سید اظہر عباس بخاری

استاذاساتذہ سید اظہر عباس بخاری کا نام میلسی کے اُفق پر ایک کثیر الجہات شخصیت کے طور پر نمایاں ہے۔ علاقے میں اپنی شرافت، دیانت اور پر ہیز گاری کے طور پر قدرومنزلت کی نظر سے دیکھے جانے والے نیک دل انسان سید اصغر علی شاہ کے گھر دسمبر 1955ء میں پیدا ہوئے، آپ اوائل عمر ی سے ہی تعلیمی میدان میں دلچسپی رکھتے تھے۔ آپ کا گھر انہ خدمتِ خلق اور نیک نامی کی بناء پر معززو معتبر رہاہے۔ لوگ اپنے نئے کاموں اور کاروبار کا آغاز آپ کے والد سید اصغر علی شاہ کے گھرانے کی دُعا ؤں سے کرنا سعدمانتے تھے۔
سید اظہر عباس بخاری کی تعلیمی خدمات کا ایک زمانہ شاہد ہے اور تحصیل میلسی، ضلع وہاڑی اور ملتان ڈویژن کی تاریخ اور مشاہیر پر لکھی جانے والی متعدد کتب میں شعبہء تعلیم میں آپ کی گراں قدر خدمات کا اعتراف کیا گیاہے۔ آپ نے گورنمنٹ ہائی سکول میلسی سے ابتدائی تعلیم اور پھر اعلیٰ تعلیم حاصل کرکے ایک معلم کے طور پر اپنی عملی تدریسی زندگی کا آغاز کیا۔ سر کاری سکول میں تدریسی فرائض کی بجا آوری ہو یا پی ٹی سی ٹیچر ز کی عملی تربیت کا ماحول، نئی روشنی پر ا جیکٹ کے لٹر یسی انسپکٹر کی ذمہ داریاں ہوں یا تعلیم ِ بالغاں کا احیاء ہر ایک عہد ے پر آپ نے اپنی فہم و فراست سے وہ گل و گلزار کھلائے ہیں کہ آج ان کی خوشبو سے یہ جہاں مہک رہا ہے۔ علم کو ”اسم ِ اعظم“ ماننے والے سید اظہر عباس بخاری علم کی ”ع“ کو عنایتِ الہی، ”ل“ کو لیاقت ِ مدرس اور ”م“ کو محنتِ طالب علم سے موسوم کرتے ہیں۔
پابند ِصوم و صلوۃ، امیر غریب سے یکساں سلوک کے ساتھ ان کی زندگی کا روشن کارنامہ علاقے میں تعلیم کا فروغ ہے۔ جس کے لئے آپ نے ہاکس سکولز سسٹم کی بنیاد رکھی۔ علم کی شمع روشن کرنے میں ان کی مشاورت جن باوقار لوگوں نے کی ان میں آپ کی والدہ محترمہ، سسٹر، سید اقبال حسین شاہ بخاری (سابق ہیڈ ماسٹر ہائی سکول میلسی )، سید خورشید عالم بخاری (سابق ڈی جی آئی بی) محترمہ اقبال محمودہ لطیفی (سابق ڈی ای او ضلع وہاڑی) خورشید احمد مخدوم (سابق ڈائریکٹر تعلیم ملتان) پروفیسر ڈاکٹر علی شیر طور مرحوم (پرنسپل ڈگری کالج میلسی) ڈاکٹر منظور حسین ماہنی مرحوم، حاجی مشتاق احمد، رانا محمد سلیمان، مہر محمد عارف نکیانہ (سابق سیشن جج) غلام عباس نکیانہ اور دوسرے رفقاء شامل ہیں۔
