سید یوسف رضا گیلانی

جدیدملتان کے معمار ،فرزندِاولیاء،اسیرجمہوریت،نقیب ِ سرائیکستان ،سابق وزیر اعظم پاکستان سید یوسف رضا گیلانی اپنی امن پسندی،دوست شناسی،انسانی ہمدردی،اپنے مزاج کی شرافت اوراپنے آباکی بے مثال اور غیرمعمولی قومی خدمات کی بدولت معاصرسیاست دانوں میں منفرداور ممتازہیں ۔ تاریخ اور سیاست کا ہر کردارمتنازعہ ہوتا ہے ،اس قانون کا اطلاق سید یوسف رضا گیلانی پر بھی ہوتا ہے چنانچہ پاکستان میں ہر شخص انہیں اپنے اپنے نقطہ نظر سے دیکھتا اور سمجھتا ہے۔مگر ربِ کریم اور صاحب ِالطافِ عمیم کی  خاص عنایت سے اُن کے کریڈٹ پریہ تاریخی حقیقت موجود ہے کہ ان کی وزارتِ عظمیٰ کے دوران پاکستان میں کوئی سیاسی اسیر نہ تھا ۔سیدیوسف رضا گیلانی ریاستی جبراورسیاسی انتقام کا نشانہ بنے مگر انہوں نے کسی سے انتقام نہیں لیا۔پاکستان کا سیاسی ماحول جوالزامات اوردُشنام طرازی سے داغدار ہے وہاں سیدیوسف رضا گیلانی کی گفتگو’’وہ بولے تو باتوں سے پھول جھڑتے ہیں‘‘کی مصداق ہوتی ہے۔خدااِس وجودِ گرامی کو اپنی حفظ و امان میں رکھے۔سیدیوسف رضا گیلانی 9 جون 1952کو عروس البلاد کراچی میں پیدا ہوئے۔ ان کا خاندان اشاعت ِ اسلام، فروغِ علم، امن پسندی اور تحریک پاکستان میں شمولیت کے باعث زمانے میں ممتاز رہا ہے۔ گیلانی حسنی الحسینی سید ہیں۔ سید یوسف رضا گیلانی کے جد امجد سید بندگی محمد غوث حلبی 9 ویں صدی عیسوی میں اشاعت ِ اسلام کی غرض سے شام سے ہجرت کرکے اوچ شریف آئے تھے۔ سید بندگی محمد غوث کا سلسلہ نسب پیر پیران حضرت غوث الاعظم میراں محیی الدین شیخ عبدالقادر جیلانی سے ملتا ہے۔ سید بندگی محمد غوث کی اولاد میں سے ایک بزرگ حضرت سید ابو الحسن جمال الدین معروف بہ حضرت موسیٰ پاک شہید ( وفات 1010ھ ) ملتان میں آسودۂ خاک ہیں۔ آپ کا مزار اندرون پاک دروازہ مرجعِ خلائق ہے۔ سید یوسف رضا گیلانی انہی کی اولاد میں سے ہیں۔ گیلانی اولیاء کے مزارات ملتان کے علاوہ دوسرے شہروں میں بھی ہیں تاریخ کے مطالعے سے معلوم ہوا ہے کہ ملتان کا گیلانی خاندان قیام پاکستان سے قبل اشاعت اسلام اور قومی اور سماجی خدمات کی بدولت نہایت قدر و عزت کی نگاہ سے دیکھاجاتا تھا ۔ رئوسائے ملتان، بوسن، کھچی، سندھل، کانجو، سید ، ہراج نون، ڈیہڑوغیرہ ان کے عقیدت مند اوردوست تھے۔ قیام پاکستان سے پہلے گیلانی خاندان اسلامی اور قومی تحریکوں میں پیش پیش رہا۔ گیلانی اسلاف نے تحریک خلافت اور تحریک آزادی میں قائدانہ کردار ادا کیا۔ سید زین العابدین گیلانی اسلام کی سربلندی کے لیے سب کچھ قربان کرنے کا جذبہ رکھتے تھے۔ انہوں نے تحریک خلافت میں حصہ لیا۔ پیر صدر الدین شاہ ( پردادا  یوسف رضاگیلانی ) کے بیٹے محمد رضا گیلانی بھی تحریک خلافت سے بہت متاثر تھے۔ انہیں ترکوں کے حق میں تقریر کرنے اور طلبہ کو منظم کرنے کی پاداش میں کالج سے خارج کردیا گیا تھا۔ مسلمانوں کی جانی دفاع کے لیے سید زین العابدین نے ایک عسکری دستہ منظم کیا تھا جس کی وجہ سے ہندوئوں کو مسلمانوں پر حملے کی جرأت نہ ہوئی تھی۔ اس سیاسی پس منظر کے ساتھ جب گیلانی خاندان نے آل انڈیا مسلم لیگ میں شمولیت اختیار کی تو ملتان میں سبز جھنڈے نظر آنے لگے۔ سید زین العابدین گیلانی، سید علمدار حسین گیلانی ( والد سید یوسف رضا ) اور دوسرے گیلانی مشاہیر نے لاہور میں اس تاریخی اجتماع میں شرکت کی جس میں قرار داد پاکستان منظور کی گئی۔ 1940 کے عشرے میں جب ہندوستان کے مسلمان حلقوں میں ہر طرف ’’بن کے رہے گا پاکستان‘‘، ’’لے کے رہیںگے پاکستان‘‘ کے نعرے لگ رہے تھے۔ اس وقت گیلانی خاندان ہی ملتان میں آزادی کا نقیب تھا۔ بانی ٔ پاکستان قائد اعظم محمد علی جناح کو جب ملتان آنے کی دعوت دی گئی تو انہوں نے کہا کہ گیلانی خاندان کے ہوتے ہوئے مجھے ملتان جانے کی ضرورت نہیں اور پھر تاریخ نے گواہی دی کہ قائد اعظم کا ادراک درست تھاانگریز حکومت نے ہندوستان میں قانون ساز اسمبلیوں کے انتخابات کرائے۔ 9 جنوری 1946 کو آل انڈیا مسلم لیگ نے صوبہ سرحد کے سوا ہندوستان کے تمام مسلم اکثریتی صوبوں میں بھاری اکثریت حاصل کی مسلم اقلیت کے صوبوں میں بھی مسلم لیگ نے مسلمان نشستوں پر اکثریت حاصل کی۔ ملتان میں مسلم لیگ نے الیکشن سویپ کیا۔ یہاں سے عام نشستوں پر مسلم لیگ کے تمام امیدوار سید غلام مصطفی شاہ ( دادا سید یوسف رضا گیلانی ) سید مخدوم محمد رضا شاہ گیلانی، نواب اللہ یار خان دولتانہ، ملک محمد اکرم خان بوسن، پیر بڈھن شاہ کھگہ اور سید نوبہار شاہ کامیاب ہوکر پنجاب اسمبلی کے رکن ( MLA ) بنے۔ مزید برآں وہاڑی کے نواب میاں ممتاز محمد خان دولتانہ نارووال ( تب ضلع سیالکوٹ) سے جبکہ جہانیاں کے چودھری ظفر اللہ واہلہ اجنالہ ضلع امرتسر سے MLA منتخب ہوئے۔ نیز سید شیرشاہ گیلانی سنٹرل اسمبلی کے رکن منتخب ہوئے۔ ان انتخابات کے نتیجے میں پاکستان کا قیام عمل میں آیا۔ گیلانی خاندان کو یہ اعزاز ملا کہ اس خاندان کے دو حقیقی بھائی سیدغلام مصطفی شاہ اور سید محمد رضا شاہ گیلانی MLA منتخب ہوئے ۔ گیلانی خاندان کی انتخابی کامرانیوں کا تذکرہ اس کتاب کے مختلف صفحات پر موجود ہیں۔ قیام پاکستان سے پہلے اور بعد میں انجمن اسلامیہ ملتان کے زیر اہتمام گیلانی خاندان نے ملتان میں سکول اور کالج قائم کئے اور تاریخ نے دیکھا کہ یہ تعلیمی ادارے ایک انقلاب کی بنیاد ثابت ہوئے۔ گیلانی خاندان پاکستان کی ایک مؤثر سیاسی قوت ہے۔ اس کی جڑیں عوام میں بہت گہری ہیں۔ سید یوسف رضا گیلانی نے ابتدائی تعلیم سینٹ میریز کانونٹ ملتان سے حاصل کی اور بعد میں معروف تعلیمی ادارے لاسال ہائی سکول ملتان میں داخل ہوئے۔ سید یوسف رضا گیلانی نے اپنی کتاب چاہِ یوسف سے صدا میں لاسال سکول کی یادوں کو قلمبند کیاہے۔ میٹرک تک تعلیم حاصل کرنے کے بعد سید یوسف رضا گیلانی نے ولایت حسین اسلامیہ کالج ملتان میں داخلہ لیا۔ یہ کالج انجمن اسلامیہ ملتان کے کارناموں میں سے ایک ہے۔ یہاں سے سید یوسف رضا گیلانی نے ایف ایس سی ( پری میڈیکل) کا امتحان پاس کیا۔ اور مزید تعلیم کے لیے گورنمنٹ کالج لاہور میں داخل ہوئے۔ جہاں سے انہوں نے بی اے تک تعلیم حاصل کی بعد میں وہ پنجاب یونیورسٹی لاہور کے شعبہ صحافت میں داخل ہوئے۔ 1976 میں سید یوسف رضا گیلانی نے ایم اے صحافت کا امتحان پاس کیا۔ ان کی شادی پیر اسرار شاہ کی دختر سے انجام پائی۔ 9 اگست 1978 کو ان کے والد سید علمدار حسین گیلانی وفات پاگئے۔ سید یوسف رضا گیلانی 1978 میں مسلم لیگ کی سنٹرل کمیٹی کے رکن بنے اور 1982 میں وفاقی مجلس شوریٰ کے رکن نامزد ہوئے۔ 1983 میں ڈسٹرکٹ کونسل ملتان کے رکن منتخب ہوئے اور ایک دلچسپ انتخابی معرکے میں سید فخر امام کو شکست دے کر ڈسٹرکٹ کونسل ملتان کے چیئرمین منتخب ہوئے۔ 1985 کے غیر جماعتی انتخابات میں لودھراں سے قومی اسمبلی کے رکن منتخب ہوئے۔ 1986 میں وزیر اعظم محمد خان جونیجو کی کابینہ میں ریلوے کے وزیر مقرر ہوئے۔ 1988 میں پاکستان پیپلز پارٹی میں شامل ہوئے۔ اسی سال تاریخی شخصیت میاں نواز شریف کو شکست دے کر ملتان سے پی پی پی کے ٹکٹ پر قومی اسمبلی کے رکن منتخب ہوئے۔ وہ وزیر اعظم محترمہ بے نظیر بھٹو کی کابینہ میں پہلے سیاحت کے اور بعد میں ہائوسنگ و تعمیرات کے وزیر مقرر ہوئے۔ 1990 میں اپنے والد کے کزن اور گیلانی خاندان کی ممتاز ترین شخصیت مخدوم سید حامد رضا گیلانی وغیرہ کو شکست دے کر قومی اسمبلی کے ممبر منتخب ہوئے۔ سید یوسف رضا گیلانی 1993 میں نگران وزیر اعظم میر بلخ شیر مزاری کی کابینہ میں بلدیات و دیہی ترقی کے وزیر مقرر ہوئے ۔ 1993 میں ایک مرتبہ پھر قومی اسمبلی کے رکن منتخب ہوئے اور بعد ازاں قومی اسمبلی کے سپیکر منتخب ہوئے۔ سید یوسف رضا گیلانی 1997 میں سکندر حیات خان بوسن کے مقابلے میں قومی اسمبلی کا الیکشن ہار گئے۔ 1998 میں سید یوسف رضا گیلانی پاکستان پیپلز پارٹی کے وائس چیئرمین منتخب ہوئے۔ سید یوسف رضا گیلانی مشرف دور میں سیاسی انتقام کا نشانہ بنے اور ایک طویل عرصہ جیل میں رہے۔ وہ 18 فروری 2008 کو پانچویں مرتبہ قومی اسمبلی کے رکن اور بعد ازاں 26مارچ 2008 کو وزیر اعظم پاکستان منتخب ہوئے۔سید یوسف رضا گیلانی نے قومی اسمبلی میں اپنی افتتاحی تقریب میں چیف جسٹس افتخار محمد چودھری کی رہائی کا حکم دیا ۔ 16مارچ 2009کو انہوں نے جسٹس افتخار محمد چودھری کی چیف جسٹس آف پاکستان کے منصب پر بحالی کا تاریخی حکم صادر کیا۔13مارچ2011کو سید یوسف رضا گیلانی نے جلال پور میں ایک جلسۂ عام میں اعلان کیا کہ پاکستان پیپلز پارٹی سرائیکی صوبے کے قیام کو اپنے منشورکا حصہ بنائے گی جس کے بعد سرائیکی صوبہ تحریک کو بہت تقویت ملی۔ سید یوسف رضا گیلانی نے مفاہمت کی سیاست اپنائی جس کی وجہ سے انکی مقبولیت میں اضافہ ہوا۔ سید یوسف رضا گیلانی کے احکاما ت سے پاکستان او خاص طور پر ملتان میں بہت سے تعمیراتی منصوبے شروع ہوئے ہیں۔ جن میں ملتان تا فیصل آباد موٹروے ہیڈ محمد والا،جلال پور اوچ شریف موسیٰ پاک برج تعمیر ایئر پورٹ ملتان ، ملتان شہر میں سات فلائی اوور،بے نظیر برج چاچڑاں شریف، متعدد پارک اورہسپتال ملک بھر میںآئی ٹی یونیورسٹیوںکا قیام اوردوسرے منصوبے شامل ہیں۔ 6 جنوری 2012ء کو قومی اسمبلی سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم سید یوسف رضا گیلانی نے کہا کہ ہم سرائیکی صوبہ بنائیں گے۔ 19 جون 2012ء کوسید یوسف رضا گیلانی ایک متنازعہ عدالتی فیصلے کے باعث وزارتِ عظمیٰ کے منصب سے معزول کردیئے گئے۔

