو سروس میں نشرکیا۔سرائیکی قومی حقوق کی جدوجہد میں انہوں نے کراچی ،حیدرآباد،لاڑکانہ، اسلام آباد،کوئٹہ،زیارت ،ڈیرہ بگٹی،رحیم یار خان،بہاولپور اور دوسرے شہروں کے دورے کئے ۔ سیدمحمدعلی مہدی گردیزی کی مختلف اوقات میں ذوالفقارعلی بھٹو،ممتازعلی بھٹو،جی ۔ایم سید،سید امداد حسین شاہ ، عطاء اﷲخان مینگل، اختر مینگل ، نواب اکبر بگٹی،یوسف رضا گیلانی، سیدمحمدقسور گردیزی،اجمل خٹک،میاں محمد نواز شریف، سجاد حسین قریشی،محمودخان اچکزئی، ڈاکٹر قادر مگسی ، ڈاکٹرکامل بنگش،شاہ محمود قریشی، ڈاکٹرمبشرحسن ،سیدہ عابدہ حسین،رسول بخش پلیجو ، جلال محمود شاہ ، لالہ افضل خان سواتی ، عبداللطیف بھویو ، مولانا عبدالعزیز (صدر سندھ ساگر پارٹی) ، مولانا عبیداللہ بھٹو (صدر جمعیت علماء اسلام سندھ) اور یوسف لغاری سے ملاقات ہوئی۔23 مئی2003 ء کو انہوں نے سرائیکی عوامی پارٹی کی بنیاد رکھی وہ سرائیکی قومی حقوق کے لئے مسلسل جدوجہد کررہے ہیں۔