چوتھائی صدی سے زائد کا عرصہ ہوا سید اظہر عباس بخاری کو فروغ ِ علم کی اس شمع کو تھامے۔ اس عرصے میں میلسی شہر کے اطراف میں ستاروں کی طرح جگمگاتے ہاکس سکولز سسٹم کے مختلف کیمپسز طلبا ء و طالبات کو زیوارِ تعلیم سے آراستہ کر رہے ہیں۔ہا کس سکولز سسٹم نے سید اظہر عباس بخاری کی قیادت میں کامیابیوں کے جومدارج طے کئے ہیں وہ دوسروں کے لئے ایک سہانا خواب ہیں کیونکہ یہ ادارہ اور اس ادارہ کے طلباء حکومت پاکستان، حکومت پنجاب، محکمہ تعلیم، ملتان بورڈ اور ضلعی حکومتوں سے قومی تعلیمی ایوارڈز کی ہیٹر ک ، درجنوں گولڈ، سلور براس میڈلز، ہجری سکالر شپ ایوارڈز، صدارتی ٹیلنٹ ایوارڈاور سینکڑوں لیب ٹاپس حا صل کر چکے ہیں اسکے علاوہ وفاق، صوبہ، ڈویژن، ضلع، تحصیل اور مرکز کی سطح پر تعلیمی اور ہم نصاب سرگرمیوں میں بلند ی و رفعت کا ایک ہمالیہ سر کر چکے ہیں۔ اس ادارے کے طالب علموں کی تاریخِ زریں ڈاکٹر، انجینئر، بینکار،وکلا ء، آر مڈ فورسز، پولیس، تدریس اور دیگر شعبوں میں کامیابیوں سے آراستہ و پیراستہ ہے۔ یہاں کے فارغ التحصیل طلبہ و طالبات مندرجہ بالا شعبوں کے علاوہ قومی تعمیر کے دوسرے شعبوں میں بھی اپنی خدمات انجام دے رہے ہیں۔
سید اظہر عباس بخاری کے زیر سایہ ہاکس شوشل ویلفیئر آرگنائزیشن 1998ء سے خدمتِ خلق اور انسانی ہمدردی کے جذبات معاشرے میں پروان چڑھا رہی ہے۔ سید اظہر عباس بخاری ایک مجلسی آدمی ہیں یہی وجہ ہے کہ عید میلادالنبیؐ، بزم ادب، یومِ قائد و اقبال، یوم ِ دفاع، یوم ِ آزادی کے موقع پر اپنے ہاں رنگا رنگ تقریبات کا اہتمام کرتے رہتے ہیں۔ پرائیویٹ سکولز ایسوسی ایشن کے بھی سید اظہر عباس بخاری روح ِ رواں ہیں اور ان سکولوں کو در پیش مسائل کے حل میں ذاتی دلچسپی لیتے ہیں۔ آپ کو ؤسرکاری تقریبات اور میٹنگز میں بطورِ خاص مدعو کیا جاتا ہے۔ یہی نہیں بلکہ ان کی فہم و فراست پر مبنی گفتگو اور آراء کو مقدم رکھا جاتا ہے۔ آپ کی زیر ادارت ماہنامہ ”ہاکس“ بھی شائع ہو رہا ہے جس کے ایڈیٹر راؤ جاوید اختر ایڈووکیٹ ہیں۔ الغرض علم و ادب کی محافل کا خصوصی اہتمام، قومی و مذہبی تہوار وں کو جوش و جذبہ سے منانا اور طلباء میں حریت ِ ملک و ملت کا جذبہ بیدار کرنا وہ خوبیاں ہیں جو سید اظہر عباس بخار ی کو دوسروں سے ممیز و ممتاز کئے ہوئے ہیں 