میاں ممتاز محمد خان دولتانہ

تحریک پاکستان کے رہنما میاں ممتاز محمد خان دولتانہ قیام پاکستان کے بعد پنجاب کے پہلے وزیر خزانہ اور بعد ازاں وزیر اعلیٰ بنے وہ وزیر دفاع اور مغربی پاکستان حکومت میں خزانہ ،مواصلات اور تعمیرات کے وزیر بھی رہے ۔میاں ممتاز محمد خان دولتانہ اعلیٰ تعلیم یافتہ اور نہایت ذہین سیاست دان تھے تحریک پاکستان کے دوران وہ قائد اعظم کے ہمراہ رہے اور 1945-46کے تاریخ ساز انتخابات میں کہ جس کے نتیجے میں پاکستان کا قیام عمل میں آیا میاں ممتاز محمد خان دولتانہ نے پنجاب میں مسلم لیگ کی انتخابی مہم کو منظم کیاتھا۔ میاں ممتاز محمد خان دولتانہ نوابانہ شان وشوکت کے ساتھ رہتے تھے اور ملتان ڈویژن کے رئوسا انکی تعلیم اور وسیع زرعی زمین سے بہت متاثر تھے کہتے ہیں کہ وہ پنجاب میں وہ سب سے بڑے زمیندار سیاستدان تھے قول معروف کے مطابق انکے والد نواب احمد یار خان دولتانہ 1500مربع زرعی زمین کے مالک تھے۔میاں ممتاز محمد خان دولتانہ اپنے والد کے اکلوتے بیٹے تھے۔نواب احمد یار خان دولتانہ 1937کے انتخابات میں پنجاب اسمبلی کے ممبر منتخب ہوئے تھے اور بعد میں اسمبلی میں چیف وہپ بنے دولتانہ خاندان کی سخاوت اور فیض بخشیوں کی داستانیں میلسی اور وہاڑی کے قدیم باشندے بیان کرتے ہیں میاں ممتاز محمد خان دولتانہ کے پر دادا میاں غلام محمد خان دولتانہ نے جو زمانہ میںگو گا دولتانہ کے نام سے مشہور ہوئے بے مثال مہمان نوازی کی بدولت شہرت پائی ۔ لڈن میں انکے ڈیرے پر دن رات مہمان اورعام مسافر قیام پذیر رہتے نواب احمد یار دولتانہ نے اس روایت کو قائم رکھا۔میاں ممتاز محمد خان دولتانہ گڑھی شاہولاہور میں سیکڑوں مہمانوں کے ساتھ مل کر کھانا کھاتے تھے مہمان نوازی دنیا کی ہر قوم اور ہر قبیلے کی ایک مستحن روایت ہے تاہم دولتانہ خاندان اس روایت کی پاسداری کی بدولت زمانے میں منفرد رہا ہے قیام پاکستان سے پہلے پنجاب کے اکثر مسلمان زمیندار ہندو ساہو کاروں کے مقروض تھے ۔وہ اپنے قرضہ جات پر سود ادا کرتے عدم ادائیگی کی وجہ سے یہ قرضے پہاڑ کے وزن کے برابر ہوچکے تھے چنانچہ سر سکندر حیات وزیراعظم (وزیراعلیٰ پنجاب )کے زمانے میں نواب احمد یار خان دولتانہ ،سر چھوٹو رام اور دوسرے مشاہیر کی کوششوں سے ایک قانون منظور ہوا ۔جو تاریخ میں Land Alienation And Debt Cancellation act کہلاتاہے اس قانون کے روسے مسلمان زمینداروں کی لاکھوں ایکڑ زرعی زمین بیک جنبش قلم ہندو ساہو کاروں کی رہن سے آزاد ہو گئی۔ نواب احمد یار خان دولتانہ نے مساجد تعمیر کرائیں ۔علم کی اشاعت میں مدد کی اور مختلف فلاحی منصوبوں میں تعاون کرتے رہے انہوں نے 1942میں وفات پائی۔ انکے نامور فرزند میان ممتاز محمد خان دولتانہ 23فروری 1916کو لاہور میں پیدا ہوئے برطانیہ سے بارایٹ لا کی ڈگری حاصل کی اوروطن واپس آکر آل انڈیا مسلم لیگ میں شمولیت اختیار کی۔1943کے ایک ضمنی انتخاب میں وہ مسلم لیگ کے ٹکٹ پر پنجاب اسمبلی کے رکن منتخب ہوئے 1944میں میاں ممتاز محمد خان دولتانہ آل انڈیا مسلم لیگ پنجاب کے جنرل سیکرٹری جبکہ انکی اہلیہ بیگم الماس دولتانہ فنانس سیکرٹری منتخب ہوئیں 1945میں ہندوستان کے مسلمان حلقوں میں آل انڈیا مسلم لیگ سر چڑھ کر بولنے والا جادو ثابت ہوئی۔ان انتخابات میں پنجاب اور مسلم اکثریت کے دوسرے صوبوں (ماسوائے سرحد )میں مسلم لیگ نے مسلم نشستوں پر تاریخی کا میابی حاصل کی۔ میاں ممتاز محمد خان دولتانہ نارووال سے پنجاب اسمبلی کے رکن منتخب ہوئے۔ اس موقع پر نواب اللہ یار خان دولتانہ میلسی اور وہاڑی مشترکہ نشست سے کامیاب ہوئے ۔ تاہم کانگریس کی مخالفت کی وجہ سے پنجاب میں یونینیسٹ حکومت قائم ہوئی ۔ مسلم لیگ نے پنجاب میں سول نافرمانی کی تحریک چلائی ۔ وزیر اعلیٰ خضر حیات ٹوانہ نے مسلم لیگ پر کریک ڈائون کیا ۔میاں ممتاز محمد خان دولتانہ اور پنجاب میں ہزاروں مسلم لیگی کارکن گرفتار ہوئے قیام پاکستان کے بعد میاں ممتاز محمد خان دولتانہ نواب افتخار ممدوٹ کی کابینہ میں پنجاب کے وزیر خزانہ بنے ۔ وہ 1951تا 1953صوبے کے وزیر اعلیٰ رہے ۔14اکتوبر 1955کو وحدت مغربی پاکستان (ون یونٹ )کا قیام عمل میں آیا ۔ڈاکٹر خان صوبے کے پہلے وزیر اعلیٰ بنے جبکہ میاں ممتاز محمد خان دولتانہ کو خزانہ مواصلات اور تعمیرات کے قلمدان سونپے گئے۔میاں ممتاز محمد خان دولتانہ وزیراعظم ابراہیم اسماعیل حیدری گر کی کابینہ میں وزیر دفاع  مقرر ہوئے ۔ 8 اکتوبر 1958 کو ملک میں مارشل لا کے نفاذ کے بعد میاں ممتاز محمد خان دولتانہ اور دوسرے اہم سیاستدانوں پر سیاسی پابندی عائد کردی گئی میاں ممتاز محمد خان دولتانہ نے محترمہ فاطمہ جناح کی رہنمائی میں انکے مشورے کیساتھ قائد اعظم کے پرانے ساتھیوں کے ساتھ مل کر کونسل مسلم لیگ کی بنیاد رکھی ۔ 1970 کے عام انتخابات میں میاں ممتاز محمد خان دولتانہ اور چھ دوسرے افراد چودھری ظہور الٰہی وغیرہ کونسل مسلم لیگ کے ٹکٹ پر قومی اسمبلی کے رکن منتخب ہوئے۔1973میںمیاں ممتاز محمد خان دولتانہ نے قومی اسمبلی کے نشست سے استعفا دے دیا اور برطانیہ میں پاکستان کے سفیر مقرر ہوئے۔جنرل محمد ضیاالحق کے مارشل لا کے نفاذ کے بعد انہیں اس منصب سے سبکدوش کردیا گیا اور وہ طن واپس آگئے۔میاں ممتاز محمد خان دولتانہ اپنی آخری زندگی میں عملی سیاست سے کنارہ کش  ہوچکے تھے ۔تاہم اخباری بیانات کے ذریعے قومی کی رہنمائی کرتے اور اپنا نقطہ نظر بیان کرتے ۔ میاں ممتاز محمد خان دولتانہ کا 30جون 1995ء کو 79سال کی عمر میں لاہور میں انتقال ہوا۔ ان کا ایک بیٹا میاں جاوید ممتاز دولتانہ اور ایک بیٹی شاہدہ ممتاز ہے۔ میاں جاوید ممتاز دولتانہ1977ء ، 1988ء اور 1993میں صوبائی اسمبلی کے رکن منتخب ہوئے۔ شاہدہ ممتاز کی شادی محمد ایوب کھوڑو(سابق وزیرا علیٰ سندھ ) کے بیٹے خالد محمود کھوڑو سے ہوئی شاہدہ ممتاز بے نظیر بھٹو کی گہری دوست تھیں وہ سوشل ایکشن بورڈ وہاڑی کی چیئرمین رہیں ۔انہوں نے 2002کے عام انتخابات میں پاکستان پیپلز پارٹی کے ٹکٹ پر قومی اسمبلی کا لیکشن لڑا تاہم کامیاب نہیں ہوئیں ۔ تحریک پاکستان کے رہنما میاںممتاز محمد خان دولتانہ قیام پاکستان کے بعد پنجاب کے پہلے وزیر خزانہ اور بعد ازاں وزیر اعلیٰ بنے وہ وزیر دفاع اور مغربی پاکستان حکومت میں خزانہ ،مواصلات اور تعمیرات کے وزیر بھی رہے ۔میاں ممتاز محمد خان دولتانہ اعلیٰ تعلیم یافتہ اور نہایت ذہین سیاست دان تھے تحریک پاکستان کے دوران وہ قائد اعظم کے ہمراہ رہے اور 1945-46کے تاریخ ساز انتخابات میں کہ جس کے نتیجے میں پاکستان کا قیام عمل میں آیا میاں ممتاز محمد خان دولتانہ نے پنجاب میں مسلم لیگ کی انتخابی مہم کو منظم کیاتھا۔ میاں ممتاز محمد خان دولتانہ نوابانہ شان وشوکت کے ساتھ رہتے تھے اور ملتان ڈویژن کے رئوسا انکی تعلیم اور وسیع زرعی زمین سے بہت متاثر تھے کہتے ہیں کہ وہ پنجاب میں وہ سب سے بڑے زمیندار سیاستدان تھے قول معروف کے مطابق انکے والد نواب احمد یار خان دولتانہ 1500مربع زرعی زمین کے مالک تھے۔میاں ممتاز محمد خان دولتانہ اپنے والد کے اکلوتے بیٹے تھے۔نواب احمد یار خان دولتانہ 1937کے انتخابات میں پنجاب اسمبلی کے ممبر منتخب ہوئے تھے اور بعد میں اسمبلی میں چیف وہپ بنے دولتانہ خاندان کی سخاوت اور فیض بخشیوں کی داستانیں میلسی اور وہاڑی کے قدیم باشندے بیان کرتے ہیں میاں ممتاز محمد خان دولتانہ کے پر دادا میاں غلام محمد خان دولتانہ نے جو زمانہ میںگو گا دولتانہ کے نام سے مشہور ہوئے بے مثال مہمان نوازی کی بدولت شہرت پائی ۔ لڈن میں انکے ڈیرے پر دن رات مہمان اورعام مسافر قیام پذیر رہتے نواب احمد یار دولتانہ نے اس روایت کو قائم رکھا۔میاں ممتاز محمد خان دولتانہ گڑھی شاہولاہور میں سیکڑوں مہمانوں کے ساتھ مل کر کھانا کھاتے تھے مہمان نوازی دنیا کی ہر قوم اور ہر قبیلے کی ایک مستحن روایت ہے تاہم دولتانہ خاندان اس روایت کی پاسداری کی بدولت زمانے میں منفرد رہا ہے قیام پاکستان سے پہلے پنجاب کے اکثر مسلمان زمیندار ہندو ساہو کاروں کے مقروض تھے ۔وہ اپنے قرضہ جات پر سود ادا کرتے عدم ادائیگی کی وجہ سے یہ قرضے پہاڑ کے وزن کے برابر ہوچکے تھے چنانچہ سر سکندر حیات وزیراعظم (وزیراعلیٰ پنجاب )کے زمانے میں نواب احمد یار خان دولتانہ ،سر چھوٹو رام اور دوسرے مشاہیر کی کوششوں سے ایک قانون منظور ہوا ۔جو تاریخ میں Land Alienation And Debt Cancellation act کہلاتاہے اس قانون کے روسے مسلمان زمینداروں کی لاکھوں ایکڑ زرعی زمین بیک جنبش قلم ہندو ساہو کاروں کی رہن سے آزاد ہو گئی۔ نواب احمد یار خان دولتانہ نے مساجد تعمیر کرائیں ۔علم کی اشاعت میں مدد کی اور مختلف فلاحی منصوبوں میں تعاون کرتے رہے انہوں نے 1942میں وفات پائی۔ انکے نامور فرزند میان ممتاز محمد خان دولتانہ 23فروری 1916کو لاہور میں پیدا ہوئے برطانیہ سے بارایٹ لا کی ڈگری حاصل کی اوروطن واپس آکر آل انڈیا مسلم لیگ میں شمولیت اختیار کی۔1943کے ایک ضمنی انتخاب میں وہ مسلم لیگ کے ٹکٹ پر پنجاب اسمبلی کے رکن منتخب ہوئے 1944میں میاں ممتاز محمد خان دولتانہ آل انڈیا مسلم لیگ پنجاب کے جنرل سیکرٹری جبکہ انکی اہلیہ بیگم الماس دولتانہ فنانس سیکرٹری منتخب ہوئیں 1945میں ہندوستان کے مسلمان حلقوں میں آل انڈیا مسلم لیگ سر چڑھ کر بولنے والا جادو ثابت ہوئی۔ان انتخابات میں پنجاب اور مسلم اکثریت کے دوسرے صوبوں (ماسوائے سرحد )میں مسلم لیگ نے مسلم نشستوں پر تاریخی کا میابی حاصل کی۔ میاں ممتاز محمد خان دولتانہ نارووال سے پنجاب اسمبلی کے رکن منتخب ہوئے۔ اس موقع پر نواب اللہ یار خان دولتانہ میلسی اور وہاڑی مشترکہ نشست سے کامیاب ہوئے ۔ تاہم کانگریس کی مخالفت کی وجہ سے پنجاب میں یونینیسٹ حکومت قائم ہوئی ۔ مسلم لیگ نے پنجاب میں سول نافرمانی کی تحریک چلائی ۔ وزیر اعلیٰ خضر حیات ٹوانہ نے مسلم لیگ پر کریک ڈائون کیا ۔میاں ممتاز محمد خان دولتانہ اور پنجاب میں ہزاروں مسلم لیگی کارکن گرفتار ہوئے قیام پاکستان کے بعد میاں ممتاز محمد خان دولتانہ نواب افتخار ممدوٹ کی کابینہ میں پنجاب کے وزیر خزانہ بنے ۔ وہ 1951تا 1953صوبے کے وزیر اعلیٰ رہے ۔14اکتوبر 1955کو وحدت مغربی پاکستان (ون یونٹ )کا قیام عمل میں آیا ۔ڈاکٹر خان صوبے کے پہلے وزیر اعلیٰ بنے جبکہ میاں ممتاز محمد خان دولتانہ کو خزانہ مواصلات اور تعمیرات کے قلمدان سونپے گئے۔میاں ممتاز محمد خان دولتانہ وزیراعظم ابراہیم اسماعیل حیدری گر کی کابینہ میں وزیر دفاع  مقرر ہوئے ۔ 8 اکتوبر 1958 کو ملک میں مارشل لا کے نفاذ کے بعد میاں ممتاز محمد خان دولتانہ اور دوسرے اہم سیاستدانوں پر سیاسی پابندی عائد کردی گئی میاں ممتاز محمد خان دولتانہ نے محترمہ فاطمہ جناح کی رہنمائی میں انکے مشورے کیساتھ قائد اعظم کے پرانے ساتھیوں کے ساتھ مل کر کونسل مسلم لیگ کی بنیاد رکھی ۔ 1970 کے عام انتخابات میں میاں ممتاز محمد خان دولتانہ اور چھ دوسرے افراد چودھری ظہور الٰہی وغیرہ کونسل مسلم لیگ کے ٹکٹ پر قومی اسمبلی کے رکن منتخب ہوئے۔1973میںمیاں ممتاز محمد خان دولتانہ نے قومی اسمبلی کے نشست سے استعفا دے دیا اور برطانیہ میں پاکستان کے سفیر مقرر ہوئے۔جنرل محمد ضیاالحق کے مارشل لا کے نفاذ کے بعد انہیں اس منصب سے سبکدوش کردیا گیا اور وہ طن واپس آگئے۔میاں ممتاز محمد خان دولتانہ اپنی آخری زندگی میں عملی سیاست سے کنارہ کش  ہوچکے تھے ۔تاہم اخباری بیانات کے ذریعے قومی کی رہنمائی کرتے اور اپنا نقطہ نظر بیان کرتے ۔ میاں ممتاز محمد خان دولتانہ کا 30جون 1995ء کو 79سال کی عمر میں لاہور میں انتقال ہوا۔ ان کا ایک بیٹا میاں جاوید ممتاز دولتانہ اور ایک بیٹی شاہدہ ممتاز ہے۔ میاں جاوید ممتاز دولتانہ1977ء ، 1988ء اور 1993میں صوبائی اسمبلی کے رکن منتخب ہوئے۔ شاہدہ ممتاز کی شادی محمد ایوب کھوڑو(سابق وزیرا علیٰ سندھ ) کے بیٹے خالد محمود کھوڑو سے ہوئی شاہدہ ممتاز بے نظیر بھٹو کی گہری دوست تھیں وہ سوشل ایکشن بورڈ وہاڑی کی چیئرمین رہیں ۔انہوں نے 2002کے عام انتخابات میں پاکستان پیپلز پارٹی کے ٹکٹ پر قومی اسمبلی کا لیکشن لڑا تاہم کامیاب نہیں ہوئیں ۔