الحاج محمد نواز خان عرف الحاج محمد نواز خان عرف دلاور خان کھچی

تحصیل میلسی کے مختلف دیہات میں مقیم کھچی خاندان ملتان ڈویژن کی ایک مسلمہ سیاسی قوت ہے ۔ قیام پاکستان کے بعد اس خاندان کے افراد (الحاج محمد یار خان کھچی ، محمد نواز خان عرف دلاور خان کھچی ، آفتاب احمد خان کھچی ۔ الحاج غلام حیدر خان کھچی ، محمد اسلم خان کھچی ، الحاج محمود خان کھچی ، جاوید اقبال خان کھچی ، سردار محمد خان کھچی )نے قومی اور صوبائی اسمبلی کے 18 الیکشن جیتے ہیں۔مزید برآں محمد ممتاز خان کھچی (براد رحقیقی دلاور خان کھچی )4 مرتبہ مسلسل ڈسٹرکٹ کونسل کے چئیرمین اور پانچویں مرتبہ ناظم ضلع وہاڑی منتخب ہوئے۔ اس خاندان کے ایک اور فرزند اللہ یار خان کھچی 6 مرتبہ میونسپل کمیٹی میلسی کے کونسلر اور 4مرتبہ چیئرمین منتخب ہوئے کھچی مشاہر کے حالاتِ زندگی اس کتاب کے مختلف صفحات پر درج ہیں فدا ٹائون میں مقیم کھچی خاندان کی سیاسی تاریخ دلاور خان کھچی کے دادا خان در محمد خان کھچی کے نام سے شروع ہوتی ہے۔در محمد خان کھچی بڑے نام اور اثر والے زمیندار تھے وہ اپنی زندگی میں ڈسٹرکٹ بورڈ ملتان کے وائس چیئرمین رہے ۔درمحمد خان کھچی تحریکِ پاکستان کے رہنمائوں نواب اللہ یار خان دولتانہ اور محمد رضا شاہ گیلانی کے قریبی دوست تھے۔ دولتانہ اور گیلانی خاندان سے کھچی خاندان کی دوستی ایک صدی کا احاطہ کرتی ہے۔ در محمد خان کھچی کے ڈیرے میں نئی عمارت کا سنگ بنیاد پیر صدر الدین شاہ گیلانی نے 1930 کے عشرے میں رکھا تھا ۔ محمدرضا شاہ گیلانی درمحمد خان کھچی اور دوسرے سیاسی مشاہیر کی سیاسی حمایت سے انگریز ڈپٹی کمشنر ای پی مون کے مقابلے میںڈسٹرکٹ بورڈ ملتانکے چیئرمین منتخب ہوئے تھے۔ دُر محمد خان کھچی 1938ء سے 1944ء تک ڈسٹرکٹ بورڈ ملتان کے وائس چیئرمین رہے۔ درمحمد خان کھچی اور انکے عظیم فرزند الحاج محمد یار خان کھچی نے 1945-46 کے انتخابات میں کہ جس کے نتیجے میں پاکستان کا قیام عمل میں آیا میلسی اور وہاڑی سے مسلم لیگی امیدوار نواب اللہ یار خان دولتانہ کے حمایت کر کے انہیں کامیابی سے ہمکنار کیا درمحمد خان کھچی (چیئرمین بحالیات کمیٹی میلسی) نے 1947 کے انقلاب کے موقع پر اجڑے ہوئے مسلمان مہاجرین کی آبادکاری اوریہاں سے غیر مسلموں کے پر امن انخلامیں نہایت قابل تحسین کردار ادا کیا۔ در محمد خان کھچی نے نومبر 1950 میں وفات پائی اور میلسی کے قدیمی قبرستان بابا نتھے شاہ میںپیوندِخاک ہوئے دلاور خان کھچی کی ولادت 1939 میں ہوئی ۔انہوں نے ایف اے تک تعلیم حاصل کی ۔ خاندانی ماحول میں قومی اور سماجی خدمت کا شعورپایا اور اپنے والد الحاج محمد یار خان کے ہمراہ سیاسی خدمات کا آغاز کیا۔ دلاور خان کھچی 1965 میں پہلی مرتبہ قومی اسمبلی کے رکن منتخب ہوئے۔ اُس وقت وہ تمام اراکین قومی اسمبلی میں کم عمر تھے۔ دلاور خان کھچی نے کراچی اور اسلام آباد کے علاوہ ڈھاکہ (بنگلہ دیش) میں بھی قومی اسمبلی کے اجلاسوں میں شرکت کی۔وہ 1966ء سے 1971ء تک یونین کونسل فدہ کے چیئرمین رہے۔  دلاور خان کھچی جب پہلی مرتبہ قومی اسمبلی کے رکن منتخب ہوئے تو حامد رضا گیلانی اس ایوان کے لیے دوسری مرتبہ منتخب ہوئے تھے۔ حامد رضا گیلانی تاریخی شخصیت ذوالفقار علی بھٹو کے قریبی دوست تھے چنانچہ 1970 حامد رضا گیلانی اور دلاور خان کھچی کا خیال تھا کہ گیلانی گروپ پیپلز پارٹی کے پلیٹ فارم پر الیکشن لڑے۔ اس وقت گیلانی گروپ میں دو آراسامنے آئیں تاہم علمدار حسین گیلانی اور شاہ محمد خان کھچی نے دوستوں کو مسلم لیگ قیوم گروپ کی طرف سے الیکشن لڑنے پر قائل کیا۔ 1977 میں حامد رضا گیلانی اور دلاور خان کھچی دونوں پیپلز پارٹی کے ٹکٹ پر قومی اسمبلی کے رکن منتخب ہوئے۔ 1985 کے غیر جماعتی انتخابات میں یوسف رضا گیلانی اور دلاور خان کھچی قومی اسمبلی کے رکن منتخب ہوئے ۔ دلاور خان کھچی 1990 اور 1997 میں بھی قومی اسمبلی کے رکن منتخب ہوئے۔ انہوں نے 8 مرتبہ قومی اسمبلی کے انتخابات میں حصہ لیا جن میں سے 5 انتخابات میں انہوں نے کامیابی حاصل کی۔ دلاور خان کھچی لوگوں کے مسائل کے حل میں ہمہ وقت مصروف عمل رہے۔ انہوں نے گیلانی خاندان کے ساتھ مل کر ملتان یونیورسٹی کے قیام کے لیے کوشش کی دلاور خان کھچی کے ادوارِاقتدار میں بے شمار ترقیاتی منصوبے مکمل ہوئے۔ انکی مساعیٔ جمیلہ سے نئے سکولوں کا اجرا۔ پرانے سکولوں کی اپ گریڈیشن رابطہ سٹرکوں اور پختہ کھالہ جات کی تعمیر ہوئی متعدد دیہات کو بجلی فراہم کی گئی۔ دیہی مراکز صحت قائم ہوئے اور بے شمار تعلیم یافتہ اور ہنر مند افراد نے ملازمت حاحل کی ۔پوری زندگی دلاور خان کھچی کا کسی سے جھگڑا نہیں ہوا۔ انکے حلقہ ٔ احباب میں جہاں میاں ممتازمحمد خان دولتانہ ۔ حامد رضا گیلانی ، چودھری فضل القادر ، سردار شوکت حیات خان ، نواب افتخار ممدوٹ ، عبدا  لصبورخان ،راجہ تری دیورائے ، مخدوم سجاد حسین قریشی ، سید یوسف رضا گیلانی ، عبدالمنعم خان ، سردار بہادر خان  اے کے بروہی ، شہزادہ محیی الدین ، نواب سر صادق محمد خان غلام مصطفیٰ کھر۔ مخدوم حسن محمود، جام صادق علی ، میاں منظور احمد وٹو، مظفر علی قز لباش، نواب صادق حسین قریشی ، فضل حق، عبدالقیوم خان ، تاج محمد جمالی، ظفر اللہ جمالی، چودھری فضل الٰہی، جام محمد یوسف ، چودھری فضل الہی، میر بلخ شیر مزاری ، غلام مصطفی جتویٔ، حسین شہید سہروردی ، ملک فیروز خان نون، میاں نواز شریف ،سردار فاروق خان لغاری، پیر پگاڑا ، چودھری شجاعت حسین اور چودھری پرویز الٰہی جیسی نامور شخصیات تھیں۔ وہاں علاقے کے غریب لوگ بھی انکے گہرے دوست تھے۔ دلاور خان کھچی نے 16 جولائی 2010 کو لاہور میں 71 سال کی عمر میں وفات پائی۔ انکی نماز جنازہ 17 جولائی 2010 کو فداٹائون میں ادا کی گئی۔ انکے جسد خاکی کو والد الحاج محمد یار خان اور دادا در محمد خان کی قبروں کیساتھ قدیمی قبرستان بابا نتھے شاہ سپرد خاک کیا گیا۔ کوئی دلاور خان کھچی کے سیاسی اصولوں سے لاکھ اختلاف کرے مگر ان کی شراقت پر کسی کو کلام نہیں۔ دلاور خان کھچی اس جہاں سے اُٹھے تو ایک زمانے کی روایت کو بھی اپنے ساتھ لے کر گئے۔ انکی موت ایک سیاسی عہد کا خاتمہ ہے ۔ دلاور خان کھچی کے چار بیٹے ڈاکٹر در محمد خان ، بیرسٹر اورنگ زیب خان جہانزیب خان اور عالمگیر خان ہیں۔ بیرسٹر اورنگ زیب خان جہازیب خان اور عالمگیر خان اپنے آباء کی خدمتِ خلق کی روایت کو جاری رکھے ہوئے ہیں۔ عالمگیر خان نے قائداعظم یونیورسٹی اسلام آباد سے ایم تاریخ کی ڈگری حاصل کی ۔