 
 

محمد ریحان خان

میلسی کے تعلیمی حلقوں میں محمد ریحان خان کا بڑا نام ہے اُنہوں نے تعلیم کے شعبے میں گرانقدر خدمات انجام دی ہیں ان کے زیر انتظام میلسی میں چھ سکول کامیابی کے ساتھ فروغ علم میں کامزن ہیں۔
محمد ریحان خان 1جنوری 1978ء کو میلسی میں پیدا ہوئے۔ اُن کے والدمحترم محمد اسحاق خان انگریزی زبان میں بہت مہارت رکھتے تھے۔ محمد اسحاق خان نے اپنی علمی تجربے اور مہارت سے بے شمار طالب علمو ں کو انگریزی قواعد سکھائے اُنہوں نے انگریزی گرائمر پر ایک نہا یت وقیع کتاب بھی لکھی جوبہت جلد شائع ہو گی۔ محمد اسحاق خان عزت و احترام کی زندگی گزارنے کے بعد 6اپریل 2019کو وفات پا گئے۔
محمد ریحان خان نے میٹر تک تعلیم تاریخی درسگاہ گورنمنٹ ہائی سکول میلسی سے حاصل کی بعد ازاں اُنہوں نے معروف تعلیمی ادارے گورنمنٹ ایمرسن کالج ملتان سے BScکا امتحان پاس کیا۔ اُنہوں نے بی ایڈ کا امتحان پاس کرنے کے بعد میلسی میں یکم ستمبر 1999کو ریحان پبلک سکول کی بنیاد رکھی یہ تعلیم ادارہ بہت کامیاب ہوا بعد کے سالوں میں اس سکول کے متعدد کیمپس شہر کے مختلف علاقوں میں قائم گئے عصر موجود میں ریحان سکول سسٹم کے تحت ایک ہائی اور پانچ مڈل سکول موجود ہیں۔جہاں 3500طالب علم زیر تعلیم ہیں۔ جس میں دو سکول پنجاب ایجوکیشن فاؤنڈیشن سے الحاق شدہ ہیں جہاں طلبہ کو معیار ی تعلیم دی جا رہی ہے۔

ریحان سکول سسٹم (رجسٹرڈ) میلسی

میلسی کی تعلیمی ترقی میں پرائیوٹ شعبے نے اہم کردار ادا کیا ہے جس کی وجہ سے والدین کا تعلیم پر اعتماد بڑھ گیا ہے۔ ریحان سکول سسٹم میلسی کا ایک اہم پرائیوٹ تعلیمی ادارہ ہے جس کی زیر انتظام ایک ہائی سکول اور پانچ مڈل سکول فروغ علم میں گامزن ہیں ان میں سے دو سکول پنجاب ایجوکیشن فاؤنڈیشن سے الحاق شدہ ہیں جہاں طلبہ کو معیاری تعلیم دی جا رہی ہے۔تعلیمی ڈسپلن اور طلبہ کی شخصیت سازی اس ادارے کے خاص امتیازات ہیں ریحان پبلک سکول ممتاز ماہر تعلیم محمد ریحان خان نے یکم ستمبر 1999ء کو قائم کیا۔ 20سال کے عرصے میں بے شمار طالب علموں نے یہاں سے مختلف در جات کی تعلیم حاص کی ہے۔ یہاں سے تعلیمی مراحل مکمل کرنے کے بعد طلبہ نے ہائرایجوکیشن کے مختلف نصاب مکمل کیے۔ جن میں سے متعدد طلبہ اب میڈیکل، انجیئرنگ،انفارمیشن ٹیکنالوجی، تدریس، مارکیٹنگ، بینکنگ اور قومی تعمیر کے دوسرے شعبوں میں خدمات انجام دے رہے ہیں۔
عصر موجود میں ریحان سکول سسٹم کے تحت چلنے والے اداروں میں تقریباً 3500طلبہ زیر تعلیم ہیں۔طلبہ کی امتحانی کامیابیوں کی خبریں وقتاًفوقتاً اخبارات میں شائع ہوتی رہتی ہیں سال 2014میں وزیر اعلیٰ پنجاب میاں شہباز شریف نے اعلیٰ کارگردگی پر سکول کے 22طالب علموں کو لیپ ٹاپ عطا کیے۔ عصری ضرورتوں کے پیش نظر انگریزی اور اردو دونوں زبانوں کی ذریعہ تعلیم پڑھائی جارہی ہے۔ ضرورتوں کے پیش نظر انگریزی اور اردو دونوں زبانوں کی ذریعہ تعلیم پڑھائی جارہی ہے۔

