اراکینِ پارلیمنٹجدیدملتان کے معمار ،فرزندِاولیاء،اسیرجمہوریت،نقیب ِ سرائیکستان ،سابق وزیر اعظم پاکستان سید یوسف رضا گیلانی اپنی امن پسندی،دوست شناسی،انسانی ہمدردی،اپنے مزاج کی شرافت اوراپنے آباکی بے مثال اور غیرمعمولی قومی خدمات کی بدولت معاصرسیاست دانوں میں منفرداور ممتازہیں ۔ تاریخ اور سیاست کا ہر کردارمتنازعہ ہوتا ہے ،اس قانون کا اطلاق سید یوسف رضا گیلانی پر بھی ہوتا ہے چنانچہ پاکستان میں ہر شخص انہیں اپنے اپنے نقطہ نظر سے دیکھتا اور سمجھتا ہے۔مگر ربِ کریم اور صاحب ِالطافِ عمیم کی خاص عنایت سے اُن کے کریڈٹ پریہ تاریخی حقیقت موجود ہے کہ ان کی وزارتِ عظمیٰ کے دوران پاکستان میں کوئی سیاسی اسیر نہ تھا ۔سیدیوسف رضا گیلانی ریاستی جبراورسیاسی انتقام کا نشانہ بنے مگر انہوں نے کسی سے انتقام نہیں لیا۔پاکستان کا سیاسی ماحول جوالزامات اوردُشنام طرازی سے داغدار ہے وہاں سیدیوسف رضا گیلانی کی گفتگو’’وہ بولے تو باتوں سے پھول جھڑتے ہیں‘‘کی مصداق ہوتی ہے۔خدااِس وجودِ گرامی کو اپنی حفظ و امان میں رکھے۔سیدیوسف رضا گیلانی 9 جون 1952کو عروس البلاد کراچی میں پیدا ہوئے۔ ان کا خاندان اشاعت ِ اسلام، فروغِ علم، امن پسندی اور تحریک پاکستان میں شمولیت کے باعث زمانے میں ممتاز رہا ہے۔ گیلانی حسنی الحسینی سید ہیں۔ سید یوسف رضا گیلانی کے جد امجد سید بندگی محمد غوث حلبی 9 ویں صدی عیسوی میں اشاعت ِ اسلام کی غرض سے شام سے ہجرت کرکے اوچ شریف آئے تھے۔ سید بندگی محمد غوث کا سلسلہ نسب پیر پیران حضرت غوث الاعظم میراں محیی الدین شیخ عبدالقادر جیلانی سے ملتا ہے۔ سید بندگی محمد غوث کی اولاد میں سے ایک بزرگ حضرت سید ابو الحسن جمال الدین معروف بہ حضرت موسیٰ پاک شہید ( وفات 1010ھ ) ملتان میں آسودۂ خاک ہیں۔ آپ کا مزار اندرون پاک دروازہ مرجعِ خلائق ہے۔ سید یوسف رضا گیلانی انہی کی اولاد میں سے ہیں۔ گیلانی اولیاء کے مزارات ملتان کے علاوہ دوسرے شہروں میں بھی ہیں تاریخ کے مطالعے سے معلوم ہوا ہے کہ ملتان کا گیلانی خاندان قیام پاکستان سے قبل اشاعت اسلام اور قومی اور سماجی خدمات کی بدولت نہایت قدر و عزت کی نگاہ سے دیکھاجاتا تھا ۔ رئوسائے ملتان، بوسن، کھچی، سندھل، کانجو، سید ، ہراج نون، ڈیہڑوغیرہ ان کے عقیدت مند اوردوست تھے۔ قیام پاکستان سے پہلے گیلانی خاندان اسلامی اور قومی تحریکوں میں پیش پیش رہا۔ گیلانی اسلاف نے تحریک خلافت اور تحریک آزادی میں قائدانہ کردار ادا کیا۔ سید زین العابدین گیلانی اسلام کی سربلندی کے لیے سب کچھ قربان کرنے کا جذبہ رکھتے تھے۔ انہوں نے تحریک خلافت میں حصہ لیا۔ پیر صدر الدین شاہ ( پردادا یوسف رضاگیلانی ) کے بیٹے محمد رضا گیلانی بھی تحریک خلافت سے بہت متاثر تھے۔ انہیں ترکوں کے حق میں تقریر کرنے اور طلبہ کو منظم کرنے کی پاداش میں کالج سے خارج کردیا گیا تھا۔ مسلمانوں کی جانی دفاع کے لیے سید زین العابدین نے ایک عسکری دستہ منظم کیا تھا جس کی وجہ سے ہندوئوں کو مسلمانوں پر حملے کی جرأت نہ ہوئی تھی۔ اس سیاسی پس منظر کے ساتھ جب گیلانی خاندان نے آل انڈیا مسلم لیگ میں شمولیت اختیار کی تو ملتان میں سبز جھنڈے نظر آنے لگے۔ سید زین العابدین گیلانی، سید علمدار حسین گیلانی ( والد سید یوسف رضا ) اور دوسرے گیلانی مشاہیر نے لاہور میں اس تاریخی اجتماع میں شرکت کی جس میں قرار داد پاکستان منظور کی گئی۔ 1940 کے عشرے میں جب ہندوستان کے مسلمان حلقوں میں ہر طرف ’’بن کے رہے گا پاکستان‘‘، ’’لے کے رہیںگے پاکستان‘‘ کے نعرے لگ رہے تھے۔ اس وقت گیلانی خاندان ہی ملتان میں آزادی کا نقیب تھا۔ بانی ٔ پاکستان قائد اعظم محمد علی جناح کو جب ملتان آنے کی دعوت دی گئی تو انہوں نے کہا کہ گیلانی خاندان کے ہوتے ہوئے مجھے ملتان جانے کی ضرورت نہیں اور پھر تاریخ نے گواہی دی کہ قائد اعظم کا ادراک درست تھاانگریز حکومت نے ہندوستان میں قانون ساز اسمبلیوں کے انتخابات کرائے۔ 9 جنوری 1946 کو آل انڈیا مسلم لیگ نے صوبہ سرحد کے سوا ہندوستان کے تمام مسلم اکثریتی صوبوں میں بھاری اکثریت حاصل کی مسلم اقلیت کے صوبوں میں بھی مسلم لیگ نے مسلمان نشستوں پر اکثریت حاصل کی۔ ملتان میں مسلم لیگ نے الیکشن سویپ کیا۔ یہاں سے عام نشستوں پر مسلم لیگ کے تمام امیدوار سید غلام مصطفی شاہ ( دادا سید یوسف رضا گیلانی ) سید مخدوم محمد رضا شاہ گیلانی، نواب اللہ یار خان دولتانہ، ملک محمد اکرم خان بوسن، پیر بڈھن شاہ کھگہ اور سید نوبہار شاہ کامیاب ہوکر پنجاب اسمبلی کے رکن ( MLA ) بنے۔ مزید برآں وہاڑی کے نواب میاں ممتاز محمد خان دولتانہ نارووال ( تب ضلع سیالکوٹ) سے جبکہ جہانیاں کے چودھری ظفر اللہ واہلہ اجنالہ ضلع امرتسر سے MLA منتخب ہوئے۔ نیز سید شیرشاہ گیلانی سنٹرل اسمبلی کے رکن منتخب ہوئے۔ ان انتخابات کے نتیجے میں پاکستان کا قیام عمل میں آیا۔ گیلانی خاندان کو یہ اعزاز ملا کہ اس خاندان کے دو حقیقی بھائی سیدغلام مصطفی شاہ اور سید محمد رضا شاہ گیلانی MLA منتخب ہوئے ۔ گیلانی خاندان کی انتخابی کامرانیوں کا تذکرہ اس کتاب کے مختلف صفحات پر موجود ہیں۔ قیام پاکستان سے پہلے اور بعد میں انجمن اسلامیہ ملتان کے زیر اہتمام گیلانی خاندان نے ملتان میں سکول اور کالج قائم کئے اور تاریخ نے دیکھا کہ یہ تعلیمی ادارے ایک انقلاب کی بنیاد ثابت ہوئے۔ گیلانی خاندان پاکستان کی ایک مؤثر سیاسی قوت ہے۔ اس کی جڑیں عوام میں بہت گہری ہیں۔ سید یوسف رضا گیلانی نے ابتدائی تعلیم سینٹ میریز کانونٹ ملتان سے حاصل کی اور بعد میں معروف تعلیمی ادارے لاسال ہائی سکول ملتان میں داخل ہوئے۔ سید یوسف رضا گیلانی نے اپنی کتاب چاہِ یوسف سے صدا میں لاسال سکول کی یادوں کو قلمبند کیاہے۔ میٹرک تک تعلیم حاصل کرنے کے بعد سید یوسف رضا گیلانی نے ولایت حسین اسلامیہ کالج ملتان میں داخلہ لیا۔ یہ کالج انجمن اسلامیہ ملتان کے کارناموں میں سے ایک ہے۔ یہاں سے سید یوسف رضا گیلانی نے ایف ایس سی ( پری میڈیکل) کا امتحان پاس کیا۔ اور مزید تعلیم کے لیے گورنمنٹ کالج لاہور میں داخل ہوئے۔ جہاں سے انہوں نے بی اے تک تعلیم حاصل کی بعد میں وہ پنجاب یونیورسٹی لاہور کے شعبہ صحافت میں داخل ہوئے۔ 1976 میں سید یوسف رضا گیلانی نے ایم اے صحافت کا امتحان پاس کیا۔ ان کی شادی پیر اسرار شاہ کی دختر سے انجام پائی۔ 9 اگست 1978 کو ان کے والد سید علمدار حسین گیلانی وفات پاگئے۔ سید یوسف رضا گیلانی 1978 میں مسلم لیگ کی سنٹرل کمیٹی کے رکن بنے اور 1982 میں وفاقی مجلس شوریٰ کے رکن نامزد ہوئے۔ 1983 میں ڈسٹرکٹ کونسل ملتان کے رکن منتخب ہوئے اور ایک دلچسپ انتخابی معرکے میں سید فخر امام کو شکست دے کر ڈسٹرکٹ کونسل ملتان کے چیئرمین منتخب ہوئے۔ 1985 کے غیر جماعتی انتخابات میں لودھراں سے قومی اسمبلی کے رکن منتخب ہوئے۔ 1986 میں وزیر اعظم محمد خان جونیجو کی کابینہ میں ریلوے کے وزیر مقرر ہوئے۔ 1988 میں پاکستان پیپلز پارٹی میں شامل ہوئے۔ اسی سال تاریخی شخصیت میاں نواز شریف کو شکست دے کر ملتان سے پی پی پی کے ٹکٹ پر قومی اسمبلی کے رکن منتخب ہوئے۔ وہ وزیر اعظم محترمہ بے نظیر بھٹو کی کابینہ میں پہلے سیاحت کے اور بعد میں ہائوسنگ و تعمیرات کے وزیر مقرر ہوئے۔ 1990 میں اپنے والد کے کزن اور گیلانی خاندان کی ممتاز ترین شخصیت مخدوم سید حامد رضا گیلانی وغیرہ کو شکست دے کر قومی اسمبلی کے ممبر منتخب ہوئے۔ سید یوسف رضا گیلانی 1993 میں نگران وزیر اعظم میر بلخ شیر مزاری کی کابینہ میں بلدیات و دیہی ترقی کے وزیر مقرر ہوئے ۔ 1993 میں ایک مرتبہ پھر قومی اسمبلی کے رکن منتخب ہوئے اور بعد ازاں قومی اسمبلی کے سپیکر منتخب ہوئے۔ سید یوسف رضا گیلانی 1997 میں سکندر حیات خان بوسن کے مقابلے میں قومی اسمبلی کا الیکشن ہار گئے۔ 1998 میں سید یوسف رضا گیلانی پاکستان پیپلز پارٹی کے وائس چیئرمین منتخب ہوئے۔ سید یوسف رضا گیلانی مشرف دور میں سیاسی انتقام کا نشانہ بنے اور ایک طویل عرصہ جیل میں رہے۔ وہ 18 فروری 2008 کو پانچویں مرتبہ قومی اسمبلی کے رکن اور بعد ازاں 26مارچ 2008 کو وزیر اعظم پاکستان منتخب ہوئے۔سید یوسف رضا گیلانی نے قومی اسمبلی میں اپنی افتتاحی تقریب میں چیف جسٹس افتخار محمد چودھری کی رہائی کا حکم دیا ۔ 16مارچ 2009کو انہوں نے جسٹس افتخار محمد چودھری کی چیف جسٹس آف پاکستان کے منصب پر بحالی کا تاریخی حکم صادر کیا۔13مارچ2011کو سید یوسف رضا گیلانی نے جلال پور میں ایک جلسۂ عام میں اعلان کیا کہ پاکستان پیپلز پارٹی سرائیکی صوبے کے قیام کو اپنے منشورکا حصہ بنائے گی جس کے بعد سرائیکی صوبہ تحریک کو بہت تقویت ملی۔ سید یوسف رضا گیلانی نے مفاہمت کی سیاست اپنائی جس کی وجہ سے انکی مقبولیت میں اضافہ ہوا۔ سید یوسف رضا گیلانی کے احکاما ت سے پاکستان او خاص طور پر ملتان میں بہت سے تعمیراتی منصوبے شروع ہوئے ہیں۔ جن میں ملتان تا فیصل آباد موٹروے ہیڈ محمد والا،جلال پور اوچ شریف موسیٰ پاک برج تعمیر ایئر پورٹ ملتان ، ملتان شہر میں سات فلائی اوور،بے نظیر برج چاچڑاں شریف، متعدد پارک اورہسپتال ملک بھر میںآئی ٹی یونیورسٹیوںکا قیام اوردوسرے منصوبے شامل ہیں۔ 6 جنوری 2012ء کو قومی اسمبلی سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم سید یوسف رضا گیلانی نے کہا کہ ہم سرائیکی صوبہ بنائیں گے۔ 19 جون 2012ء کوسید یوسف رضا گیلانی ایک متنازعہ عدالتی فیصلے کے باعث وزارتِ عظمیٰ کے منصب سے معزول کردیئے گئے۔