محمد جہاں زیب خان کھچی

محمد جہاں زیب خان کھچی کا یہ منفرد اعزاز ہے کہ وہ تین ماہ کی مختصر مدت میں 2 مرتبہ پنجاب اسمبلی کے رکن منتخب ہوئے۔ پہلی مرتبہ اُنہوں نے 18 فروری 2013ء کو صوبائی حلقہ 239 سے آزاد اُمیدوار کی حیثیت سے جبکہ دوسری مرتبہ 11 مئی 2013کو پاکستان تحریکِ انصاف کے ٹکٹ پر الیکشن جیتا۔ محمد جہاں زیب خان کھچی، الحاج محمد یار خان کھچی کے پوتے، محمد نواز خان عرف دِلاور خان کھچی کے بیٹے اور محمد ممتاز خان کھچی کے بھتیجے اور محمد اورنگزیب خان کھچی کے بھائی ہیں۔ کھچی مشاہیر کے حالاتِ زندگی اس کتاب کے مختلف صفحات پر درج ہیں۔
کھچی خاندان کا سیاسی اور سماجی اثر قیامِ پاکستان سے قبل قائم ہوچکا تھا۔ محمد جہاں زیب خان کھچی کے پر دادا خان دُر محمد خان کھچی آل اِنڈیا مسلم لیگ تحصیل میلسی کے صدر تھے اُنہوں نے 1934ء میں انگریز ڈپٹی کمشنر ملتان ای پی مون کے مقابلے میں مخدوم محمد رضا شاہ گیلانی کی حمایت کی تھی تب محمد رضا شاہ گیلانی ڈسٹرکٹ بورڈ ملتان کے چیئرمین منتخب ہوئے تھے۔ دُرمحمدخان کھچی 1938 تا 1944ء ڈسٹرکٹ بورڈ ملتان کے چیئرمین رہے۔ کھچی اسلاف نے 1945-46ء کے انتخابات میں مسلم لیگی اُمیدوار نواب اللہ یار خان دولتانہ کی حمایت کر کے اُنہیں کامیابی سے ہمکنار کیا تھا۔ خان دُر محمد خان کھچی اور شاہ محمد خان کھچی نے 1947ء کے انقلاب کے موقع پر ہندوئوں کے پرامن انخلاء اور مسلمان مہاجرین کی آبادکاری میں اپنی سماجی اور اخلاقی اور قومی ذمہ داریاں نبھائیں تھیں جس کی وجہ سے میلسی میں نہ تو ہندو مسلم فسادات ہوئے اور نہ ہی غیر مسلم متروکہ جائیداد کی لوٹ مار ہوئی۔1951 ء میں محمد جہازیب خان کھچی کے دادامحترم الحاج محمدیارخان کھچی پاکستان مسلم لیگ کے ٹکٹ پر ایم ایل اے منتخب ہوئے ۔محمدجہانزیب خان کھچی کے والد محترم محمدنواز خان عرف دِلاور خان کھچی پانچ مرتبہ قومی اسمبلی کے رکن منتخب ہوئے ۔محمدجہانزیب خان کھچی کے چچا محمدممتاز خان کھچی چارمرتبہ بلامقابلہ ضلع کونسل و

 
مہر ظفر اقبال

پاکستان تحریک انصاف میلسی شہر کے صدرمہر ظفر اقبال شہر کے سیاسی اور سماجی منظر نامے پر بہت نمایاں ہیں۔ وہ پیشے کے لحاظ سے وکیل ہیں اور دیوانی اور فوجداری مقدمات میں بہت مہارت رکھتے ہیں۔ مہر طفر اقبال نے اپنا سماجی مقام خود اپنی محنت سے بنایا ہے۔ مہر ظفر اقبال 4جنوری 1974ء کو محلہ اسلام پورہ میلسی میں پیدا ہوئے ان کے والد محترم مہر حاجی خدا بخش یہاں کے ایک معزز تاجر تھے اور اپنی امن پسندی کے باعث عزت کی نگاہ سے دیکھے جاتے تھے مہر ظفر اقبال تاریخی درس گاہ گورنمنٹ ہائی سکول میلسی میں زیر تعلیم رہے جہاں سے اُنہوں نے 1987میں میٹرک کا امتحان پاس کیا۔ وہ اعلیٰ تعلیم کے لیے گورنمنٹ ڈگری کالج وہاڑی اور گورنمنٹ سائنس کالج ملتان میں داخل ہوئے اور 1944ء میں BScکا امتحان پاس کیا۔
مہر ظفر اقبال انجیئرنگ کی تعلیم حاصل کرنے کے لیے ترکی چلے گئے تاہم جلد وطن واپس آگئے وہ بہاء الدین زکریا یونیورسٹی کے ذیلی ادارہ گیلانی کالج ملتان میں داخل ہوئے 2000ء میں اُنہوں نے ایل۔ایل۔بی کا امتحان پاس کیا اور میلسی میں وکالت کے پیشے سے وابستہ ہوئے۔ 2001ء کے بلدیاتی انتخابات میں مہر ظفر اقبال یونین کونسل نمبر 27میلسی شہر کے نائب ناظم منتخب ہوئے۔ مہر ظفر اقبال 2007میں کنور ریاض احمد خان کے مقابلے میں میلسی بار ایسوسی ایشن کے صدر منتخب ہوئے۔
9مارچ2007ء کو جب فوجی آمر جنرل پرویز مشرف کے چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کو معطل کیا تو پاکستان کے وکلانے اس غیر آئینی اقدام کے خلاف تاریخی جدوجہد کی اور چیف جسٹس کو اُنکے منصب پر بحال کراکے دم لیا۔ مہر طفر اقبال نے اس اقدام کے خلاف آواز بلند کی اور ہر جمعرات کو ہفتہ وار عدالتوں کے بائیکاٹ کا اعلان کیا اور پھر پورے پاکستان میں جمعرات کے دن عدالتی بائیکاٹ کا طویل سلسلہ شروع ہوگیا۔ مہر ظفر اقبال تحریک بحالی عدلیہ کے سلسلے میں لاہور،اسلام آباد، ایٹ آباد، سیالکوٹ، ملتان، اور ساہیوال میں مظاہروں میں شریک ہوئے۔ مہر ظفر اقبال عمران خان (وزیر اعظم پاکستان) کی دعوت پر پی۔ ٹی۔آئی میں شامل ہوئے۔ اُنہوں نے 2013ء میں میلسی میں پی۔ ٹی۔ آئی کی انتخابی مہم میں حصہ لیا۔ وہ 27جون 2014 ء کو بہاولپور اور 10اکتوبر 2014ء کو ملتان میں پی۔ ٹی۔ آئی کے جلسوں میں شریک ہوئے جس سے عمران خان اور دوسرے رہنماؤں نے خطاب کیا۔
31اکتوبر 2015ء کو مہر ظفر اقبال پی۔ ٹی۔ آئی کے ٹکٹ پر میونسپل کمیٹی میلسی کے کونسلر منتخب ہوئے۔ مہر ظفر اقبال پاکستان تحریک انصاف میلسی شہر کے صدر مقرر ہو گئے اور تا حال اس منصب پر فائز ہیں۔ 2018ء کے انتخابات میں مہر ظفر اقبال نے پاکستان تحریک انصاف کی انتخانی مہم میں بھر پور حصہ لیا۔ اس موقع پر محمد اورنگ زیب خان کھچی قومی اسمبلی جبکہ محمد جہانزیب خان کھچی پاکستان تحریک انصاف کے ٹکٹ پر پنجاب اسمبلی کے رکن منتخب ہوئے۔