سید محمد رضی شاہ گردیزیسید محمد رضی شاہ گردیزی

گردیزی ملتان کے قدیمی زمیندار ہیں۔ کبیر والا، ملتان، میاں چنوں، لودھراں اور دوسرے مقامات پر ان کی زرعی زمینیں ہیں۔ گردیزی خاندان کے مورثِ اعلیٰ سید ابو الفضل الشیخ جمال الدین معروف بہ شاہ یوسف گردیز گیارہویں صدی عیسوی میں محمود غزنوی کے بیٹے سلیم غزنوی کی دعوت پر پاکتیا( افغانستان ) کے علاقہ سے ملتان آئے تھے۔ یہ خاندان اسی زمانے سے زرعی زمینوں کا مالک ہے۔ شاہ یوسف گردیز نے توحید، رسالت اور امامت کی شمعیں روشن کیں اور دنیا کو امن و اخوت کا پیغام دیا۔ آپ کا مزار اندرون بوہڑ گیٹ ملتان میں صدیوں سے مرجع خلائق ہے۔ گردیزی خاندان کے نامور فرزند سید محمد رضی شاہ گردیزی 1924 میں ملتان میں پیدا ہوئے۔ ان کے پردادا سید غلام رسول شاہ افغانستان میں حکومت برطانیہ کے سفیر تھے۔ سید محمد رضی شاہ کے والد کا نام بھی سید محمد غلام رسول شاہ تھا۔ سید محمد رضی شاہ نے مشہور تعلیمی ادارے گورنمنٹ ایمرسن کالج ملتان سے بی اے تک تعلیم حاصل کی۔ عملی زندگی میں آنے کے بعد آبائی پیشہ زراعت اختیار کیا۔ انہوں نے قومی خدمت کے جذبے سے میانی نصفی میں پہلا گرلز پرائمری سکول قائم کیا۔ سید محمد رضی شاہ نے 1947 کے انقلاب کے موقع پر مہاجرین کی آباد کاری میں ان کی مدد کی تھی۔ انہوں نے ملتان اور لودھراں میں مہاجرین کو عارضی قیام کے لئے مکانات دیے تھے۔ سید محمد رضی شاہ گردیزی ایوب خان کے دور حکومت میں یونین کونسل بنگل والا، ڈسٹرکٹ کونسل ملتان اور ڈویژنل کونسل ملتان کے رکن رہے۔ انہوں نے نواب صادق حسین قریشی ( بعد ازاں وزیر اعلیٰ پنجاب ) کے ہمراہ پیپلز پارٹی میں شمولیت اختیار کی۔ سید محمد رضی شاہ گردیزی 1970 میں پی پی پی کے ٹکٹ پر صوبائی اسمبلی کے رکن منتخب ہوئے۔ 10 مارچ 1977ء کو سید محمد رضی شاہ گردیزی دوبارہ پاکستان پیپلز پارٹی کے ٹکٹ پر پنجاب اسمبلی کے رکن منتخب ہوئے۔ 5جولائی 1977 کو مارشل لا کے نفاذ کے موقع پر سید محمد رضی شاہ گردیزی گھر پر نظر بند کردیے گئے۔ انہوں نے  1985 میں مخدوم حامد رضا گیلانی کے مقابلے میں قومی اسمبلی کا الیکشن لڑا۔ سید محمد رضی شاہ گریزی نے 1986 میں وفات پائی ۔ سید محمد رضی شاہ گردیزی نے قدرت سے ایک بیٹی کی نعمت پائی جن کی شادی سید علی حیدر زمان گردیزی سے ہوئی۔ سید علی حیدر گردیزی نے ایگریکلچر یونیورسٹی فیصل آباد سے 1965میں ایم ایس سی کی ڈگری حاصل کی۔ سید علی حیدر زمان گردیزی 1987 میں ڈسٹرکٹ کونسل ملتان کے رکن منتخب ہوئے۔1990 میں انہوں نے پی پی پی کے ٹکٹ پر سید یوسف رضا گیلانی ( بعد ازاں وزیر اعظم پاکستان ) کے پینل میں سے ملک سکندر حیات خان بوسن کے مقابلے میں صوبائی اسمبلی کا الیکشن لڑا ۔ سید علی حیدر زمان گردیزی 2 مرتبہ ( 2001 اور 2005 میں ) یونین کونسل 71 ٹاٹے پور کے ناظم منتخب ہوئے۔ انہوں نے اپنے حلقے کی ترقی میں گہری دلچسپی لی۔ جس کی وجہ سے یہاں رابطہ سڑکیں، پختہ کھالہ جات ، بجلی، گیس، پلیں اور دوسرے ترقیاتی منصوبے مکمل ہوئے ، نیز صحت اور تعلیمی ادارے دوبارہ فنکشنل ہوئے ۔