وائز کالج میلسی

وائز کالج میلسی ایک کامیاب اور شاندار تعلیمی ادارہ ہے جس کے مختلف تاریخی حوالے ہیں۔ ایم۔اے سطح کے طلبہ کی تدریس اس کالج کا منفرد اعزاز ہے۔ چنانچہ یہاں اُردو،انگلش،اسلامیات،مطالعہ پاکستان، تاریخ، نفسیات،بین الاقومی تعلقات،سیاسیات،اکنامکس،عربی،پنجابی،ایجوکیشن،اورفزیکل ایجوکیشن، میں ماسٹر آف آرٹس کی کلاسوں کا اجرا کیا گیا ہے۔ ایم۔اے کا نصاب ماہر اساتذہ کی نگرانی میں پڑھایا جاتاہے۔ کورس کا دورانیہ فقط چار ماہ ہے طلبہ یونیورسٹی آف سرگودھا کے زیر اہتمام ایک ہی سال میں کمپوزٹ امتحان دیتے ہیں۔ مسلسل امتحانی کامیابیوں کے باعث طلبہ اور والدین کا وائز کالج پر اعتمادبڑھ رہا ہے اور یہاں داخلے کی شرح میں اضافہ ہواہے مقابلتہً کم ٹیوشن فیس اس کالج کا ایک اور اعزاز ہے وائز کالج میں ایم۔اے کے علاوہ,IT BA,ICS,FSc,I.COM,FAاورBScکا نصاب بھی مشاق اساتذہ کی نگرانی میں پڑھایا جاتا ہے۔
اس کالج کی بنیاد ممتاز ماہر تعلیم وقار احمد مہر نے رکھی اور 2005میں تھانہ بازار کی ایک عمارت میں باقاعدہ کلاسوں کا اجراکیا۔2009میں کالج رحمان ٹاوٗن میلسی میں منتقل ہوا۔ 2015میں وائز کالج وہاڑی اور وائز کالج بوریوالہ کا اجرا ہوا 2018میں وائز کالج میلسی میں ایم،ایس،سی (فزکس) ایم،ایس،سی ( ) ایم،ایس،سی (کمپیوٹر سائنس) اور ایم،ایس،سی(باٹنی) کا اجرا ہوا۔ وائز کالج کے زیر اہتمام 2014میں آفیسر کالونی میلسی میں وائز سکول کھولاگیا۔ جس میں پلے گروپ تا میٹرک کی تعلیم دی جاتی ہے۔