شہزاد خان کھچی


یونین کونسل  89 فدا تحصیل میلسی ضلع وہاڑی کے چیرمین شہزاد خان کھچی سابق ناظم ضلع وہاڑی و سابق چیر مین ضلع کونسل وہاڑی محمد ممتاز خان کھچی کے بیٹے تحریک پاکستان کے کارکن الحاج محمد یار خان کھچی کے پوتے اور سابق رکن قومی اسمبلی آفتاب احمد خان کھچی کے بھائی ہیں ۔ کھچی خاندان کا شمار ملتان ڈویژن کے اُن بڑے خاندانوں میں ہوتا ہے جن کا سیاسی اور سماجی اثرقیام پاکستان سے پہلے قائم ہو چکاتھا۔ شہزاد خان کھچی کے پر دادا خان در محمد خان کھچی تحصیل میلسی کے مختلف دیہات میں تین ہزار ایکڑ اراضی کے مالک تھے ۔ در محمد خان کھچی کے چچا نور محمد خان کھچی تحصیل میلسی کے ذیل دار تھے دُ ر محمد خان کھچی آل انڈیا مسلم لیگ میلسی کے صدر تھے اور ڈسٹرکٹ بورڈ ملتان کے وائس چیرمین تھے ۔ 1945-46کے انتخابات میں اُنہوں نے مسلم لیگی امیدوارکی کامیابی میں اہم کردار ادا کیا۔در محمد خان کھچی نے قیام پاکستان کے وقت میلسی میں ہندوؤں کے پر امن انخلا اور یہاں مسلمان مہاجرین کی آبادکاری میں بھی اہم کردار ادا کیا۔ الحاج محمد یار خان کھچی 1951میں مسلم لیگ کے ٹکٹ پر پنجاب اسمبلی کے رکن  منتخب ہوئے تھے الحاج محمد یار خان کھچی 1956تا1958مغربی پاکستان اسمبلی کے رکن بھی رہے ۔ الحاج محمد یار خان کھچی نماز پنج گانہ بالالتزام اور تہجد حسب توفیق پڑھتے تھے ۔ وہ 10مئی 1964کو فریضہ حج ادا کرنے کے بعد سعودی عرب میں اچانک وفات پاگئے ۔ شہزاد خان کھچی کے تایا محمد نواز خان عرف دلاور خان کھچی پانچ مرتبہ قومی اسمبلی کے رکن منتخب ہوئے تھے ۔شہزاد خان کھچی کے نانا الحاج اللہ یار خان کھچی  4 مرتبہ میونسپل کمیٹی کے چیر مین رہے وہ کچھ عر صہ مارکیٹ کمیٹی میلسی کے چیر مین بھی رہے ۔ شہزاد خان کھچی کے ماموں سردار خان کھچی   18فروری 2008کو پاکستان پیپلز پارٹی کے ٹکٹ پر پنجاب اسمبلی کے رکن منتخب ہوئے سردار خان کھچی میونسپل کمیٹی میلسی اور مارکیٹ کمیٹی کے چیرمین بھی رہے ۔کھچی خاندان کے کچھ دوسرے افراد بھی قومی اورپنجاب اسمبلی کے رکن اور مختلف عوامی عہدوں پر فائز رہے ہیں اس خاندان کا تذکرہ میلسی ،وہاڑی اور ملتان پر لکھی گئی کتابوں میں کیا گیا ہے۔
شہزاد خان کھچی 11ستمبر 1979کو اپنے آبائی گاؤں فدا میں پیدا ہوئے وہ معروف تعلیمی ادارے ایچی سن کالج  لاہور میں زیر تعلیم رہے جہاں سے اُنہوں نے میٹرک کا امتحان پاس کیا اور مزید دوسا ل ایچی سن سے اُنہوں نے ایف ایس سی مکمل کی بعد میں انہوں نے بی اے کا امتحان پاس کیا

Business Management سے Kings College London بعد ازاں برطانیہ گئے جہاں اُنہوں نے
کا ڈپلومہ حا صل کیا ۔ شہزاد خان کھچی نے آبائی پیشہ زراعت کے ساتھ ساتھ بزنس کا آغاز بھی کیا۔ وہ اپنے وال محمد ممتاز خان کھچی بھائی آفتاب احمد خان کھچی اور محمد کزن محمد اورنگ زیب خان کھچی و محمد جہانزیب خان کچھی کے ہمراہ پاکستان تحریک انصاف میں شامل ہوئے ۔ 31اکتوبر 2015کو شہزاد خان کھچی یونین کونسل فداکے چیر مین منتخب ہوئے ۔ اس موقع پر اُن کے بھائی محمد اعظم خان کھچی یونین کونسل فتح پور کے چیر مین منتخب ہوئے ۔ علاوہ ازیں کھچی گروپ کے متعدد دوسرے افراد بھی پی ٹی آئی کے ٹکٹ پر ضلع وہاڑی کی مختلف یونین کونسلوں کے چیر مین منتخب ہوئے کھچی گروپ کی قیادت محمد ممتاز خان کھچی کرتے ہیں ۔

