میاں تنویراقبال ارائیں
معروف قانون دان سابق صدر بار ایسوسی ایشن دنیا پور میاں تنویر اقبال ارائیں یکم اکتوبر 1976کو ایک زمیندار گھرانے میں پیدا ہوئے میاں تنوراقبال کے والد محترم محمد اقبال ارائیں نے تدریس کا پیشہ اختیار کیا اُنہوں نے محکمہ تعلیم پنجاب کے مختلف سکولوں میں تدریسی اور تنظیمی فرائض انجام دیے اور1997میں بطور ہیڈ ماسٹر اپنے عہدے سے ریٹائرڈ ہوئے میاں محمد اقبال ارائیں نے اساتذہ کے مسائل کے حل میں گہری دلچسپی لی وہ ٹیچر یونین لودھراں کے صدر منتخب ہوئے۔ قیام پاکستان سے پہلے یہ خاندان مشرقی پنجاب کے شہر ہوشیار پور رہتا تھا۔ 1940 میں میاں تنویر اقبال ارائیں کے پر دادا میاں بابا کالا اپنے آبائی شہر سے نقل مکانی کرکے ساہیوال آئے اور یہاں سکونت اختیار کی 1949میں میاں تنویر اقبال ارائیں کے دادا حاجی اللہ ڈتہ ساہیوال سے دنیا پور آگئے۔
میاں تنویر اقبال کے چچا (عم زاد میاں محمد اقبال) چوہدری محمد اشرف کا ساہیوال میں سیاسی اور سماجی  اثر ہے۔وہ چار مرتبہ پاکستان کی قومی اسمبلی کے رکن منتخب ہوئے ہیں۔چوہدری محمد اشرف پنجاب بار کونسل کے وائس چیرمین بھی رہے ہیں۔ میاں تنویر اقبال مختلف تعلیمی اداروں میں زیر تعلیم رہے اور1995میں اُنہوں نے تاریخی درسگاہ صادق ایجرٹن کالج بہاولپور سے بی اے کا امتحان پاس کیا۔ وہ 1993میں سید یوسف رضا گیلانی (بعد ازاں وزیر اعظم پاکستان) کی دعوت پر پاکستان پیپلز پارٹی میں شامل ہوئے اورپی ایس ایف پنجاب کے جنرل سیکرٹری مقرر ہوئے وہ 1997تک اس عہدے پر فائز رہے اسی سال اُنہوں نے بہاء الدین زکریا یونیورسٹی ملتا سے ایم اے انگلش کا امتحان پاس کیا۔ علاوہ ازیں اُنہوں نے اسلامیہ یونیورسٹی بہاولپور سے ایم اے تاریخ و مطالعہ پاکستان کی ڈگری بھی حاصل کی۔میاں تنویر اقبال نے اپنا تعلیمی سفر جاری رکھا۔اُنہوں نے گیلانی لا کالج ملتان سے قانون کی تعلیم مکمل کرنے کے بعد ایل ایل بی کی ڈگری حاصل کی۔ میاں تنویر اقبال 1995تا2013پاکستان پیپلز پارٹی لودھراں کے سیکرٹری تعلقات عامہ رہے ہیں دریں اثنا وہ پیپلز لائرز فارم لاہور ہائیکورٹ ملتان بینچ کے ایڈیشنل سیکرٹر ی جنرل منتخب ہوئے۔قبل ازیں اُنہوں نے13دسمبر 2001کوملتان کے معروف قانون دان محمد عارف علوی کی رہنمائی میں قانونی  کیرئر کا آغاز کیا2002میں میاں تنویر اقبال دنیا پور آگئے اور یہاں باقاعدہ وکالت کا سلسلہ شروع کیا میاں تنویر اقبال نے سماجی اور مذہبی رواداری میں دلچسپی کا مظاہرہ کیا وہ بین المذاہب ہم آہنگی کونسل پاکستان ملتان ڈویژن کے صدر مقرر ہوئے۔9مارچ 2007کو جب فوجی حکمران پرویز مشرف نے چیف جسٹس آف پاکستان افتخار محمد چوہدری کو معزول کیا تو وکلا نے اس غیر آئینی اقدام کے خلاف تاریخی جدوجہدکی میاں تنویر اقبال اس تحریک میں بہت فعال تھے انہوں نے تحریک بحالی عدلیہ کے دوران دنیاپور،ملتان،لاہور،اوراسلام آباد میں احتجاجی مظاہروں میں شرکت کی۔
میاں تنویر اقبال2008تا2012بیت المال کمیٹی ضلع لودھراں کے رکن رہے 2010میں وہ بارایسوسی ایشن دنیا پورکے جنرل سیکرٹری منتخب ہوئے اس موقع پر محمد منور اسلم چوہدری دنیا پور بار کے صدر منتخب ہوئے چوہدری محمد منور اسلم اور میاں تنویر اقبال ارائیں کی مساعی جمیلہ سے دنیاپور میں تقریباً62لاکھ روپے کی لاگت سے بار روم تعمیر ہوا  اس عالی شان عمار ت کی تعمیر کے لیے چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ خواجہ محمد شریف نے اپنے عہدے کے توسط سے تعاون کیا۔علاوہ ازیں ڈاکٹر بابر اعوان نے وزارت قانون کیطرف سے  10لاکھ روپے دنیا پور بار کو دیے 2018 میں میاں تنویر اقبال ارائیں بار ایسوسی ایشن دنیاپور  کے صدرمنتخب ہوئے اُن  کی کاوشوں سے دنیا پور میں وکلا کالونی کے لیے 27ایکڑ زمین مختص کی گئی علاوہ ازیں نوجوان وکلا کے لیے چیمبر بھی تعمیر ہوئے۔