وقار احمد مہر

ماہر تعلیم وقار احمدمہرمیلسی کے تعلیمی منظر نامے پر بہت نمایاں ہیں وہ مقامی زمیندار مہر ظہور احمد کے بیٹے ہیں۔ مہر وقار احمد یکم جنوری 1981کو میلسی کے نواحی گاؤں بخشی والا میں پیدا ہوئے اُنہوں نے میٹرک تک تعلیم تاریخی درس گاہ گورنمنٹ ہائی سکول میلسی سے حاصل کی جبکہ ڈی کام کا امتحان گورنمنٹ کالج آف کامرس میلسی سے پاس کیا۔
وہ گورنمنٹ پوسٹ گریجویٹ کالج قاسم پور کالونی ملتان میں داخل ہوئے جہاں اُنہوں نے بی۔ کام کی تعلیم مکمل کی۔مہر وقار احمد معروف تعلیمی ادارے بہاء الدین زکریا یونیورسٹی ملتان میں زیر تعلیم رہے یہاں سے اُنہوں نے 2002میں ایم۔ایس۔ سی(ای۔ کامرس) کا امتحان پاس کیا اپنے تعلیمی سفر کے دوران مہر وقار احمد نے 2010میں ایل۔ایل۔ بی،2012میں ایل۔ایل۔ایم اور2013میں ایم۔ اے سوشیالوجی کے امتحانات پاس کیے اس طرح ان کے پاس پاکستان کی تین جامعات یعنی بہاء الدین زکریا یونیورسٹی، یونیورسٹی آف سرگودھا اور یونیورسٹی آف کراچی کی ڈگریاں موجود ہیں۔ مہر وقار احمد نے 2005میں تھانہ بازار میلسی میں وائز کالج میلسی کی بنیاد رکھی بعد میں اس تعلیمی ادارے نے بہت ترقی کی۔ اب یہ کالج رحمان ٹاؤن میلسی میں موجود ہے وائز کالج کے کیمپس وہاڑی اور بورے والا میں بھی قائم کیے گئے ہیں۔ علاوہ ازیں وائز سکول آفیسر کالونی میلسی میں طلبہ کو پلے گروپ تا میٹر ک تک تعلیم دی جاتی ہے