رانا ضیاء خاں

پیپلز یوتھ آرگنائزیشن (PYO) ضلع وہاڑی کے صدر رانا ضیاء خاں کے والد محترم رانا محمد دین خاں کا بڑا نام اور وقار تھا۔وہ میلسی کے مختلف دیہات میں زرعی زمینوں کے مالک تھے۔ رانا محمد دین خاں کا خاندان 1947ء کے انقلاب کے بعد ہندوستان سے ہجرت کر کے پاکستان آیا تھا۔ رانا محمد دین کے والد محترم ضابطہ خاں موضع دیوانہ تحصیل و ضلع حصار میں 1400ایکڑ زرعی اراضی کے مالک تھے۔ رانا محمد دین خاں فلاحی منصوبوں میں دلچسپی لیتے تھے اور ایوب خان کے دور حکومت میں یونین کونسل عالم پور کے رکن منتخب ہوئے تھے اُنہوں نے بستی اظہر آباد میں پرائمری سکول کے اجرا اور محکمہ زراعت کے دفتر کے لیے 2,2کنال زمین کا عطیہ دیا تھا۔ وہ ایوانِ زراعت میلسی کے جنرل سیکرٹری مقرر ہوئے تھے۔ رانا محمد دین خاں کا شتکاروں کے مسائل کے حل میں گہری دلچسپی لیتے تھے۔ وہ سماجی کاموں میں مصروف رہے اُنہوں نے میلسی میں پاکستان پیپلز پارٹی (پٹھان گروپ) کی انتخابی مہمات میں بھرپور حصہ لیا اور عزت و احترام کی زندگی گزارنے کے بعد وفات پا گئے۔
رانا ضیاء خاں کی ولادت 4فروری 1981کو موضع فدا میں ہوئی۔ وہ تاریخی درسگاہ گورنمنٹ ہائی سکول میلسی میں داخل ہوئے جہاں سے اُنہوں نے 1996ء میں میٹر ک کا امتحان پاس کیاعملی زندگی میں آنے کے بعد رانا ضیاء خاں نے زراعت کا آبائی پیشہ اختیار کیا۔رانا ضیاء خاں نے گھریلو ماحول میں سماجی خدمت کا شعور پایا اور اپنے والد کے ہمراہ لوگوں کے دُکھ سکھ میں شریک ہونے لگے۔
رانا ضیاء خاں پیپلز پارٹی کے سیاسی فلسفے اور بے نظیر بھٹو کی مظلومیت سے متا ثر ہو کر پاکستا ن پیپلز پارٹی میں شامل ہوئے۔ اگست 2013ء میں پیپلز یوتھ آرگنائز یشن (PYO) ضلع وہاڑی کے صدر مقرر ہوئے اُنہوں نے پیپلز پارٹی کے منشور کی اشاعت میں دلچسپی لی اور محمود حیات خان عر ف ٹوچی خان کے ہمراہ پاکستان پیپلز پارٹی کے اجلاسوں میں شرکت کرنے لگے۔ وہ اس سلسلے میں ملتان، وہاڑی، بوریوالہ، گڑھی خدا بخش،لاڑکانہ اور دیگر مقامات پر گئے۔ رانا ضیاء خاں، محمود حیات خاں عرف ٹوچی خاں کی زیر قیادت پی پی پی کے وفد کے ہمراہ 4اپریل کو گڑھی خدا بخش جاتے ہیں۔
رانا ضیاء خاں سمجھتے ہیں کہ پاکستان شدید سیاسی بحران سے دو چار ہے اور بلاول بھٹو زرداری اس ملک کو بحران سے نکالنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔رانا ضیاء الحق، محمود حیات خاں کے ہمراہ پاکستان پیپلز پارٹی کے پلیٹ فارم پر عوامی رابطے جاری رکھے ہوئے ہیں۔

راؤ محمد فاروق خاں

انجمن کا شتکاران پنجاب (رجسڑڈ) ضلع وہاڑی کے صدراور سابق رکن تحصیل میونسپل ایڈمنسٹریشن میلسی راؤ محمد فاروق خاں میلسی کے سیاسی اور سماجی منظر نامے پر بہت نمایاں ہیں۔وہ پیشے کے اعتبار سے زمیندار ہیں اور اُنہوں نے کاشتکاروں کے حقوق کے لیے گراں قدر خدمات انجام دی ہیں۔قیام پاکستان سے پہلے اُن کا خاندان ہندوستان کے ضلع حصار میں رہتا تھا راؤ محمد فاروق خاں کے دادا حاجی عبدالقادر خاں ڈولٹاں تحصیل فتح آباد کے ایک معزز زمیندار تھے۔ 1947کے انقلاب کے بعد حاجی عبدالقادر خاں اپنے خاندان اور برادری کے ہمراہ ہجرت کرکے میلسی آئے۔ یہاں اُنہیں اور ان کی برادری کے دوسرے افراد کو موضع میلسی میں زرعی رقبہ الاٹ کیا گیا۔ راؤ محمد فاروق خاں کی پیدائش مئی 1974میں سیالکوٹ میں اُنکے ننھیال میں ہوئی۔ راؤ محمد فاروق خاں کے والد راؤ منیر احمد خاں میلسی میں زمیندارہ کرتے ہیں۔ راؤ محمد فاروق خاں کے تایا محتر م راؤ عبدالرزاق خاں کا بڑا نام اور وقار تھا۔ میلسی شہر کے وسط میں اُنکے ڈیرے پر دوست اور مسافر قیام کرتے تھے۔ راؤ عبدالرزاق خاں نے مہمان نوازی کی مستحسن روایت کو اپنایا جس کی وجہ سے ان کی عزت اور وقار میں بہت اضافہ ہوا۔ راؤ عبدالرزاق خاں عزت اور احترام کی زندگی گزارنے کے بعد وفات پا گئے اُن کی وفات کے بعد راؤ عبدالرزاق خاں کے بھائیوں، بیٹوں اور بھتیجوں نے مہمان نوازی کی روایت کو جاری رکھا۔ راؤ عبدالرزاق خاں کے بھائی راؤ بشیر احمد خاں 1983میں میونسپل کمیٹی میلسی کے رکن منتخب ہوئے۔
راؤ محمد فاروق خاں نے پرائمری تعلیم سیالکوٹ سے حاصل کی بعد میں وہ تاریخی درسگاہ گورنمنٹ ہائی سکول میلسی میں داخل ہوئے جہاں سے اُنہوں نے 1990میں میٹرک کا امتحان پاس کیا۔ راؤ محمد فاروق خاں صادق ایجرٹن کالج بہاولپور میں زیر تعلیم رہے اور1992میں ایف اے کا امتحان پاس کیا اُنہوں نے غلہ منڈی میلسی میں آ ڑھت کا کاروبار شروع کیا اور اس کے ساتھ اپنے آبائی پیشہ زراعت سے وابستہ ہوئے۔ راؤ محمد فاروق خاں نے عوامی اور سماجی رابطوں کو بڑھایا۔وہ 2001میں تحصیل میونسپل ایڈمنسٹریشن میلسی کے آزادحیثیت سے کسان ممبر منتخب ہوئے اور 2005تک اس عہدے پر فائز رہے راؤ محمد فاروق خاں کا انتخاب اُن کے خاندان کی سماجی خدمات کا اعتراف تھا۔ راؤ محمد فاروق 2003میں ایک انتخابی عمل کے ذریعے دی پنجاب پرونشل کو آپریٹو سوسائیٹز(رجسٹرڈ) لاہور کے بورڈ آف ڈائریکٹرز کے ممبر منتخب ہوئے۔
2005میں راؤ محمد فاروق خاں دوسری مرتبہ آزاد حیثیت سے تحصیل میونسپل ایڈمنسٹریشن میلسی کے کسان ممبر منتخب ہوئے۔ راؤ محمد فاروق خاں 2016میں انجمن کاشتکار ان پنجاب (رجسٹرڈ) میں شامل ہوئے اور وہاڑی میں اس تنظیم کے صدر منتخب ہوئے راؤ محمد فاروق خاں نے 2018میں پاکستان تحریک انصاف میں شمولیت اختیار کی اور محمد اورنگ زیب خاں کھچی (بعد ازاں ایم۔ این۔ اے) اور محمد جہاں زیب خاں کھچی (بعد ازاں صوبائی وزیر ٹرانسپورٹ) کی انتخابی مہم میں بھر پور حصہ لیا۔
 