الحاج سیدمحمدعلی مہدی گردیزی الحاج سید محمدعلی مہدی گردیزی

الحاج سیدمحمدعلی مہدی گردیزی کے جد ِ امجد سید یوسف شاہ گردیزیؒ اشاعت ِ اسلام کی غرض سے افغانستان سے ہجرت کر کے ملتان آئے۔یوسف شاہ گردیزؒ نے توحیدو ختم نبوت کے چراغ جلائے اور لوگوں تک اسلام کا پیغام پہنچایا۔آپؒ کا تذکرہ ملتان پر لکھی گئی مختلف کتب میں موجود ہے۔حضرت یوسف شاہ گردیزؒ کا مزار اندرون بوہڑگیٹ ملتان میں ہے جہاں آپ ؒ کے عقیدت مند مزار کی زیارت کے لئے آتے ہیں،آپ کے اخلاف میںسے ایک فرزند الحاج سیدمحمدعلی مہدی گردیزی نے سرائیکی قومی تحریک کی اعانت کی بدولت زمانے میں عزت اور شہرت پائی ہے۔الحاج سیدمحمدعلی مہدی گردیزی کی ولادت 2 نومبر1947 ء کو بڑا گھر یوسف شاہ گردیز ملتان میں ہوئی۔ان کے والد سید نذیر حسین گردیزی ایک امن پسند زمیندار تھے۔تحصیل کبیروالا میں ان کی زرعی زمینیں ہیں۔الحاج سیدمحمدعلی مہدی گردیزی نے گورنمنٹ پائلٹ ہائی سکول ملتان سے مڈل کا امتحان پاس کیا اور مزید تعلیم کے لئے لاہور چلے گئے یہاں انہوں نے فارورڈکالج لاہور سے 1966 ء میں میٹرک کا امتحان پاس کیا۔ملک مختاراحمداعوان کی دعوت پر پاکستان پیپلزپارٹی میں شامل ہوئے ۔ 1970 ء میں انہوں نے ذوالفقارعلی بھٹواور مختار اعوان کی انتخابی مہم میں بھرپور حصہ لیا ۔1977 ء کی تحریک نظا م مصطفی کے دوران پیپلزپارٹی کے ساتھ ثابت قدم رہے۔20 اگست 1977 ء کو پی این اے کے کارکنوں نے ملک مختاراعوان ااور ان کے ساتھیوں پر حملہ کیا ۔الحاج سیدمحمدعلی مہدی گردیزی اس حملے میں زخمی ہوگئے ۔ضیاء الحق کے دورِ جبر میں دوسری جمہوری کارکنوں کے ہمراہ جمہوریت کی بحالی کے لئے جدوجہد کرتے رہے۔ 1984 ء میں انہوں نے بیرسٹرتاج محمدخان لنگاہ کی قیادت میں دوسرے ساتھیوں کے ہمراہ سرائیکی صوبہ محاذ کی بنیاد رکھی اور نئے سیاسی محاذ کی منشور کی اشاعت کے لئے سرگرم ہوئے ۔7 اپریل 1989 ء کو ملتان میں تاج محمدخان لنگاہ کی قیادت میں پاکستان سرائیکی پارٹی کی بنیاد رکھی اور پی۔ایس۔پی ملتان سٹی کے صدر منتخب ہوئے۔بعدازاں وہ پی۔ایس۔پی ملتان ڈویژن کے صدر اور جماعت کے مرکزی رابطہ سیکرٹری رہے۔الحاج سیدمحمدعلی مہدی گردیزی نے پاکستان سرائیکی پارٹی کی تنظیم نو میں گہری دلچسپی لی۔ وہ جماعت کے سالانہ جلسوں اور مختلف اوقات میں سرائیکی قومی حقوق کے مظاہروں میں شریک ہوتے رہے۔1992 ء میں ملتان میں سرائیکی عالمی کانفرنس کے انتظامات میں حصہ لیا۔ستمبر1994 ء کو کراچی میں قوم پرستوں کے سیاسی اتحاد UNA کے کنونشن میں شریک ہوئے ۔1997 ء میں پاکستان سرائیکی پارٹی کے وفد کے ہمراہ ہندوستان گئے یہاں انہوں نے دہلی میں سرائیکی عالمی کانفرنس میں شرکت کی ۔ہندوستان میں ان کی ملاقات کے ۔ایل ۔بھاٹیا ، نرندرکمار،جگدیش چندربترا،کے ۔ایل شرما،سندیا بجاج ،بدھ راج اور بیرسٹرراج کمارسے ہوئی۔ الحاج سیدمحمدعلی مہدی گردیزی نے 1997 ء میں مردم شماری کے مسئلے پر پاکستان سرائیکی پارٹی کی احتجاجی تحریک میں حصہ لیا۔ یکم اور دو اکتوبر1998 ء کو اسلام آباد میں پونم کے تاسیسی اجلاسوں میں شریک ہوئے۔یکم اکتوبر کے اجلاس میں جب اخبارنویسوں نے تاج لنگاہ کے خطاب کے دوران رکاوٹ ڈالی تو سید محمدعلی مہدی گردیزی نے تاج لنگاہ کے حق میں نعرے لگائے اور سرائیکی کاز کے خلاف بات کرنے والے صحافیوں کی سرزنش کی۔ اِس واقعے کو عالمی نشریاتی ادارے بی بی سی لندن نے اپنے اردو سروس میں نشرکیا۔سرائیکی قومی حقوق کی جدوجہد میں انہوں نے کراچی ،حیدرآباد،لاڑکانہ، اسلام آباد،کوئٹہ،زیارت ،ڈیرہ بگٹی،رحیم یار خان،بہاولپور اور دوسرے شہروں کے دورے کئے ۔ سیدمحمدعلی مہدی گردیزی کی مختلف اوقات میں ذوالفقارعلی بھٹو،ممتازعلی بھٹو،جی ۔ایم سید،سید امداد حسین شاہ ، عطاء اﷲخان مینگل، اختر مینگل ، نواب اکبر بگٹی،یوسف رضا گیلانی، سیدمحمدقسور گردیزی،اجمل خٹک،میاں محمد نواز شریف، سجاد حسین قریشی،محمودخان اچکزئی، ڈاکٹر قادر مگسی ، ڈاکٹرکامل بنگش،شاہ محمود قریشی، ڈاکٹرمبشرحسن ،سیدہ عابدہ حسین،رسول بخش پلیجو ، جلال محمود شاہ ، لالہ افضل خان سواتی ، عبداللطیف بھویو ، مولانا عبدالعزیز (صدر سندھ ساگر پارٹی) ، مولانا عبیداللہ بھٹو (صدر جمعیت علماء اسلام سندھ) اور یوسف لغاری سے ملاقات ہوئی۔23 مئی2003 ء کو انہوں نے سرائیکی عوامی پارٹی کی بنیاد رکھی وہ سرائیکی قومی حقوق کے لئے مسلسل جدوجہد کررہے ہیں۔