میلسی کی علمی میراث
جامعہ مصباح العلوم

                    تحقیق و تحریر :  محمد ممتاز ڈاہر 

میلسی علوم ِ اسلامیہ کا ایک اہم مرکز ہے۔ یہاں جید علماء کے زیر انتظام متعدد درس گاہیں الہیات کی روشنی بکھیر رہی ہیں۔63سال سے قال قال رسول اللہ اور یا رسول اللہ کی دل پذیر اور ایمان افروز صدائیں بلند کرنے والی عظیم درس گاہ جامعہ مصباح العلوم اسی شہر میں ہے جہاں سے ہزاروں طلبہ نے محدث،فقیہ، حافظ، قاری،خطیب،امام، استاد اورمبلغ بن کر اشاعت ِ اسلام کا مستحسن فریضہ انجام دیا ہے بعض فاضل طلبہ سرکاری اور نیم سرکاری اداروں میں خدمات انجام دے رہے ہیں ؎اشاعت ِاسلام کا سلسلہ خود آنحضرت محمد ﷺ نے شروع کیا اور آپ کے وصال کے بعد یہ سلسلہ تا حال پوری دنیا میں جاری ہے جامعہ مصباح العلوم کی بنیاد 1956ء میں رکھی گئی۔حاجی محمدسلیمان، محمد شریف اشرفی، مولانا حسن علی رضوی، چوہدری بُندو خان، پیر غلام رسول،حاجی اکرام الدین،صوبیدار عبدالغفور، چوہدری نور محمد،سیدجمال الدین،راؤ موج دین، منگو خاں نمبردار، ارشاد احمد خاں یوسفزئی،
توفیق احمد خان یوسفزئی،حاجی اللہ بخش،شیخ محمد سلیمان، مستری فخر الدین، چوہدری فتح محمد،اور مستری ظہور احمد اس درس گاہ کے بانیوں میں شامل تھے۔پرانی تحصیل کے گیٹ کے نزدیک ایک چوبارے پر درس و تدریس کا آغاز ہوا،بہت جلد مصباح العلوم کو پیپل بازار منتقل کر دیا گیا۔یہاں نئی دو منزلہ عمارت کا سنگ ِبنیاد محدث اعظم غزالی زماں سید احمد سعید شاہ کاظمی نے اپنے ہاتھ سے رکھا وہ اپنی زندگی میں مصباح العلوم کے سرپرست ِ اعلیٰ رہے اُن کی وفات کے بعد تا حال اُن کے بیٹے سید مظہر سعید شاہ کاظمی مدرسے کے سرپرست ِ اعلیٰ ہیں تاریخی روایت کے مطابق مولانا عبدالجبار مصباح العلوم میلسی کے اولین استاد تھے درسِ نظامی کے لیے غزالی زماں سید احمد سعید شاہ کاظمی کی باقاعدہ اجازت سے مولانا غلام حیدر اویسی پہلے مدرس مقر ر ہوئے اور ایک طویل عرصہ تدریس کے ساتھ ساتھ خطابت کے فرائض بھی انجام دیے مصباح العلوم کے دیگر اساتذہ اور خطیبوں میں حضر ت علامہ سید محمد کاظم القادری،علامہ محمد فتح الدین گولڑوی،حضرت علامہ غلام حسین نوری، عبد الوحید ربانی، حضرت علامہ قاری غافر بخش، علامہ ظہور احمد اور علامہ احمد رضا بطور خاص قابلِ ذکر ہیں اس ادارے نے بہت تر قی کی اور اطراف و اکناف سے تشنگان ِ علم یہاں آنے لگے عصر موجود میں جامعہ مصباح العلوم ایک مین کیمپس اور چار سب کیمپس پر مشتمل ہے۔ مین کیمپس کرم پور روڈ پر مزار بابانتھے شاہ کے قریب ہے۔ جامعہ مصباح العلوم کا نظم و نسق مفتی الطاف احمد سعیدی کے ہاتھ میں ہے الطاف احمد سعیدی ایک متقی،پر ہیز گار اور عالم با عمل انسان ہیں وہ اپنی شرافت اور دینی لگاؤ کے باعث میلسی شہر میں نہایت قدر و منزلت کی نگاہ سے دیکھے جاتے ہیں۔
جامعہ مصباح العلوم کے مین کیمپس کا تدریسی عملہ 14فا ضل اساتذہ پر مشتمل ہے علاوہ ازیں -5افراد مین کیمپس کے دفتری انتظامات، مطبخ اور صفائی پر مامور ہیں۔ مصباح العلوم میں تقریباً 550طلبہ تفسیر، حدیث، فقہ، صرف، نحو،حکمت، منظق،بلاغت، بیان،معانی،اصول تفسیر، اصول حدیث، تجوید و قرائت ِقرآن اور تحقیق و تخریج کی تعلیم حاصل کرتے ہیں۔
بعص طلبہ مڈل تا بی اے عصری تعلیم بھی حاصل کر رہے ہیں۔ جامعہ کے ہوسٹل میں تقریباً 300طالب علم قیام پذیر ہیں۔ جنہیں جامعہ تین وقت طعام فراہم کرتی ہے اور ان کی مکمل نگہداشت کرتی ہے۔ سال 2019میں میلسی شہر اور اطراف کی 130مساجد میں جامعہ مصباح العلوم کے فاضل حفاظ نے امامت کی سعادت حاصل کی۔ مین کیمپس میں ہر جمعرات بزم سعید منعقد ہوتی ہے جہاں طلبہ مختلف مو ضو عات پر لیکچر سنتے اور فن خطابت کی تر بیت حاصل کرتے ہیں۔ مصباح العلوم میں عید میلاد النبی مذہبی جوش و جذبے سے منائی جاتی ہے۔ اس موقع پر طلبہ کا ایک جلوس اساتذہ کی زیر قیادت مین کیمپس سے بر آمد ہوکر میونسپل کمیٹی میلسی میں اختتام پذیر ہوتا ہے۔ یہ روایت نصف صدی سے زائد عر صے پر محیط ہے۔عصر موجود میں جامعہ