ڈاکٹر نخبہ تاج لنگاہ

دُخترِ سرائیکستان ڈاکٹر نخبہ تاج لنگاہ تاریخی شخصیت بیرسٹر تاج محمد خان نگاہ کی اکلوتی بیٹی ہیں ۔ بیرسٹر تاج محمد خان لنگاہ نے 7کروڑ افراد پر مشتمل سرائیکی قوم کی شناخت پیدا کی اور صوبہ سرائیکستان کے قیام کے لئے تادمِ آخر مصروف عمل رہے ۔ بیرسٹر تاج محمد خان لنگاہ کے حالات زندگی اس کتاب کے دوسرے صفحات پر درج ہیں ۔ ڈاکٹر نخبہ تاج لنگاہ 25نومبر 1973ء کو لاہور میں پیدا ہوئی ۔ وہ بیکن ہاءوس پبلک سکول لاہور میں زیر تعلیم رہیں ۔ انہوں نے 1989ء میں تعلیمی بورڈ لاہور سے میٹرک اور1991ء میں ایف ایس سی کا امتحان پاس کیا ۔ انہوں نے 1993ء میں پنجاب یونیورسٹی سے بی اے کیا اور 1995ء میں اعلیٰ تعلیم کے لئے برطانیہ چلی گئیں وہ معروف تعلیمی ادارے یونیورسٹی آف بکنگھم میں داخل ہوئیں ۔ یہاں سے انہوں نے 1997ء میں بی اے آنرز کا امتحان پاس کیا ۔ ڈاکٹر نخبہ تاج لنگاہ 1997ء میں اپنے والد کی قیادت میں ایک وفد کے ہمرہ دبئی گئیں ، جہاں انہوں نے سرائیکی عالمی کانفرنس میں شرکت کی ۔ ہندوستان کے اراکین پارلیمنٹ اور متعدد سیاست دانوں نے تاج لنگاہ کے اعزاز میں تقریبات منعقد کیں ، جس کی وجہ سے ڈاکٹر نخبہ تاج لنگاہ کو عالمی سیاست کے اصولوں کو سمجھنے کا موقع ملا ۔ 

اسی سال وہ ایک مرتبہ پھر ہندوستان گئیں ، یہ اُن کا تعلیمی، تحقیقی اور مطالعاتی دورہ تھا ۔ انہوں نے معروف محقق و مصنف خشونت سنگھ اوردوسرے ہندوستانی سکالروں سے ملاقات کی ۔ 1998ء میں ڈاکٹر نخبہ تاج لنگاہ نے ;85;niversity of ;87;arwick (;8575;) سے ایم اے (انگلش) کا امتحان پاس کیا ۔ 

ڈاکٹر نخبہ لنگاہ پی ایچ ڈی کرنے کے لئے ;85;niversity of ;76;eeds (;8575;) میں داخل ہوئیں ۔ انہوں نے ڈاکٹرانینہ جہاں آرا کبیر کی زیر نگرانی ;69;xpressing ;82;esistance ;84;hrough ;83;araiki ;80;oetry in ;80;ost ;67;olonial ;80;akistanکے موضوع پر تحقیقی مقالہ تحریر کیا، جس پر انہیں پی ایچ ڈی انگلش کی ڈگری دی گئی ۔ ڈاکٹر نخبہ تاج لنگاہ ملتان کے کاروانِ سیاست میں اس لحاظ سے ممتاز ہیں کہ انہوں نے برطانیہ کی تین اور پاکستان کی ایک یونیورسٹی سے ڈگری حاصل کی ہے ۔ 

ڈاکٹر نخبہ تاج لنگاہ نے عظیم سرائیکی شعراء ڈاکٹر اسلم انصاری ، سفیر لاشاری اور اسلم جاوید کے سرائیکی کلام کا انگریزی زبان میں ترجمہ کیا ہے ۔ علاوہ ازیں انہوں نے شریک مترجم ;76658673867365; ;7182696978766587;کے ساتھ مل کر معروف شاعرہ نوشی گیلانی کے کلام کا بھی انگریزی میں ترجمہ کیا جو 2008ء میں کتابی صورت میں لندن سے شاءع ہوا ۔ ڈاکٹر نخبہ تاج لنگاہ اپنے والد کی بے مثال اور غیر معمولی سیاسی جدوجہد سے بہت متاثر ہوئیں اور تعلیم کے ساتھ ساتھ سرائیکی قومی حقوق کی جدوجہد میں بھی شریک ہوئیں ۔ وہ یورپ میں مقیم سرائیکیوں کی عالمی تنظیم ;83658265737573; ;73788469827865847379786576; ;70798578686584737978;کی کلچرل سیکرٹری مقرر ہوئیں ۔ انہوں نے برطانیہ میں اپنے والد کے ہمراہ سرائیکی قومی حقوق کے لئے جدوجہد کی ۔ 

ڈاکٹر نخبہ تاج لنگاہ تعلیم مکمل کرنے کے بعد وطن واپس آگئیں ۔ اور تدریس کے پیشے سے وابستہ ہوئیں وہ ;70;cیونیورسٹی لاہور میں شعبہَ انگریزی سے منسلک ہوئیں ۔ بعد میں وہ اس شعبے کی سربراہ مقرر ہوئیں ، ڈاکٹر نخبہ تاج لنگاہ کے تعلیمی اور تدریسی اعزازات سرائیکی قوم کے لئے قابل فخر ہیں ۔ ڈاکٹر نخبہ تاج لنگاہ اپنے والد کی وفات (7 اپریل 2013ء )کے بعد پاکستان سرائیکی پارٹی کی صدر منتخب ہوئیں ۔ 