الحاج محمد نواز خان عرف الحاج محمد نواز خان عرف دلاور خان کھچی

تحصیل میلسی کے مختلف دیہات میں مقیم کھچی خاندان ملتان ڈویژن کی ایک مسلمہ سیاسی قوت ہے ۔ قیام پاکستان کے بعد اس خاندان کے افراد (الحاج محمد یار خان کھچی ، محمد نواز خان عرف دلاور خان کھچی ، آفتاب احمد خان کھچی ۔ الحاج غلام حیدر خان کھچی ، محمد اسلم خان کھچی ، الحاج محمود خان کھچی ، جاوید اقبال خان کھچی ، سردار محمد خان کھچی )نے قومی اور صوبائی اسمبلی کے 18 الیکشن جیتے ہیں۔مزید برآں محمد ممتاز خان کھچی (براد رحقیقی دلاور خان کھچی )4 مرتبہ مسلسل ڈسٹرکٹ کونسل کے چئیرمین اور پانچویں مرتبہ ناظم ضلع وہاڑی منتخب ہوئے۔ اس خاندان کے ایک اور فرزند اللہ یار خان کھچی 6 مرتبہ میونسپل کمیٹی میلسی کے کونسلر اور 4مرتبہ چیئرمین منتخب ہوئے کھچی مشاہر کے حالاتِ زندگی اس کتاب کے مختلف صفحات پر درج ہیں فدا ٹائون میں مقیم کھچی خاندان کی سیاسی تاریخ دلاور خان کھچی کے دادا خان در محمد خان کھچی کے نام سے شروع ہوتی ہے۔در محمد خان کھچی بڑے نام اور اثر والے زمیندار تھے وہ اپنی زندگی میں ڈسٹرکٹ بورڈ ملتان کے وائس چیئرمین رہے ۔درمحمد خان کھچی تحریکِ پاکستان کے رہنمائوں نواب اللہ یار خان دولتانہ اور محمد رضا شاہ گیلانی کے قریبی دوست تھے۔ دولتانہ اور گیلانی خاندان سے کھچی خاندان کی دوستی ایک صدی کا احاطہ کرتی ہے۔ در محمد خان کھچی کے ڈیرے میں نئی عمارت کا سنگ بنیاد پیر صدر الدین شاہ گیلانی نے 1930 کے عشرے میں رکھا تھا ۔ محمدرضا شاہ گیلانی درمحمد خان کھچی اور دوسرے سیاسی مشاہیر کی سیاسی حمایت سے انگریز ڈپٹی کمشنر ای پی مون کے مقابلے میںڈسٹرکٹ بورڈ ملتانکے چیئرمین منتخب ہوئے تھے۔ دُر محمد خان کھچی 1938ء سے 1944ء تک ڈسٹرکٹ بورڈ ملتان کے وائس چیئرمین رہے۔ درمحمد خان کھچی اور انکے عظیم فرزند الحاج محمد یار خان کھچی نے 1945-46 کے انتخابات میں کہ جس کے نتیجے میں پاکستان کا قیام عمل میں آیا میلسی اور وہاڑی سے مسلم لیگی امیدوار نواب اللہ یار خان دولتانہ کے حمایت کر کے انہیں کامیابی سے ہمکنار کیا درمحمد خان کھچی (چیئرمین بحالیات کمیٹی میلسی) نے 1947 کے انقلاب کے موقع پر اجڑے ہوئے مسلمان مہاجرین کی آبادکاری اوریہاں سے غیر مسلموں کے پر امن انخلامیں نہایت قابل تحسین کردار ادا کیا۔ در محمد خان کھچی نے نومبر 1950 میں وفات پائی اور میلسی کے قدیمی قبرستان بابا نتھے شاہ میںپیوندِخاک ہوئے دلاور خان کھچی کی ولادت 1939 میں ہوئی ۔انہوں نے ایف اے تک تعلیم حاصل کی ۔ خاندانی ماحول میں قومی اور سماجی خدمت کا شعورپایا اور اپنے والد الحاج محمد یار خان کے ہمراہ سیاسی خدمات کا آغاز کیا۔ دلاور خان کھچی 1965 میں پہلی مرتبہ قومی اسمبلی کے رکن منتخب ہوئے۔ اُس وقت وہ تمام اراکین قومی اسمبلی میں کم عمر تھے۔ دلاور خان کھچی نے کراچی اور اسلام آباد کے علاوہ ڈھاکہ (بنگلہ دیش) میں بھی قومی اسمبلی کے اجلاسوں میں شرکت کی۔وہ 1966ء سے 1971ء تک یونین کونسل فدہ کے چیئرمین رہے۔  دلاور خان کھچی جب پہلی مرتبہ قومی اسمبلی کے رکن منتخب ہوئے تو حامد رضا گیلانی اس ایوان کے لیے دوسری مرتبہ منتخب ہوئے تھے۔ حامد رضا گیلانی تاریخی شخصیت ذوالفقار علی بھٹو کے قریبی دوست تھے چنانچہ 1970 حامد رضا گیلانی اور دلاور خان کھچی کا خیال تھا کہ گیلانی گروپ پیپلز پارٹی کے پلیٹ فارم پر الیکشن لڑے۔ اس وقت گیلانی گروپ میں دو آراسامنے آئیں تاہم علمدار حسین گیلانی اور شاہ محمد خان کھچی نے دوستوں کو مسلم لیگ قیوم گروپ کی طرف سے الیکشن لڑنے پر قائل کیا۔ 1977 میں حامد رضا گیلانی اور دلاور خان کھچی دونوں پیپلز پارٹی کے ٹکٹ پر قومی اسمبلی کے رکن منتخب ہوئے۔ 1985 کے غیر جماعتی انتخابات میں یوسف رضا گیلانی اور دلاور خان کھچی قومی اسمبلی کے رکن منتخب ہوئے ۔ دلاور خان کھچی 1990 اور 1997 میں بھی قومی اسمبلی کے رکن منتخب ہوئے۔ انہوں نے 8 مرتبہ قومی اسمبلی کے انتخابات میں حصہ لیا جن میں سے 5 انتخابات میں انہوں نے کامیابی حاصل کی۔ دلاور خان کھچی لوگوں کے مسائل کے حل میں ہمہ وقت مصروف عمل رہے۔ انہوں نے گیلانی خاندان کے ساتھ مل کر ملتان یونیورسٹی کے قیام کے لیے کوشش کی دلاور خان کھچی کے ادوارِاقتدار میں بے شمار ترقیاتی منصوبے مکمل ہوئے۔ انکی مساعیٔ جمیلہ سے نئے سکولوں کا اجرا۔ پرانے سکولوں کی اپ گریڈیشن رابطہ سٹرکوں اور پختہ کھالہ جات کی تعمیر ہوئی متعدد دیہات کو بجلی فراہم کی گئی۔ دیہی مراکز صحت قائم ہوئے اور بے شمار تعلیم یافتہ اور ہنر مند افراد نے ملازمت حاحل کی ۔پوری زندگی دلاور خان کھچی کا کسی سے جھگڑا نہیں ہوا۔ انکے حلقہ ٔ احباب میں جہاں میاں ممتازمحمد خان دولتانہ ۔ حامد رضا گیلانی ، چودھری فضل القادر ، سردار شوکت حیات خان ، نواب افتخار ممدوٹ ، عبدا  لصبورخان ،راجہ تری دیورائے ، مخدوم سجاد حسین قریشی ، سید یوسف رضا گیلانی ، عبدالمنعم خان ، سردار بہادر خان  اے کے بروہی ، شہزادہ محیی الدین ، نواب سر صادق محمد خان غلام مصطفیٰ کھر۔ مخدوم حسن محمود، جام صادق علی ، میاں منظور احمد وٹو، مظفر علی قز لباش، نواب صادق حسین قریشی ، فضل حق، عبدالقیوم خان ، تاج محمد جمالی، ظفر اللہ جمالی، چودھری فضل الٰہی، جام محمد یوسف ، چودھری فضل الہی، میر بلخ شیر مزاری ، غلام مصطفی جتویٔ، حسین شہید سہروردی ، ملک فیروز خان نون، میاں نواز شریف ،سردار فاروق خان لغاری، پیر پگاڑا ، چودھری شجاعت حسین اور چودھری پرویز الٰہی جیسی نامور شخصیات تھیں۔ وہاں علاقے کے غریب لوگ بھی انکے گہرے دوست تھے۔ دلاور خان کھچی نے 16 جولائی 2010 کو لاہور میں 71 سال کی عمر میں وفات پائی۔ انکی نماز جنازہ 17 جولائی 2010 کو فداٹائون میں ادا کی گئی۔ انکے جسد خاکی کو والد الحاج محمد یار خان اور دادا در محمد خان کی قبروں کیساتھ قدیمی قبرستان بابا نتھے شاہ سپرد خاک کیا گیا۔ کوئی دلاور خان کھچی کے سیاسی اصولوں سے لاکھ اختلاف کرے مگر ان کی شراقت پر کسی کو کلام نہیں۔ دلاور خان کھچی اس جہاں سے اُٹھے تو ایک زمانے کی روایت کو بھی اپنے ساتھ لے کر گئے۔ انکی موت ایک سیاسی عہد کا خاتمہ ہے ۔ دلاور خان کھچی کے چار بیٹے ڈاکٹر در محمد خان ، بیرسٹر اورنگ زیب خان جہانزیب خان اور عالمگیر خان ہیں۔ بیرسٹر اورنگ زیب خان جہازیب خان اور عالمگیر خان اپنے آباء کی خدمتِ خلق کی روایت کو جاری رکھے ہوئے ہیں۔ عالمگیر خان نے قائداعظم یونیورسٹی اسلام آباد سے ایم تاریخ کی ڈگری حاصل کی ۔

محمد جہاں زیب خان کھچی

محمد جہاں زیب خان کھچی کا یہ منفرد اعزاز ہے کہ وہ تین ماہ کی مختصر مدت میں 2 مرتبہ پنجاب اسمبلی کے رکن منتخب ہوئے۔ پہلی مرتبہ اُنہوں نے 18 فروری 2013ء کو صوبائی حلقہ 239 سے آزاد اُمیدوار کی حیثیت سے جبکہ دوسری مرتبہ 11 مئی 2013کو پاکستان تحریکِ انصاف کے ٹکٹ پر الیکشن جیتا۔ محمد جہاں زیب خان کھچی، الحاج محمد یار خان کھچی کے پوتے، محمد نواز خان عرف دِلاور خان کھچی کے بیٹے اور محمد ممتاز خان کھچی کے بھتیجے اور محمد اورنگزیب خان کھچی کے بھائی ہیں۔ کھچی مشاہیر کے حالاتِ زندگی اس کتاب کے مختلف صفحات پر درج ہیں۔
کھچی خاندان کا سیاسی اور سماجی اثر قیامِ پاکستان سے قبل قائم ہوچکا تھا۔ محمد جہاں زیب خان کھچی کے پر دادا خان دُر محمد خان کھچی آل اِنڈیا مسلم لیگ تحصیل میلسی کے صدر تھے اُنہوں نے 1934ء میں انگریز ڈپٹی کمشنر ملتان ای پی مون کے مقابلے میں مخدوم محمد رضا شاہ گیلانی کی حمایت کی تھی تب محمد رضا شاہ گیلانی ڈسٹرکٹ بورڈ ملتان کے چیئرمین منتخب ہوئے تھے۔ دُرمحمدخان کھچی 1938 تا 1944ء ڈسٹرکٹ بورڈ ملتان کے چیئرمین رہے۔ کھچی اسلاف نے 1945-46ء کے انتخابات میں مسلم لیگی اُمیدوار نواب اللہ یار خان دولتانہ کی حمایت کر کے اُنہیں کامیابی سے ہمکنار کیا تھا۔ خان دُر محمد خان کھچی اور شاہ محمد خان کھچی نے 1947ء کے انقلاب کے موقع پر ہندوئوں کے پرامن انخلاء اور مسلمان مہاجرین کی آبادکاری میں اپنی سماجی اور اخلاقی اور قومی ذمہ داریاں نبھائیں تھیں جس کی وجہ سے میلسی میں نہ تو ہندو مسلم فسادات ہوئے اور نہ ہی غیر مسلم متروکہ جائیداد کی لوٹ مار ہوئی۔1951 ء میں محمد جہازیب خان کھچی کے دادامحترم الحاج محمدیارخان کھچی پاکستان مسلم لیگ کے ٹکٹ پر ایم ایل اے منتخب ہوئے ۔محمدجہانزیب خان کھچی کے والد محترم محمدنواز خان عرف دِلاور خان کھچی پانچ مرتبہ قومی اسمبلی کے رکن منتخب ہوئے ۔محمدجہانزیب خان کھچی کے چچا محمدممتاز خان کھچی چارمرتبہ بلامقابلہ ضلع کونسل و