کے ریکارڈ اور دفتری امور کا نظام حضرت مولانا احمد رضا سنبھالے ہوئے ہیں۔

گیا۔یہاں نئی دو منزلہ عمارت کا سنگ ِبنیاد محدث اعظم غزالی زماں سید احمد سعید شاہ کاظمی نے اپنے ہاتھ سے رکھا وہ اپنی زندگی میں مصباح العلوم کے سرپرست ِ اعلیٰ رہے اُن کی وفات کے بعد تا حال اُن کے بیٹے سید مظہر سعید شاہ کاظمی مدرسے کے سرپرست ِ اعلیٰ ہیں تاریخی روایت کے مطابق مولانا عبدالجبار مصباح العلوم میلسی کے اولین استاد تھے درسِ نظامی کے لیے غزالی زماں سید احمد سعید شاہ کاظمی کی باقاعدہ اجازت سے مولانا غلام حیدر اویسی پہلے مدرس مقر ر ہوئے اور ایک طویل عرصہ تدریس کے ساتھ ساتھ خطابت کے فرائض بھی انجام دیے مصباح العلوم کے دیگر اساتذہ اور خطیبوں میں حضر ت علامہ سید محمد کاظم القادری،علامہ محمد فتح الدین گولڑوی،حضرت علامہ غلام حسین نوری، عبد الوحید ربانی، حضرت علامہ قاری غافر بخش، علامہ ظہور احمد اور علامہ احمد رضا بطور خاص قابلِ ذکر ہیں اس ادارے نے بہت تر قی کی اور اطراف و اکناف سے تشنگان ِ علم یہاں آنے لگے عصر موجود میں جامعہ مصباح العلوم ایک مین کیمپس اور چار سب کیمپس پر مشتمل ہے۔ مین کیمپس کرم پور روڈ پر مزار بابانتھے شاہ کے قریب ہے۔ جامعہ مصباح العلوم کا نظم و نسق مفتی الطاف احمد سعیدی کے ہاتھ میں ہے الطاف احمد سعیدی ایک متقی،پر ہیز گار اور عالم با عمل انسان ہیں وہ اپنی شرافت اور دینی لگاؤ کے باعث میلسی شہر میں نہایت قدر و منزلت کی نگاہ سے دیکھے جاتے ہیں۔
جامعہ مصباح العلوم کے مین کیمپس کا تدریسی عملہ 14فا ضل اساتذہ پر مشتمل ہے علاوہ ازیں -5افراد مین کیمپس کے دفتری انتظامات، مطبخ اور صفائی پر مامور ہیں۔ مصباح العلوم میں تقریباً 550طلبہ تفسیر، حدیث، فقہ، صرف، نحو،حکمت، منظق،بلاغت، بیان،معانی،اصول تفسیر، اصول حدیث، تجوید و قرائت ِقرآن اور تحقیق و تخریج کی تعلیم حاصل کرتے ہیں۔

بعص طلبہ مڈل تا بی اے عصری تعلیم بھی حاصل کر رہے ہیں۔ جامعہ کے ہوسٹل میں تقریباً 300طالب علم قیام پذیر ہیں۔ جنہیں جامعہ تین وقت طعام فراہم کرتی ہے اور ان کی مکمل نگہداشت کرتی ہے۔ سال 2019میں میلسی شہر اور اطراف کی 130مساجد میں جامعہ مصباح العلوم کے فاضل حفاظ نے امامت کی سعادت حاصل کی۔ مین کیمپس میں ہر جمعرات بزم سعید منعقد ہوتی ہے جہاں طلبہ مختلف مو ضو عات پر لیکچر سنتے اور فن خطابت کی تر بیت حاصل کرتے ہیں۔ مصباح العلوم میں عید میلاد النبی مذہبی جوش و جذبے سے منائی جاتی ہے۔ اس موقع پر طلبہ کا ایک جلوس اساتذہ کی زیر قیادت مین کیمپس سے بر آمد ہوکر میونسپل کمیٹی میلسی میں اختتام پذیر ہوتا ہے۔ یہ روایت نصف صدی سے زائد عر صے پر محیط ہے۔عصر موجود میں جامعہ کے ریکارڈ اور دفتری امور کا نظام حضرت مولانا احمد رضا سنبھالے