سیّد تصور حسین بخاری

سیّد تصور حسین بخاری خلیفۂ چہارم سیدنا حضرت علی رضی اﷲعنہ کی فاطمی اولاد سے ہیں۔ حضرت علی رضی اﷲعنہ نب�ئ آخر الزماں حضرت محمد ﷺ کے دستِ راست تھے۔ اُنہوں نے اِسلام کی اشاعت و حفاظت اور اسکی سرفرازی کے لیے بے مثال اور غیر معمولی خدمات انجام دیں۔
ملتان ڈویژن سے تعلق رکھنے والے مشاہیرِ سیاست یوسف رضا گیلانی، فخر اِمام، خاور علی شاہ، جاوید علی شاہ، محمد مختار نقوی،سید نسیم مہدی، مجاہد علی شاہ، دیوان عاشق بخاری، علی حسین گردیزی مرحوم، محمد قسور گردیزی مرحوم، وغیرہ سیّد ہیں۔ ملتان ڈویژن کے مختلف اضلاع میں انکی زرعی زمینیں ہیں۔ سیّد اسلاف مختلف زمانے میں ہجرت کر کے یہاں آئے۔
پاکستان سرائیکی پارٹی ضلع وہاڑی کے صدر سیّد تصور حسین بخاری یکم مارچ 1974ء کو چک مغل میں پیدا ہوئے۔ اُنکے والدِ محترم سیّد سکندر حسین بخاری یہاں کے ایک معزز زمیندار تھے۔ سید سکند ر حسین بخاری عزت و احترام کی زندگی گزارنے کے بعد 8مئی2017کو وفات پا گئے۔ سیّد تصور حسین بخاری نے گورنمنٹ ہائی سکول 211-wb تحصیل میلسی سے 1991ء میں میٹرک کا اِمتحان پاس کیا اور بی اے تک تعلیم گورنمنٹ ڈگری کالج میلسی سے حاصل کی۔ عملی زندگی میں آنے کے بعد میلسی شہر میں پراپرٹی کے کاروبار سے وابستہ ہوئے۔ وہ زمانۂ طالبِ علمی میں فٹ بال کے کھلاڑی تھے۔ بعد میں بھی اُنہوں نے کھیلوں میں دلچسپی قائم رکھی۔ سیّد تصور حسین بخاری رکبی ٹیم تحصیل میلسی کے صدر اور فرینڈز فٹ بال کلب میلسی کے صدرہیں۔ سیّد تصور حسین بخاری سماجی تنظیم ینک میں سوسائٹی کے چیئرمین بھی ہیں۔
سیّد تصور حسین بخاری نے 27 ستمبر 2013ء کو پاکستان سرائیکی پارٹی کی قائد محترمہ نخبہ تاج لنگاہ کا میلسی آمد پر استقبال کیا۔ اس موقع پر اُنہوں نے نخبہ تاج لنگاہ کے اعزاز میں چائے کی دعوت دی اور پی ایس پی میں شمولیت کا اعلان کیا۔
سیّد تصور حسین بخاری کو پاکستان سرائیکی پارٹی ضلع وہاڑی کا صدر مقرر کیا گیا۔ وہ پی ایس پی کے منشور کی اشاعت میں مصروفِ عمل ہوئے۔ سیّد تصور حسین بخاری نے مصنف کے ساتھ مل کر شہر میں کسانوں کے حقوق کے لیے تحریک شروع کی۔
سیّد تصور حسین بخاری کی دعوت پر مہر ممتاز احمد، میاں جاوید اقبال اور کچھ دوسرے افراد نے پاکستان سرائیکی پارٹی میں شمولیت اختیار کی۔ سیّد تصور حسین بخاری 5 جنوری 2016ء کو پراپرٹی ڈیلرز ایسوسی ایشن میلسی کے صدر جبکہ حاجی عبدالباسط اویسی جنرل سیکرٹری اور عبدالغفار جموں چیئرمین منتخب ہوئے۔ سیّد تصور حسین بخاری لوگوں کے ساتھ رابطے میں رہتے ہیں۔ اور ان کے دُکھ سُکھ میں شریک ہوتے ہیں۔ وہ اپنی توفیقات سے بڑھ کر نادار اور غریب افراد کی مدد کرتے ہیں۔

 