سیّد تصور حسین بخاری

سیّد تصور حسین بخاری خلیفۂ چہارم سیدنا حضرت علی رضی اﷲعنہ کی فاطمی اولاد سے ہیں۔ حضرت علی رضی اﷲعنہ نب�ئ آخر الزماں حضرت محمد ﷺ کے دستِ راست تھے۔ اُنہوں نے اِسلام کی اشاعت و حفاظت اور اسکی سرفرازی کے لیے بے مثال اور غیر معمولی خدمات انجام دیں۔
ملتان ڈویژن سے تعلق رکھنے والے مشاہیرِ سیاست یوسف رضا گیلانی، فخر اِمام، خاور علی شاہ، جاوید علی شاہ، محمد مختار نقوی،سید نسیم مہدی، مجاہد علی شاہ، دیوان عاشق بخاری، علی حسین گردیزی مرحوم، محمد قسور گردیزی مرحوم، وغیرہ سیّد ہیں۔ ملتان ڈویژن کے مختلف اضلاع میں انکی زرعی زمینیں ہیں۔ سیّد اسلاف مختلف زمانے میں ہجرت کر کے یہاں آئے۔
پاکستان سرائیکی پارٹی ضلع وہاڑی کے صدر سیّد تصور حسین بخاری یکم مارچ 1974ء کو چک مغل میں پیدا ہوئے۔ اُنکے والدِ محترم سیّد سکندر حسین بخاری یہاں کے ایک معزز زمیندار تھے۔ سید سکند ر حسین بخاری عزت و احترام کی زندگی گزارنے کے بعد 8مئی2017کو وفات پا گئے۔ سیّد تصور حسین بخاری نے گورنمنٹ ہائی سکول 211-wb تحصیل میلسی سے 1991ء میں میٹرک کا اِمتحان پاس کیا اور بی اے تک تعلیم گورنمنٹ ڈگری کالج میلسی سے حاصل کی۔ عملی زندگی میں آنے کے بعد میلسی شہر میں پراپرٹی کے کاروبار سے وابستہ ہوئے۔ وہ زمانۂ طالبِ علمی میں فٹ بال کے کھلاڑی تھے۔ بعد میں بھی اُنہوں نے کھیلوں میں دلچسپی قائم رکھی۔ سیّد تصور حسین بخاری رکبی ٹیم تحصیل میلسی کے صدر اور فرینڈز فٹ بال کلب میلسی کے صدرہیں۔ سیّد تصور حسین بخاری سماجی تنظیم ینک میں سوسائٹی کے چیئرمین بھی ہیں۔
سیّد تصور حسین بخاری نے 27 ستمبر 2013ء کو پاکستان پیپلز پارٹی کی قائد محترمہ نخبہ تاج لنگاہ کا میلسی آمد پر استقبال کیا۔ اس موقع پر اُنہوں نے نخبہ تاج لنگاہ کے اعزاز میں چائے کی دعوت دی اور پی ایس پی میں شمولیت کا اعلان کیا۔
سیّد تصور حسین بخاری کو پاکستان سرائیکی پارٹی ضلع وہاڑی کا صدر مقرر کیا گیا۔ وہ پی ایس پی کے منشور کی اشاعت میں مصروفِ عمل ہوئے۔ سیّد تصور حسین بخاری نے مصنف کے ساتھ مل کر شہر میں کسانوں کے حقوق کے لیے تحریک شروع کی۔
سیّد تصور حسین بخاری کی دعوت پر مہر ممتاز احمد، میاں جاوید اقبال اور کچھ دوسرے افراد نے پاکستان سرائیکی پارٹی میں شمولیت اختیار کی۔ سیّد تصور حسین بخاری 5 جنوری 2016ء کو پراپرٹی ڈیلرز ایسوسی ایشن میلسی کے صدر جبکہ حاجی عبدالباسط اویسی جنرل سیکرٹری اور عبدالغفار جموں چیئرمین منتخب ہوئے۔ سیّد تصور حسین بخاری لوگوں کے ساتھ رابطے میں رہتے ہیں۔ اور ان کے دُکھ سُکھ میں شریک ہوتے ہیں۔ وہ اپنی توفیقات سے بڑھ کر نادار اور غریب افراد کی مدد کرتے ہیں۔

محمد عمران خان کھچی چیرمین یونین کونسل جہان پور 

کھچی خاندان کا شمار تحصیل میلسی کے بڑے خاندانوں میں ہوتا ہے ۔ یہ خاندان تحصیل میلسی کے مواضعات فدا۔ ڈھوڈاں ۔ شیر گڑھ۔ سرگانہ ۔ ترکی ۔ شتاب گڑھ ۔ علی واہ ۔ عمر کھچی ۔ ڈھمکی اور حلیم کھچی میں زرعی زمینوں کا مالک ہے کھچی خاندان کے بعض افراد قومی اسمبلی اور بعض دوسرے افراد پنجاب اسمبلی کے رکن رہے ہیں ۔ محمد ممتاز خان کھچی کا یہ منفرد اعزاز ہے کہ وہ 4مرتبہ مسلسل ضلع کونسل وہاڑی کے بلا مقابلہ چیرمین منتحب ہوئے ۔ محمد ممتاز خان کھچی 2001تا2005ضلع وہاڑی کے ناظم اعلیٰ بھی رہے۔ محمد ممتاز خان کھچی کے بڑے بھائی بھی محمد نواز عرف دلاور خان کھچی 5مرتبہ قومی اسمبلی کے رکن منتخب ہوئے ۔ اس خاندان کے معروف زمیندار محمد عمران خان کھچی چیرمین یونین کونسل جہانپور 1984میں پیدا ہوئے ۔ اُنکے والد صاحب خان کھچی ایک امن پسند زمیندار تھے ۔وہ ڈھمکی اور حلیم کھچی میں زرعی زمینوں کے مالک تھے ۔ صاحب خان کھچی مارچ 2006میں وفات پا گئے ۔ محمد عمران خان کھچی کے داد ا دلاور خان کھچی موضع ڈھمکی کے نمبردار تھے ۔ محمد عمران خان کھچی نے میٹرک تک تعلیم ملتان پبلک سکول سے حاصل کی بعد ازاں وہ معروف تعلیمی ادارے گورئمنٹ ایمرسن کالج ملتان میں داخل ہوئے یہاں سے اُنہوں نے 2009میں بی اے کا امتحان پاس کیا۔ محمد عمران خان کھچی نے عملی زندگی میں آنے کے بعد زراعت کا آبائی پیشہ اختیار کیا ۔ محمد عمران خان کھچی لوگوں کے دکھ سکھ میں شریک ہونے لگے جس کی وجہ سے اُنہیں بہت مقبولیت ملی ۔ محمد عمران خان کھچی کچھ عرصہ قبل محمد ممتاز خان کھچی ، محمد اورنگ زیب خان کھچی اور محمد جہاں زیب خان کھچی کے ہمراہ پاکستان تحریک انصاف میں شامل ہوئے ۔ محمد عمران خان کھچی میلسی ۔ ملتان اور وہاڑی میں پی ۔ٹی ۔ آئی کے جلسوں میں شریک ہوئے ہیں ۔
30۔اکتوبر 2015کو محمد عمران خان کھچی پی ۔ ٹی ۔آئی کے ٹکٹ پر سردار خان کھچی کے مقابلے میں یونین کونسل جہان پور تحصیل میلسی کے چیرمین مقرر ہوئے ۔ اس موقع پر اُن کے ساتھ ملک محمد یوسف ارائیں وائس چیرمین منتحب ہوئے ۔ محمد عمران خان کھچی اپنے ڈیرے میں بیٹھ کر کوگوں کے مسائل سنتے ہیں اور اُن کے حل کے لیے ہر ممکن کوشش کرتے ہیں ۔