چوہدری مشتاق احمد تارڑ مرحوم
معروف قانون دان چوہدری مشتاق احمد تارڑ مرحوم نے فوجداری مقدمات میں غیر معمولی مہارت حاصل کی اوراپنے پیشے میں نام پیدا کیا۔چوہدری مشتاق احمد تارڑ کے آباء قیام پاکستان سے قبل پنڈی بھٹیاں (ضلع حافظ آباد) میں رہتے تھے۔انگریز حکومت کے زمانے میں چوہدری مشتاق احمد تارڑ مرحوم کے والد محترم حاجی اللہ داد تارڑ 1927میں نیلی بار آباد کار سکیم کے موقع پر وہاڑی آئے اُنہیں تحصیل وہاڑی کے چک 53/WBمیں زمین الاٹ کی گئی حاجی اللہ داد ایک امن پسند زمیندار اورگاؤ ں کے نمبر دار تھے وہ عزت و احترم کی زندگی گزارنے کے بعد 1990میں وفات پا گئے۔ چوہدری مشتاق احمد تارڑ 1اگست 1948کو پیدا ہوئے۔اُنہوں نے ابتدائی تعلیم وہاڑی سے حاصل کی وہ لاہور کی قدیمی درسگاہ گورنمنٹ کالج لاہور میں زیر تعلیم رہے جہاں انہوں نے بی اے تک تعلیم حاصل کی۔چوہدری مشتاق احمد تارڑنے 1974میں پنجاب یونیورسٹی لاہور سے ایل ایل بی کا امتحان پاس کیا اورملتان میں معروف قانون دان ملک نور محمد ایڈووکیٹ کی رہنمائی میں وکالت کا آغاز کیا بعد ازاں وہ وہاڑی آگئے چوہدری مشتاق احمد تارڑنے قانون کا گہرا مطالعہ کیا وہ محنت اورلگن کے باعث عدالتی اورقانونی معاملات سمجھنے میں کامیاب رہے اُن کا شمار فوجداری مقدمات کے بلند قامت وکلا میں ہوتا تھا 1983کے بلدیاتی انتخابات میں چوہدری مشتاق احمد تارڑ مرحوم کے برادرحقیقی چوہدری محمد اسحاق تارڑ ضلع کونسل وہاڑی کے رکن منتخب ہوئے اور 1987تک اس منصب پر فائز رہے۔
1985کے غیر جماعتی انتخابات میں محمد اسحاق تارڑ نے میاں ریاض احمد دولتانہ کے مقابلے قومی اسمبلی کا الیکشن لڑا۔یہ وہ زمانہ تھا جب وہاڑی میں دولتانہ خاندان کے مقابلے میں الیکشن لڑنا ہر آدمی کا کام نہیں تھا۔چوہدری مشتاق احمد تارڑ وکلا کے مسائل میں دلچسپی لیتے اور اُن کے مسائل کے حل کے لیے کوشش کرتے تھے۔ وہ 1989تا1994پنجاب بار کونسل کے رکن رہے۔چوہدری مشتاق احمد تارڑ1994میں پہلی مرتبہ اور1998میں دوسری مرتبہ ڈسٹرکٹ بار ایسوسی ایشن وہاڑی کے صدر منتخب ہوئے وہ ڈسٹرکٹ بار وہاڑی کے منظر نامے پر نمایاں رہے۔17جون2011کو چوہدری مشتاق احمد تارڑحرکت قلب بند ہو جانے کی وجہ سے وفات پا گئے اُنکی وفات پر قانونی برادری،سیاسی حلقوں اور سول سوسائٹی نے گہرے رنج و غم کا اظہار کیا  چوہدری مشتاق احمد تارڑ  کی پیشہ ورانہ کامیابیوں اور اُنکے وقار سے متاثر ہو کر اُنکے خاندان کے کچھ دوسرے افراد نے بھی قانونی پیشہ اختیار کیا تاہم اُنکے بیٹے نوید حیات تارڑ زراعت سے وابستہ ہیں۔
چوہدری مشتاق احمد تارڑ کے بھتیجے چوہدری خضر حیات تارڑ 2007میں ڈسٹرکٹ بار ایسوسی ایشن وہاڑی کے جنرل سیکرٹری اور2011میں صدر منتخب ہوئے علاوہ ازیں چوہدری مشتاق احمد تارڑ مرحوم کے بھانجے چوہدری ندیم احمد تارڑ 22نومبر 2014کو وہاڑی سیٹ کے لیے پنجاب بار کونسل کے رکن منتخب ہوئے اور2015تا2020اس منصب پر فائز رہے چوہدری مشتاق احمد تارڑمرحوم کے بھانجے چوہدری شکیل احمد تارڑ 2019میں ڈسڑ کٹ بار وہاڑی کے صدر منتخب ہوئے۔