عزیز الرحمٰن سونا

پاکستان پیپلز پارٹی میلسی سٹی کے صدر، سابق کونسلر میونسپل کمیٹی میلسی عزیز الرحمٰن سونا 7جنوری 1984ء کو میلسی میں پیدا ہوئے۔ انکا خاندان 1947ء کے انقلاب کے بعد ہندوستان سے یہاں آیا تھا۔ عزیز الرحمٰن سونا کے والد محترم الحاج عبدالرحمن میلسی کے ایک شریف اور نہایت دیانت دار تاجر تھے۔ اُنہوں نے سوہن حلوے اور دوسری اقسام کی مٹھائی کا بزنس شروع کیا۔الحاج عبدالرحمن کا تیار کردہ سوہن حلوا پورے پاکستان میں پسند کیا گیااور ذائقہ شناس اس پروڈکٹ کو بیرون ملک اپنے دوستوں کو تحفے کے طور پر بھیجنے لگے۔ الحاج عبدالرحمن ایک پُر امن شہری تھے اور حسب ِ توفیق نادار افراد کی مدد کرتے وہ عزت و احترام کی زندگی گزارنے کے بعد 26مارچ 2018ء کو وفات پا گئے۔ عزیزالرحمن سونا تاریخی درس گاہ گورنمنٹ ہائی سکول میلسی میں زیر تعلیم رہے جہاں سے اُنہوں نے 2001ء میں میٹرک کا امتحان پاس کیا۔وہ گونمنٹ ڈگری کالج میلسی میں داخل ہوئے اُنہوں نے2003ء میں ایف ایس سی اور 2006ء میں بی اے کا امتحان پاس کیا۔ زمانہ ء طالب علمی میں عزیز الرحمن سونا کھیلوں اور دوسری ہم نصابی سرگرمیوں میں حصہ لیتے تھے۔ اُنہوں نے کرکٹ اور بیس بال میں اپنی صلاحیتوں کو منوایا۔ عزیزالرحمٰن سونا صوبائی سطح پر تقریباً چار سال پنجاب بیس بال کی ٹیم میں کھیلتے رہے۔ عملی زندگی میں آنے کے بعد عزیز الرحمٰن سونا اپنے والد کے کاروبار میں شریک ہوئے اُنہوں نے کاروبار کے ساتھ فلاحی اُمور میں بھی دلچسپی لی اور مختلف اوقات میں شہر میں بلڈ بنک اور آئی کیمپ لگائے۔
عزیز الرحمٰن سونا پاکستان پیپلز پارٹی میں شامل ہوئے 2009ء میں پیر زادہ نوازش علی نے ایک نوٹیفیکشن کے ذریعہ اُنہیں پیپلز یوتھ آرگنائزیشن میلسی کا صدر مقرر کیا۔2013میں اُنہوں نے گیلانی ہاؤس ملتان میں محمود حیات خان عرف ٹوچی خان کے ہمراہ صدر آصف علی زرداری سے ملاقات کی بعد میں اُنہوں نے پی پی پی کے منشور کی اشاعت اور جماعت کی مقبولیت کے لیے لوگو ں سے رابطے کیے۔
عزیز احمن سونا 31اکتوبر 2015ء کو پیپلز پارٹی کے ٹکٹ پر پاکستان مسلم لیگ ن کے اُمید وار قاضی میاں غوث اقبا ل، پاکستان تحریک انصاف کے اُمید وار شیخ حاجی ساجد اور آزاد اُمید وار سید صداقت حسین نقوی کے مقابلے میں مؤنسپل کمیٹی میلسی کے کونسلر منتخب ہوئے عزیز الرحمٰن سونا پاکستان پیپلز پارٹی میں بہت فعال ہیں۔ اُنہوں نے لاڑکانہ، گڑھی خدا بخش،ملتان، لاہوراوردوسرے مقامات پر پیپلز پارٹی کے جلسوں اور دیگر سیاسی پروگراموں میں شرکت کی ہے۔ وہ بلاول ہاؤس لاہور میں پارٹی کے چیرمین بلاول بھٹو زرداری سے بھی ملے ہیں۔
2017ء میں محمود حیات خاں عرف ٹوچی خان نے اُنہیں پاکستان پیپلزپارٹی میلسی شہر کا صدر مقرر کیا۔عزیز الرحمٰن سونا سمجھتے ہیں کہ پاکستان سیاسی بحران کا شکار ہے اور صرف پیپلز پارٹی ملک کو اس بحران سے نکال سکتی ہے۔

محمد عمران خان کھچی چیرمین یونین کونسل جہان پور 

کھچی خاندان کا شمار تحصیل میلسی کے بڑے خاندانوں میں ہوتا ہے ۔ یہ خاندان تحصیل میلسی کے مواضعات فدا۔ ڈھوڈاں ۔ شیر گڑھ۔ سرگانہ ۔ ترکی ۔ شتاب گڑھ ۔ علی واہ ۔ عمر کھچی ۔ ڈھمکی اور حلیم کھچی میں زرعی زمینوں کا مالک ہے کھچی خاندان کے بعض افراد قومی اسمبلی اور بعض دوسرے افراد پنجاب اسمبلی کے رکن رہے ہیں ۔ محمد ممتاز خان کھچی کا یہ منفرد اعزاز ہے کہ وہ 4مرتبہ مسلسل ضلع کونسل وہاڑی کے بلا مقابلہ چیرمین منتحب ہوئے ۔ محمد ممتاز خان کھچی 2001تا2005ضلع وہاڑی کے ناظم اعلیٰ بھی رہے۔ محمد ممتاز خان کھچی کے بڑے بھائی بھی محمد نواز عرف دلاور خان کھچی 5مرتبہ قومی اسمبلی کے رکن منتخب ہوئے ۔ اس خاندان کے معروف زمیندار محمد عمران خان کھچی چیرمین یونین کونسل جہانپور 1984میں پیدا ہوئے ۔ اُنکے والد صاحب خان کھچی ایک امن پسند زمیندار تھے ۔وہ ڈھمکی اور حلیم کھچی میں زرعی زمینوں کے مالک تھے ۔ صاحب خان کھچی مارچ 2006میں وفات پا گئے ۔ محمد عمران خان کھچی کے داد ا دلاور خان کھچی موضع ڈھمکی کے نمبردار تھے ۔ محمد عمران خان کھچی نے میٹرک تک تعلیم ملتان پبلک سکول سے حاصل کی بعد ازاں وہ معروف تعلیمی ادارے گورئمنٹ ایمرسن کالج ملتان میں داخل ہوئے یہاں سے اُنہوں نے 2009میں بی اے کا امتحان پاس کیا۔ محمد عمران خان کھچی نے عملی زندگی میں آنے کے بعد زراعت کا آبائی پیشہ اختیار کیا ۔ محمد عمران خان کھچی لوگوں کے دکھ سکھ میں شریک ہونے لگے جس کی وجہ سے اُنہیں بہت مقبولیت ملی ۔ محمد عمران خان کھچی کچھ عرصہ قبل محمد ممتاز خان کھچی ، محمد اورنگ زیب خان کھچی اور محمد جہاں زیب خان کھچی کے ہمراہ پاکستان تحریک انصاف میں شامل ہوئے ۔ محمد عمران خان کھچی میلسی ۔ ملتان اور وہاڑی میں پی ۔ٹی ۔ آئی کے جلسوں میں شریک ہوئے ہیں ۔
30۔اکتوبر 2015کو محمد عمران خان کھچی پی ۔ ٹی ۔آئی کے ٹکٹ پر سردار خان کھچی کے مقابلے میں یونین کونسل جہان پور تحصیل میلسی کے چیرمین مقرر ہوئے ۔ اس موقع پر اُن کے ساتھ ملک محمد یوسف ارائیں وائس چیرمین منتحب ہوئے ۔ محمد عمران خان کھچی اپنے ڈیرے میں بیٹھ کر کوگوں کے مسائل سنتے ہیں اور اُن کے حل کے لیے ہر ممکن کوشش کرتے ہیں ۔